1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

جھنگا پہلوان نے کرکٹ کھیلا


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'Bachon Ki khaniya' started by IQBAL HASSAN, Dec 6, 2016.

Bachon Ki khaniya"/>Dec 6, 2016"/>

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65

    [​IMG]

    جھنگا پہلوان نے کرکٹ کھیلا


    اقبال حسن اسلام اباد


    اس دن جھنگا پہلوان اپنے چمچہ نما چیلے للو کے ساتھ تین بتی پر اپنے مخصوص اڈے پر بیٹھے تھے۔ سامنے کی دوکان میں زبردست بھیڑ تھی۔ اس دوکان پر ٹی وی تھا اور ٹی وی پر کرکٹ میچ چل رہا تھا۔ کرکٹ میچ شاید دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گیا تھا۔ اس لئے لوگ اپنی اپنی دوکانیں، دھندہ چھوڑ کر کرکٹ میچ دیکھنے میں مصروف تھے، کہاں تو پہلے یہ صورت حال تھی کہ دوکاندار گاہک کی راہ دیکھتے تھے اب یہ صورت تھی کہ گاہک دوکانوں پر کھڑے دوکان دار کا انتظار کر رہے تھے۔
    دوکان پر کھڑے گاہکوں کو دیکھ کر دوکاندار اشارہ کر رہے تھے۔

    "ایک منٹ انتظار کرو، یہ اوور ختم ہو جائے تو آتا ہوں" جھنگا بہت دیر سے یہ تماشہ دیکھ رہے تھے، آخر اپنے چیلے سے پوچھ بیٹھے۔
    "للو! وہ سامنے والی دوکان پر اتنی بھیڑ کیوں ہے؟"
    "استاد کرکٹ میچ دکھایا جا رہا ہے۔"
    "سالا اس کرکٹ کا نام سن سن کر دماغ کا دہی ہو گئی ہے۔ پتہ نہیں کیسا کھیل ہے، ہو کوئی اس کا دیوانہ ہے۔"
    "یہ تو کھیلنے والا ہی جانے استاد"
    "کبھی کھیل کر دیکھنا چاہیئے کہ کرکٹ کھیل کیا ہے۔"
    "بالکل استاد، میں سمجھتا ہوں آپ سے اچھا کرکٹ تو کوئی کھیل ہی نہیں سکتا۔" للو نے چمچا گری کی تو پہلوان کا دماغ روشن ہو گیا۔ اب اگر للو کہتا ہے کہ میں کرکٹ کھیل سکتا ہوں، تو مجھے کرکٹ کھیل کر دیکھنا چاہیئے۔

    "اچھا یہ بتا"، وہ للو کی طرف مڑے، "یہ کرکٹ کہاں کھیلا جاتا ہے۔"
    "ارے استاد، پیلی اسکول کے گراؤنڈ میں شام میں سینکڑوں بچے کرکٹ کھیلتے ہیں۔ آپ وہاں کرکٹ کھیل سکتے ہیں۔"
    "ٹھیک ہے"، پہلوان بولے، "آج ہم کرکٹ کھیلیں گے۔"
    "استاد آج آپ کرکٹ کھیلیں گے؟" یہ سن کر للو کی بانچھیں کھل گئی۔ اس نے زور زور سے چیخنا شروع کر دیا۔

    "ارے سنیئے، سنیئے۔۔۔۔ آج شام کو استا جھنگا، پیلی اسکول کے گراؤنڈ میں کرکٹ کھیلیں گے۔"
    للو کی آواز سن کر آتے جاتے لوگ رک گئے اور للو سے اس بارے میں دریافت کرنے لگے جو لوگ استاد جھنگا کے شناسا تھے، وہ سیدھا ان کے پاس آئے۔
    "استاد سنا ہے آج سے آپ کرکٹ کھیلنا شروع کرنے والے ہیں؟"
    "مبارک استاد۔ پہلوان کے اکھاڑے کے استاد تو بن گئے۔ ایک دن کرکٹ کے بھی چمپئن بن جائیں گے۔"
    استاد آپ کرکٹ کہاں؟ کس کی ٹیم کی طرف سے کھیلیں گے؟
    "ابھی ٹیم وغیرہ طے نہیں کی ہے۔۔۔" استاد نے جواب دیا۔ "کسی بھی ٹیم کے ساتھ کھیل لیں گے۔"

