1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

ماہ صفر میں تیرہ تیزی کا تصور

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Dec 3, 2016.

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 83/98

    [​IMG]
    ماہ صفر میں تیرہ تیزی کا تصور


    اسلام دین حق وصداقت ہے جس نے عقیدۂتوحیدورسالت کے انوار سے کائنا ت کو روشن ومنور کیا اور ہرقسم کے باطل رسومات ومشرکانہ تو ہمات کی ظلمتوں کو کافور کردیا ، جاہلیت کے فرسودہ رسومات میں یہ بات بھی تھی کہ ماہ صفر کولوگ منحوس سمجھتے اور اس سے بدشگونی لیتے تھے۔ سنن ابوداؤد شریف کی ایک روایت میں ہے :والطیرۃ من الجبت۔ ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ نے فرمایا کسی چیز سے بدشگونی لینا شیطانی کام ہے۔ (زجاجۃ المصابیح،ج3 ص445) وعن ابی ہریرۃرضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لا عدوی ولاطیرۃ ولاہامۃ ولا صفر۔ ترجمہ: سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور بدشگونی کوئی چیزنہیں اور الوکی نحوست کوئی چیز نہیں اور نہ صفر میں کوئی نحوست ہے۔ (زجاجۃ المصابیح ج 3کتاب الطب والرقی ،باب الفال والطیرۃ، ص 447﴾ حضرت سیدی ابو الحسنات سید عبداللہ شاہ صاحب نقشبندی مجددی قادری محدث دکن علیہ الرحمۃ اس حدیث شریف کی شرح کرتے ہوئے زجاجۃ المصابیح کی حاشیہ میں رقمطراز ہیں: قولہ ولا صفر قال ابوداؤد فی سننہ قال بقیۃ سأ لت محمد بن راشد عنہ قال کانوا یتشاء مون بدخول صفر فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا صفر وقال القاضی ہو ان یکون نفیا لما یتوہم ان شہر صفر تکثرفیہ الدواہی والفتن۔ ترجمہ: امام ابوداؤد نے اپنی سنن میں بیان کیا کہ محدث بقیہ نے اس حدیث شریف کے بارے میں اپنے استاد محمد بن راشد سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: جاہلیت میں لوگ ماہ صفر کی آمد کومنحوس سمجھتے تھے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس حقیقت امر کوواضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ماہ صفر منحوس نہیں ہے ،قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اس حدیث شریف سے اس وہم کی نفی ہوجاتی ہے جو ماہ صفرسے متعلق کیا جاتا ہے کہ اس میں آفات وبلیات بکثرت نازل ہواکرتی ہیں۔ (حاشیہ زجاجۃالمصابیح ج 3کتاب الطلب والرقی، باب الفال والطیرۃ، ص447﴾ مذکورہ بالااحادیث شریفہ کی روشنی میں واضح ہوجاتاہے کہ صفر کو منحوس سمجھنا اور اس میں شادی بیاہ، خوشی ومسرت کی تقاریب کے انعقاد کونامناسب سمجھنا‘ یہ سب امورجاہلیت کے باطل تو ہمات کی پیداوار ہیں جن کی دین اسلام میں کوئی گنجائش نہیں، مسلمانو ں کو ان سے قطعی طور پر’ پر ہیز کرنا چاہئے ، اور اسی طرح تیرہ تیزی کے نام سے انڈے وتیل وغیرہ رکھنا بھی لغواورقابل ترک کام ہے ، قطع نظر اس کے رضائے الہی کی خاطر فقراء ومساکین پر صدقہ وخیرات کرنادیگر مہینوں کی طرح اس ماہ میں بھی جائز ومستحسن ہے۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔

    [​IMG]
     

Share This Page