1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

جھنگا پہلوان ڈبلیو ڈبلیو ای کے رِنگ میں

Discussion in 'Bachon Ki khaniya' started by IQBAL HASSAN, Dec 6, 2016.

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 83/98

    [​IMG] [​IMG] [​IMG] [​IMG]

    جھنگا پہلوان ڈبلیو ڈبلیو ای کے رِنگ میں


    اقبال حسن اسلام اباد


    جھنگا پہلوان ان دنوں ہندوستانی پہلوانوں کے ایک وفد کے ساتھ امریکہ کے دورے پر تھے۔ امریکہ میں انہیں کشتیاں نہیں لڑنی تھیں صرف اپنے گٹھیلی جسم کی نمائش کرنی تھی اور کبھی کبھی اپنے وفد میں شامل کسی پہلوان کے ساتھ دوستانہ ماحول میں کشتی لڑ کر امریکی شائقین کو دکھانی تھی کہ کشتی کیا ہوتی ہے۔
    حکومت امریکہ کی طرف سے حکومت ہند کو ایک درخواست آئی تھی کہ آپ کے یہاں جو کشتیاں ہوتی ہیں ان میں جو پہلوان حصہ لیتے ہیں ان کا ایک وفد امریکہ روانہ کیا جائے تا کہ امریکی عوام بھی ہندوستانی پہلوانوں کو اور فنی کشتی کو دیکھ سکے۔وفد کو تشکیل دینے کا کام شروع ہوا تو متعلقہ وزارت کے کارکنان کے سر میں درد ہونے لگا۔ پہلے انہوں نے طے کیا تھا کہ وہ ملک کے نامی گرامی پہلوانوں کو اس وفد میں شامل کر کے امریکہ بھیجیں گے اور اس سلسلے میں انہوں نے ایک فہرست بھی بنا لی تھی۔ لیکن ان کی فہرست دھری کی دھری رہ گئی۔

    جیسے ہی یہ خبر سیاسی لیڈران کو معلوم ہوئی کہ پہلوانوں کے ایک وفد کے لیے امریکہ سے دعوت آئی ہے متعلقہ وزارت میں سفارشی خطوط کا انبار لگا گیا ہر وزیر، ہر لیڈر، ہر نیتا نے سفارش کی تھی کہ اس وفد میں اس کے علاقے کے یا اس کے شناسا اس پہلوان کو شامل کیا جائے۔ جھنگا پہلوان کے دوست اپوزیشن لیڈر شانتا رام مانے اس میں کب پیچھے رہنے والے تھے۔ جھنگا پہلوان کا ان پر بہت بڑا احسان تھا۔ جھنگا پہلوان کی وجہ سے انہیں جو شہرت نصیب ہوئی تھی وہ شہرت اگر وہ ساری عمر لیڈری کرتے رہتے بھی تو شاید نصیب نہیں ہوتی۔ جھنگا پہلوان کے احسانوں کا بدلہ چکانے کا اس سے اچھا موقع اور کب ہاتھ آ سکتا تھا۔ انہوں نے بھی وزارت میں اپنا خط روانہ کر دیا کہ پہلوانوں کے اس وفد میں جھنگا پہلوان کو بھی شامل کیا جائے۔ دیگر تمام لیڈران اور وزیروں کے خطوط اپنی جگہ پر مگر اپوزیشن لیڈر شانتا رام مانے کے خط کی ایک الگ ہی اہمیت تھی۔حکمراں جماعت کو محسوس ہوا کہ اگر شانتا رام مانے نے بھی ایک پہلوان کی سفارش کی ہے فوراً اس پہلوان کا انتخاب کر لیا گیا اور جھنگا پہلوان اس وفد میں شامل ہو گئے۔

