1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

Jummah Mubarak

Discussion in 'Greetings' started by PakArt, Dec 23, 2016.

  1. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

  2. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    مسئلہ ۱۳۲۷: از بنگالہ ضلع ڈھاکہ ڈاک خانہ بلابو قصبہ نیلو کھیا مرسلہ محمد نیاز حسین ۱۲ محرم الحرام۱۳۲۳ھ

    اگر قری میں جہاں مسلمان کثرت سے ہوں اور مکانات آپس میں متصل بلا فاصلہ ہیں اگر ہے تو پندرہ یا بیس گز اور نماز پنجگانہ کے لئے مقرر ہے اذان و جماعت ہوتی ہے وہاں کے لوگ متفق ہو کر ایک شخص کوامام جمعہ مقرر کرکے نماز جمعہ ادا کرلیں تو علیہ ماوجب لہ ( جوان پر لازم ہے ۔ت) سے بری ہوں گے یا نہیں، اور موافق مذہب امام اعظم وحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ صحیح ہوگا یا نہیں،اور بعد نماز جمعہ ظہر احتیاطی پڑھنا کیسا ہے او روہ لوگ بسبب اس جمعہ پڑھنے کے مستحق ثواب یا اثم، اور اگر اثم ہے تو کیسا؟

    بینوا بالتفصیل مع الدلیل توجروا یوم الاخر والحساب اٰمین یا رب العٰلمین

    ( تفصیلا دلائل کے ساتھ بیان فرمادیجئے اﷲ تعالٰی آخرت میں آپ کو اجر عطا فرمائے۔ اے رب العٰلمین ! دعا قبول فرما ۔ت)

    صحتِ جمعہ کے لئے مصر شرط ہے پس مصر کی تعریف صحیح موافق مذہب امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کہا ہے اور تعریف قری جس میں جمعہ واجب نہیں اور نہ وہاں جمعہ پڑھنا جائز کیا ہے ، قری اور دیہات میں فرق ہے یا نہیں، اگر فرق ہے تو کس میں جمعہ جائز اور کس میں ناجائز ؟

    الجواب

    مذہب حنفی میں فرضیت جمعہ وصحت جمعہ وجوازِ جمعہ سب کے لئے مصر شرط ہے دیہات میں نہ جمعہ فرض نہ وہاں اس کی ادا جائز و صحیح، اگر پڑھیں گے ایک نفل نماز ہوگی کہ برخلاف شرح جماعت سے پڑھی ظہر کا فرض سرسے نہ اُترے گا پڑھنے والے متعدد گناہ کے مرتکب ہوں گے،

    للاشتغال بما لایصح ۱؎ کما فی الدرالمختار وللتنفل بجماعۃ بالتداعی ولترک جماعۃ الظھر وان ترکوا الظھر فاشنع واخنع۔

    یہ ایسے کام میں مشغول ہونا ہے جو صحیح نہیں ، جیسا کہ درمختار میں ہے۔ اور تداعی کے ساتھ نوافل کا جماعت کے ساتھ اداکرنا اور جماعت ظہر کا ترک لازم آتا ہے اور اگر وہ ظہر ترک کردیتے ہیں تو یہ نہایت ہی برا و قبیح عمل ہے۔(ت)

    (۱؎درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۴)

    قریہ زبانِ عرب میں شہر کوبھی کہتے ہیں،

    قال تعالٰی وما ارسلنک من قبلک الا رجالا نوحی الیھم من اھل القری ۲؎ ، ای الامصار لعلمھم وحلمھم دون البوادی لغلظھم وجفائھم وقال تعالٰی علی رجل من القریتین عظیم۳؎، ای مکۃ والطائف وقال تعالٰی من قریتک التی اخرجتک ۴؎۔

    اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے '' اور ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے مگر مردوں کو جن پر ہم نے وحی کی اہل قری میں سے'' یعنی شہروں سے کیونکہ شہر ی لوگ صاحب علم وحلم ہوتے ہیں۔ ( دوسرے مقام پر ) اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے '' ان دو قریوں میں سے بڑے آدمی پر'' یعنی مکہ وطائف ۔ ( تیسرے مقام پر) اﷲ تعالٰی نے فرمایا'' تیرے اس قریہ سے جس سے تجھے نکالا '' (ت)

    اور جب اُسے مصر کے مقابل بولیں تو اس میں اور دِہ میں کچھ فرق نہیں ثم اقول وبہ التوفیق( پھر میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ت) حق ناصع یہ ہے کہ مصر وقریہ کوئی منقولات شرعیہ مثل صلٰوۃ وزکوٰۃ نہیں جس کو شرع مطہر نے معنی متعارف سے جدا فرماکر اپنی وضع خاص میں کسی نئے معنی کے لئے مقرر کیا ہو ورنہ شارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اس میں نقل ضرور تھی کہ وضع شارع بے بیان شارع معلوم نہیں ہوسکتی اور شک نہیں کہ یہاں شارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اصلاً کوئی نقل ثابت ومنقول نہیں تو ضرور عرف شرع میں دِہ اُنھیں معانی معروفہ متعارفہ پر باقی ہیں اور ان سے پھیر کر کسی دوسرے معنی کے لئے قرار دینا دِہ قرار دہندہ کی اپنی اصطلاح خاص ہوگی جو مناط ومدار احکام ومقصود ومراد شرع نہیں ہوسکتی۔

