1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

جھنگا پہلوان نے انٹرویو دیا

Discussion in 'Bachon Ki khaniya' started by IQBAL HASSAN, Dec 6, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators


    [​IMG]
    جھنگا پہلوان نے انٹرویو دیا


    اقبال حسن اسلام اباد


    دھماکہ ٹی وی کے رپورٹر راجو بھائی کو دھماکہ ٹی وی کے سی ای اونے دھمکی دی تھی۔ "تم دھماکہ ٹی وی میں رپورٹر کا کام کرتے ہو مگر کئی دنوں سے تم نے کوئی دھماکہ دار خبر نہیں لائی۔ اگر تم دھماکہ وار خبریں نہیں لا سکتے تو تمہیں دھماکہ ٹی وی میں کام کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ایک ہفتہ کے اندر تم نے کوئی دھماکہ دار خبر یا نیوز آئیٹم نہیں لایا تو تمہاری ملازمت ختم سمجھ۔" یہ سن کر راجو پریشانی میں پڑ گیا تھا۔ اب وہ ایک ہفتہ کے اندر کوئی دھماکہ دار خبر کہاں سے لائے؟ لیکن وہ آخر ایک رپورٹر تھا۔ پکا اخبار اور ٹی وی والا وہ ہار کیسے ماننے والا تھا۔"

    سی ای او جی۔۔۔ میں بھی رپورٹر نہیں۔ معمولی سی بات کو دھماکہ دار خبر بنانا بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔ آٹھ دن کے اندر کیا ہنگامہ مچاتا ہوں دیکھئے اور وہ اپنے ٹی وی کیمرہ مین کے ساتھ خبر میں تلاش میں نکل گیا۔ تین بتی کی بھیڑ میں وہ اپنی خبر تلاش کر رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر کھاٹ پر لیٹے جھنگا پہلوان پر پڑی۔ جھنگا پہلوان کھاٹ پر آنکھ بند کیئے لیٹے تھے اور ان کا چمچہ للو ان کے پیر دابے رہا تھا۔

    یہ کون صاحب ہیں؟ راجو نے للو سے پوچھا۔
    "انہیں جانتے نہیں ہو؟" للو نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا، "یہ استاد جھنگا پہلوان ہیں۔"
    "جھنگا پہلوان۔۔۔ کیا یہ کوئی بہت بڑے پہلوان ہیں؟" راجو نے پوچھا۔ "کیا انہوں نے کبھی رستم زماں، رستم ہند، ہند کیسری، مہاراشٹر کسری، بھیونڈی کیسری کا خطاب جیتا ہے؟"
    "اگر استاد ان مقابلوں میں شرکت کرتے تو یہ انعامات بھی جیت لیتے"، للو بولا۔

    راجو نے جھنگا پہلوان کے ڈیل ڈول کو دیکھا تو اسے لگا اسے اس کی خبر مل گئی ہے۔
    ہاتھی جیسا ڈیل ڈول والا اور نام جھنگا پہلوان۔ کیونکہ دھماکہ ٹی وی کے لیے جھنگا پہلوان کا انٹرویو لے لیا جائے۔