    سب کو ڈر تھا کہ اگر مانے کے سفارش کہ وہ پہلوان کے وفد میں شامل نہیں کیا گیا تو پتہ نہیں وہ کیا کیا بکھیڑے کھڑے کرے اور حکومت کے ہر کام اور ہر معاملے میں ٹانگ اڑائے گا۔ غرض اس وفد میں سب اسی طرح کے پہلوان شامل تھے۔ کچھ تو صرف نام کے ہی تھے۔ اس طرح انہیں امریکہ کی سیر کا مفت میں موقع مل گیا تھا۔ ہر شہر میں دو دو چار چار دن کے قیام کے ساتھ وہ لوگ امریکہ کی سیر کر رہے تھے اور امریکن ہندوستانی پہلوانوں کو دیکھ رہے تھے۔ ان دنوں ان کا قیام نیویارک میں تھا۔

    جھنگا پہلوان کو نیویارک میں اس لیے یاد تھا کہ اس شہر میں ڈبلیو ڈبلیو ایف جو اب ڈبلیو ڈبلیو ای بن گیا کے مقابلے ہوتے ہیں۔ اور وہ ان مقابلے کے بہت بڑے شوقین تھے۔ ان مقابلوں کے تمام پہلوانوں کے نہ صرف انہیں نام ازبر یاد تھے بلکہ وہ تمام پہلوانوں کے چہروں سے بھی بخوبی واقف تھے۔ اور کیوں نہ ہو وہ گھنٹوں ٹین اسپورٹس چینل پر دن میں کئی کئی بار ڈبلیو ڈبلیو ای کے مقابلے دیکھا کرتے تھے اور ان مقابلوں کے اسٹار، راک، اسٹون کولڈ، ٹریپل ایچ وغیرہ کے زبردست پرستار تھے۔

    انہوں نے خواب دیکھا تھا کہ جب کبھی امریکہ جانے کا موقع ملے گا وہ ڈبلیو ڈبلیو ای کا رنگ دیکھنے ضرور جائیں گے۔ اور اپنے پسندیدہ اسٹار پہلوانوں کو قریب سے دیکھیں گے۔ اور جب وہ امریکہ پہونچ گئے تھے اور نیو یارک میں تھے تو پھر بھلا وہ اپنی خواہش کی تکمیل کیوں نہ کرتے۔ انہوں نے ہوٹل کے ایک ویٹر سے اس مقام کا پتہ پوچھا جہاں ڈبلیو ڈبلیو ای کے مقابلے ہوتے تھے اور ٹیکسی پکڑ کر وہاں پہونچ گئے۔ انہوں نے ٹکٹ نکالا اور اسٹیڈیم کی طرف جانے لگے۔ اس وقت انہیں دو آدمیوں نے روک لیا اور غور سے ان کے جسم کو چاروں طرف گھوم گھوم کر دیکھنے لگے اور چھو چھو کر دیکھنے لگے۔ اس کے ساتھ ہی وہ آپس میں باتیں کرتے جا رہے تھے اور ان کا چہرہ خوشی سے دمکتا بھی جا رہا تھا۔ ماجرہ کیا ہے ان کی کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ آپس میں باتیں کرنے کے بعد وہ ان سے کچھ کہنے لگے۔ وہ لوگ انگریزی میں کچھ کہہ رہے تھے۔ اور ان کے کچھ بھی پلے نہیں پڑ رہا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔

