1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

جھنگا پہلوان نے امپائرنگ کی

Discussion in 'Bachon Ki khaniya' started by IQBAL HASSAN, Dec 6, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators

    [​IMG]


    جھنگا پہلوان نے امپائرنگ کی

    اقبال حسن اسلام اباد



    جھنگا پہلوان پیلی اسکول کے گراؤنڈ کے پاس سے گزر رہے تھے تو انہوں نے وہاں پر بھیڑ دیکھی تو رک گئے۔
    "کیا بات ہے؟ آج یہاں اتنی بھیڑ کیوں ہے؟" انہوں نے ایک آدمی سے پوچھا۔

    "ارے جھنگا استاد آپ جانتے ہیں" وہ آدمی پہلوان کو جانتا تھا۔ "آج گراؤنڈ پر انزل کی کرکٹ ٹیم ایگل اور شہر کی مشہور ٹیم چیلنج کے درمیان مقابلہ ہے۔ اسے دیکھنے کے لئے اتنی بھیڑ جمع ہوئی ہے۔"

    کرکٹ کے دیوانوں سے جھنگا پہلوان اچھی طرح واقف تھے۔ دیوانوں کی دیوانگی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ اگر محلے میں چھوٹے چھوٹے بچے بھی کرکٹ کھیل رہے ہوتے ہیں تو وہ میچ دیکھنے کھڑے ہو جاتے ہیں اور یہ تو شہر کی دو مشہور و معروف ٹیموں کے درمیان میچ تھا اس لیے بھیڑ اکٹھا ہونا بھی ضروری تھا۔ جھنگا پہلوان کبھی بھی کرکٹ کے دیوانے نہیں رہے بلکہ کرکٹ تو ان کی سمجھ کے باہر ہی رہا۔ ایک بار کرکٹ کھیلنے کا انہیں شوق چرایا تھا۔ لیکن ان کی اس وقت ایسی درگت ہوئی تھی کہ اسی دن سے کانوں کو ہاتھ لگا لیا تھا کہ اب وہ کبھی کرکٹ کھیلنے کا نام بھی نہیں لینگے۔ اس کے بعد انھوں نے کرکٹ پر کبھی توجہ نہیں دی تھی۔ لیکن جب سنا کہ ایگل اور چیلینج کی ٹیموں کے درمیان میچ ہے تو دل میں میچ دیکھنے کاخیال آیا۔ کیونکہ اتنا تو معلوم تھا کہ دونوں شہر کی مانی ہوئی ٹیمیں ہیں اس لیے دونوں میں کانٹے کا مقابلہ ہو گا۔

    میچ شروع ہوا تھا۔ دراصل میچ کے امپائر کو لیکر دونوں ٹیموں کے درمیان جھگڑا چل رہا تھا۔ جس امپائر کا نام ایگل والے لیتے تھے چیلنج والے اسے مسترد کر دیتے تھے اور چیلنج والے جس امپائر کا نام پیش کرتے ایگل والے اسے مسترد کر دیتے تھے۔ ایک بھی نام ایسا نہیں تھا جس پر دونوں متفق ہوں۔

    "کیا بات ہے انزل کیا معاملہ ہے"، وہ ایگل کے کپتان سے واقف تھے اس لیے انہوں نے اس سے پوچھا۔ ان پر نظر پڑھتے انزل کی بانچھیں کھل گئیں۔
    "ارے استاد آپ! اچھا ہوا آپ آ گئے،آپ نے ہمارا مسئلہ حل کر دیا۔ میں چاہتا ہوں آج آپ اس کرکٹ میچ میں امپائرنگ کریں!" مقابل ٹیم کے کپتان ولاس کی نظر جب پہلوان پر پڑی تو وہ بھی فوراً انہیں میچ کا امپائر بنانے کے لئے متفق ہو گیا۔ وہ بھی پہلوان کو جانتا تھا۔ ٹھیک ہے "ہم جھنگا پہلوان کو امپائر بنانے کے لئے تیار ہیں۔"