    "میرا نام راجو ہے"، وہ پہلوان سے بولا، "اور میں دھماکہ ٹی وی کی جانب سے آیا ہوں۔ میں دھماکہ ٹی وی کے لیے آپ کا انٹرویو لینا چاہتا ہوں۔"
    "ٹی وی کے لیے میرا انٹرویو۔"۔۔۔ پہلوان گھبرا گئے۔ "میں نے تو آج تک کبھی کسی کی نوکری کے لئے بھی انٹرویو نہیں دیا تو بھلا ٹی وی کیلئے کس طرح دے سکتا ہوں۔"
    "گھبرائے نہیں، بالکل سیدھا سا انٹرویو ہو گا جیسے ہم اور آپ بات چیت کر رہے ہیں۔" راجو نے پہلوان کو سمجھایا۔
    "ٹھیک ہے"، پہلوان کی یہ سن کر جان میں جان آئی۔ "میں تیار ہوں۔"
    "پہلا سوال"۔ کہتے راجو نے ٹی وی کا مائیک سنبھالا اور کیمرہ مین نے کیمرہ پہلوان کے چہرہ پر مرکوز کیا، "آپ ہاتھی کی طرح اونچے پورے، موٹے تازے دکھائی دیتے ہیں پھر بھی آپ کو جھنگا پہلوان کیوں کہا جاتا ہے؟"
    "اب میں اس سلسلے میں کیا کہہ سکتا ہوں، لوگوں نے نام دے دیا تو میرا نام جھنگا پہلوان پڑ گیا، ورنہ میرا اصلی نام انصاری عبدا لعزیز ہے۔"
    "آپ کا نام جھنگا پہلوان کس طرح پڑا؟"
    "میں، بچپن میں بہت دبلا پتلا تھا، جھنگے کی طرح، اس وقت میرے ذہن میں پہلوانی کی دھن سمائی، میں پہلوانی کرنے لگا تو لوگ میرے بارے میں کہنے لگے، دیکھو جھنگا بھی پہلوانی کر رہا ہے اور مجھے جھنگا پہلوان، کہہ کر چڑانے لگے تب سے میرا نام جھنگا پہلوان پڑ گیا۔"

    جھنگا پہلوان کا ٹی والے انٹرویو لے رہے ہیں، یہ دیکھ کر چاروں طرف بھیڑ لگ گئی اور سینکڑوں ہزاروں لوگ جمع ہو گئے اور کوشش کرنے لگے کہ ٹی وی کے کیمرے میں ان کی بھی ایک جھلک آ جائے۔ اس دوران کبھی کبھی کیمرہ مین جھنگا پہلوان کے چہرے سے کیمرہ ہٹا کر ان لوگوں پر بھی کیمرہ مار دیتا تھا۔

    "اچھا آجکل پہلوانی اور پہلوانوں کی کیا صورت حال ہے"، راجو نے سوال کیا۔
    "بہت بری حالت ہے۔" جھنگا پہلوان بولے، "یہ ایک قدیم فن ہے جو ختم ہو رہا ہے۔ لوگ اس قدیم فن کو نہ سیکھ رہے ہیں نہ حکومت اس فن کو زندہ رکھنے کے لئے کوئی قدم اٹھا رہی ہے۔ اس فن کے ماہر استاد پہلوان لوگ بھوکے مر رہے ہیں۔"

    استاد کا اتنا کہنا تھا کہ راجو کی بانچھیں کھل گئی۔ اسے لگا کہ اسے دھماکہ دار خبر مل گئی ہے۔ استاد جھنگا کی اس بات کو اب وہ کیسا مسالہ دار نیوز آئیٹم بنانا ہے۔ جو لوگ ٹی وی دیکھتے رہ جائیں گے۔ اس نے اپنے نیوز آئیٹم کا آخری جملہ خود کو لوگوں کی بھیڑ کے درمیان کھڑے کر کے مکمل کیا۔

    "تو یہ ہے فن پہلوانی کے ماہر ایک پہلوان استاد جھنگا پہلوان کا درد جو اس بات سے دکھی ہے کہ ایک قدیم فن مر رہا ہے اور بے حس سرکار اس فن کو مرنے سے بچانے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھا رہی ہے۔" کہہ کر راجو نے اپنا بوریا بستر لپیٹنا شروع کیا تو پہلوان نے پوچھا۔ "میرا انٹرویو کب آئے گا؟" شام تک دھماکہ ٹی وی پر آپ کو انٹرویو آ جائے گا۔ کہتا وہ چلتا بنا اور استاد کے انٹرویو پر نیوز اسٹوری بنانے میں لگ گیا۔ ہزاروں لوگ جنہوں نے استاد کو انٹرویو دیتے دیکھا تھا اپنے ہزاروں شناساؤں کے ساتھ دوپہر ہی سے اس امید پر ٹی وی سے چپک گئے تھے کہ استاد کے انٹرویو کے ساتھ شاید ان کی بھی جھلک ٹی وی پر آ جائے۔
    دیکھتے ہی دیکھتے 100 سے نیچے چلنے والی دھماکہ ٹی وی کی ٹی آر پی 10 کے اندر آ گئی۔