    اچانک مسئلہ کا حل نکل آیا۔ایک ہندوستانی وہاں سے گزرا تو دونوں نے اسے روک کر اس سے کچھ کہا۔
    "ہیلو، آپ ہندوستانی ہیں؟" اس آدمی نے پوچھا۔
    "ہاں۔ میرا نام جھنگا پہلوان ہے۔ میں ہندوستانی پہلوانوں کے وفد کے ساتھ امریکہ کے دورے پر آیا ہوں۔"
    "اگر آپ پہلوان ہیں تو ان حضرات کا کام اور بھی آسان ہو گیا ہے۔"
    "کیا مطلب میں کچھ سمجھا نہیں؟" پہلوان نے حیرت سے پوچھا۔
    "آپ کو پتہ ہے آج ڈبلیو ڈبلیو ای کے رنگ میں چمپئن راک اپنے خطاب کا دفاع کر رہا ہے اور اس خطاب کا دفاع کرتے ہوئے وہ سات آٹھ نامی گرامی پہلوانوں سے لڑے گا۔"
    "ہاں، مجھے معلوم ہے میں وہی دیکھنے کیلئے تو آیا ہوں"، پہلوان نے جواب دیا۔
    "اگر آپ چاہیں تو آج آپ ڈبلیو ڈبلیو ای کے رنگ میں راک کے ساتھ کشتی بھی لڑ سکتے ہیں۔"
    "کیا؟ راک کے ساتھ کشتی لڑ سکتا ہوں! یہ سنتے ہی پہلوان کا دل خوشی سے اچھل پڑا، بھلا وہ کس طرح؟"
    "دیکھئے راک سے آج دوسرے نمبر ایک پہلوان کولڈ مائنر کو لڑنا ہے، لیکن سویرے سے اس نے شراب پی اور اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ وہ آج رنگ میں نہیں لڑ پائے گا، لوگ اس کے بہت پرستار ہیں۔ لوگ اسے دیکھنے کے لئے آئے ہیں اگر لوگوں کو پتہ چلا کہ کولڈ مائنر آج نہیں لڑ رہا ہے تو وہ ٹکٹ واپس کر دیں گے اور مقابلہ منعقد کرانے والوں کو بہت نقصان ہو گا۔ اس لیے یہ لوگ چاہتے ہیں کہ آج آپ رنگ میں کولڈ مائنر کی طور پر راک سے لڑیں؟"
    "لیکن میں کس طرح کولڈ مائنر کی طور پر لڑ سکتا ہوں۔ مجھے سبھی پہچان لیں گے کہ میں کولڈ مائنر نہیں ہوں۔" پہلوان بولے۔
    "یہی تو دلچسپ بات ہے"، یہ وہ آدمی بولا، "دراصل کولڈ مائنر ماسک لگا کر لڑتا ہے، وہ ڈیل ڈول میں بالکل آپ کی طرح ہے، اس وجہ سے کوئی بھی پہچان نہیں سکے گا کہ رنگ میں آپ ہیں یا کولڈ مائنر ہیں۔ آپ کو تھوڑی دیر راک کا مقابلہ کرنا ہے اور پھر اس سے شکست کھا جانا ہے۔"

    پہلوان کے لئے تو رنگ میں اترنا اور راک سے مقابلہ کرنا ہی بہت بڑی بات تھی۔ وہ فوراً تیار ہو گئے۔ فوراً انہیں ڈریسنگ روم میں لے جا کر کولڈ مائنر کا ڈریس پہنایا گیا۔ جب ماسک لگا کر انہوں نے خود کو اور کولڈ مائنر کی تصویر کو دیکھا تو انہیں خود حیرت ہوئی سچ مچ کوئی بھی انہیں پہچان نہیں سکتا تھا۔ ادھر رنگ میں چمپئن راک کی دفاعی کشتی جاری تھی۔ دو تین لوگوں کو وہ ہرا چکا تھا۔اب ان کی باری تھی۔ پروگرام منعقد کرانے والوں نے انہیں سمجھا دیا تھا کہ تھوڑی دیر لڑ کر انہیں راک سے ہار جانا ہے۔ اس کی انہیں بڑی رقم ملے گی۔ انہوں نے راک کو بھی بتا دیا تھا کہ کولڈ مائنر کے نام پر جو آدمی رنگ میں اترے گا وہ بالکل اناڑی ہے۔ اس کی زیادہ پٹائی نہ کرے۔ وہ خود جلد ہار جائے گا۔