    تھوڑی دیر میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح سارے شہر میں پھیل گئی کہ جھنگا پہلوان کرکٹ کھیلنے والے ہیں۔ شام کو پیلی اسکول کے گراؤنڈ میں کرکٹ کھیلنے والوں کی تو بھیڑ تھی۔ نظام پورہ، اسلام پورہ، کو ٹرکیٹ تین بتی جیسے آس پاس کے محلوں کے سینکڑوں لوگ جھنگا پہلوان کو کرکٹ کھیلتے دیکھنے کے لئے جمع تھے۔ استاد نے انزل کی ٹیم کو کرکٹ کھیلنے کے لئے پسند کیا۔

    "ارے لڑکے۔۔۔"۔ للو نے انزل سے کہا، "یہ جھنگا پہلوان ہیں۔ پہلوانی کے بہت بڑے استاد ہیں۔ یہ آج تمہارے ساتھ تمہاری ٹیم میں کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں۔"
    انزل نے نیچے سے اوپر تک استاد کو دیکھا۔ پھر بولا۔ "یہ صورت و شکل سے جھنگا تو دکھائی نہیں دیتے، ہاتھی دکھائی دیتے ہیں۔اگر یہ جھنگے کی طرح دبلے پتلے ہوتے تو میں انہیں اپنی ٹیم میں کرکٹ ضرور کھلاتا لیکن یہ ہاتھی کی طرح موٹے تازے ہیں۔ اس لئے میرا مشورہ ہے کہ یہ کرکٹ کھیلنے کا ارادہ ترک کر دیں اور پہلوانی میں دھیان لگائیں۔"
    "کیا کہا"، للو کو غصّہ آگیا، "استاد کو کرکٹ نہیں کھلائے گا۔"
    "میں یہ نہیں کہتا ہوں"، انزل جلدی سے بولا۔ "دراصل ان کے ڈیل ڈول کی وجہ سے کہہ رہا ہوں کرکٹ کھیلنا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔"
    "اے لڑکے کیا مجھے نہیں جانتا؟" استاد جھنگا کو بھی غصہ آگیا. "شہر کا مانا ہوا پہلوان ہوں۔ لوگ مجھے استاد جھنگا کے نام سے جانتے ہیں۔ کلیان کے روکڑے پہلوان کو دو منٹ میں چت کر دیا تھا۔ وزن اٹھانے کے مقابلے میں اوّل آ چکا ہوں۔ تو کیا میں کرکٹ نہیں کھیل سکتا؟"
    "آج سینکڑوں لوگ مجھے کرکٹ کھیلتا دیکھنے کے لئے آئے ہیں اور میں آج کرکٹ نہ کھیل کر اپنی بے عزتی کروں؟"
    "استاد، اب یہ آپ کے ہاتھ میں ہے، اپنی عزت بڑھائیں یا بے عزتی کریں۔"
    انزل بولا، "مشورہ دینا میرا کام تھا، عمل کرنا آپ کا چلئے، آئیے ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلئے۔"

    استاد کرکٹ کھیلنے والوں میں شامل ہو گئے۔ استاد جب میدان میں اترے تو چاروں طرف سے تالیاں بجنے لگیں۔ جس سے استاد کا سینہ فخر سے اور دور چار انچ بڑھ گیا۔ انزل نے پھر انہیں ٹوکا۔ "استاد آپ لنگی میں کرکٹ کھیلیں گے؟ اچھا ہوتا آپ پتلون پہن کر آتے۔"
    "استادوں کی نشانی لنگی ہے۔ ہم لنگی میں ہی کرکٹ کھیلیں گے۔ ہم پتلون نہیں پہن سکتے، کہو تو لنگوٹ پہن لیں۔" لنگوٹ کا نام سن کر انزل کو دن میں تارے دکھائی دینے لگے۔ "نہیں استاد آپ لنگی پر ہی کرکٹ کھیلیں۔"

    استاد کو باؤنڈری لائن کے پاس فیلڈنگ کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔ کھیل شروع ہوا۔ تیز گیند باز حنین نے گیند کی۔ بلے بازی کرنے والے اسامہ نے اسے کٹ کیا۔
    گیند گولی کی رفتار سے جہاں استاد جھنگا فیلڈنگ کر رہے تھے اس طرف بڑھی۔ "استاد بال پکڑیئے، بال پکڑیئے"، ایک شور اٹھا۔
    استاد گھبرا گئے، سمجھ میں نہیں آیا، شور پر توجہ دیں یا بال پر۔ جب تک شور سے توجہ ہٹتی بال ان کے پیروں کے پاس سے گولی کی رفتار سے گزر کر باؤنڈری لائن پار کر گئی تھی۔

