1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل صحابہ کو کاتب وحی مقرر فرمایا تھا:

Discussion in 'Quran e Kareem' started by IQBAL HASSAN, Dec 12, 2016.

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 83/98




    سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل صحابہ کو کاتب وحی مقرر فرمایا تھا:





    حضرت بوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ ، عمرفاروقرضی اللہ تعالٰی عنہ، عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ، علیرضی اللہ تعالٰی عنہ، معاویہرضی اللہ تعالٰی عنہ ، زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ،ابی بن کعبرضی اللہ تعالٰی عنہ، خالد بن ولیدرضی اللہ تعالٰی عنہ،ثابت بن قیسرضی اللہ تعالٰی عنہ،۔

    قرآن کا جو حصہ نازل ہوتا آپ صحابہ کو مامور فرماتے کہ اسے تحریر کرلیں یہاں تک کہ کتابت کے پہلو بہ پہلو قرآن کریم کو سینوں میں بھی محفوظ کرلیا گیا۔(مشہور مستشرق بلاشیر نے کاتبین وحی صحابہ کی تعداد چالیس بتائ ہے دیگر مستشرقین مثلاً شفالی بہل اور کازانوفاکا زاویہ نگاہ بھی یہی ہے مؤخر الذکر نے اس ضمن میں طبقا ابن سعد، طبری ، نووی اور سیرت حلبی پر اعتماد کیا ہے ۔)

    محدث حاکم نےمستدرک میں زید بن ثابت سے بخاری ومسلم کی شرط کے مطابق روایت کیا ہے کہ زید بن ثابت نے کہا ہم عہد رسالت میں ''رقاع''(ٹکڑوں)سے قرآن جمع کیا کرتے تھے ۔

    (الاتقان،ج۱ص،۹۹نیز البرہان ،ج۱ص۲۳۷)

    مذکورہ صدر حدیث میں ''رقاع ''کا جو لفظ وارد ہوا ہے یہ رقعہ (ٹکڑے) کی جمع ہے اس کا اطلاق چمڑے ،کپڑے اور کاغذ کے ٹکڑے پر کیا جاتا ہے اس حدیث سے واضح ہوتا کہ کاتبین وحی عہد رسالت میں کتاب کے لئے کس قسم کا سامان استعمال کرتے تھے چناچہ نازل شدہ قرآن کریم کو پتھر کی باریک اور چوڑی سلوں، کھجور کی ٹہنیوں اونٹ یا بکری کے شانہ کی ہڈیوں ، اونٹ کے کجاوہ کی لکڑیوں اور چمڑے کے ٹکڑوں پر تحریر کیا جاتا تھا۔

    (الاتقان،ج۱،ص،۱۰۱)

    ترتیب سوروآیات:

    حضرت زید کی روایت میں مختلف اشیاء کے ٹکڑوں سے قرآن جمع کرنے کا جو ذکر کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹکڑوں سے نقل کرکے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق قرآنی آیات وسورکو مرتکب کیا جاتا تھا۔ اس میں شبہ کی کوئ مجال نہیںکہ ہر سورت کی آیات کی ترتیب اور ان سے پہلے بسم اللہ کی تحریر ایک توقیفی امر ہے جو آنحضور کے حکم سے کیا گیاہے اس میں اختلاف کی کوئ گنجائش نہیں یہی وجہ ہےکہ اس ترتیب کا عکس جائز نہیں۔