    (۲؎ القرآن ۱۲/۱۰۹)

    (۳؎ القرآن ۴۳/۳۱)

    (۴؎ القرآن ۴۷/۱۳)

    محقق علی الاطلاق رحمہ اﷲ تعالٰی فتح القدیر میں فرماتے ہیں:واعلم ان من الشارحین من یعبر عن ھذا بتفسیرہ شرعا ویجب ان یراد عرف اھل الشرع وھو معنی الاصطلاح الذی عبرنابہ لاان الشارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نقلہ فانہ لم یثبت وانما تکلم بہ الشارع علی وفق اللغۃ ۱؎۔

    واضح رہے کہ بعض شارحین نے اس تفسیر کو شرعی کہا ہے اور اس سے اہل شرع کا عرف مراد لینا واجب ہے اور اس اصطلاح کایہی معنی ہے جس کے ساتھ ہم نے اسے تعبیر کیا اس کایہ معنی نہیں کہ شارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نقل کیا ہے کیونکہ یہ ثابت نہیں شارع نے اس میں لغت کے مطابق تکلم فرمایا ہے ۔(ت)

    (۱؎ فتح القدیر باب الجمعۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/)

    اور ظاہر کہ معنی متعارف میں شہر و مصر ومدینہ اُسی آبادی کو کہتے ہیں جس میں متعدد کوچے ، محلے متعدد ودائمی بازار ہوتے ہیں ، وہ پرگنہ ہوتا ہے اُس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہیں ، عادۃً اس میں کوئی حاکم مقرر ہوتا ہے کہ فیصلہ مقدمات کرے، اپنی شوکت کے سبب مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکے۔ اور جو بستیاں ایسی نہیں وہ قریہ و دِہ وموضع وگاؤں کہلاتی ہیں، شرعاً بھی یہی معنی متعارفہ مراد ومدار احکام جمعہ وغیرہا ہیں، ولہذا ہمارے امام اعظم وہمام اقدم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے شہر کی یہی تعریف ارشاد فرمائی،

    علامہ ابراہیم حلبی غنیہ شرح منیہ میں فرماتے ہیں :

    فی تحفۃ الفقہاء عن ابی حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ بلدۃ کبیرۃ فیھا سکک واسواق ولھا رساتیق وفیھا وال یقدر علی انصاف المظلوم من الظالم بحشمتہ وعلمہ او علم غیرہ یرجع الناس الیہ فیما تقع من الحوادث وھذا ھو الاصح ۱؎۔

    تحفہ میں امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے شہر وہ ہوگا جو بڑا ہو اس میں سڑکیں ، بازار ، سرائے ہوں وہاں کوئی ایسا والی ہو جو اپنے دبدبہ ، اپنے علم یا غیر کے علم کی وجہ سے ظالم سے مظلوم کو انصاف دلاسکیں، حوادثات میں لوگ اس کی طرف رجوع کریں اور یہی اصح ہے ۔(ت)

    (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ الصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۵۰)
     
  3. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    No 2
    ہاں اتنا ضرور ہے کہ جمعہ اسلامی حکم ہے اس کے لئے اسلامی شہر کا ہو نا ضروری ہے ولہذا دارالحرب میں اصلاً جمعہ نہیں اگر چہ کتنے ہی بڑے امصار عظام کبار ہوں جس میں دس دس لاکھ آدمیوں کی آبادی ہو، نہ اس وجہ سے کہ وہ شرعاً شہر نہیں، اصطلاحِ شرع میں وہ گاؤں ہیں، حاشایہ محض غلط ہے قیامت تک کوئی ثبوت نہیں دے سکتا کہ شرع مطہر نے کفار کے امصار کبار کو مصر و مدینہ سے خارج اور دِہ گاؤں بتایا ہو اس بنا پرکہ وہاں اقامتِ حدود وتنفیذِ احکام شرع نہیں، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی جب بعثت ہوئی مکمہ معظمہ بلکہ تمام دنیا میں جیسا کہ کفر و کا فرین کا تسلط وغلبہ تھا ظاہر وعیاں ہے اور اکثر مرسلین کرام اصحاب شرائع جدیدہ علیہم الصلٰوۃ والسلام ایسے ہی شہروں میں پیدا ہوتے ہیں اور وہیں کے ساکن ہوکر انھیں پر مبعوث ہوتے اب کیا معاذ اﷲ یہ کہا جائے گا کہ شرعاً یہ مرسلین صلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علیہم اجمعین دیہاتی تھے حالانکہ اﷲ عزوجل فرماتا ہے:واما ارسلنا من قبلک الارجالا نوحی الیھم من اھل القری ۲؎۔