    "کیا استاد، فور دے دیا۔ آپ اس بال کو پکڑ سکتے تھے"، کسی نے کہا تو بازو میں بیٹھے للو نے اس کا منہ دابا۔ "چپ رہو، دیکھو اس بار استاد گیند کو کس طرح پکڑتے ہیں۔"

    دوسری بار بھی استاد کی طرف گیند آئی، اس بار رفتار کچھ دھیمی تھی، استاد گیند پکڑنے کے لئے دوڑے۔ دوڑتے ہوئے پیر لنگی میں اٹکا، تو گیند باؤنڈری لائن پار کر گئی، استاد دھڑام سے منہ کے بل گر گئے۔ سارے میدان میں قہقہے گونجنے لگے۔ استاد بدن سے مٹی جھاڑتے اٹھے اور اپنے مقام پر واپس آئے،اسامہ کو ایک بکرا فیلڈر مل گیا تھا، اسے پتہ تھا اس کی طرف گیند ماری جائے تو وہ روک نہیں پائے گا، اس لئے وہ اسی کو نشانہ بنانے لگا۔ اس بار اسامہ نے استاد کی طرف گیند ماری تو استاد پہلے سے تیار تھے۔ وہ گیند پکڑنے کے لئے گیند کی طرف دوڑے۔

    "استاد دوڑیے، گیند جانے نہ پائے"، میدان کے تماشائی ان کا حوصلہ بڑھانے لگے، ابھی وہ گیند کے قریب پہونچ کر اسے پکڑ بھی نہیں پائے تھے کہ ان کی لنگی کھل گئی اور میدان قہقہوں سے بھر گیا۔ گیند جھنگا کے پاس سے گزر گئی تھی۔ وہ لنگی پکڑے گیند کے پیچھے دوڑے۔ دوڑتے ہوئے انہیں محسوس ہوا کہ لنگی پکڑ کر گیند پکڑنے کے لیے وہ تیز نہیں دوڑ پائیں گے، اس لیے انہوں نے لنگی چھوڑ دی اور پوری طاقت لگا کر گیند پکڑنے کے لئے دوڑے۔ استاد جھنگا کے لنگی کا اتر جانا اور تماشائیوں کے لئے سب سے زیادہ دلچسپی کا باعث تھا، وہ اپنی ہنسی روک نہیں پا رہے تھے۔ پیٹ پکڑ پکڑ کر ہنس رہے تھے۔ استاد صرف لنگوٹ میں گیند کے پیچھے کچھ اس طرح دوڑ رہے تھے جس طرح اکھاڑے میں مدمقابل کے ساتھ داؤ پیچ کر رہے ہوں۔ وہ گیند تو پکڑ نہیں سکے ایک بار پھر گیند باؤنڈری لائن کراس کر گئی۔ واپس آ کر استاد نے اپنی لنگی پہنی اور پھر اپنے فرض میں لگ گئے۔ اگلی بار باؤنڈری لائن کی طرف جاتی گیند پکڑنے کے لئے انہیں نے جو دوڑ لگائی تو ان کی سانسیں پھول گئیں اور سارا جسم پسینے میں نہا گیا۔ دو تین بار انہوں نے ایسا کیا تو انہیں محسوس ہوا جیسے ان کی سانس حلق میں اٹک گئی ہے۔ پہلوانی کرتے ہوئے پسینہ بھی آتا تھا اور سانس بھی پھولتی تھی۔ لیکن جو تکلیف گیند کو پکڑنے کے لئے دوڑنے میں ہو رہی تھی وہ تکلیف نہیں ہوتی تھی۔ انہیں محسوس ہوا کہ وہ مرحوم گاما پہلوان کے ساتھ ایک گھنٹہ کشتی لڑ سکتے ہیں۔ لیکن گیند پکڑنے کے لئے دس منٹ اس کے پیچھے دوڑ نہیں سکتے۔ بھلے وہ مشہور و معروف جھنگا پہلوان ہوں، وہ پہلوانی کر سکتے ہیں لیکن فیلڈنگ نہیں۔ انہوں نے اعلان کر دیا وہ فیلڈنگ نہیں کریں گے۔