    دونوں کپتان پہلوان کے نام پر متفق ہیں یہ سن کر تماشائیوں نے ایک خوشی کا نعرہ لگایا۔ چلیں اس طرح جلد میچ شروع ہو گا ورنہ امپائر کا تنازعہ کی وجہ سے میچ شروع ہی نہیں پا رہا تھا۔ اور وہ میچ شروع ہونے کا انتظار کرتے کرتے اکتا گئے تھے۔ ادھر وہ تماشائی تو خوش ہو گئے لیکن پہلوان مشکل میں پھنس گئے۔
    وہ کرکٹ کی امپائرنگ کی اے بی سی بھی نہیں جانتے تھے۔ تو بھلا کس طرح امپائرنگ کرتے۔ لیکن معاملہ عزت کا تھا۔ اگر اس وقت وہ یہ کہہ کر انکار کر دیں گے کہ ان کو امپائرنگ نہیں آتی ہے تو سب لوگ ان کا مذاق اڑائیں گے۔ اتنے بڑے جھنگا پہلوان اور امپائرنگ بھی نہیں کر سکتے۔ معاملہ ان کے ڈریس پر رک گیا۔ لوگ کہہ رہے تھے کہ وہ امپائرنگ کر رہے ہیں تو امپائر کے لباس میں میدان میں اترے۔ لیکن جھنگا پہلوان اپنا روایتی پہلوانی لباس کرتا اور لنگی بدلنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ طے یہ ہوا کہ پہلوان اسی لباس میں امپائرنگ کریں گے انہیں صرف سر پر امپائر کی سفید ٹوپی پہنا دی جائے۔

    ٹاس کیلئے وہ دونوں کپتانوں کو لیکر میدان میں اترے۔ تماشائیوں نے تالیاں بجائی۔ ٹاس کے لئے انہوں نے سکہ اچھالا۔ سکہ پہلوانی انداز میں اچھالا گیا تھا۔ اتنا اونچا تھا کہ دونوں کپتانوں نے سکہ کو آسمان میں جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ آسمان سے واپس کب وہ زمین پر آیا اور کہاں گرا کسی کو پتہ نہیں چل سکا۔
    تھوڑی تلاش کے بعد ٹاس کے لئے دوسرا سکہ نکالا گیا۔

    "استاد اس بار ذرا کم اچھالو۔" انزل بولا۔
    "ہاں پہلوان۔ اس بار سکہ تھوڑا کم اچھالنا۔" ولاس بھی بول اٹھا۔

    حکم کے مطابق پہلوان نے سکہ تھوڑی کم طاقت سے اچھالا۔ ٹاس ہوا۔ ٹاس ولاس نے جیتا اور اس نے پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا۔ انزل کی ٹیم میدان میں فیلڈنگ کرنے کے لئے اتری۔ مد مقابل ٹیم کے دونوں بلے باز بلے بازی کے لئے میدان میں آئے۔ پہلوان کی کچھ سمجھ میں نہیں آیا کیا کرے۔ پورے کھلاڑیوں میں انہیں انزل ہی اپنا ہمدرد دکھائی دیا۔ وہی انہیں بتا سکتا تھا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ جیسے ہی انزل قریب آیا انہوں نے اس سے پوچھا۔