    ہم نےتم سے پہلے جتنے رسول بھیجے وہ سب مرد اور شہر ی ہی تہے۔

    (۲؂ القرآن ۱۲/ ۱۰۹)

    ان میں کوئی عورت نہ تھی نہ کو ئی گنوار بھی خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت غلبہ کفار کے سبب مکہ معظمہ سے ہجرت کی ضرورت ہوئی اس وقت بھی قرآن عظیم نے مکہ مکرمہ کو شہر ہی فرمایا

    وکاین من قریۃ ھی اشدقوۃ من قریتک التی اخرجتک اھلکنھم فلا ناصر لھم ۳؎ ۔

    بہتیرےشہرکو تمھارے اس شہر سے جس نے تم کو نکالا زیادہ قوت والے تھے ہم نے ہلاک کردئے تو ان کا کوئی مدد گار نہیں،

    (۳؎ القرآن ۴۷/ ۱۳)

    بلکہ وجہ صرف یہ ہے کہ دارالحرب کے شہر کفر کے شہر ہیں اور اقامت جمعہ کو اسلامیہ شہر درکار ، اسی طرف نظرکرم فرماکر کلام قدماء میں جبکہ اسلام کا دوردورہ تھا اور اسلامی شہر اسلامی احکام کے پابند تھے

    لہ امیر وقاض ینفذ الاحکام ویقیم الحدود

    ( وہاں کوئی امیر یا قاضی ہو جو احکام نافذ اور جاری کر سکے۔ت) واقع ہو اس سے مقصود وہی تھا کہ اسلامی شہر کہ اُس وقت اسلامی شہر ایسے ہی ہوتے تھے، یہ معنی نہ تھے کہ تنفیذ احکام واقامت حدود سنخ حقیقت شہر میں داخل ہے، یہ نہ ہو شہرشرعاً شہر ہی نہ رہے گا گاؤں ہو جائے گا حالانکہ فتنہ بلوائیان مصر میں خاص زمانہ خلافت راشدہ میں چند روز تنفید احکام نہ ہوئی کیا اُس وقت مدینہ طیبہ گاؤں ہوگیا تھا اور اس میں جمعہ پڑھنا حرام باطل ہوا تھا؟ حاشا ہر گز ایسا نہیں ، خودیہی علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ایام فتنہ میں اقامت جمعہ ہوگی اور شہر شہریت سے خارج نہ ہوگا ،

    ولہذا رد المحتار میں ہے :لومات الوالی اولم یحضر الفتنۃ ولم یوجد احد ممن لہ حق اقامۃ الجمعۃ نصب العامۃ لھم خطیبا للضرورۃ کما سیأتی مع انہ لا امیر والا قاضٰ ثمہ اصلا، وبھذا ظھر جھل من یقول لاتصح الجمعۃ فی ایام الفتنۃ مع انھا تصح فی البلاد التی استولی علیہا الکفار کما سنذکرہ فتامل۱؎۔

    اگروالی فوت ہوگیا یا فتنہ کی وجہ سے آنہیں سکتا اور وہاں کوئی ایسا شخص بھی نہ ہو جو جمعہ کی امامت کا حقدار ہے تو پھر ضرورت کی وجہ سے خطیب مقرر کرسکتے ہیں جیسا کہ عنقریب آرہا ہے ،ا س کے ساتھ ساتھ کہ وہاں کبھی قاضی یا امیر نہ ہو، اس سے اس شخص کی جہالت بھی واضح ہوگئی جو کہتاہے کہ فتتہ کے دنوں میں جمعہ صحیح نہیں حالانکہ جمعہ ان شہروں میں درست ہے جن پر کفار کی ولایت ہو جیسا کہ ہم عنقریب بیان کریں گے پس غور کیجئے ۔(ت)

    (۱؎ ردالمحتار باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۹۰)

    اس تعریف میں الفاظ ینفذ ویقیم ( نافذ کرے اور قائم کرے ۔ت) موہم فعلیت تھے جس سے بعض کبراء کو دھوکا ہو جسے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے ارشاد یقدر علی الانصاف ( وہ انصاف پر قادرہو۔ ت)نے زائل کردیا کما بینہ فی الغنیۃ

    وردالمحتار وغیرھما من الاسفار( جیسے کہ یہ بات غنیہ اور ردلمحتار وغیرہ جیسی کتب میں ہے ۔ت) اورحقیقۃ غور کیجئے تو ارشاد امام میں علمہ اوعلم غیرہ ( اپنے یاغیر کے علم کی بناء پر ۔ت )کہ مفید تقیید اسلام والی ہے یہ بھی اُس زمانے کی حالت کے مطابق تھا اس وقت میں اور اس کے بعد صدہا سال تک اس کی نظیر قائم نہ ہوئی تھی کہ شہر دارالاسلام ہو اور حاکم کافر ولہذا نظر بحالت موجودہ اسلامیت شہر واسلام شہریار میں تلازم تھا ان بندگان خدا کے خواب میں بھی یہ خیال نہ گزرتا ہوگا جو آج آنکھوں کے سامنے ہے کہ شہر دارالاسلام اور اس پر کفار حکام ورنہ حقیقۃً صرف اُسی قدر درکا ہے کہ اسلامی شہر ہو اگر چہ والی کافرہی ہو، ولہذا جامع الرموز میں زیر قول ماتنشرط الادئھا المصر والسلطان ( ادائے جمعہ کے لئے شہر اور سلطان کاہونا شرط ہے ۔ت) فرمایا :الاطلاق مشعر بان الاسلام لیس بشرط ۲؎۔اطلاق بتاتاہے کہ اسلام شرط نہیں۔ (ت)