    انہوں نے انزل سے کہہ دیا "ہم فیلڈنگ نہیں کر سکتے، ہم بیٹنگ کرنا چاہتے ہیں، ہمیں بیٹنگ کرنے دو۔" اب انزل کے لئے یہ بڑا مسئلہ تھا۔ اصول یہ تھا کہ جو کھلاڑی کھیل رہا ہو اس کے آؤٹ ہونے کے بعد دوسرا کھلاڑی کھیلے گا۔ اس وقت اسامہ کھیل رہا تھا۔ 8 کھلاڑی کھیلنے باقی تھی اس کے بعد جھنگا پہلوان کا نمبر آنے والا تھا۔ اسامہ آؤٹ ہو جاتا تو کوئی بات نہیں تھی اس کے بعد جس کھلاڑی کا نمبر تھا اسے سمجھا بجھا کر اس کی جگہ جھنگا استاد کو کھیلنے کا موقع دیا جا سکتا تھا۔ لیکن نہ تو اسامہ کو آؤٹ کرنا آسان تھا نہ اسے اپنی جگہ استاد کو کھلانے کے لئے مجبور کرنا۔ اس کی اس مشکل کو جھنگا استاد کے چیلے للو نے آسان کر دی۔
    اس نے بھیڑ کے سامنے تقریر کرنی شروع کر دی۔

    "ارے استاد اتنے اچھے بلے باز ہیں کہ ان کی بلے بازی کا تو سچن تندولکر نے بھی لوہا مانا ہے۔ دادر کے شیوا جی پارک میدان میں دونوں ساتھ ساتھ کھیلے ہیں چوکے چھکے تو یوں مارتے ہیں جیسے ایک دو رن لے رہے ہوں۔"
    "کیا سچ مچ جھنگا استاد اتنے اچھے بلے باز ہیں؟" لوگوں نے حیرت سے پوچھا۔
    "استاد جب بلے بازی کرنا شروع کریں گے تب دیکھنا۔" للو بولا۔

    اتنا سننا تھا کہ لوگوں میں جھنگا پہلوان کو بلے بازی کرتے دیکھنے کا شوق جاگا۔ انہوں نے نعرے لگانا شروع کر دیئے۔

    "وی وانٹ جھنگا۔"
    "وی وانٹ جھنگا۔"

    اس شور نے انزل کی مشکل آسان کر دی۔ اس نے اسامہ سے کہا کہ وہ جھنگا استاد کو بلے بازی کرنے دے۔ لوگوں کی یہی فرمائش ہے۔ لوگوں کی مانگ اور فرمائش کا احترام کرتے ہوئے اسامہ نے بلہ جھنگا استاد کے ہاتھ میں تھما دیا۔ میدان تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے گونج اٹھا۔

    "استاد چوکا۔"
    "استاد چھکا"
    "استاد ایک اوور میں تین چھکے"، چاروں طرف سے آوازیں ابھرنے لگیں۔ جھنگا پہلوان کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ اس خبر کو سن کر اس علاقے کے کونسلر شرفو بھائی، سلیم بھائی اور امتیاز بھائی بھی میدان میں پہونچ گئے۔

    شرفو بھائی نے اعلان کیا۔
    "اگر استاد پہلے اوور میں چھکا لگاتے ہیں تو میں انہیں سو روپیہ انعام دوں گا۔"
    "اگر استاد آج تین چھکے لگاتے ہیں تو میں انہیں آدھا بکرا انعام میں دوں گا۔" سلیم بھائی کارپوریٹر نے بھی اعلان کر دیا۔
    "اگر استاد پانچ چھکے لگاتے ہیں تو میں انہیں پاؤ کلو بادام انعام میں دوں گا۔"

    پورا میدان ان اعلانات کے ساتھ تالیوں سے گونج رہا تھا اور استاد کا سینہ فخر سے پھولا جا رہا تھا۔ بالنگ کرنے والے حنین کو اپنی عزت کا معاملہ محسوس ہوا۔ اس نے سوچا اگر استاد نے ان کی بالنگ پر چھکے لگا دیئے تو استاد کو تو انعامات مل جائیں گے، وہ کہیں کا نہیں رہے گا۔ اس لیے اس نے دل ہی دل میں سوچا اس کی گیند پر چھکا تو لگنا نہیں چاہیئے۔ تالیوں کی گونج میں وہ رن وے پر پہونچا اور اس نے دوڑنا شروع کیا۔



    [​IMG]
    ITUSTAD.ANIMATED-NAME.gif
     
    Rania likes this.
  2. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65

    [​IMG]

