1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

دوسروں کی زمین پر مکان تعمیر کرنا

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Dec 1, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management

    دوسروں کی زمین پر مکان تعمیر کرنا


    اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو حلال وطیب رزق مرحمت فرمایا ہے اور انہیں حکم فرمایا کہ وہ اللہ تعالی کا عطاکردہ پاکیزہ رزق کھائیں اور اس کی شکرگذاری کریں ارشاد خداوندی ہے : یاایھاالذین امنوکلوامن طیبات مارزقنکم واشکروا للہ ان کنتم ایاہ تعبدون۔ ترجمہ :اے ایمان والو! ہم نے تم کو پاک چیز وں سے جورزق عطا کیا ہے اس میں سے کھاؤ اور اللہ کا شکر اداکیاکرو اگرتم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔(سورۃالبقرہ ۔172)اسلامی نظام معاشیات کا اہم قانون یہ ہیکہ حلال وجائز طریقہ سے مال حاصل کیا جائے او رناجائز وناروا طریقہ سے ہرگزمال فراہم نہ کیا جائے چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : یاایہاالذین امنوا لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الاان تکون تجارۃ عن تراض منکم ۔ترجمہ:اے ایمان والو!ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤالا یہ کہ تمہارے درمیان آپسی رضامندی سے تجارت ہو۔ دوسروں کی زمین میں دخل اندازی کرنا، اس پر اپنے حق کادعوی کرنا، سخت ترین گناہ ہے اور اس پر احادیث شریفہ میں شدید وعیدیں آئی ہیں۔صحیح بخاری شریف ج1ص 454حدیث نمبر3198 اورصحیح مسلم شریف ج2ص33 میں حدیث پاک ہے : عن سعید بن زید قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من اخذشبرامن الارض ظلمافانہ یطوقہ یوم القیمۃ من سبع ارضین متفق علیہ (زجاجۃ المصابیح ج 2ص 308) حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے ایک بالشت بھر زمین ظلماً حاصل کی بروز محشر اس کو سات زمینو ں کاطوق پہنا یا جائے گا۔ بخاری ومسلم میں حدیث شریف ہے: وعن سالم عن ابیہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من اخذ من الارض شيئا بغیرحقہ خسف بہ یوم القیمۃ الی سبع ارضین ،صحیح بخاری شریف ج1ص453 حدیث نمبر 31196باب ماجاء فی سبع ارضین (زجاجۃ المصابیح ج 2ص309) ترجمہ:حضرت سالم اپنے والد سید نا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں : حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ناحق کسی کی تھوڑی سی زمین لے اس کو قیامت کے دن ساتوں زمین نیچے تک دھنسا یاجائے گا۔ حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا جوشخص ناحق کسی زمین کوحاصل کرلے گا اس پر یہ مشقت ڈالی جائے گی کہ وہ اس کی ساری مٹی کو محشر میں اٹھا ئے پھر ے۔(مسندامام احمد حدیث نمبر 169113 ،زجاجۃالمصابیح ج 2ص309) وعنہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول ایمارجل ظلم شبرامن الارض کلفہ اللہ عزوجل ان یحفرہ حتی یبلغ اٰخر سبع ارضین ثم یطوقہ الی یوم القیامۃ حتی یقضی بین الناس۔ رواہ احمد (مسند امام احمد حدیث نمبر 16913 ،زجاجۃالمصابیح ج 2ص309) ترجمہ:حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں جو شخص ظلم کرتے ہوئے بالشت بھر زمین بھی کسی کی لے لے تو اللہ عزوجل اس کو اس امر کا مکلف کرے گا کہ وہ سات زمینوں کی تہہ تک اسکو کھودتاجائے پھر قیامت کے دن تک اس کا طوق اسکے گلے میں پڑارہے گا حتی کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے ۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ

    [​IMG]
     
  2. Rania

    Rania VIP Member

    بہت ہی زبردست
     
  3. muzafar ali

    muzafar ali Legend

    Both lajawab
     
  4. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    جزاک اللہ خیرا​
     

Share This Page