1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

بروزقیامت مطمئن بندے

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Dec 3, 2016.

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 83/98

    [​IMG]
    بروزقیامت مطمئن بندے


    یقیناً قیامت کا دن انتہائی خوف و گھبراہٹ اور ہولناکی و مصیبت کا دن ہوگا لیکن اللہ تعالی کے وہ خاص بندے جو ہر حال میں اسی سے ڈرتے ہیں بجز اس کے کسی سے نہیں ڈرتے ،اللہ تعالیٰ انہیں اس دن کی خوف و گھبراہٹ سے محفوظ و مامون رکھے گا۔ قرآن کریم کی متعدد آیات شریفہ اور احادیث صحیحہ سے یہ امر ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ بروز محشر اپنے نیک و صالح بندوں کو خصوصی انعامات سے نوازے گا اور تمام خلائق کے مابین ان کی قدرومنزلت کو آشکار کردے گا۔اللہ کے انعام و افضال کے باعث وہ اولیاء کرام اور صالحین بندے کمال درجہ مسرت و فرحت انبساط و شادمانی میں رہیں گے،انہیں قیامت کے دن کی گھبراہٹ متفکرنہیں بنائے گی چنانچہ ارشادباری ہے:
    لايحزنهم الفزع الاکبر وتتلقهم الملائکة –

    (سورة الانبیاء آیت ۔ 103)
    ترجمہ : ان کو بڑی گھبراہٹ غمزدہ نہیں کرے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے ۔
    مزید‘ ارشاد فرمایا:
    لهم البشریٰ فی الحيوٰۃ الدنيا و فی الآخرۃ –
    (سورۂ یونس ۔آیت 64)
    ترجمہ : انہیں کے لئے دنیوی زندگی میں اور آخرت میں بشارت و خوشخبری ہے ۔
    احادیث شریفہ کے ذخائر سے بطور نمونہ چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں : سنن ابوداؤد شریف ج 2‘ ص 495باب فی الرھن حدیث نمبر (3528)(مطبع دارالکتب العلمیہ ۔ بیروت ) حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے
    ۔ أن عمر بن الخطاب قال قال النبی صلی الله عليه وسلم ان من عبادالله لاناسا ماهم بانبياء ولاشهداء يغبطهم الانبياء والشهداء يوم القيامة بمکانهم من الله تعالی ۔ قالوا: يارسول الله تخبرنا من هم ؟ قال : هم قوم تحابوا بروح الله علي غير ارحام بينهم ولا اموال يتعاطونها فوالله ان وجوههم لنور و انهم علی نور ‘ لايخافون اذا خاف الناس و لا يحزنون اذا حزن الناس وقرأ هذه الآية : الا ان اولياء الله لاخوف عليهم ولاهم يحزنون -

    ترجمہ : سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالی کے بندوں میں سے کچھ ایسے ہیں نہ وہ انبیاء ہیں اور نہ شہداء، بروز قیامت اللہ تعالیٰ کے پاس ان کے مقام و مرتبہ کی وجہ سے انبیاء و شہداء ان کی تعریف کریں گے ۔
    صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! وہ کون حضرات ہیں ؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ محض اللہ کی رحمت و عنایت کی وجہ سے آپس میں محبت رکھتے ہیں ‘ نہ تو آپسی رشتہ داری کی بناء پر اور نہ مالی لین دین کی وجہ سے ۔
    اللہ کی قسم! یقیناً ان کے چہرے حد درجہ نورانی ہوں گے اور وہ نور (کے منبروں ) پر ہوں گے ، جب لوگ ڈر رہے ہوں گے انہیں کوئی خوف نہ ہوگا ، جب لوگ غمزدہ ہوں گے اور یہ غمگین نہ ہوں گے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی
    : الا ان اولياء الله لاخوف عليهم ولاهم يحزنون -

    ترجمہ : یقیناً اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمزدہ ہوں گے ۔ یہ حدیث شریف مشکوۃ المصابیح ج 2ص 426اور زجاجۃ المصابیح ج 4ص 103 اور اس کے علاوہ مندرجہ ذیل کتب احادیث شریفہ میں بھی موجود ہے : مستدرک للحاکم‘ مسند احمد‘ معجم طبرانی ‘ شعب الایمان للبیہقی ‘ حلیۃ الاولیاء لابی نعیم ‘ ابن عساکر ‘ ابن ابی الدنیا ‘ ابن ابی حاتم-
    اور ابن مردویہ کے حوالے سے کنز العمال شریف میں آٹھ سے زیادہ مرتبہ آئی ہے ۔ (کنز العمال ج 9ص 6تا 9‘ ص 97)
    الترغیب والترھیب میں دو مرتبہ (ج 4ص 12‘ ج 4ص 11) –
    جامع الاحادیث والمراسیل میں تین (3)مرتبہ (ج 1ص 330) ج 3ص 152‘ ج 18ص 248-
    مجمع الزوائد میں ایک مرتبہ (باب المتحابین فی اللہ عزو جل )-
    مسند الحارث میں ایک مرتبہ (ج 2ص 993)
    محدث دکن حضرت سید عبداللہ شاہ صاحب نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ نے زجاجۃ المصابیح میں (ج 4ص 103) بحوالہ ترمذی
    "لهم منابر من نور يغبطم النبيون والشهداء"
    کی روایت ذکر کی ہے ۔ یعنی ان کے لئے نور کے منبر ہوں گے ۔ انبیاء و شہداء ان کی تعریف کریں گے ۔ اس کے ساتھ ساتھ قیامت کے دن ان کا لباس بھی نورانی ہوگا ۔
    کنزالعمال ج 9ص 8میں مسند احمد کے حوالہ سے ایک طویل حدیث پاک ہے جس میں یہ الفاظ ہیں:
    يضع الله لهم يوم القيامة منابر من نور فيجلسون عليها و ان ثيابهم لنور وجوههم نور ۔

    ترجمہ : اللہ تعالی قیامت کے دن ان کے لئے منبر رکھے گا تو وہ ان منبروں پر تشریف رکھیں گے اور یقیناً ان کا لباس نورانی ہے . ان کے چہرے نورانی ہوں گے۔
    غرض یہ کہ اللہ کے محبوب و مقرب بندے قیامت کے دن مسرتوں میں ہوں گے ، اللہ تعالیٰ کی عطاؤں اور سرفرازیوں پر شاداں و فرحاں رہیں گے ، ان کے لئے نور کے منبر ہوں گے ۔ ان کا لباس نورانی ہوگا اور ان کے چہرے پرنور ہوں گے ۔
    واللہ اعلم بالصواب –
    سیدضیاءالدین عفی عنہ


    [​IMG]
     

Share This Page