    "استاد چوکا، استاد چھکا"، کے شور سے میدان گونج رہا تھا۔ حنین نے پہلی گیند کی۔ استاد نے پوری قوت سے بلا گھمایا، لیکن گیند کہاں گئی کسی کو پتہ نہیں چل سکا۔ وکٹ کیپر اور تمام فیلڈر حیران؟ خود استاد بھی حیران انہوں نے گیند کو پچ سے ٹکراتے دیکھا تھا اس کے بعد کہاں گئی پتہ نہیں چل سکا۔ سارا میدان سناٹے میں آگیا۔ تھوڑی دیر تک یہی عالم رہا۔ تھوڑی دیر بعد پہلوان تھوڑا سا ہلے تو گیند ٹپ سے زمین پر گری اور سارا میدان ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گیا۔ گیند نہ تو بلے سے ٹکرانی تھی نہ باؤنڈری لائن کے باہر گئی تھی۔ پہلوان کی لنگی میں پھنس گئی تھی۔ انزل نے اپنا سکر پکڑ کر گیند اٹھا کر حنین کو دی۔
    حنین نے دوسری گیند کی اور، "آؤٹ"کے شور سے سارا میدان گونج اٹھا۔

    پہلوان کی ساری وکٹیں بکھری ہوئی تھیں۔
    اس طرح دوسری گیند پر آؤٹ ہو جانا پہلوان کو اپنی توہین محسوس ہوا۔ شور اٹھا۔
    "پہلوان کو ایک موقع اور دیا جائے۔ ایک موقع اور دیا جائے۔" اپنے ساتھیوں سے مشورہ کر کے انزل نے پہلوان کو ایک اور موقع دینے کا طے کر لیا۔ غصے سے بھرے حنین نے پھر گیند ڈالی۔ اس بار گیند پھر لنگی میں الجھی، مگر الجھ کر کچھ اس تیزی سے پہلوان کی پنڈلی سے ٹکرائی کہ ان کے ہاتھ سے بلا گر گیا اور وہ ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر کتھا کلی کرنے لگے۔
    "ارے میں مرااف ظالم کس زور سے گیند ماری ہے۔"
    "ایل بی ڈبلیو۔ آوٹ ہے۔" جب کھلاڑیوں کی طرف سے اپیل ہونے لگی تو استاد کو ہوش آیا۔ اس طرح اگر آؤٹ قرار دیئے گئے تو دو گیندوں میں مسلسل آؤٹ ہونے کا بے عزتی کا ریکارڈ ان کے نام بن سکتے ہیں۔ وہ ٹھیک ہو گئے حنین واپس اپنے بولنگ مارک پر گیا۔ اس کے بعد جو گیندیں آ رہی تھی۔ پہلوان ہوا میں بلا چلا رہے تھے۔ گیند بلے کے آس پاس سے گزر کر وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں جا رہی تھی۔
    میدان سے، "اوپ، اوپ"، کی آوازیں اٹھ رہی تھیں۔
    "استاد چوکا۔۔"
    "استاد چھکا"
    "استاد سو روپیہ انعام ہے۔"
    "استاد آدھا بکرا انعام ہے۔"

    ایک بار میدان سے شور بلند ہونے لگا۔ تو پہلوان کو ہوش آیا۔ سچ سچ یہ تو بڑی بدنامی کی بات تھی۔ ان کے بلے بازی پر اتنے انعام رکھے گئے ہیں اور وہ ایک بھی رن نہیں بنا پا رہے ہیں۔ اگلی گیند غلطی سے بلے سے ٹکرا کر تھوڑی دور چلی گئی۔ "استاد رن لو۔ استاد رن بناؤ"، میدان سے ایک شور اٹھا تو پہلوان کو یاد آیا کہ وہ جو کھیل کھیل رہے ہیں اس میں دوڑ کر رن بھی بنانا پڑتا ہے۔ وہ دوڑے۔ اسی وقت گیند ایک کھلاڑی نے پکڑ کر گیند باز کی طرف اچھال دی۔ یہ منظر دیکھ کر استاد کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔ اس طرح تو وہ رن آوٹ ہو جائیں گے۔ اس خیال کے آتے ہی وہ پوری قوت لگا کر بھاگے۔ اس کی وجہ سے وہ آوٹ ہونے سے تو بچ گئے لیکن بھاگنے سے جو درگت ہوئی اس کی وجہ سے جان نکلتی محسوس ہوئی۔ آگے بھی ایک دو بار گیندیں بے خیالی میں بلے سے ٹکرا کر کچھ دور چلی گئی اور میدان سے رن لینے کے لئے شور اٹھنے لگا۔ اس شور کو سن کر استاد کو اپنی جان نکلتی محسوس ہونے لگی۔