    "میں تو کچھ بھی نہیں جانتا ہوں، کہ کس طرح امپائرنگ کی جاتی ہے۔ کچھ مدد کرو۔" یہ سن کر انزل کی بانچھیں کھل گئیں اسے لگا بکرا ہاتھ لگ گیا ہے۔ اب اس سے جو چاہے وہ کام لیا جا سکتا ہے۔
    "کچھ نہیں ہاتھ داہنے طرف سیدھا رکھو۔ جب تک بالر بالنگ مارک پر جاتے پھر اسے بالنگ کرنے کے لئے راستہ دینے کے لئے ہاتھ نیچے کر دو۔ چھ گیندیں ہونے کے بعد کہو اوور پورا ہو گیا کسی کو آوٹ قرار دینا ہے ہاتھ اوپر اٹھا دینا۔ یا انگلی اوپر اٹھا دینا۔ اس طرح ہاتھ کر کے چوکا دیا جاتا ہے، چھکا دینے کے لئے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے جاتے ہیں۔ نو بال کے لیے ہاتھ متوازی رکھا جاتا ہے۔" انزل نے تقریباً امپائرنگ یا اس فن کی تمام اہم باتیں پہلوان کو بتا دی۔ دوسری گیند پر کھلاڑی نے چوکا مارا۔ جب تماشائیوں کی طرف سے شور اٹھا۔ "چوکا، فور" تو پہلوان کو ہوش آیا انہوں نے چار رنز کا اشارہ کیا۔
    اچانک انہیں یاد آیا کہ میچ میں نو بال بھی دی جاتی ہے۔ حنین بالنگ کر رہا تھا۔ حنین نے پہلی گیند کی۔ پہلوان نے اسے نو بال قرار دیا۔ حنین حیران تھا اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کس طرح نو بال گری۔ بلے باز نے نو بال کا فائدہ اٹھایا اور اسے اچھال کر مارا۔ گیند سیدھی باونڈری کے باہر۔

    "سکسر۔ سکسر۔ چھکا" تماشائی شور مچانے لگے۔
    پہلوان نے چار رنز کا اشارہ کیا تو سب حیران رہ گئے۔ بلے باز آ کر پہلوان سے الجھ گیا۔ اس نے چھکہ مارا آپ نے اسے چوکا کیوں قرار دیا۔
    اس پر پہلوان بولے "یہ چوکا نہیں چھکا دیا ہوں"
    "لیکن آپ نے تو چوکے کا اشارہ کیا۔" بلے باز بولا۔
    "میں اپنا وہ اشارہ واپس لیتا ہوں اور چھکے کا اشارہ کرتا ہوں"۔ پہلوان بولے۔ تو بلے باز نے اپنا سر پکڑ لیا۔
    حنین دوسری گیند ڈالی اسے بھی پہلوان نے نو بال قرار دیا۔ تیسری گیند ڈالی اسے بھی نو بال قرار دیا تو حنین ان سے الجھ گیا۔
    "آپ میری گیند کو نو بال کیوں قرار دے رہے ہیں؟"
    "ابھی صرف تین گیندوں کو نو بال قرار دیا ہے۔ تین گیندوں کو نو بال قرار دینا باقی ہے۔ اوور میں چھ گیندیں ہوتی ہیں نا۔" پہلوان نے جواب دیا۔
    پہلوان کا جواب سن کر حنین نے اپنا سر پکڑ لیا اور انزل سے کہا کہ وہ پہلوان کو سمجھائیں کہ نو بال کیا ہوتا ہے؟
    انزل کو نوبال کی تاریخ پہلوان کو کیا پڑھاتا صرف اتنا کہا۔
    "استاد ہر اوور میں صرف ایک گیند کو نو بال قرار دی جاتی ہے، چھ گیندیں نہیں۔"
    "اچھا تو یہ بات ہے"، استاد اس بات کو گرہ میں باندھ لیا۔

    اب ہر اوور میں وہ ایک گیند کو نوبال قرار دیتے چاہے وہ نو بال نہ ہو۔ اچانک اسامہ کی ایک گیند بلے باز کے پیروں پر لگی۔ سب کھلاڑیوں نے ایل۔ بی۔ ڈبلیو کے لیے زور سے اپیل کی۔ لیکن پہلوان ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ کھلاڑیوں نے دوسری بار اپیل کی۔ استاد کے کان پر جوں نہیں رینگی تو مایوس ہو کر گیند باز واپس بولنگ کرنے کے لئے مڑا۔

