1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

کیا رہن کے گھر کا کرایہ جائز ہے ؟

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Dec 1, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators

    کیا رہن کے گھر کا کرایہ جائز ہے ؟


    رہن رکھی ہوئی چیز مرتہن (رہن لے کر قرض دینے والے) کے پاس امانت رہتی ہے، اس سے استفادہ کرنا جائز نہیں، لہٰذا رہن کا گھر استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں، گھر رہن رکھ کر جو قرض دیا جارہا ہے، گھر کا کرایہ اس قرض کا فائدہ قرار پاتا ہے جبکہ قرض دے کر اُس پر فائدہ حاصل کرنا حرام ہے- اگر مرتہن کرایہ لینے کی شرط کے ساتھ قرض دے تو وہ سود ہے اور اگر مرتہن نے اس کی شرط نہیں لگائی تب بھی کرایہ کی رقم میں سود کا شبہ او رشائبہ پایا جارہا ہے، بہرحال اس سے پرہیز کیا جائے- واللہ اعلم بالصواب سید ضیاء الدین عفی عنہ شیخ الفقہ

    [​IMG]
     
  2. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    جزاک اللہ خیرا​
     
  3. Ghulam Rasool

    Ghulam Rasool Super Moderators

    v nice sharing dear
     

Share This Page