    آخر ان کی باری آئی اور انہوں نے اسٹیڈیم میں قدم رکھا۔ ان کے اسٹیڈیم میں قدم رکھتے ہی چاروں طرف سے لوگوں کا شور اٹھا۔ کولڈ مائنر، کولڈ مائنر۔
    سامنے کے بڑے سے اسکرین پر کولڈ مائنر کی تصویریں اور فلم بتائی جانے لگی اور ان کے آس پاس آتش بازیاں چھوڑی جانے لگی۔ وہ ایک باوقار چال چلتے رنگ کے قریب پہونچے اور رنگ میں داخل ہو ا۔ سامنے ان کا پسندیدہ اسٹار راک تھا۔ دل تو چاہا کہ وہ جا کر راک سے لپٹ جائے اور اسے بتائے کہ وہ اس کے کتنے بڑے پرستار ہیں۔ ان کے دل میں اس سے ملنے کی کتنی آرزو تھی۔ لیکن بھانڈا پھوٹ جانے کے ڈر سے وہ ایسا نہیں کر سکے۔ راک نے انہیں گھور کر دیکھا پھر ان پر ٹوٹ پڑا۔ وہ گھبرا گئے راک انہیں مار رہا تھا وہ اپنا دفاع کر رہے تھے۔ راک کی مار ایسی نہیں تھی کہ وہ اسے کھا بھی نہ سکتے تھے۔ معمولی مار تھی اس سے زیادہ مار تو کشتی کے اکھاڑے میں لگتی تھی۔ اس مار کو کھاتے ہوئے محسوس ہوا، ڈبلیو ڈبلیو ای کے رنگ میں جو کچھ ہوتا ہے فلمی اسٹائل کا ہوتا ہے۔
    ایک بار راک نے انہیں اٹھا کر پٹک دیا۔

    چاروں طرف سے شور اٹھ رہا تھا۔
    راک کے پرستاراس کا حوصلہ بڑھ رہا تھا اور کولڈ مائنر کے پرستاران کا۔

    ان کے گرتے ہی راک کے پرستار خوشیاں منانے لگے۔ لیکن ان کے دوبارہ کھڑے ہوتے ہی راک کے پرستاروں کی امید پر پانی پھر گیا اور انکے پرستار پورے جوش و خروش کے ساتھ ان کا حوصلہ بڑھانے لگے۔

    "کولڈ مائنر آگے بڑھو۔"
    "کولڈ مائنر راک کو شکست دو۔"
    "کولڈ مائنر آج تم چمپئن بنو گے۔"

    اپنے لیے حوصلہ افزائی کا یہ شور سن کر وہ ایک نیا جوش ان کے اندر سرایت کر گیا۔ اور وہ پھر اچانک راک پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے راک کے ساتھ ڈبلیو ڈبلیو اسٹائل کی فری اسٹائل نہیں لڑی بلکہ ہندوستانی پہلوانوں کے انداز میں انہوں نے راک کو دبوچ لیا۔ راک اس انداز کی کشتی سے گھبرا گیا۔ انہوں نے راک کو کچھ اس انداز سے پکڑ رکھا تھا کہ ان سے کئی گنا زیادہ طاقتور بھاری بھرکم راک بھی ان کے سامنے بے بس ہو گیا۔ اس کے بعد انہوں نے راک کو جو دھوبی پچھاڑ ماری تو راک چاروں نالے چت ہر کر گر پڑا۔

    [​IMG] [​IMG] [​IMG] [​IMG]


    itustad-candle-2.gif
     
  2. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 83/98

    [​IMG] [​IMG] [​IMG] [​IMG]