    "استادآوٹ کا ایک طریقہ ایل بی ڈبلیو بھی ہوتا ہے۔ گیند بلے باز کے پیروں سے لگے تو اسے آوٹ قرار دیا جا سکتا ہے۔"
    "ایسی بات ہے۔" پہلوان بولے "اب میں ایسا ہی کروں گا۔"

    حنین نے اگلی گیند پھینکی بلے باز نے آگے آ کر کھیلا۔ گیند اس کے پیروں میں الجھی کسی نے اپیل نہیں کی پہلوان نے انگلی اٹھا کر بلے باز کو آوٹ قرار دیا۔ بلے باز حیرت سے پہلوان کو دیکھتا میدان سے باہر گیا۔ اگلا بلے باز آیا۔ حنین نے گیند کی۔ گیند اس کے پیروں میں الجھی۔ پہلوان نے انگلی اوپر اٹھا دی۔ بلے باز خود بخود نظروں سے پہلوان کو گھورتا میدان کے باہر گیا۔




    [​IMG]

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

     
  2. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators


    انزل نے اپنا سر پکڑ لیا اور آ کر دھیرے سے پہلوان کے کانوں میں بولا "استاد ہر کھلاڑی کو ہر گیند پر آوٹ قرار نہیں دیا جا سکتا۔"
    "اچھا تو یہ بات ہے۔" پہلوان نے یہ بات گرہ میں باندھ لی۔
    اس کے بعد اگلے دس اوور تک انہوں نے کسی بھی کھلاڑی کو ایل بی ڈبلیو آوٹ قرار نہیں دیا۔ گیندیں کھلاڑیوں کے پیروں میں الجھتی رہیں۔ کھلاڑی اپیل کرتے رہے لیکن پہلوان ان اپیلوں سے بے نیاز رہے۔ اسامہ نے ایک بہت خراب اوور کیا۔ ہر بال بلے باز کے پانچ دس فٹ دوری سے نکل گئی۔ بلے باز گیند کو وائڈ قرار دینے کے لیے اپیل کرتا رہا۔ لیکن وائڈ بال کیا ہے پہلوان کو معلوم ہی نہیں تھا۔ دوسرے سرے پر بلے بازی کرتا بلے باز یہ سب دیکھ کر ضبط کرتا رہا۔ لیکن جب اس کے ضبط کی حد ختم ہو گئی تو وہ پہلوان سے الجھ گیا۔

    "ایسے کیسے امپائر ہو۔ گیندیں بلے باز کے آٹھ آٹھ دس دس فٹ دور سے جا رہی ہیں اور ایک بھی گیند کو وائڈ قرار نہیں دے رہے ہو۔"

    "تو کیا میچ میں گیندوں کو وائڈ بھی قرار دیا جاتا ہے۔" انہوں نے بلے باز سے پوچھا۔ "بالکل"، "بلے باز نے کہا"۔ "اور گیند کو وائڈ قرار دینے کے لئے اس طرح اشارہ کرتے ہیں۔"
    "بہت بہت شکریہ، اب دیکھنا میرا کمال۔" پہلوان نے کہا۔

    حنین نے اگلی گیند کی۔ گیند مڈل اسٹمپ پر تھی۔ پہلوان نے اسے وائڈ قرار دیا۔ دوسری گیند لیگ اسٹمپ پر تھی۔ بلے باز نے اسے لیگ سائڈ میں کھیل کر دو رنز بنائے۔ پہلوان نے اسے وائڈ قرار دیا۔