    شام میں خبروں میں جھنگا پہلوان کا انٹرویو نیوز آئیٹم کی طور پر آیا۔
    "فن پہلوانی جو ایک قدیم فن ہے وہ مر رہا ہے سرکار اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔ اس فن کے ماہر پہلوان بھوکے مر رہے ہیں۔ کسی زمانے میں رستم زماں اور ہند کیسری کے مقابلوں میں شریک ہو کر اپنا نام روشن کرنے والے جھنگا پہلوان آج بے بسی اور لاچاری بھری زندگی گزار رہے ہیں۔ اور اس فن کے مرے، فنا ہونے پر اپنے آنسو بہاتے ہوئے کہتے ہیں۔
    اس کے بعد جھنگا پہلوان کا انٹرویو بتایا گیا۔
    اور آخر میں سب خبریں پڑھنے والے کا پھر ایک جملہ

    "تو اس طرح ملک میں ہزاروں، لاکھوں جھنگا پہلوان ایک فن کے ختم ہونے پر آنسو بہا رہے ہیں اور بے حس سرکار اس سلسلے میں کچھ نہیں کر رہی ہے۔"
    اس خبر کو بار بار دکھایا گیا جس کی وجہ سے جھنگا پہلوان کا نام ہر گھر میں پہونچ گیا۔ جھنگا استاد خود کو ٹی وی پر دیکھ کر پھولے نہیں سما رہے تھے اور للو خوب شیخی بگھار رہا تھا۔ "ارے ٹی وی پر نیوز میں آنا، انٹرویو دینا معمولی بات ہے ٹی وی والے استاد کی قدر جانتے ہیں اس لیے ان سے انٹرویو لینے خود بخود پہونچ گئے۔"
    "یہ بات تو ٹھیک ہے للو۔۔۔ مگر یہ بتاؤ استاد نے کب رستم زماں اور ہند کیسری مقابلوں میں حصہ لیا تھا؟"
    جب لوگوں نے یہ سوال کیا تو للو گڑ بڑا گیا پھر بگڑ کر بولا "اس بات کو تم دو ٹکے کے لوگ کیا جانو۔ ٹی وی والے جانتے ہیں۔ ان کے پاس ہر بات کا ریکارڈ ہے تبھی تو انہوں نے اپنی خبر میں اس کا شامل کیا۔" یہ سن کر سب لا جواب ہو گئے۔

    اپو زیشن کے ایک لیڈر نے جب یہ خبر دیکھی تو وہ یہ دیکھ کر اچھل پڑا۔ "ارے واہ، ہماری پارٹی کے لیے تو یہ ایک موضوع مل گیا ہے۔ ہماری پارٹی کے مردہ جسم میں جان پڑ گئی ہے۔ فن پہلوانی مر رہا ہے۔ سرکار اس سلسلے میں بے حس ہے، اس کے خلاف ہم مورچہ نکالیں گے۔ دھرنا دیں گے۔ حکومت کے وزیروں کا گھیرا ؤ کریں گے۔"
    فوراً اس نے ایک پریس کانفرنس طلب کی۔"پہلوانی کا فن جو ہمارا قدیم فن ہے وہ ختم ہو رہا ہے اور سرکار ہے کہ اس کے بچاؤ کے لئے کچھ نہیں کر رہی ہے یہ شرم کی بات ہے ہم سرکار کی آنکھیں کھولنے کے لئے اور جھنگا پہلوان جیسے استادوں کو ان کا حق دلانے کے لئے کل مورچہ نکالیں گے، ورودھ دیوس، منائیں گے۔ دھرنا دیں گے اور حکومت کے وزیروں کا گھیراؤ کریں گے۔ اور حکومت کی آنکھ کھول کر ہی رہیں گے۔"