    پہلوان رنز بنانے کے لئے دوڑتے تو ایسا لگتا جیسے ساری طاقت دونوں پیروں میں جمع ہو رہی ہے۔ ایک دو بار تو لنگی میں الجھ کر اس طری طرح گرے کہ سارا جسم دہکتا ہوا انگارہ بن گیا۔ لیکن وکٹ بچانے کے لئے پھر اٹھ کر بھاگے۔ رنز لیتے وقت وہ سوچ رہے تھے یہ دوڑ دوڑ کر ایک دو رن بنانا۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کا کام ہے۔ ان کے جیسے پہلوان کا کام نہیں ہے۔ غلطی سے گیند بلے سے ٹکراتی تو ان کا دل چاہتا وہ اپنی جگہ کھڑے رہے۔ رن نہ لے لیکن جب میدان سے رن لینے کے لئے شور بلند ہوتا تو ساری طاقت پاؤں میں سمیٹ کر دوڑنا پڑتا۔ پہلوان رن بنا رہا ہے یہ دیکھ کر گیند بازوں کو بھی غصہ آگیا۔ انہوں نے بھی گیند بازانہ چالیں چلنے کا سوچ لیا۔ گیند جس نیت کے ساتھ ڈالی گئی تھی اس میں کامیابی ملی۔ گیند جھنگا پہلوان کے سر سے ٹکرائی اور انہیں دن میں تارے دکھائی دینے لگے۔ انہوں نے اتنی سی مار پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ انہیں لگا اگر انہوں نے کوئی رد عمل ظاہر کیا تو اس میدان میں ان کی ہی بے عزتی ہے۔دوسری گیند سینے سے ٹکرائی تو تیسری پشت سے۔ جسم پر جہاں گیند ٹکرائی تھی ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی الاؤ دہک اٹھا ہے اور وہاں سے پورے جسم میں درد کی آگ پھیل رہی ہے۔ کرکٹ کھیلنے میں ایسی مار بھی سہنی پڑتی ہے۔ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ اگلی بار اتنی زور سے گیند سر پر لگی کہ وہ دھڑام سے وکٹوں پر گر پڑے۔

    "دہٹ وکٹ، آوٹ، آوٹ ہیں" کا شور اٹھا، پہلوان کو اٹھایا گیا اور انہیں ناٹ آوٹ دیکر دوبارہ کھیلنے کے لئے کہا گیا۔ لیکن یہاں پہلوان کی تو جان پر بن آئی تھی۔ انہیں لگااس طرح سے گیندیں ان کے جسم سے ٹکراتی رہی تو وہ مستقبل میں کسی بھی کشتی کے قابل نہیں رہیں گے۔ وہ آوٹ ہونا چاہتے تھےاور وہ اگلی ہی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ استاد نے بڑے خلوص سے بلا انزل کی طرف بڑھا دیا۔ اور اگلا بلے باز میدان میں اترا۔

    ادھر میدان میں بیٹھے لوگ للو کا مذاق اڑا رہے تھے۔ "للو پہلوان نے تو کوئی کارنامہ نہیں بتایا۔ چوکے، چھکے تو دور مشکل سے ایک دو رنز بنائے۔"
    "ارے استاد اگر بلے بازی میں ناکام ہوئے تو کیا ہوا۔ دیکھنا گیند بازی میں کیسا رنگ جماتے ہیں۔ استاد گیند بازی میں عرفان پٹھان سے کم نہیں ہیں۔" اتنا سننا تھا کہ تماشائی شور مچانے لگے۔

    "بالنگ،ٹو جھنگا پہلوان۔"
    "جھنگا پہلوان کو بالنگ دو۔"

