1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

بدشگونی کا تصور درست نہیں


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Dec 3, 2016.

General Topics Of Islam"/>Dec 3, 2016"/>

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65

    [​IMG]
    بدشگونی کا تصور درست نہیں

    حضور اکرم نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے بدشگونی کے خیال کو غلط قراردیااور توہم پرستی کے تصو رکی یکسر نفی فرمادی صحیح بخاری میں حدیث شریف ہے: لَا عَدْوَی وَلَا طِیَرَۃَ وَلَا ہَامَۃَ وَلَا صَفَرَ۔ ۔ ۔ ۔ ترجمہ: کوئی بیماری متعدّی نہیں ہوتی‘بدشگونی جائزنہیں‘ الّو اور صفر کے مہینہ میں کوئی نحوست نہیں! (صحیح البخاری ،کتاب الطب، باب الجذام ، حدیث نمبر:5380) مسلمانو ں کو ایسی بد شگونی سے قطعی طور پر پرہیز کرنا چاہئے ، اور اسی طرح تیرہ تیزی کے نام سے انڈے اورتیل وغیرہ سرہانے رکھنا بھی لغو کام ہے، ان امور سے بھی احتیاط ضروری ہے۔ قطع نظر اس کے رضائے الہی کی خاطر فقراء ومساکین پر صدقہ وخیرات کرنادیگر مہینوں کی طرح اس ماہ میں بھی جائز ومُستحسن ہے۔ چنانچہ امام بیہقی کی شعب الایمان میں حدیث پاک ہے: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّ الصَّدَقَۃَ لَتُطْفِئیُ غَضَبَ الرَّبِّ وَتَدْفَعُ مِیتَۃَ السُّوئِ۔ ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘انہوں نے کہا کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:یقینا صدقہ اورنیکی پروردگار کے غضب کی آگ کوٹھنڈاکرتی ہے اور بری موت کودفع کرتی ہے۔ (جامع الترمذی ، باب فضل الصدقۃ،حدیث نمبر:666۔شعب الایمان للبیہقی ، الصدقۃ تطفیٔ غضب الرب ،حدیث نمبر:3202) جب بھی کوئی شخص مصیبت سے دوچار ہوتو اسے اپنے عمل کا جائزہ لیناچاہئے ، اپنے اعمال میں جہاں کوتاہی واقع ہوئی ہے اسکی اصلاح کرنی چاہئے جہاں لغزش ہوئی ہے اسے سدھارنا چاہئے، توبہ کرکے اللہ تعالیٰ سے رجوع ہوناچاہئے کیونکہ اپنے برے اعمال ہی تمام ترنحوستوں کا باعث ہوتے ہیں ، نیک وصالح بندہ کو بھی زندگی میں مختلف قسم کے مصائب وآلام سے گزرنا پڑتا ہے اور یہ اللہ تعالی کی طرف سے اس کے لئے امتحان ہوتا ہے، جولوگ مصائب وآلام کا صبر و استقامت کے ذریعہ مقابلہ کرتے ہیں وہ اس امتحان میں کامیاب ہیں ، جن کے قدم آفات وبلیات کی وجہ سے نہیں لڑکھڑا تے اللہ کی نصرت وحمایت انکے ساتھ ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔

    [​IMG]
     

Share This Page