    کچھ دیر کے بعد ہی جھنگا استاد کی خبر کے ساتھ اپوزیشن لیڈر شانتا رام مانے کا انٹرویو بھی خبروں میں آنے لگا۔ مانے نے فوراً اپنی پارٹی کے ورکرس اور لیڈر کی ایک میٹنگ طلب کی اور دوسرے دن اس سلسلے میں مورچہ نکالنے، دھرنا دینے اور وزیروں کا گھیراؤ کرنے کا پلان بنایا۔تمام لیڈر کئی دنوں سے بیکار تھے۔ ان کو کوئی کام نہیں ملا تھا۔ وہ خوش ہو گئے کافی دنوں بعد انہیں ایک زبردست کام ملا ہے جس سے ان کی شہرت میں اضافہ ہونے والا ہے۔


    [​IMG]



    ITUSTAD.ANIMATED-NAME.gif


     
  2. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators


    [​IMG]
    مانے کی پارٹی کے لوگ جھنگا پہلوان کو ڈھونڈھتے ڈھونڈتے تین بتی پہونچے اور بولے "ہماری پارٹی فن پہلوانی کے مرنے اور اس پر حکومت کی توجہ نہ دینے کے خلاف کل آزاد میدان میں ایک مورچہ نکال رہی ہے اس میں ہمارے تمام پارٹی لیڈر اور پارٹی ورکرس تو شریک ہوں گے ہم چاہتے ہیں آپ اس مورچے کی قیادت کریں۔ آپ اس مورچے کی قیادت کریں گے تو ہمیں بڑی خوشی ہو گی۔"
    "میں مورچے کی قیادت کروں"، یہ سن کر جھنگا پہلوان گھبرا گئے، "لیکن میں نے تو آج تک کوئی اس طرح کا کام نہیں کیا ہے۔"
    "نہیں کیا ہے تو کر ڈالیئے، لیکن پلیز نا نہ بولیے ہمارے سارے کئے کرائے پر پانی پھر جائے گا۔ سویرے ہماری پارٹی کی اے سی گاڑی آپ کو لینے پہونچ جائے گی۔"
    جھنگا پہلوان نے حامی بھر دی۔

    دھماکہ ٹی وی کے اس نیوز اسٹوری کی مقبولیت اور کامیابی کو دیکھتے ہوئے تمام اہم چینلوں نے اسے نیوز اسٹوری بنا دیا۔ اور تمام چینلوں کے نامہ نگار جھنگا پہلوان کا انٹرویو لینے کے لئے ان کے گھر دوڑے اور رات بھر انہیں سونے نہیں دیا۔ ایک ٹی وی چینل کی ٹیم جاتی تو دوسری وارد ہو تی تھی۔ نہ صرف جھنگا پہلوان کے گھر میلہ لگا تھا بلکہ سارے محلے میں میلہ لگا تھا۔ ہر کوئی جھنگا پہلوان کی باتیں کر رہا تھا۔

    "ارے جھنگا کو تو ہم ایک معمولی آدمی سمجھتے تھے لیکن وہ تو ملک گیر سطح کا آدمی نکلا۔"
    "آج تک شہر کے کسی آدمی کو جو شہرت عزت نصیب نہیں ہوئی وہ جھنگا کو نصیب ہوئی ہے۔"