    "پہلوان۔ اس گیند کو بلے باز نے کھیلا ہے۔ دو رن بنائے ہیں پھر بھلا یہ گیند وائڈ کس طرح ہو سکتی ہے؟" حنین پہلوان سے الجھ گیا۔
    "تو اچھا یہ بات ہے۔ جو گیند بلے باز کھیلے وہ وائڈ نہیں ہوتی ہے۔ جو نہ کھیلے وہی گیند وائڈ ہو سکتی ہے۔" پہلوان بولے۔
    "ہاں"۔۔ حنین نے جل کر جواب دیا۔
    حنین نے اگلی گیند مڈل اسٹمپ پر ڈالی۔ بلے باز نے اسے کھیلنے کی بجائے چھوڑ دیا۔
    پہلوان نے اس گیند کو وائڈ قرار دیا۔
    "یہ گیند کس طرح وائڈ ہو سکتی ہے۔ یہ تو مڈل اسٹمپ پر تھی۔" حنین غرا کر پہلوان سے پوچھا۔
    "بلے باز نے نہیں کھیلی تھی، یعنی یہ بال وائڈ تھی۔"

    پہلوان کا یہ جواب سن کر حنین نے اپنا سر پکڑ لیا اور گیند بازی کرنے سے انکار کر دیا۔ انزل کے لیے یہ بڑی پریشانی کی بات تھی۔ ٹیم میں حنین کی طرح کوئی گیند باز نہیں تھا۔ وہ گیند بازی کس سے کرائے۔ اس نے حنین کی لاکھ منت سماجت کی لیکن اس نے صاف کہہ دیا۔

    "ایسے اناڑی امپائر کے سامنے گیند بازی کر کے میں اپنی عزت خراب کرنا نہیں چاہتا ہوں"

    مجبوراً انزل کو گیند بازی کرنی پڑی۔ پہلوان کو یاد آیا بہت دیر سے انہوں نے نو بال نہیں دی ہے۔ کچھ گیندوں کو تو نو بال قرار دینا چاہئے۔ انزل نے بلے باز کو مڈل اسٹمپ پر گیند دی۔ پہلوان نے اس گیند کو نو بال قرار دیا۔ بلے باز نے نو بال کا اشارہ دیکھ لیا تھا۔ اس نے گیند کو اچھال کر مارا تو سیدھا میدان کے باہر۔

    "چھکا"۔۔۔ ایک شور بلند ہوا۔

    انزل کی دوسری، تیسری گیند کو بھی پہلوان نے نو بال قرار دیا۔ اور ان پر بلے باز نے پھر ایک چوکہ اور ایک چھکا لگایا۔
    "استاد یہ کیا کر رہے ہو۔ کیوں میری بے عزتی کرانے پر تُلے ہو۔ میری ہر گیند کو نو بال کیوں قرار دے رہے ہو؟" انزل نے استاد سے کہا۔ تو انہوں نے کہا "ٹھیک ہے، اب کوئی گیند نوبال قرار نہیں دی جائے گی۔" اس کے بعد پھر پوری اننگ کہ گیند بازوں کے نو بال ڈالنے پر بھی پہلوان نے گیندوں کو نو بال قرار نہیں دیا۔
    تھوڑی دیر بعد اچانک انہیں یاد آیا کہ بہت دیر سے انہوں نے کسی کھلاڑی کو ایل بی ڈبلیو قرار نہیں دیا۔ بس کیا تھا۔ اس بات کے یاد آتے ہی انہوں نے اپنے اس فرض کی ادائیگی میں تن من دھن لگانے کا طے کر لیا اور انہوں نے اگلے تین کھلاڑیوں کو ایل بی ڈبلیو قرار دیکر چیلنج کی اننگ کا خاتمہ کر دیا۔ بس گیند باز کی گیند بلے بازوں کے پیروں سے ٹکراتی اور جھنگا پہلوان کی انگلی ہوا میں اٹھ جاتی اور تماشائیوں کی طرف سے ایک شور اٹھتا۔ "آوٹ"