    (دیکھئے البرھان للزرکشی ،ج۱،ص۲۵۶۔امام سیوطی نے ترتیب آیات کی توقیفی ہونے کے بارے میں زرکشی کے نقل کردہ اجماع کی جانب اشارہ کیا ہے اس کے بعد اس ضمن میں موسوف نے ابو جعفر بن زیر کی ''کتاب المناسبات''سے نقل کیا ہے کہ'' قرآنی سورتوں میں آیات کی ترتیب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے قائم کی گئ مسلمانوں کے یہاں اس میں کوئ اختلاف نہیں پایا جاتا ہے(الاتقان ،ج۱،ص،۴)باقی رہا زرکشی کا یہ قول کہ ''اس ترتیب کا عکس جائز نہیں''تو اس کامطلب یہ کہ آیات کی اس توقیفی ترتیب پر عمل ضروری ہے اور اس میں تقدیم وتاخیر نہیں کی جاسکتی ۔اس امر کی وضاحت زرکشی کے اس قول سے بھی ہوتی فرماتے ہیں:بعض علماء نے ''ورتل القرآن ترتیلا''کی تفسیریوں کی ہے ''قرآن کو اسی ترتیب کے مطابق بلاتقدیم وتاخیر پڑھئے جو شخص اس کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ موردالزام ہے. اس کی دلیل میں صحیح بخاری کی وہ حدیث پیش کی جاتی ہے جو عبداللہ بن زبیر سے مروی ہے کہ میں حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہسے کہا کہ ''آیت قرآنی''والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا''(سورہ البقرہ آیت۲۲۴)کو دوسری آیت سے منسوخ کردیا گیاپھر آپ نے اس کو قرآن کریم کے نسخے میں باقی کیوں رہنے دیا ہے؟ حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا:بھتیجے!میں قرآن میں کوئ تبدیلی نہیں کرسکتا۔(صحیح بخاری ،ج۶،ص،۲۹،نیزالاتقان،ج۱،ص۱۰۵)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عثمان کو معلوم تھا کہ یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے مگر تاہم اس آیت کو اس کی جگہ سے تبدیل نہ کرسکے۔کیونکہ وہ اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ حضرت جبریل سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو ترتیب قرآن سے آگاہ کرچے ہیں ۔ اس لئے اب کوئ شخص اس میں تبدیلی کا مجاز نہیں ہے ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو بھی خداوندی ترتیب سے آگاہ کردیا تھا۔امام احمد بن حنبل نے اسناد حسن کے ساتھ عثمان بن ابی العاص سے روایت کی ہے کہ میں ایک روز بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بیٹھا تھا آپ نے نگاہ اٹھائ اور پھر نیچے کرکے فرمایا :میرے پاس جبریل آئے تھے انہوں نے کہا کہ آیت کریمہ''ان اللہ یأمر بالعدل والاحسان ایتاء ذی القربی ''کو فلاں سورت میں فلاں جگہ رکھئے ۔

    ***************************************************


    کتب حدیث میں ایسی لا تعداد روایا ت موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کاتبین وحی صحابہ کو قرآن مجید لکھواتے اور ان کو آیات کی ترتیب سے آگاہ کیاکرتے تھے ۔(صحیح بخاری ،کتاب تفسیر القرآن باب ۱۸ وکتاب الاحکام باب ۹۷ ومسند احمد ،ج،۳ص،۱۲،ج۴،ص۳۸۱)

    احادیث سے ثابت ہے کہ آپ نے قرآن کی متعدد سورتیں نماز کے دوران یا خطبہ جمعہ میں ترتیب آیات کے ساتھ صحابہ کرام کی موجودگی میں تلاوت کیں یہ اس امر کی صریح دلیل ہے کہ آیت کی ترتیب توقیفی ہے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ صحابہ کسی سورت کی آیات کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ترتیب کے خلاف تلاوت کریں نظر بریں ثابت ہوا کہ آیت کی ترتیب تواتر کی حد تک پہنچ چکی ہے ۔(الاتقان،ج۱،ص،۱۰۵)

    ترتیب سورت وقیفی ہے :


    جہاں تک سورتوں کی ترتیب کا تعلق ہے وہ بھی توقیفی(بحکم خداوندی اور اس کے آگاہ کرنے پر موقف ومبنی )ہے ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں یہ ترتیب معلوم تھی ۔ اس کے خلاف کوئ دلیل ہمارے علم میں نہیں ہم اس رائے کو تسلیم نہیں کرتے کہ سورتوں کی ترتیب صحابہ کے اجتہاد پر مبنی ہے ہم اس بات کو بھی تصور نہیں کرتے کہ بعض سورتوں کی ترتیب اجتہادی اور بعض کی توقیفی ہے۔نظربریں علامہ زرکشی کا یہ قول قابل تسلیم نہیں کہ :

    بعض سورتوں کی ترتیب خداکی واجب کردہ نہیں بلکہ صحابہ کے اجتہاد پر مبنی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن کے ہر نسخے کی ترتیب جداگانہ ہے ۔(البرہان،ج۱،ص۲۶۲)