    ٹی وی چینل والے طرح طرح کے سوالات جھنگا پہلوان سے کرتے۔ جب پہلوان ان سوالوں کا جواب نہیں دے پاتا تو خود ہی انہیں بتاتے کہ اس بات کا وہ یہ جواب دے اور اسے ریکارڈ کر کے چلے جاتے۔ اس طرح ایک جواب ایک ٹی والے نے ریکارڈ کیا۔ اس نے جھنگا پہلوان سے کہا کہ وہ کہے کہ فن پہلوانی کے بچاؤ کے لئے اپوزیشن لیڈر شانتا رام رانے کی قیادت میں جو مورچہ نکل رہا ہے۔ اگر اس مورچے کے بعد بھی سرکار نے ان کی مانگیں نہیں مانی تو اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وہ اپنی جان دے دیں گے۔ آزاد میدان میں وہ خود کو زندہ جلا دیں گے۔ سیدھے سادھے جھنگا پہلوان نے جواب دے دیا۔

    دوسرے دن صبح سات بجے کی نیوز میں استاد کے اس جواب پر اس ٹی وی چینل نے ایک زبردست نیوز اسٹوری بنائی تھی۔ "آج اپوزیشن لیڈر شانتا رام مانے کی قیادت میں فن پہلوانی کو بچانے کے لئے حکومت کی آنکھیں کھولنے کے لئے جو مورچہ نکل رہا ہے اگر اس مورچے کے بعد بھی حکومت نے اس فن کو بچانے کے لئے ضروری اقدامات نہیں اٹھائے تو اس کے خلاف احتجاج مشہور و معروف پہلوان رستم زماں ِ ہند کیسری، رستم ہند جیسے بڑے خطابات جیتنے والے جھنگا پہلوان اپنے آپ کو زندہ جلا لیں گے۔ ہمارا چینل اس واقعہ کا لائیو ٹیلی کاسٹ کرے گا۔ دیکھنا نہ بھولیے، شام آزاد میدان سے لائیو۔" فوراً تمام چینل نے اس خبر کو اہم خبر بنا کر بڑھا چڑھا کر پیش کر دیا۔

    "جھنگا پہلوان آج اپنی جان دیں گے۔"
    "حکومت کی پالیسی سے بیزار مایوس ایک پہلوان آج آزاد میدان میں خود کو زندہ جلا دیگا۔"
    "جھنگا پہلوان کی موت شاید حکومت کی آنکھیں کھولے۔"

    اس معاملے کو اتنی پبلسٹی ملی تھی کہ شانتا رام نے تو ہوا میں اڑنے لگا۔ اس کی ساری پارٹی اس مورچے کے لئے آزاد میدان میں جمع ہو گئی۔ دیگر پارٹیوں نے جب دیکھا کہ اس سے کافی شہرت مل سکتی ہے تو وہ بھی اس میں کود پڑے۔ "جھنگا استاد کے مورچے کی ہماری بھی حمایت حاصل ہے۔ ہمارے ورکروں کی قیادت جھنگا پہلوان کریں گے۔" اس کے بعد جھنگا پہلوان کے اغوا کیلئے پارٹیوں میں مقابلہ آرائی شروع ہو گئی۔ ہر پارٹی چاہتی تھی کہ جھنگا پہلوان ان کی پارٹی کے ساتھ مورچے میں شامل ہو۔ مگر کامیابی مانے کو ملی۔ اس کی پارٹی کے ورکرس کا ایک قافلہ کاروں میں آیا اور جھنگا پہلوان کا اغوا کر کے لے گیا۔ انہیں لے جا کر ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ٹھہرایا گیا۔ اور اسی فائیو اسٹار ہوٹل میں کانٹی نیشنل کھانوں کی بجائے خصوصی طور پر جھنگا پہلوان کے پسند کے کھانوں کو تیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔ یعنی بکرا مسلم، بکرا بریانی، دودھ، بادام کا حلوہ وغیرہ وغیرہ کافی دنوں کے بعد جھنگا پہلوان نے سیر ہو کر اپنی پسند کی پہلوانی کے استاد گاما کے کھانے نصیب ہوئے تھے۔ دوپہر کو انہیں سجا سنوار کے ہوٹل سے باہر نکالا گیا تھا تو ٹی وی اخبار والوں نے انہیں گھیر لیا۔