    اور بلے بازی کرنے والا بلے باز جھنگا پہلوان کو خونخوار نظروں سے دیکھتا ان کے خلاف احتجاج کرتا میدان سے باہر جاتا۔ جب تک انزل کی ٹیم کی ایک اننگ شروع ہو تماشائیوں میں جھنگا پہلوان کی امپائرنگ پر تبصرے چلتے رہے۔
    "جھنگا پہلوان نے بہت خراب امپائرنگ کی ہے۔"
    "ارے کس بے وقوف کو امپائر بنا دیا جس کو نو بال اور وائڈ بال کا فرق نہیں معلوم۔"
    "ارے جو چوکے کو چھکا اور چھکا کو چوکا قرار دے اس سے اور کس بات کی کا توقع کی جا سکتی ہے۔"

    چیلنج کا کپتان ولاس سخت ناراض تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کے ٹیم کے چھ کھلاڑیوں کو غلط آوٹ قرار دیا گیا ہے۔ اگر انہیں کھیلنے کا موقع دیا جاتا تو ان کی ٹیم موجودہ اسکور سے دوگنا رنز بناتی۔ تھوڑی دیر بعد ولاس کی ٹیم انزل کی ایگل کے خلاف گیند بازی کرنے کیلئے اتری۔ ولاس نے گیند بازی شروع کی۔ حنین اور اسامہ نے بلے بازی کرتے ہوئے پہلے اوور میں 15 رنز بنا ڈالے۔ ان میں حنین کا ایک نو بال پر لگایا چھکا بھی شامل تھا۔ جو گیند باز کی نظر میں نو بال نہیں تھا۔ امپائر جھنگا پہلوان نے زبردستی اس بال کو نو بال قرار دیا تھا۔ اگلے اوور میں دو تین بار کھلاڑیوں نے آوٹ کی اپیل کی کبھی کیچ کی اپیل کی جا رہی تھی تو کبھی اسٹمپ کی اور کبھی رن آوٹ کی۔ لیکن جھنگا پہلوان نے آوٹ نہیں دیا۔ لیکن چوتھی بار جب اسامہ پر کھلاڑیوں نے آوٹ کی اپیل کی تو جھنگا پہلوان نے سوچا۔ کھلاڑی بار بار آوٹ کی اپیل کر رہے ہیں تو ضرور بلے باز آوٹ ہو گا۔ اور یہ سوچ کر انہوں نے اسامہ کو آوٹ قرار دے دیا جبکہ وہ کسی بھی صورت میں آوٹ نہیں تھا۔ اس کے بعد اور دو کھلاڑیوں کا انجام بھی یہی ہوا۔ کھلاڑی ہر گیند پر آوٹ کی اپیل کرتے اور چار پانچ بار کی اپیل کے بعد جھنگا پہلوان ناٹ آوٹ کھلاڑیوں کو بھی آوٹ قرار دے دیتے۔ تین وکٹوں کے گرنے کے بعد انزل میدان میں آیا۔ آتے ہی وہ جھنگا پہلوان پر برس پڑا۔

    "استاد یہ کیا کر رہے ہو۔ مجھے اور میری ٹیم کو ذلیل کرنا چاہتے ہو۔ میری ٹیم کے تین کھلاڑیوں کو آپ نے آوٹ قرار دیا جبکہ وہ آوٹ نہیں تھے۔"