    اس کی وجہ یہ کہ صحابہ نے اپنے اجتہاد کے مطابق قرآن کریم کو جو ذاتی نسخے مرتب کئے تھے وہ ان کا ایک ذاتی فعل تھا اور انہوں نے کسی دوسرے کو اس کا پابند بنانے کی کوشش نہیں کی تھی صحابہ نے کبھی یہ نہ کہا کہ ان کی ذاتی ترتیب کی مخالفت حرام ہے اس لئے کہ انہوں نے قرآن کریم کے یہ نسخے اپنے لئے مرتب کئے تھے لوگوں کے لئے نہیں جب پوری امت مسلمہ حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ کے مرتب کئے نسخے پر متفق ہوگئتو صحابہ نے بھی اس سے اظہار اتفاق کیا اور اپنے ذاتی نسخے ترک کردئیے اور اگر وہ ترتیب آیات وسورکے معاملہ کو اپنے اجتہاد پر مبنی تصور کرتے تو اپنے ذاتی نسخوں پر قائم رہتے اور حضرت عثمان کے نسخے سے متفق نہ ہوتے ۔اس پر طرہ یہ کہ زرکشی خود مانتے ہیں کہ جو لوگ سورتوں کی ترتیب کو مبنی پر اجتہاد تسلیم کرتے ہیں ان کے اور قائلین توفیق کے مابین صرف نزاع لفظی پایا جاتا ہے وہ اس دلیل میں امام مالک کا قول پیش کرتے ہیں ۔امام مالک فرماتے ہیں:صحابہ نےجس طرح آنحضور صلی اللہ علیہ وسلمکو قرآن پڑھتے سنا تھا اسی طرح اس کو مرتب کردیا ۔اس کے ساتھ امام مالک یہ بھی فرماتے ہیں کہ سورتوں کی ترتیب صھابہ کے اجتہادپر مبنی ہے اب اس میں اختلاف رونما ہوا کے آیا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلمنے بذات خود اس ترتیب کا حکم دیا تھا یا فعلا اس ترتیب کو (بوقت تلاوت) ملحوظ رکھا تھا ۔(البرہان ،ج۱،ص،۱۵۷)

    **********************************


    ITUSTAD.ANIMATED-NAME.gif
     
  2. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 83/98

    جہاں تک اس نظریہ کا تعلق ہے کہ ترتیب کی دوقسمیں ہی

    ١)توقیفی (۲) اجتہادی۔تو اس قسم میں دوسری قسم اجتہادی ترتیب کسی صحیح دلیل پر مبنی نہیں ہے ۔اس لحاظ سے یہ ایک کمزور قسم ہے اور اعتماد کے لائق نہیں قاضی ابومحمد بن عطیہ لکھتے ہیں :

    بہت سی سورتوں کی ترتیب عہد رسالت میں معلوم تھی۔ مثلاًسبع طول (سات طویل سورتیں جو قرآن جو قرآن کے شروع میں ہیں )دیکھئیے (البرہان طول بضم الطاء وفتح الواو۔عام لوگ طوال بکسر الطاء کہتے ہیں زرکشی کا قول ہے کہ طول بضم الطاء کا واحد طولی ہے ۔ جیسے کبرکاواحد کبری ہے ابو حیان توحیدی کا قول ہے کہ طوال بکسر الطاء غلط ہے) (البرہان،ج۱ص۲۴۴)

    اور حوارم مفصل سورتیں۔(البرہان ،ج۱،ص۲۵۷)

    ابو جعفر بن زبیر فرماتے ہیں( ان کا نام اھمد بن ابراہیم بن زبیر اندلسی ہے موصوف نے کتاب ''الصلۃ''کا ضمیمہ تیار کیا ہے آپ بہت بڑے حافظ حدیث اور نحودان تھے ۸۰۷ھجری میں وفات پائ(الدارالکا نتہ،ج۱۔ص۸۴،۸۶)

    ''توقیفی قسم مقابلۃ بڑی ہے بخلاف ازیں اجتہادی قسم اس سے چھوٹی ہے ''

    وہ مزید فرماتے ہیں:

    ''ابن عطیہ نے جن سورتوں کے بارے میں کہا ہے کہ ان کی ترتیب عہد رسالت میں معروف تھی،آثاوشواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ۰ ایسی سورتوں کی تعداد ابن عطیہ کی بیان کردہ سورتوں سے زیادہ ہے بہت کم سورتیں ایسی ہیں جن میں اختلاف کی گنجائش ہے''(البرہان ،ج۱،ص۲۸۵)

    جن قلیل التعدادسورتوں میں اختلاف کی گنجائش ہے ان کی اصل واساس ایک ضعیف بلکہ بے بنیاد روایت پر رکھی گئ ہے اس کا راوی یزید الفارسی اس حدیث کو حضرت ابن عباسرضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتا ہے دیکھئے علامہ احمد محمد شاکر ۳۹۹۔مسند احمد ،ج۱،ص۳۲۹)