    "استاد جھنگا پہلوان کیا آپ سچ مچ جان دے دیں گے؟"
    "کیا آپ کی جان دینے سے حکومت کی آنکھیں کھل جائیں گی؟"
    "آپ نے ذہن میں فن پہلوانی کے فروغ کے لئے کیا کیا منصوبے بنائے ہیں۔"

    پہلوان نے وہی کیا جو اسے کہا گیا تھا۔ سکھایا گیا تھا۔

    "فن پہلوانی میری زندگی ہے میری روح ہے اس کے لئے میں جان دے سکتا ہوں۔ جان لے سکتا ہوں۔ آج حکومت اگر ہمارے مطالبوں کو نہیں مانتی ہے تو آزاد میدان میں شام پانچ بجے میں اپنے آپ کو زندہ جلا دوں گا۔"

    مطالبے کیا ہیں جب پوچھا گیا تو جھنگا پہلوان نے ایک پمفلٹ ان کی طرف بڑھا دیا۔ راتوں رات مورچے کے بڑے بڑے پوسٹر چھاپ کر شہر کی سڑکوں پر لگا دیئے گئے تھے۔ بڑے بڑے ہورڈنگ آویزاں کر دیئے گئے تھے۔

    "شانتا رام مانے، جھنگا پہلوان آگے بڑھو ہم تمہارے ساتھ ہیں۔"

    بڑا زبردست مورچہ تھا۔ تمام پارٹیاں اس مورچے میں شریک تھیں۔ جس سے شرکاء کی تعداد لاکھوں تک پہونچ گئی تھی۔ جھنگا استاد کو ایک کھلی جیب میں کھڑا کر دیا گیا تھا۔ سڑک کے دونوں طرف لوگ کھڑے ہو کر جھنگا پہلوان کو ہاتھ دکھا رہے تھے۔ جھنگا ہاتھ دکھا کر ان کا شکریہ ادا کر رہا تھا۔ سینکڑوں ٹی وی کے کیمرہ مین آس پاس دوڑ رہے تھے۔ کئی ٹی وی چینل اس مورچے کو لائیو دکھا رہے تھے۔ اور سب سے بڑے واقعہ کو دیکھنے کے لئے تو سارا ملک دل تھام کر بیٹھا تھا۔ جھنگا پہلوان کا خود کو زندہ جلانے کا واقعہ۔ ٹی وی چینل پر بار بار بتایا جا رہا تھا۔ شام کو جب یہ مورچہ آزاد میدان میں جائے گا تو حکومت کی بے بسی کے احتجاج میں فن پہلوانی کا ایک استاد جھنگا پہلوان خود کو زندہ جلا دیگا۔ مانگیں کچھ ایسی تھی کہ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ حکومت وہ مانگیں مان ہی نہیں سکتی۔ اور مانگیں پوری نہ ہونے پر جھنگا پہلوان کو خود کو زندہ جلانا ہی پڑے گا۔ اب تو انہیں بھی گھبراہٹ محسوس ہونے لگی تھی۔

    "کیا انہیں خود کو زندہ جلانا پڑئے گا؟ میں نہیں وہ مرنا نہیں چاہتے۔ انہیں اس مورچے، پہلوانی، سیاست سے کچھ نہیں لینا، جان ہے تو جہاں ہے، لیکن مانے انہیں سمجھاتا وہ گھبرائے نہیں مرنے کا ناٹک کرنا پڑے گا اور اسی ناٹک سے گھبرا کر حکومت جھک جائے گی مرنا کینسل ہو جائے گا۔ مگر حکومت ان کی مانگیں مانے گی اس پر جھنگا پہلوان کو شک ہو رہا تھا۔ مانگیں عجیب تھیں۔ ہرشہر میں کشتی کے اکھاڑے کھولے جائیں۔ اسکول میں پہلوانی کو ایک مضمون کے طور پر پڑھایا جائے۔
    نوکریوں میں پہلوانوں کو 20 فی صد ریزرویشن دیا جائے۔ پہلوانوں کو ماہانہ وظیفہ دیا جائے۔ پہلوانوں کے کھانے پینے کی اشیاء، دودھ، گوشت، بادام، کاجو، گھی، سرکاری راشن دوکانوں سے رعایتی دروں پر دی جائے۔