    (۲؎ جامع الرموز فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ /۲۶۳)

    مبسوط ومعراج الدرایہ وجامع الفصولین وہندیہ وردالمحتار وغیرہا میں ہے :فلو الولاۃ کفارا یجوز للمسلمین اقامۃ الجمعۃ ۱؎۔

    اگر چہ والیِ شہر کافرہو مسلمانوں کےلئے جمعہ کا قیام جائز ہے۔(ت)

    (۱؎ ردالمحتار باب الجمعہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۹۵)

    تو آفتاب کی طرح روشن ہوا کہ صرف اسلامی شہر ہونا درکار ہے تنفیذ احکام یا اقامت حدودیا اسلام والی کچھ شرط نہیں اور بحمد اﷲ تعالٰی ہم نے اپنے فتاوٰی میںدلایل قاہرہ سے ثابت کیا ہے کہ تمام ہندوستان سرحد کابل سے منتہائے بنگالہ تک سب دارالاسلام ہے تو یہاں جتنے شہر وقصبات میں (جن کو شہر کہتے ہیں اور وہ نہ ضرور ایسے ہی ہوتے ہیں جن میں متعدد محلے ، متعدد ودائمی بازار ہیں ، وہ پرگنہ ہیں ، ان کے متعلق دیہات ہیں ، اُن میں ضرور کوئی حاکم فصل مقدمات کےلئے مقرر ہوتا ہے جسے ڈگری ڈسمس کا اختیار ہے نہ فقط تھانہ دار کہ وہ کوئی حاکم نہیں صرف حفاظت اور تحقیقات یا چالان کا مختار ہے) وہ ضرور سب اسلامی شہر ہیں اور ان میں جمعہ فرض ہے اور انھیں میں جمعہ صحیح ہے ان کے علاوہ جتنی ابادیاں ہیں گاؤں ہیں اگر چہ مکانات پختہ اور مسلمان ومساجد بکثرت ہوں ان میں نہ جمعہ فرض نہ جائز نہ صحیح، یہ حق تحقیق وتحقیق حق ہے جس سے سرمُوحق متجاوز نہیں، یہ تعریف کہ جس کی سب سے بڑی مسجد میں اس کے سُکّان اہل جمعہ نہ سمائیں اگر بطور تعریف مانی جائے تو صریح باطل ہے جس پر وہ اعتراضاتِ قاہرہ وارد ہیںض جن کا جواب اصلاً ممکن نہیں اور اگرکچھ اور نہ ہو تویہی کیا کم ہے کہ اس تعریف پر خود مکہ معظمہ و مدینہ منورہ گاؤں ٹھرے جاتے ہیں اور ان میں جمعہ معاذ اﷲ حرام وباطل قرار پاتا ہے اکبر مساجدہ ( وہاں کی سب سے بڑی مسجد ۔ت) کو اپنے ظاہر پر رکھیں اور ان میں متعدد مساجد صغیرہ وکبیرہ اور ان سب میں اکبر ہونا شرط کریں جب تو مکہ معظمہ کا شہر نہ ہونا صراحۃً واضح کہ مکہ معظمہ میں سوا مسجد الحرام کے کوئی مسجد صدہاسال تک نہ تھی اور عجب نہیں کہ اب بھی نہ ہو۔

    نورالعین وردالمحتار کتاب الوقف میں ہے :لامسجد فی مکۃ سوی المسجد الحرام ۲؎۔ (مکہ میں مسجد حرام کے علاوہ کوئی مسجد نہیں ۔ت)

    (۲؎ ردالمحتار کتاب الوقف مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۴۲۱ )
     
  4. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    No 3

    اوراگر ایک مسجد پر قناعت کریں اور مجازاً ٹھہرالیں کہ جب یہی ایک مسجد تو یہی اکبر مساجد ہے تو اول تو یہ اکس قدر مقاصد شرع مطہرسے دور مہجور ہے، ایک عظیم اسلامی شہر جس میں لاکھ مسلمان مرد ومقاقل رہتے ہیں اُس میں ایک مسجد فرض کیجئے جس میں لاکھ سے زائد یا صرف لاکھ آدمی آسکیں اور ایک گمنام پہاڑی کی نلی میں بن کے کنارے دو جھونپڑیاں وحشی جنگلیوں کی ہو جن میں آٹھ دس مرد رہتے ہیں اور انھوں نے ایک چبوترہ چند گز کا بنالیا ہے جس میں سات آدمیوں کی گنجائش ہے آگے امام اور پیچھے تین تین آدمیوں کی دوصفیں ، رو لازم ہے کہ وہ شہر عظیم الشان گاؤں ہو اور اس میں جمعہ حرام، اور یہ کوردہ مصر جامع ومدینہ عظیمہ ہو او ر اس میں جمعہ فرض، کیا ارشاد حدیثلاجمعۃ ولاتشریق ولاصلٰوۃ فطر ولااضحی الافی مصر جامع اومدینۃ عظیمۃ ۱؎،

