1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. آئی ٹی استاد عید آفر
    Dismiss Notice

حق حاصل کرنے کے لئے مال دینا


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Dec 1, 2016.

General Topics Of Islam"/>Dec 1, 2016"/>

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65

    حق حاصل کرنے کے لئے مال دینا



    تعلیمات اسلام میں حقوق کے سلسلہ میں یہ تاکید فرمائی گئی ہے کہ حقداروں کو ان کے حقوق مکمل طورپر ادا کردیئے جائیں، ادائیگی حقوق کو فرائض و واجبات میں شامل کردیا گیا ۔ ہر کوئی اپنے فرائض ادا کرنے لگے تو خود بخود دوسرے کو اس کا حق مل جاتا ہے۔ مطالبۂ حقوق کی نوبت ہی نہیں آتی تاہم کسی نے اپنا فرض ادا نہ کیاجس کے نتیجہ میں صاحب حق کواس کا حق نہیں مل سکا تو اس سلسلہ میں شریعت مطہرہ نے حقدار کو اپنے حق کا مطالبہ کرنے کی اجازے دی ہے ۔ بلکہ حقدار کو اپنا حق حاصل کرنے کے لئے سعی و کوشش کرنی چاہئے ۔ کسی بھی محکمہ میں جو عہدیداران ہوتے ہیں وہ حکومت کی جانب سے اس عمل کے ذمہ دار و مسؤل بنائے گئے ہیں کہ اپنامتعلقہ کام کریں ۔ اس کے عوض سرکاری طور پر ان کے لئے تنخواہ مقرر کی گئی ہے۔اپنامتعلقہ کام انجام دینے کے لئے مقررہ تنخواہ کے علاوہ مزید رقم کا مطالبہ کرناان کے لئے نہ شرعاًجائز ہے اور نہ قانوناً درست ہے ۔ اگر صاحب حق کو محض مطالبہ کرنے سے اس کا حق حاصل نہ ہو ۔ مال خرچ کئے بغیر عہدیدار کارروائی مکمل نہ کرے اور اس کا حق نہ دے اور حق حاصل کرنے کے لئے مال خرچ کرنا ناگزیر ہوجائے تو ایسی صورت میں حق حاصل کرنے کی غرض سے مال خرچ کرنا رشوت نہیں ہے البتہ مال لینے والا اپنی ڈیوٹی اور ذمہ داری ادا کرنے کے لئے بے جا مال کامطالبہ کررہا ہے ۔ اس لئے وہ رشوت لینے والا اور گنہگار قرارپاتا ہے۔ جیسا کہ ردالمحتار ج 5ص 300 میں ہے: دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسہ و مالہ ولاستخراج حق لہ لیس برشوۃ یعنی فی حق الدافع ۔ ترجمہ : جان و مال سے ظلم کو روکنے کے لئے یا اپنا حق لینے کی غرض سے ظالم بادشاہ کو مال دینا ‘ دینے والے کے حق میں رشوت نہیں۔ رشوت سے اجتناب کرنے کے لئے آپ کا یہ عزم و ارادہ ، جذبہ و حوصلہ قابل تحسین ہے ۔ سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق متروکہ زمین ورثہ کا حق ہے ۔ شریعت اسلامیہ نے ورثہ کوحق وراثت طلب کرنے کا اختیار دیاہے۔ اگر مال دیئے بغیر متروکہ زمین کی کارروائی مکمل نہیں ہوتی ، آپ کو اپنا حق وراثت حاصل نہیں ہوتا اور حق حاصل کرنے کے لئے اس کے علاوہ کوئی اور صورت باقی نہ ہو تو آپ متعلقہ عہدیداروں کو ضرورتا مال دے سکتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ





    [​IMG]
     
  2. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Management
    • 38/49

    جزاک اللہ خیرا​
     
  3. Ghulam Rasool
    Offline

    Ghulam Rasool Super Moderators
    • 18/33

    v nice sharing dear
     

Share This Page