    سارا اسٹیڈیم تالیوں اور شور سے گونج اٹھا۔

    ریفری گنتی گن رہا تھا۔ "تین چار"، گننے پر بھی جب راک نہیں اٹھا تو راک کے پرستاروں کی دلوں کی دھڑکنیں رکنے لگیں انہوں محسوس ہوا ان کا چمپئن آج شکست کھا گیا۔ لیکن راک کسی طرح اٹھ کھڑا ہوا ارو وہ جھنگا پہلوان پر ٹوٹ پڑا۔ اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے راک نے ڈبلیو ڈبلیو ای کے ضوابط کو شاید بالئے طاق رکھ دیا تھا کیونکہ وہ پوری طاقت کے ساتھ جھنگا پہلوان پر حملے کر رہا تھا۔ راک کے فولادی مکے جب جھنگا پہلوان کے جسم پر پڑے تو انہیں اس جگہ سے جان نکلتی محسوس ہوتی۔ اس دوران ایک دو بار راک نے جھنگا پہلوان کو سر سے اوپر اٹھا کر پٹخ دیا۔ اس وقت جھنگا پہلوان کے دل میں آیا کہ راک کی مار سے بچنے کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ وہ ریفری کے دس گننے تک نہ اٹھے۔ اس طرح وہ راک کی مار سے بھی بچ جائیں گے ان کا راک کو قریب سے دیکھنے کا خواب تو پورا ہو چکا تھا۔ اور کولڈ مائنر کی طور پر رنگ میں لڑنے کے انہیں الگ سے کئی ہزار ڈالر بھی ملنے والے تھے لیکن وہ ہندوستانی پہلوان تھے جو مکہ مار کھانے کے بعد زخمی شیر بن جاتے ہیں۔ جھنگا پہلوان بھی زخمی شیر بن گئے اور وہ اٹھ کر راک پر ٹوٹ پڑے۔ عجیب منظر تھا۔

    راک جھنگا کے ساتھ ڈبلیو ڈبلیو ای کے انداز میں لڑ رہا تھا اور پہلوان اس پر ہندوستانی کشتی کے داو پیچ آزما رہے تھے۔ جو راک کے لیئے بالکل اجنبی تھے۔ جھنگا پہلوان تو آسانی سے راک کے حملوں کا بچاؤ کر رہے تھے لیکن ان کے ہندوستانی پہلوانی کے حربوں سے راک پریشان ہو گیا تھا۔ پہلوان کے راک پر دھوبی پچھاڑ سے مینڈھا ٹکر جسے تمام داؤ آزما ڈالے۔ تماشائیوں کا جوش و خروش بڑھتا جا رہا تھا۔

    راک کے شیدائی راک کی حمایت میں چیخ رہے تھے تو کولڈ مائنر کے پرستار جھنگا پہلوان کی حمایت میں شور مچا کر ان کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔ اچانک ایسی بات ہوئی جس سے سارا اسٹیڈیم دنگ رہ گیا۔ پہلوان نے راک کو دھوبی پچھاڑ ماری۔ راک زمین پر گرا پہلوان اس کے سینے پر سوار ہو گئے۔ ریفری گنتی گننے لگا۔ ریفری کی گنتی پوری ہو گئی لیکن پہلوان نے راک کو اٹھنے کا موقع نہیں دیا۔ راک ہار گیا۔ ریفری نے جھنگا پہلوان کا ہاتھ پکڑ کر ان کی فتح کا اعلان کیا۔ اس کا کایا پلٹ سے وہ شور ہنگامہ اٹھا کہ سارا اسٹیڈیم میدان جنگ میں تبدیل ہو گیا۔ راک کے پرستار راک کے ہار جانے سے سکتے میں تھے اور کولڈ مائنر کے پرستار نے چیخ چیخ کر سارے اسٹیڈیم کو سر پر اٹھا رکھا تھا۔ سارا اسٹیڈیم ناچ رہا تھا۔ اپنی شکست پر اور چمپئن کا فائنل جانے پر راک چیلنجی انداز میں جھنگا پہلوان کو گالیاں دیتا ہوا اسٹیڈیم سے باہر گیا۔

    "کولڈ مائنر،نے موجود چمپئن راک کو ہرا دیا۔ اب وہ راک سے جیتے اس خطاب کا دفاع کرتے ہوئے اسٹام کولڈ سے لڑیں گے۔" مائیکرو فون پر اعلان ہوا اور ایک شور مچا۔