    مصر جامع اور بڑے شہر کے علاوہ کسی جگہ نہ جمعہ ہوسکتا ہے نہ تکبیراتِ تشریق، نہ نمازعیدلفطر اور نہ نماز عیدالاضحی۔ (ت) کا یہی منشا ہے

    (۱؎ مصنف ابن ابی شیبۃ من قال لاجمعہ الخ مطبوعہ ادارہ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲/ ۱۰۱)

    حاشا وکلاّ معہذا ایسا ہو تو دن میں چھ چھ بار مصریت وقرویت پلٹا کھائے، ایک بستی میں سَو اہل جمعہ رہتے ہیں اور اس کی اکبر مساجد میں اتنے آدمیوں کی وسعت ہے تو گاؤں ہے پھر دن چڑھے ان میں ایک لڑکا بالغ ہوا تووہ شہر ہوگیا کہ اب اس مسجد میں وہاں کے اہل جمعہ کی وسعت نہ رہی ، دوپہر کو ایک شخص وہاں سے سکونت چھوڑ کی چلا گیا تو پھر گاؤں ہوگیا اب پھر وسعت ہوگئی پھر دن رہے ایک غلام آزاد ہو ا تو پھر شہر ہوگیا کہ وسعت نہ رہی شام کوا یک شخص مرگیا توپھر گاؤں ہوگیا، عشاء کو ایک مجنون ہوش میں آگیا تو پھر شہر ہوگیا، آدھی رات ایک شخص کی آنکھیں جاتی رہیں توپھر گاؤں کا گاؤں رہا وعلی ہذا القیاس، بلکہ فرض کیجئے کہ ابھی وہ شہر تھا اور جمعہ فرض تھا مسلمان جمعہ کے لئے جمع ہوئے امام خطبہ پڑھ رہاہے کہ خبر آئی فلاں مرگیا اب جمعہ حرام ہو گیا خطبہ بے کار گیا کہ شہر گاؤں ہوگیا ،امام نے خطبہ چھوڑا اور اعلان ہوا کہ بھائیوں ظہر کی نیت باندھو ،تکبیر ہوتی ہی تھی کہ ایک لڑکے نے کہا میری انکھ لگ گئی تھی احتلام ہوگیا، وہ نہانے کوگیا یہاں امام پھر خطبہ کو جائے کہ اب یہ پھر شہر ہے اور پہلا خطبہ کہ بوجہ زوال محلیت بیکار ہوگیا تھا پھر اعادہ کرے ابھی دوسرے خطبہ تک نہ پہنچا تھا کہ خبر آئی فلاں کی آنکھیں جاتی رہیں اب امام پھر اترے اور ظہر کا اعلان دے ، تکبیر ہورہی ہے کہ صف میں سے ایک مسافر نے اُٹھ کر کہا صاحبو! کیوں جمعہ کھوتے ہو میں یہاں چندروز کے لئے آیا تھا مگر اب یہیں کا ساکن ہوگیا امام سے کہئے پھر سہ بارہ خطبے کو جائے، اس الٹ پھیر میں معلوم نہیں کہ عصر کا وقت آنے تک جماعت کہ جمعہ نصیب ہو یا ظہر، یہ سب خوبیاں اس تعریف کی ہیں اور ان سب سے قطع نظر کیجئے تو دونوں بلد کریم مکہ مکرمہ ومدینہ منورہ کی مساجد طیبہ قطعاً وہاں کے اہل جمعہ بلکہ ان سے بدر جہا زائد کی وسعت رکھتی ہیں جیسا کہ بحمد اﷲ تعالٰی آنکھوں سے مشاہدہ ہے تو وہ دونوں شہر کریم معاذ اﷲ گاؤں ہوئے اور ان میں جمعہ حرام ٹھہرا ، اس سے زیادہ شناعت اور کیا ہوگی، اور یہ وسعت آج کی نہیں زمانہ اقدس حضورـسید عالم ـصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں بھی تھی۔ تو معاذاﷲ زمانہ اقدس سے وہ گاؤں ہی تھے او ران میں جمعہ حرام تھا مگر ہوتاتھا ، اب یہ منتہائے شناعت کبرٰی ہے جس سے مافوق متصور نہیں،

    جامع ترمذی شریف میں امیر المومنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم سے مروی ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:رحم اﷲ عثمن زاد فی مسجدنا حتی وسعنا ھذا مختصر اﷲ تعالٰی