    یہ انزل کے لئے جتنی بڑی پریشانی کی بات تھی اس سے بڑی پریشانی کی بات پہلوان کے لئے تھی۔ اگر انہیں بالنگ کرنے کے لئے دیا گیا تو وہ کیا کریں گے؟ پھر انہوں نے سر جھٹک دیا۔ بالنگ کرنے کا مطلب گیند پھینکنا ہی تو ہے۔ پھینک کر دیکھ لیں گے۔ میدان کی طرف سے بار بار شور اٹھ رہا تھا کہ گیند بازی جھنگا پہلوان کو دی جائے اس شور سے بچنے کے لئے انزل نے گیند پہلوان کو تھما دی۔ پہلوان نے گیند تو ہاتھ میں سے لے لی لیکن وہ گیند بازی کے آداب سے ناواقف تھے۔ کیا کریں کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ پھر سوچا نقل ہی تو کرنی ہے ابھی تک جو گیند باز کئے ہوئے ہیں ان کی نقل کر کے کام شروع کرتے ہیں۔ انہیں یہ پتا تھا کہ گیند پھینکنے سے پہلے گیند باز دور سے دوڑتا آتا ہے وکٹ کے پاس اچھالتا ہے اور پھر گیند پھینکتا ہے۔ انہوں نے لمبا رن اپ ناپا۔ اور ہاتھ میں گیند لے کر دوڑنا شروع کیا۔ پہلوان جس رفتار سے دوڑ رہے تھے اس رفتار سے ان کے پیچھے تالیوں کا شور اٹھ رہا تھا۔ دوڑتے ہوئے اچانک ان کا پیر لنگی میں الجھا اور وہ دھڑام سے منہ کے بل گر پڑے۔
    ان کے گرنے پر تماشائیوں میں سے کچھ کے منہ سے سسکیاں نکلی تو کچھ کے منہ سے قہقہے۔
    استاد بھی جھینپ گئے اور کپڑے جھاڑتے ہوئے دوبارہ رن اپ پر واپس آئے۔ ان کے ساتھ چلتے چلتے انزل نے ان سے کہا۔ "پہلوان لنگی پہن کر بالنگ کریں گے تو آپ پھر گریں گے۔۔ اس لئے بہتر اسی میں ہے کہ آپ اپنی لنگی کچھ اوپر چڑھا لیں۔" بات پہلوان کو پسند آئی انہوں نے لنگی کچھ اس طرح سے چڑھائی جیسے کسی مراٹھی دیہاتن عورت ساڑھی باندھتی ہو۔ پہلوان کا اس روپ کو دیکھ کر لوگ ہنسنے لگے۔
    پہلوان نے دوڑنا شروع کیا۔ اس بار لنگی کاسٹے کی شکل میں بندھی ہونے کی وجہ سے وہ گرے نہیں انہوں نے رن اپ پورا کر لیا۔ وکٹ کے پاس پہنچنے کے بعد انہیں خیال آیا انہیں گیند سے پہلے اچھلنا چاہئے۔ وہ اچھلے۔ لیکن کچھ زیادہ ہی اچھل گئے اتنا کہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکے۔ اور دھڑام سے منہ کے بل گر پڑے۔
    اور میدان ایک بار پھر قہقہوں سے بھر گیا۔ پہلوان کو غصہ آیا۔ یہاں مجھے اتنی سخت چوٹیں آئیں ہیں۔ کوئی ہمدردی تو نہیں جتا رہا ہے۔ یہ سب ہنس رہے ہیں۔

    "ایک ایک کو دیکھ لوں گا۔"سوچتے وہ رن اپ پر واپس آئے۔ دوڑے، اچھلے گرے نہیں اور انہوں نے گیند پھینکی۔گیند نے اس جگہ ٹپہ نہیں کھایا جسے پچ کہتے ہیں۔ بلکہ بلے باز کے دس فٹ دور سے گزر کر سامنے میدان کے باہر ایک تماشائی کے پیٹ میں لگی اور وہ پیٹ پکڑ کر دوہرا لہو گیا۔
    "ہائے میں مرا ہائے ظالم نے کس زور سے مارا" پہلوان کی گیند سے زخمی ہونے والے اس تماشائی کی کچھ لوگ عیادت میں لگ گئے اور گیند واپس میدان میں آ گئی۔
    جاتے ہوئے انزل نے پہلوان کو مشورہ دیا۔ "استاد طاقت کا نہیں عقل کا استعمال کیجئے وکٹ پر گیند پھینکیے" انزل انہیں جس چیز کا استعمال کرنے کا مشورہ دے رہا تھا وہ تو ان کے پاس تھی نہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پوری چھ گیندیں بلے باز کے آٹھ آٹھ دس فٹ دوری سے گزر گئی۔

    او ور پورا ہوا۔انزل نے سکون کا سانس لیا۔ تو امپائر غرایا۔ "اوور شروع ہی کہاں ہوا ہے۔ ساری گیندیں تو وائڈ بال تھیں۔" امپائر کی بات سن کر انزل نے سر پکڑ لیا۔ اسے لگا پہلوان کی وائڈ گیندوں میں ہی آج رات ہو جائے گی۔ آئندہ جتنی بھی گیندیں پہلوان نے پھینکی وہ سب وائڈ قسم کی تھیں۔ پہلوان کا اوور ختم کیا ہوتا شروع ہی نہیں ہو رہا تھا۔ اس درمیان خوش قسمتی سے پہلوان کی ایک گیند پچ پر گر کر بلے باز کے پاس آئی۔