    نیا پہلوان اسٹام کولڈ رنگ میں اترا۔
    پہلوان کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اس وقت وہ رنگ کے چمپئن ہے اور انہیں اپنے خطاب کا دفاع کرنا ہے۔ ان کا حوصلہ بھی بلند تھا انہوں نے راک کو ہرا دیا تو اسٹام کولڈ کس کھیت کی مولی ہے۔ اسٹام کولڈ کچھ دیر پہلوان پر حاوی رہا۔ جھنگا پہلوان کو اسٹام کولڈ کی کافی مار کھانی پڑی۔ جس کہ وجہ سے اسٹام کولڈ کے حامیوں کا شور بڑھ گیا۔ لیکن پھر جھنگا پہلوان کو بھی غصہ آگیا۔ انہوں نے اسٹام کولڈ پر ہندوستانی داو آزمائے۔ اور اس کا بھی انجام وہی ہوا جو راک کا ہوا تھا۔ اسٹام کولڈ زمین پر گرا اور وہ اسے قینچی مار کر اس پر بیٹھ گئے۔

    ریفری گنتی گنتا رہا۔ اسٹام کولڈ جھنگا پہلوان کی گرفت سے آزاد ہونے کے لئے اور اٹھ کر کھڑے ہونے کے لئے جھٹپٹاتا رہا۔ لیکن اسے کامیابی نہیں مل سکی۔
    وہ ہار گیا اور ریفری نے ایک بار پھر جھنگا پہلوان کو فاتح قرار دیا۔

    "کولڈ مائنر نے اسٹام کولڈ کو ہرا کر اپنے خطاب کا دفاع کیا ہے۔ اب وہ چمپئن شپ کی دوڑ میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کا اگلا مقابلہ مضبوط خطرناک ٹرپل ایچ سے ہے اور اب ٹرپل ایچ میدان میں آ رہا ہے۔ ایک شور بلند ہوا۔ دہاڑتا ہوا ٹرپل ایچ اسٹیڈیم میں آیا اور خونخوار نظروں سے جھنگا پہلوان کو دیکھتا رنگ میں اترا۔ پہلوان اس سے بھی اچھی طرح واقف تھے۔ ہزاروں بار انہوں نے ٹرپل ایچ کو ٹی وی پر لڑتے دیکھا تھا۔ اب انہیں اسی ٹرپل ایچ کے ساتھ لڑنا ہے۔ دل تو چاہا کہ وہ جان بچا کر رنگ سے بھاگ جائے۔ یا آگے کی مصیبتوں سے بچنے کے لئے ٹرپل ایچ کے ہاتھوں اپنی شکست تسلیم کر لیں۔ لیکن وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ ان میں کتنا دم ہے۔ اب تک راک اور اسٹام کولڈ کو پچھاڑنے کے بعد ان کا حوصلہ کافی بلند ہو گیا تھا۔

    ٹرپل ایچ ان پر ٹوٹا تو پہلے انہوں نے اس کے حملوں کا دفاع کیا۔ حملوں کی وجہ سے ٹرپل ایچ جلد تھک گیا۔ موقع دیکھ کر جھنگا پہلوان نے اس پر حملہ کیا اور وہ بھی ہندوستانی انداز میں۔ ٹرپل ایچ ڈبلیو ڈبلیو ای کے اسٹائل کے حملوں کا عادی تھی ہندوستانی حملے اس کے لیے بالکل نئے تھے۔ اس لیے وہ ان حملوں سے بوکھلا گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا وہ کس طرح جوابی حملہ کرے یا پھر ان حملوں سے اپنا دفاع کرے۔ تھوڑی دیر میں اس کا انجام بھی وہی ہوا جو اس سے قبل کے دو پہلوانوں کا ہو چکا تھا۔ جھنگا پہلوان نے ہندوستانی داؤ پیچ آزما کر ٹرپل ایچ کو بھی پست کر دیا ادھر اسٹیڈیم میں کہرام مچا ہوا تھا۔