    عثمان پر رحمت فرمائے اس نے ہماری مسجد شریف بڑھادی یہاں تک کہ اس میں ہم سب نمازیوں کی وسعت ہوگئی۔ ظاہر ہے کہ سب نمازیوں کی وسعت ہوجانا صرف اہل جمعہ کی وسعت سے کہیں زیادہ ہوگی، تو معاذاﷲ اس تعریف پر حاصل حدیث یہ ہوگا کہ اﷲ تعالٰی عثمان کا بھلا کرے ا س نے ہماری مسجد بڑھا کر مدینہ کو گاؤں کردیا اور اس میں جمعہ حرام ہوگیا،

    لاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم ۔

    طحطاوی علی مراقی الفلاح باب الاستسقاء میں ہے :من ھو مقیم بالمدینۃ لا یبلغ قدر الحاجۃ وعند اجتماع جملتھم یشاھد اتساع المسجد الشریف فی اطرافہ، وانما شدۃ الزحام فی الروضۃ الشریفۃ وماقاربھا للرغبۃ فی زیادۃ الفضل والقرب من المصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کذا فی الشرح ۱؎

    جو مدینہ منورہ میں مقیم ہیں ان کی تعداد جمعہ کے لئے مذکورہ ضرورت کو پورا نہیں کرتی تمام اہل مدینہ کے اجتماع کے باوجود مسجد نبوی شریف کی اطراف کو خالی دیکھا جاتا ہے ، ریاض الجنۃ اور اس کے آس پاس کی جگہ پر لوگوں کا ازدحام اس لئے ہوتا ہے کہ اس سے مصطفٰی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا قرب اور مزید فضل نصیب ہوتا ہے، اسی طرح شرح میں ہے ،(ت)

    (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح با ب الاستسقاء مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۰۱)

    غنیہ میں ہے:الفصل فی ذلک ان مکۃ والمدینۃ مصر ان تقام بھما الجمع من زمنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الی الیوم فکل موضع کان مثل احدھما فھو مصر وکل تفسیر لا یصدق علی احدھما فھو غیر معتبر حتی التعریف الذی اختارہ جماعۃ من المتأ خرین کصاحب المختار روالو قایۃ وغیرھما وھو مالو اجتمع اھلہ فی اکبر مساجدہ لایسعھم فانہ منقوض بھما اذا مسجد کل منھما یسع اھلہ وزیادۃ ۲؎۔

    فیصلہ اس میں یہ ہے کہ مکۃ المکرمہ اور مدینہ طیبہ میں حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ظاہر ی حیات سے لے کرآج تک جمعہ ادا کیا جاتا ہے تو ہر وہ مقام جوان دونوں میں سے کسی ایک کی طرح ہوگا وہ شہر کہلائے گا اور جو تعریف شہر ان دونوں میں سے کسی ایک پر صادق نہ آئے گی وہ غیر معتبر ہوگی حتی کہ وہ تعریف جیسے متاخرین کی ایک جماعت مثلاً صاحب مختار او رصاحب وقایہ وغیرہ نے اختیار کی کہ ( ہر مقام شہر ہوگا)''اگر وہاں کی سب سے بڑی مسجد میں وہاں کے لوگ جمع ہوجائیں او رمسجد میں ان کے لئے گنجائش نہ رہے '' ان دونوں مکہ ومدینہ کی وجہ سے محل اعتراض ہیں کیونکہ ان کی مساجد وہاں کے مقیم بلکہ اس سے زائد لوگوں کی گنجائش رکھتی ہیں ۔(ت)

    (۲؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعہ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۵۰)

    لاجرم علمانے تصریح کی فرمائی کہ یہ تعریف محققین کے نزدیک صحیح نہیں ۔

    ملتقی الابحر میں ہے :وقیل مالواجتمع اھلہ فی اکبر مساجدہ لایسعھم ۱؎۔

    بعض نے شہر کی یہ تعریف ہے کہ وہاں کے تمام لوگ اگر جمع ہوں تو وہاں کی سب سے بڑی مسجد ان کے لئے کافی نہیں۔ (ت)

    (۱؎ ملتقی الابحر باب الجمعۃ مطبوعہ مؤسستہ الرسالہ بیروت ۱/۱۴۳)

    مجمع الانہر میں ہے :انما اورد بصیغۃ التمریض لانھم قالوا ان ھذا الحد غیر صحیح عند المحققین ۲؎۔

    ''قیل'' لایا گیا ہے اس لئے کہ فقہاء نے فرمایا کہ یہ تعریف محققین کے ہاں صحیح نہیں۔ (ت)

    (۲؎ مجمع الانہر شرح ملتقی لابحر باب الجمعۃ مطبوعہ مؤسستہ الرسالہ بیروت ۱ /۱۴۳)
     
    IQBAL HASSAN likes this.
  5. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    No4