    مورچہ آزاد میدان پہنچ گیا۔ شانتا رام مانے اور دیگر لیڈران نے دھواں دھار تقریریں کیں اور حکومت کے نمائندوں سے سوال کیا کہ وہ ان کی مانگیں مانتے ہیں یا اگلا قدم اٹھایا جائے؟ حکومت کے نمائندوں کے کانوں پر جب جوں نہ رینگی تو اگلا قدم اٹھانا ضروری تھا۔ جھنگا پہلوان کی خود سوزی کا۔
    مانے نے پہلوان سے کہا کہ وہ خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا لے۔ استاد کو پسینے چھوٹ گئے سامنے موت ناچتی دکھائی دینے لگی۔ انہوں نے انکار کیا تو مانے نے انہیں سمجھایا۔

    "اس وقت آپ کو کروڑوں لوگ ٹی وی پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کے دلوں میں آپ کی عزت بڑھ گئی ہے، آپ خود کو زندہ جلا کر کیا اس عزت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اپنی عزت کے لئے آپ کو زندہ جلنا ہی پڑے گا۔"

    نعروں کے ساتھ استاد کو میدان کے وسط میں لایا گیا ان کے ہاتھوں میں پٹرول کا کین دے دیا گیا۔ استاد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے وہ دہاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ اپنے ہاتھوں سے موت کو گلے لگانے والے کم ہی ہوتے ہیں۔

    "یہ ہے وہ جیالا جو اپنے حق کو منانے کے لیے آج موت کو گلے لگا رہا ہے۔" مانے چیخا اور پہلوان سے بولا، "پہلوان دنیا کو بتا دیجئے۔ آپ ہنستے ہنستے اپنی مانگیں منوانے کے لئے موت کو گلے لگا رہے ہیں اور خود پر پٹرول ڈال دیجئے۔"

    استاد نے روتے روتے خود پر پٹرول ڈال دیا۔ چیف منسٹر جو ٹی وی پر یہ منظر دیکھ رہے تھے اس منظر کو دیکھ کر ان کا دل دھک سے رہ گیا۔ اگر یہ شخص مر گیا تو ان کی کرسی جاتی رہے گی۔ انہوں نے فوراً مانے کو موبائل لگایا۔

    "میں چیف منسٹر بول رہا ہوں۔ جھنگا استاد کو مرنے سے روکو، کل اس معاملے پر بحث کرنے کے لئے میں ایک کمیٹی بناتا ہوں۔ اور وعدہ کرتا ہوں تمام جائز مطالبے پورے ہوں گے۔" سی ایم کا موبائل پا کر مانے خوشی سے اچھل پڑا۔

    "ابھی ابھی مجھے سی ایم کا موبائل آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی مانگوں پر غور کرنے کے لیے وہ ایک کمیٹی بنائیں گے۔ جھنگا استاد جان نہ دیں اس لیے سی ایم کی درخواست کا لحاظ رکھتے ہوئے جھنگا پہلوان خود سوزی ملتوی کرتے ہیں۔"

    یہ سنتے ہی جھنگا پہلوان کی جان میں جان آئی اور وہ اس لمحے کو کوسنے لگے جب ایک ٹی والے کو انہوں نے انٹرویو دیا تھا

    [​IMG]



    View attachment 132

     
  3. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    بہت اچھی کہانی شئیر کی ہے
    شئیر کرنے کے لئے شکریہ​
     

Share This Page