    ایک معمولی پہلوان کے ہاتھوں بڑے بڑے سپر اسٹار ہار رہے تھے۔ جواء شدت پکڑ چکا تھا۔ نئے پہلوان اور جھنگا پہلوان پر بڑھ چڑھ کر جوا اور داؤ لگایا جا رہا تھا۔ بلکہ کولڈ مائنر کے چمپئن بننے پر تو کروڑوں کا جوا لگ گیا تھا۔ اگر کولڈ مائنر یہ چمپئن شپ جیت جاتا تو اسے بھی اس جیت میں حصہ ملنے والا تھا۔ لیکن جھنگا کو اس سے کیا لینا دینا تھا۔ وہاں اسے کون پہچانتا تھا اس وقت تو وہ کولڈ مائنر کی طور پر لڑ رہا تھا۔ اگلا مقابلہ خطرناک انڈر ٹیکر سے تھا۔ جھنگا استاد ان کو پہلوانوں کے ساتھ لڑنے سے زیادہ مزہ ان کو دیکھنے میں آ رہا تھا۔ ابھی تک وہ ان تمام سپر اسٹاروں کو ٹی وی کے پردے پر دیکھتے آئے تھے۔ آج وہ تمام سپر اسٹار ان کے روبرو تھے۔ان کے چہروں جسم کو نہ صرف وہ قریب سے دیکھ رہے تھے بلکہ ان کے ساتھ لڑ کے ان کی قوت کا اندازہ بھی انہیں ہورہا تھا۔ تقدیر ان کا ساتھ دے رہی تھی۔

    خطرناک انڈر ٹیکر کے ساتھ بھی شاید تقدیر ان کا ساتھ دے۔ یہ سوچ کر وہ تیار ہو گئے۔ انڈر ٹیکر ان پر ٹوٹ پڑا۔ اور دو منٹ میں اس نے جھنگا پہلوان کے جسم کے انجر پنچر ڈھیلے کر دیئے۔ انہیں لگا کہ انڈر ٹیکر کی مار سے بچنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ اپنی شکست تسلیم کر لی جائے۔ لیکن وہ آخری کوشش پر یقین رکھتے تھے۔ دل ہی دل میں "یا علی کر مدد" کا نعرہ لگا کر انہوں نے انڈر ٹیکر پر جوابی حملہ کیا اور انڈر ٹیکر بھی ہندوستانی داؤ پیچ کی تاب نہ لا کر چت ہو گیا۔ انڈر ٹیکر کے بعد تو راہ آسان ہو گئی تھی۔ اس کے بعد کئی سپر اسٹار آئے، بگ شو، یوکو زونا، شان مائیکل وغیرہ۔ سب سے جھنگا پہلوان سے ٹکرائے۔ اور انہیں فتح حاصل ہوئی۔ آخری پہلوان سے لڑنے کے بعد وہ چمپئن قرار دے دئیے گئے۔

    ان کے منیجر نے انہیں کاندھے پر اٹھا لیا۔ وہ لوگوں سے انہیں بچانا چاہتے تھے۔ اگر کسی نے جوش میں ان کے چہرے کا نقاب اتار لیا تو سارا پول کھل جائے گا۔ ساری محنت جھنگا پہلوان نے کی تھی۔ لیکن انعام اور نام کولڈ مائنر کو ملا۔
    لیکن اس کے باوجود بھی جھنگا پہلوان خوش تھے۔
    ان کو ڈبلیو ڈبلیو ای کے رنگ میں اترنے کا موقع تو ملا۔





    [​IMG] [​IMG] [​IMG] [​IMG]


    View attachment 133
     
  3. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Moderator
    • 38/49

    بہت اچھی کہانی شئیر کی ہے
    شئیر کرنے کے لئے شکریہ​
     

Share This Page