    اسی طرح شرح نقایہ وغیرہ میں ہے معہذا معلوم ہے او رخود اس تعریف کے اختیار کرنے والوں کو اقرار ہے کہ وہ روایت نادرہ خلاف ظاہر الروایۃ ہے اور علما تصریح فرماتے ہیں کہ جو کچھ ظاہرا لروایہ کے خلاف ہے وہ ہمارے ائمہ کا قول نہیں وہ سب مرجوع عنہ اور متروک ہے ،

    بحر الرائق میں ہے :ماخرج عن ظاھر الرویۃ فھو مرجوع عنہ والمرجوع عنہ لم یبق قولا لہ ۳؎ ۔ ملخصا

    جو ظاہرالروایہ سے نکل جائے وہ مرجوع عنہ ہے اور مرجوع عنہ امام کا قول نہیں رہے گا ۔ملخصاً (ت)

    (۳؎ بحرالرائق فصل یجوز تقلید من شاء الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۲۷۰)

    فتاوٰی خیریہ میں ہے :صرحوابہ ان ماخرج عن ظاھرالروایۃ لیس مذھبا لابی حنیفۃ ولا قولا لہ ۴؎۔

    فقہا ءنے تصریح کی ہے کہ جو ظاہرالروایہ سے نکل جائے وہ نہ امام صاحب کا مذہب ہوتا ہے اور نہ قول (ت)

    (۴؎ فتاوٰی خیریۃ کتاب الطلاق مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ /۵۲)

    ردالمحتارمیں ہے :ما خلف ظاھر الروایۃ لیس مذھبا لاصحابنا ۵؎۔جو ظاہر الروایہ کے خلاف ہو وہ ہمارے اصحاب ( احناف) کا مذہب نہیں ہوتا ۔(ت)

    (۵؎ ردالمحتار کتاب احیاء الموات مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۷۸)

    تو ظاہر الروایہ مصح معتمد معمول علیہ مختار جمہور مؤید ومنصور کے خلاف ایک روایت نادرہ پر عمل وفتوی کیونکر روا۔

    درمختار میں ہے :الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل و خرق للاجماع ۱؎۔جو قول مرجوح ہو اس پر حکم وفتوی جاری کرنا جہالت اور اجماع کی مخالفت ہے۔ (ت)

    (۱؎ درمختار مقدمۃ الکتاب مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۵)

    ردالمحتار میں ہے:کقول محمد مع وجود قول ابی یوسف اذالم یصحح اویقو وجہہ واولی من ھذا بالبطلان الافتاء بخلاف ظاھر الروایۃ اذالم یصحح والافتاء بالقول الموجوع عنہ ۲؎انتھی ح۔

    جیسا کہ امام ابویوسف کے قول کے موجودگی میں امام محمد کے اس قول پرفتوی جائز نہیں جس کی تصحیح نہ ہوئی ہو یا اس قول کی وجہ قوی نہ ہو اور اس کی نسبت ظاہر روایت کے خلاف فتوٰی دینا اور بھی باطل ہے جبکہ اس خلاف کی تصحیح نہ ہو اور یوں ہی اس قول پرجس سے رجوع کرلیا گیا ہو فتوٰی ناجائز ہے انتہٰی ، ح ۔(ت)

    (۲؎ ردالمحتار مطلب فی حکم التقلید مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۵)

    یہ تحقیق مسئلہ ہے اور بحمد اﷲ اہل انصاف وعلم صاف جانیں گے کہ حق اس سے متجاوز نہیں، ہم نہ اس کے خلاف عمل کرسکتے ہیں نہ زنہار زنہار مذہب ائمہ چھوڑ کر دوسری پر فتوٰی دے سکتے ہیں مگر دربارہ عوام فقیر کا طریق عمل یہ ہے کہ ابتداءً خود انھیں منع نہیں کرتا نہ انھیں نماز سے باز رکھنے کی کوشش پسند رکھتا ہے ایک روایت پر صحت ان کے لئے بس ہے، وہ جس طرح خدا اوررسول کا نامِ پاک لیں غنیمت ہے ، مشاہدہ ہے کہ اس سے روکیے تو وہ وقتی چھوڑ بیٹھتے ہیں، اﷲ عز وجل فرماتا ہے:ارأیت الذی ینھٰی o عبدا اذا اصلٰی ۳؎ o

    کیا تم نے اسے نہیں دیکھا جو منع کرتا ہے بندے کو جب وہ نماز ادا کرتا ہے۔(ت )

    (۳؎ القرآن ۹۶/۱۰)

    سید نا ابوداؤد رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:شیئ خیر من لا شیئ ۴؎۔(کچھ ہونا بالکل نہ ہونے سے بہتر ہے)

    (۴؎ کنز العمال ذیل ادب الصلٰوۃ حدیث ۲۲۵۵۰ مطبوعہ مکتبۃ التراث بیروت ۸ /۲۰۲)

    رواہ عنہ عبدالرزاق فی مصنفہ انہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ مربرجل لایتم رکوعا ولاسجودافقال شیئ خیر من لاشیئ ۱؎۔