    کھلاڑی بار بار آوٹ کی اپیل کر رہے تھے تو میں نے سمجھا جب اتنے کھلاڑی بار بار آوٹ کی اپیل کر رہے ہیں تو ضرور بلے باز آوٹ ہو گا اس لئے میں نے آوٹ دے دیا۔"
    "استاد خدا کے لئے یہ بات اپنے ذہن میں باندھ لیجئے کہ کھلاڑی اگر اپیل کرے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہوتا کہ بلے باز آوٹ ہے۔"
    "یہ بات ہے۔ اب تو پورے میچ میں میں کھلاڑیوں کی اپیل پر کسی کو آوٹ نہیں دوں گا۔" جھنگا پہلوان بولے۔
    اور سچ مچ اس اصول کا خمیازہ ولاس کی ٹیم کو بھگتنا پڑا۔ کھلاڑی بار بار آوٹ کی اپیل کرتے لیکن جھنگا پہلوان کسی بلے باز کو آوٹ قرار نہیں دیتے۔ ایک بار جب مایوس ہو کر کھلاڑیوں نے اپیل کرنا ہی چھوڑ دیا تو جھنگا پہلوان کو یاد آیا کسی کھلاڑی کو آوٹ دینا چاہئے۔ بہت دیر سے انہوں نے کسی کھلاڑی کو آوٹ قرار نہیں دیا ہے۔ اور اگلی ہی گیند پر انہوں نے حنین کو آوٹ قرار دے دیا۔ اپنے آوٹ ہونے پر حنین بھی حیران تھا اور گیند باز بھی۔ دونوں کی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس طرح آوٹ ہوا ہے۔ اس کے بعد پورے میچ میں استاد انہیں سکھائے گئے امپائرنگ کے اصول دہراتے رہے۔ ہر اوور میں ایک نو بال دیتے۔ تو کبھی کبھی کسی اوور میں مڈل اسٹمپ پر گرنے والی تین تین گیندوں کو بھی وائڈ بال قرار دیتے۔ ایل بی ڈبلیو قرار دینا تو بھول ہی گئے تھے۔ کھلاڑی صاف بولڈ ہو جاتا تو آوٹ دے دیتے۔

    ایک دو بار جب اچھی گیندوں پر بلے باز کی کیچیں پکڑی گئیں تو جھنگا پہلوان نے ان گیندوں کو نو بال قرار دیکر کھلاڑیوں کو آوٹ ہونے سے بچا لیا۔ چیلنج کا کپتان ولاس بے حد نروس تھا۔ اسے اپنی شکست سامنے دکھائی دے رہی تھی۔ اس طرح تو وہ لاکھ کوشش کرے اس کی ٹیم جیت ہی نہیں سکتی۔انزل بے حد خوش تھا۔ اسے اپنی ٹیم کی فتح صاف دکھائی دے رہی تھی۔ آخر میچ کا فیصلہ کن مرحلے میں پہونچ گیا۔انزل نے ایک رن لیکر ولاس کی ٹیم کے اسکور کی برابری کر لی۔ اب فتح کے لئے اس کی ٹیم کو صرف ایک رن بنانا تھا۔ اور اس کی ٹیم کے تین کھلاڑی ابھی آوٹ ہونا باقی تھے۔ اور کئی اوور باقی تھے۔ ہر کوئی انزل کی ٹیم کی فتح کی پیشن گوئی کر رہا تھا اور ولاس راو کی افسردگی بڑھتی جا رہی تھی۔

    لیکن اچانک جھنگا پہلوان نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ پتہ نہیں کیا ان کے دل میں سمائی۔ انہوں نے اگلی تین گیندوں کو مسلسل انزل کی ٹیم کے تین کھلاڑیوں کو ایل بی ڈبلیو قرار دے دیا۔اور میچ ٹائی ہو گیا۔
    میچ ٹائی ہونے پر ولاس راو بے حد خوش تھا کہ اچھا ہوا میچ ٹائی ہو گیا۔ ان کی ٹیم کو شکست کی ذلت سے نجات مل گئی۔
    اور انزل اپنا سر پیٹ رہا تھا اور اس منحوس لمحہ کو کوس رہا تھا جب اس نے جھنگا پہلوان کو اس میچ کے لئے امپائر بنایا تھا۔
    جھنگا پہلوان کی امپائرنگ کی وجہ سے اس کی ٹیم ایک جیتا میچ ٹائی کر سکی۔
     
  3. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    1. بہت اچھی کہانی شئیر کی ہے
      شئیر کرنے کے لئے شکریہ​
     

Share This Page