1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

مردم شماری میں دانستہ تاخیر


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'حالاتِ حاضرہ' started by DilawerRizvi, Dec 3, 2016.

حالاتِ حاضرہ"/>Dec 3, 2016"/>
Tags:

Share This Page

  1. DilawerRizvi
    Offline

    DilawerRizvi Moderator Staff Member
    • 28/33

    پاکستان میں اب تک پانچ بار مردم شماری ہو چکی ہے۔ پہلی مردم شماری 1951میں ہوئی جب مشرقی اور مغربی پاکستان(بنگلہ دیش) کی مجموعی آبادی75ملین یعنی ساڑھے سات کروڑ انسانوں پر مشتمل تھی۔ اس کے بعد دوسری مردم شماری 1961میں ہوئی۔ اس مردم شماری کے میں بتایا گیا کہ پاکستان کے دونوں حصوں(پاکستان اور بنگلہ دیش) میں مجموعی آبادی93ملین یعنی 9کروڑ 30لاکھ ہو چکی ہے۔ اس کے بعد تیسری مردم شماری ایک سال تاخیر کے بعد 1972میں ہوئی۔ اس وقت سانحہ ڈھاکہ رو پزیر ہو چکا تھا اور مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے الگ ہو کر بنگلہ دیش بن چکا تھا۔ تیسری مردم شماری میں پاکستان کی آبادی 66ملین یعنی 6 کروڑ 60لاکھ ڈکلیئر کی گئی۔اس کے بعد اگلی مردم شماری ایک سال قبل یعنی 1981میں کی گئی۔ اس مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی84ملین یعنی 8 کروڑ 60لاکھ تک پہنچ گئی۔اس کے بعد تقریبا سترہ سال بعد یعنی سات برس تاخیر سے 1998میں مردم شماری کروائی گئی۔ 1998کی مردم شماری کے اعداد شمار کے مطابق پاکستان کی آبادی134ملین یعنی 13ا کروڑ 40 لاکھ نفوس سے تجاوز کر گئی۔اس مردم شماری میں آزاد کشمراور گلگت بلتستان کے علاقے بھی شامل تھے۔ اب ہمارے ملک میں چھٹی مردم شماری ایک مرتبہ پھر تاخیر کا شکار ہے سترہ برس سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے ۔ مارچ2016میں حکومت نے مردم شماری کروانے کا اعلان کیا تاہم سیاسی وجوہات کی بنا پر ایک مرتبہ پھر مردم شماری کو موخر کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیا اور اس سلسلے میں سپریم کورٹ کی طرف سے جمعرات کو سخت ترین ریمارکس دیئے گئے۔سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو دو ماہ میں مردم شماری مکمل کروانے کا حکم دیا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پاس وزیراعظم کو طلب کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں،7دسمبر تک حتمی تاریخ دیں، ورنہ وزیراعظم کو عدالت میں بلائیں گے۔ تحریری طورپربتائیں مردم شماری 15مارچ سے 15مئی تک ہوگی۔مقدمے کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 3رکنی بینچ کر رہی ہے ۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ مردم شماری سے متعلق وزیراعظم کے دستخط سے حتمی تحریری تاریخ دیں ،جمہوری نظام کا دارو مدار مردم شماری پر ہے ،مردم شماری نہ کراکر پورے ملک سے مذاق کیا جا رہا ہے،مردم شماری ہوگی تونئی حلقہ بندیاں ہوں گی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ، تمام سیاسی جماعتوں کو یہی اسٹیٹس کو ،سوٹ کرتا ہے۔ جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ آئین کے مطابق مردم شماری نہ کرائی گئی تووزیراعظم عدالت کے کٹہر ے میں ہوں گے۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آج حکومت کہہ رہی ہے فوج کے بغیر مردم شماری نہیں ہو سکتی،کل الیکشن کمیشن بھی کہے گا کہ فوج کے بغیر الیکشن نہیں ہو سکتے،لائن آف کنٹرول پر جھڑپیں چل رہی ہیں،اس طرح توآئندہ بھی مردم شماری شروع نہیں ہو سکے گی۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ وزیراعظم کو بلائیں یاپھر مردم شماری کی حتمی تاریخ دیں ، بتائیں وزیراعظم کب پیش ہوسکتے ہیں؟ تاریخ نہیں آئی تووزیراعظم وضاحت کے لیے خود سپریم کورٹ آئیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی برہمی ہر اعتبار سے درست نظر آتی ہے۔ حکومت ہر معاملے میں تاخیری حربے استعمال کرتی نظر آتی ہے۔ ماضی میں چشم فلک نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ملک میں جمہوریت کی علمبرار حکمراں جماعتوں نے سپریم کورٹ کے دباؤ پر بمشکل تمام بلدیاتی الیکشن کروائے اور جب بحالت مجبوری الیکشن کروا لئے تو آج تک پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے بلدیاتی اداروں اور منتخب نمائندوں کو اختیارات منتقل نہیں کئے ہیں تاہم کے پی کے میں صورت حال نسبتاً مختلف بتائی جاتی ہے۔بلوچستان وہ پہلا صوبہ تھا کہ جہاں سب سے پہلے بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے لیکن وہاں بھی اب تک عوامی مسائل کو حل کرنے کے حوالے سے کوئی خاص تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔پاکستان میں مردم شماری کا معاملہ بڑی حد تک حساس نوعیت اختیار کر گیا ہے اور کوئی بھی صوبہ کسی دوسرے صوبے کی آبادی کے اعداد شمار کو ماننے کیلئے تیار نظر نہیں آتا۔ اس صورت حال میں حکومت کو خدشہ یہ ہے کہ کوئی نیا تنازعہ نہ کھڑا ہو جائے۔ اصولی طور پر مردم شماری پاکستان پیپلزپارٹی کے دور میں2008میں ہونی چاہیے تھی لیکن پیپلزپارٹی نے بھی سیاسی مصلحت سے کام لیا اور موجودہ ن لیگ کی حکومت بھی تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے جبکہ شاید صوبے بھی یہی چاہتے ہیں کہ مردم شماری نہ ہو اور 2018کے اگلے الیکشن 1998کی مردم شماری اور ان ہی حلقہ بندیوں کے مطابق ہوں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ اور چیف جسٹس پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ حکومت پر دباؤ ڈال کر ملک میں 2018کے الیکشن سے قبل مردم شماری کروانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں؟
     
  2. Admin
    Offline

    Admin Lover Staff Member
    • 63/65

    Mera Nahen khyal k ye log dobara mardum shoamri karin ge
     
  3. Admin
    Offline

    Admin Lover Staff Member
    • 63/65

    Mera Nahen khyal k ye log dobara mardum shoamri karin ge
     
  4. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65


    [​IMG]
    in ko es ki fiker nahi hain,
    ye saray apny chaker ma ha

    [​IMG]
     

Share This Page