1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

قیامت کے دن کس کے ساتھ بلایاجائیگا؟

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Dec 3, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management

    [​IMG]
    قیامت کے دن کس کے ساتھ بلایاجائیگا؟


    قیامت کے دن اللہ تعالی اپنے بندوں کو ان کے امام کے ساتھ پکارے گا، چنانچہ ارشاد الٰہی ہے : یَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِہِمْ ۔ ترجمہ: جس دن ہم تمام لوگوں کو اُن کے امام کے ساتھ بلائیں گے- (سورۃ بنی اسرائیل۔ 71) امام سے مراد کیا ہے؟ اس سے متعلق احادیث وآثار کی روشنی میں ائمۂ تفسیر سے متعدد معانی مذکور ہیں، امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے بطور ذیل میں درج ذیل احادیث شریفہ ذکر کی ہیں: (1) حضرت علی رضی اللہ عنہ‘ حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ امام سے مراد‘ ہرقوم میں اُن کے زمانہ کے مقتدیٰ و پیشوا ہیں ‘نیز قرآن کریم و حدیث شریف بھی مرادہے۔جیساکہ تفسیر درمنثورمیں ہے ؛ يدعى كل قوم بإمام زمانهم وكتاب ربهم وسنة نبيهم (2) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ امام سے مراد ہرامت کے لئے اُن کے نبی ہیں؛ قال بنبیہم (3) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ امام سے مراد ان کے اعمال نامے ہیں؛ قال بکتاب اعمالہم۔ (درمنثور ، سورۃ بنی اسرائیل۔ 71) (4) امام سے مراد وہ حضرات ہیں کہ لوگ جن کی اتباع و پیروی کیا کرتے تھے‘ جیساکہ جلیل القدر مفسر ابو جعفر محمد بن جریر طبری (متوفی 310ھ) نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے: وأولى هذه الأقوال عندنا بالصواب، قول من قال: معنى ذلك: يوم ندعو كلّ أناس بإمامهم الذي كانوا يقتدون به، ويأتمُّون به في الدنيا، لأن الأغلب من استعمال العرب الإمام فيما ائتمّ واقتدي به- ترجمہ: ان اقوال میں ہمارے پاس بہتر قول یہ ہے کہ اللہ تعالی بروز قیامت لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائے گا جن کی وہ دنیا میں اقتداء و اتباع کیا کرتے تھے، کیونکہ لفظ ’’امام ‘‘سے متعلق عرب کاغالب استعمال اس معنی میں ہے ’’جس کی اتباع و پیروی کی جائے‘‘۔ (جامع البیان فی تاویل القرآن لابی جعفر محمد بن جریر الطبری، سورۃ بنی اسرائیل۔ 71) واللہ اعلم بالصواب ، سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔


    [​IMG]
     

Share This Page