1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

دوسروں کی زمین پر مکان تعمیر کرنا


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Dec 1, 2016.

General Topics Of Islam"/>Dec 1, 2016"/>

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65

    دوسروں کی زمین پر مکان تعمیر کرنا


    اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو حلال وطیب رزق مرحمت فرمایا ہے اور انہیں حکم فرمایا کہ وہ اللہ تعالی کا عطاکردہ پاکیزہ رزق کھائیں اور اس کی شکرگذاری کریں ارشاد خداوندی ہے : یاایھاالذین امنوکلوامن طیبات مارزقنکم واشکروا للہ ان کنتم ایاہ تعبدون۔ ترجمہ :اے ایمان والو! ہم نے تم کو پاک چیز وں سے جورزق عطا کیا ہے اس میں سے کھاؤ اور اللہ کا شکر اداکیاکرو اگرتم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔(سورۃالبقرہ ۔172)اسلامی نظام معاشیات کا اہم قانون یہ ہیکہ حلال وجائز طریقہ سے مال حاصل کیا جائے او رناجائز وناروا طریقہ سے ہرگزمال فراہم نہ کیا جائے چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : یاایہاالذین امنوا لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الاان تکون تجارۃ عن تراض منکم ۔ترجمہ:اے ایمان والو!ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤالا یہ کہ تمہارے درمیان آپسی رضامندی سے تجارت ہو۔ دوسروں کی زمین میں دخل اندازی کرنا، اس پر اپنے حق کادعوی کرنا، سخت ترین گناہ ہے اور اس پر احادیث شریفہ میں شدید وعیدیں آئی ہیں۔صحیح بخاری شریف ج1ص 454حدیث نمبر3198 اورصحیح مسلم شریف ج2ص33 میں حدیث پاک ہے : عن سعید بن زید قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من اخذشبرامن الارض ظلمافانہ یطوقہ یوم القیمۃ من سبع ارضین متفق علیہ (زجاجۃ المصابیح ج 2ص 308) حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے ایک بالشت بھر زمین ظلماً حاصل کی بروز محشر اس کو سات زمینو ں کاطوق پہنا یا جائے گا۔ بخاری ومسلم میں حدیث شریف ہے: وعن سالم عن ابیہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من اخذ من الارض شيئا بغیرحقہ خسف بہ یوم القیمۃ الی سبع ارضین ،صحیح بخاری شریف ج1ص453 حدیث نمبر 31196باب ماجاء فی سبع ارضین (زجاجۃ المصابیح ج 2ص309) ترجمہ:حضرت سالم اپنے والد سید نا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں : حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ناحق کسی کی تھوڑی سی زمین لے اس کو قیامت کے دن ساتوں زمین نیچے تک دھنسا یاجائے گا۔ حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا جوشخص ناحق کسی زمین کوحاصل کرلے گا اس پر یہ مشقت ڈالی جائے گی کہ وہ اس کی ساری مٹی کو محشر میں اٹھا ئے پھر ے۔(مسندامام احمد حدیث نمبر 169113 ،زجاجۃالمصابیح ج 2ص309) وعنہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول ایمارجل ظلم شبرامن الارض کلفہ اللہ عزوجل ان یحفرہ حتی یبلغ اٰخر سبع ارضین ثم یطوقہ الی یوم القیامۃ حتی یقضی بین الناس۔ رواہ احمد (مسند امام احمد حدیث نمبر 16913 ،زجاجۃالمصابیح ج 2ص309) ترجمہ:حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں جو شخص ظلم کرتے ہوئے بالشت بھر زمین بھی کسی کی لے لے تو اللہ عزوجل اس کو اس امر کا مکلف کرے گا کہ وہ سات زمینوں کی تہہ تک اسکو کھودتاجائے پھر قیامت کے دن تک اس کا طوق اسکے گلے میں پڑارہے گا حتی کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے ۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ

    [​IMG]
     
  2. Rania
    Offline

    Rania VIP Member
    • 18/33

    بہت ہی زبردست
     
  3. muzafar ali
    Offline

    muzafar ali Regular Member
    • 28/33

    Both lajawab
     
  4. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Regular Member
    • 38/49

    جزاک اللہ خیرا​
     

Share This Page