    امام بخاری نےا س کو ضعیف راویوں کے زمرہ میں شمار کیا ہے اس لئے اس کی منفرد روایات قابل قبول نہیں بصورت قبول یہ حدیث قرآن کریم کی ان سورتوں میں تشکیل کی موجب ہوگی جو قراءۃ سماعاًاور مصاحف میںلکھے جانے کی روسے تواتر قطعی کے ساتھ ثابت ہیں سورتوں کے آغاز میں بسم اللہ کی تحریر بھی اس حدیث کی روسے مشکوک ٹہرے گی گویا حضرت عثمان اس کی نفی بھی کرتے تھے اوراثبات بھی حالانکہ حضرت عثمان کا دامن اس (دوعملی) سے پاک ہے لہٰذااس حدیث کو بے اصل قراردینے میں کوئ حرج نہیں(دیکھئیے مسند احمد ،ج۱،ص۳۳۰یہ حاشیہ بتمام وکمال پڑھنے کے لائق ہے اس کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں ہے)اس حدیث کو بیان کرکے اپنے بیان کو طوالت دینابھی غیر ضروری ہے۔

    یہاں قابل ذکر وہ جواب ہے جو حضرت عثمان نے ابن عباس کو دیا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ سورہ انفال کو سورہ توبہ کے ساتھ بسم اللہ کے بغیر کس لئے ملادیا گیا ہے ۔سورہ انفال آغاز حجرت میں نازل ہوءی تھی جبکہ سورہ توبہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلمکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئ۔ان دونوں سورتوں کے مضامین باہم ملتے جلتے تھے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا اورآپ نے یہ نہ بتایا کہ یہ دونوں سورتیں ایک ہی ہیں ۔اس لئے میں (حضرت عثمان)نےدونوں ( سورہ انفال وتوبہ)کو ملادیا ۔(مسند احمد طبع شاکر،ج۱۔ص۳۳۱۔حدیث،۳۹۹،نیز مسند طبع قدیم ،ج۱،ص۵۷)

    اس ضمن میں راجح اور مختار مذہب یہ ہے کہ قرآنی سورتوں کی موجودہ ترتیب اسی طرح توقیفی اور غیر اجتہادی ہے جس طرح آیات کی موجودہ ترتیب مگر بایں ہمہ توقیف سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو ہرسورت کی آیات کو علیحدہ علیحدہ صحیفوں میں جمع کرسکے ،اور نہ ہی آپ کو پورے قرآن کو کتابی صورت میں یکجا کرنے کا موقع ملا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ قرآن کے حافظ وقاری بکثرت موجود تھے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ابھی قرآن کے باقی ماندہ حصہ کے نزول کا انتظار تھا علوہ ازیں اس امر کا بھی احتما تھا کہ بعض نئے احکام نازل ہوں جو سابقہ احکام کو منسوخ کردیں۔(الاتقان ،ج۱،ص۹۸،نیز البرہان ،ج۱،ص۲۳۵)

    خلاصہ یہ کہ قرآن مجید عہد رسالت میں لکھا جاچکا تھا۔ مگر اس کو کتابی صورت میں یکجا کرنے کی نوبت نہ آئ تھی کیونکہ قرآن صحابہ کے سینوں میں اسی طرح محفوظ تھا جیسے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بحکم خداوندی ان کو آگاہ وآشنا کیا تھا ۔ امام زرکشی لکھتے ہیں:

    ''عہد رسالت میں قرآن کو ایک مصحف میں اس لئے نہ لکھا گیا تاکہ اس کو بار بار تبدیل کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے ۔اس لئے قرآن کی کتابت کو اس وقت تک ملتوی رکھا گیا جبکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی وجہ سے نزول قرآن کی تکمیل ہوگئ۔(البرہان ،ج۱،ص۲۶۲)

    اکثر علماء کا زاویہ نگاہ یہ ہے کہ عہد رسالت میں قرآن مجید کو جمع کرتے وقت ان ساتھ قراءتوں کو ملحوظ رکھا گیا تھا جن میں قرآن نازل ہوتھا ہم حرف سبعہ کی فصل میں اس پر تفصیلی بحث کریں گے ۔

    قرآن کریم کا جو حصہ تحریر کیا جاتا تھا اس کو آپ کے گھر میں محفوظ رکھا جاتا تھا جو لوگ لکھنا جانتے تھے اس سے اپنے لئے ایک نسخہ نقل کرلیا کرتے تھے چناچہ ایک طرف لکھنے والوں کے یہ ذاتی نسخے ،دوسری جانب وہ صحیفے جو آپ کے گھر میں محفوظ تھے اور اس کے پہلو پہلو امّی اور غیر امّی صحابہ کا حافظہ قرآن کریم کی حفاظت وصیانت میں ممدون ومعاون اور اس آیت کامصد اق ثابت ہوئے :انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون ،

    بے شک ہم ہی نے اس ذکر کو اتارا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں ۔(سورہ حجرآیت۹)
     
  3. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

Share This Page