    بلے باز حنین اس گیند کا تو بڑی بے صبری سے انتظار کر رہا تھا۔ اس نے دھیرے سے بلا گھمایا اور گیند آسمان میں اچھلی۔ "کیچ، کیچ"، تماشائی میں بیٹھا للو چیخا۔ اس کا ساتھ اور بھی کچھ لوگوں نے دیا۔ انہیں پہلوان کی پہلی وکٹ مل گئی۔ لیکن اگر وہ کیچ ہوتا تو پکڑا جاتا۔ وہ تو سکسر تھا۔ سیدھا میدان کے باہر جا گرا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ شروع ہو گیا۔ یا تو گیندیں بلے باز حنین کے آٹھ دس فٹ دوری سے نکل جاتی جو اس کے قریب سے گزرتی وہ آسانی سے اچھال کر میدان کے باہر پہونچا دیتا۔ اس دوران پہلوان کی حالت خراب ہو گئی۔ پورا جسم پسینے میں نہا گیا۔ پنڈلیاں جیسے دہکتا ہوا انگارہ بن گئیں۔ کبھی ایسا محسوس ہوتا جیسے کسی نے پنڈلیوں پر دہکتا ہوا انگارہ رکھ دیا ہے۔ کبھی محسوس ہوتا جیسے کسی نے پنڈلیوں کی ساری جان نکال لی ہو۔ ایسا لگتا پیروں کی ساری نسیں ایک دوسرے پر چڑھ گئی ہیں اور اندر نسوں کا ایک جال بن گیا ہے۔ جسم اور پیشانی سے پسینے کی دھاریں بہہ رہی تھی۔ استاد کسی مشاق گیند باز کی طرح وہ پسینہ گیند سے پونچھ رہے تھے اور دعا مانگ رہے تھے کہ جلد اوور ختم ہو۔

    "ابھی کتنی گیندیں باقی ہیں؟" انہوں نے امپائر سے پوچھا۔
    "دو گیندیں اور باقی ہیں۔"
    وہ تیس چالیس کے قریب گیندیں پھینک چکے تھے۔ لیکن صحیح گیندیں صرف چار مانی گئی تھیں جن پر حنین نے چار چھکے لگائے تھے۔ اس کے بعد پہلوان نے مسلسل آٹھ گیندیں پھینکی جو بے قرار دی گئی تب جا کر ایک صحیح گیند گری جس پر حنین نے پھر ایک چھکا لگایا۔ان کے جسم میں جان باقی نہیں رہی تھی۔ دل تو چاہ رہا تھا گیند پھینک کر میدان کے باہر بھاگ جائے یا پھر میدان کی گھاس پہ سو جائے۔ لیکن معاملہ عزت کا تھا۔ انہوں اسطرح کا کوئی قدم اٹھایا تو لوگ مذاق اڑائیں گے۔

    "بڑا کرکٹر بننے چلا تھا۔ ایک اوور بھی ٹھیک طرح سے پھینک نہیں سکا۔"

    اس لئے بھلے جان چلی جائے، عزت بچانے کے لئے اس اوور کو مکمل کرنا بے حد ضروری تھا۔اس لیے جان کی بازی لگا کر وہ اوور مکمل کرنے میں لگ گئے۔ لیکن مسلسل گیندیں وائڈ گر رہی تھیں اور ہر وائڈ گرتی گیند کے ساتھ پہلوان کے جسم سے جان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر نکل رہی تھی۔ خدا خدا کر کے ایک گیند صحیح گری۔ اور اس گیند پر بھی حنین نے چھکا لگایا۔ اس چھکے پر جتنی خوشی کا اظہار تماشائیوں اور حنین نے کیا تھا اس سے زیادہ اظہار پہلوان نے کیا۔
    "چھکا" کہہ کر وہ خوشی سے ناچنے لگے۔
    چلو جان چھوٹی۔اوور مکمل ہوا۔ اور وہیں لڑ کھڑا کر گر گئے اور بے ہوش ہو گئے۔ تماشائیوں نے آ کر انہیں گھیر لیا۔ للو تماشائیوں کو بتانے لگا۔ "ارے استاد کو سخت صدمہ ہوا ہے۔ کتنی بے عزتی ہوئی ہے۔ ان کی چھ گیندوں پر چھ چھکے لگے ہیں۔" پہلوان کو اسپتال لے جایا گیا۔

    کرکٹ نے جھنگا پہلوان کو کچھ اس طرح چھکے چھڑائے تھے کہ اس کے بعد انہوں نے کبھی کرکٹ کھیلنے کا نام نہیں لیا۔



    [​IMG]
    View attachment 131
     
    Rania likes this.
  3. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Regular Member
    • 38/49

    بہت اچھی کہانی شئیر کی ہے
    شئیر کرنے کے لئے شکریہ​
     
  4. Rania
    Offline

    Rania VIP Member
    • 18/33

    Buhat achi sharing
     

Share This Page