    حضرت ابوداؤد رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے امام عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں روایت کیاکہ آپ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو نہ نماز کا رکوع صحیح اداکررہا تھا نہ سجود، تو آپ نے فرمایا: کچھ ہونا بالکل نہ ہونے سے بہتر ہوتا ہے۔(ت)

    (۱؎ کنز العمال بحوالہ عبدالرزاق ذیل الصلٰوۃ حدیث ۲۲۵۵۰ مطبوعہ مکتبۃ التراث ۸/ ۲۰۲)

    امیر المومنین مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم نے ایک شخص کو بعد نماز عید نفل پڑھتے دیکھا حالانکہ بعد عید نفل مکروہ ہیں، کسی نے عرض کیا: یا امیر المومنین ! آپ نہیں منع کرتے ۔ فرمایا:اخاف ان ادخل تحت الوعید قال اﷲ تعالٰی ارأیت الذی ینھی o عبداً اذا صلّٰی o۲؎۔ ذکرہ فی الدرالمختار۔

    میں وعید میں داخل ہونے سے ڈرتا ہوں، اﷲ تعالٰی فرماتاہے: کیاتونے اسے نہیں دیکھا جو منع کرتا ہے بندہ کو جب وہ نماز پڑھے، اسے درمختار میں ذکر کیا گیا۔

    (۲؎ درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۵)

    اُسی سے بحرالرائق میں ہے : (ھذاللخواص) اما العوام فلا یمنعون من تکبیر ولاتنفل اصلا لقلۃ رغبتھم فی الخیرات۳؎۔

    یہ خواص کامعاملہ ہے، باقی عوام کو تکبیرات کہنے اور نوافل پڑھنے سے بالکل منع نہیں کیا کرتے، کیونکہ انھیں نیکیوں کا بہت کم شوق ہوتاہے ۔(ت)

    (۳؎ بحرالرائق باب العیدین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۶۰)

    کتاب التجنیس والمزید پھر بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے:سئل شمس الائمۃ الحلوانی ان کسالی العوام یصلون الفجر عند طلوع الشمس افتز جرھم عن ذلک قال لا لانھم اذامنعوا عن ذلک ترکوھا اصلا واداؤھا مع تجویز اھل الحدیث لھا اولی من ترکھا اصلا ۴؎۔

    شمس الائمہ حلوانی سے سوال ہوا کہ عوام سستی کرتے ہوئے طلوع شمس کے وقت نماز فجر ادا کرتے ہیں کیا ہم انھیں زجرو توبیخ کریں؟ فرمایا: ایسا نہ کرو کیونکہ اگر تم اس سے ان کو روکو گے تو نماز بالکل ترک کردیں گے نمازکا ادا کرلینا چھوڑ دینے سے بہتر ہے اور محدثین اسے جائز بھی سمجھتے ہیں۔ (ت)

    (۴؎ بحرالرائق باب العیدین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۶۰)

    درمختارمیں ہے :لایجوز صلٰوۃ مطلقا مع شروق الاالعوام فلا یمنعون من فعلھا لانھم یترکونھا والاداء الجائز عند البعض اولی من الترک کما فی القنیۃ وغیرھا ۱؎ ۔ ( ملخصاً)

    طلوعِ آفتاب کے وقت کوئی نماز جائز نہیں مگر عوام کو نماز پڑھنے سے فقہا ءنے نہیں روکا ورنہ وہ بالکل ترک کردیں گے، ہر وہ عمل جس کی ادا بعض کے نزدیک جائز ہو اس کا بجا لانا ترک سے بہتر ہے جیسا کہ قنیہ وغیرہ میں ہے ۔(ت)

    (۱؎ درمختار کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۶۱)

    ردالمحتار میں ہے:قولہ فلا یمنعون افادان المستثنی المنع لا الحکم بعدم الصحۃ عند نا قولہ کما فی القنیۃ وعزاہ صاحب المصفی الی الامام حمید الدین عن شیخہ الامام المحبوبی والی شمس الائمۃ الحلوانی وعزاہ فی القنیۃ الی الحلوانی والنسفی ۲؎ ۔(ملخصاً)

    قولہ '' عوام کو منع نہ کیا جائے '' بتلا رہا ہے کہ استثناء ''نہ روکنے کا '' ہے نہ یہ کہ ہمارے نزدیک عدم صحت کا حکم نہیں ہے قولہ '' جیسا کہ قنیہ میں ہے'' صاحب مصفی نے اس کی نسبت امام حمید الدین کی طرف کی ہے ا ورنھوں نے اپنے شیخ امام محبوبی سے بیا ن کیاہے اور اس کی نسبت شمس الائمہ حلوانی کی طرف کی ہے اور قنیہ میں اس کی نسبت حلوانی اور نسفی دونوں کی طرف کی ہے ۔(ت)

    (۲؎ ردالمحتار کتاب 0الصلوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۲۷۳)

    ہاں جب سوال کیا جائے تو جواب میں وہی کہا جائے گا جوا پنا مذہب ہے وﷲ الحمدیہ عوام کالانعام کے لئے ہے البتہ وہ عالم کہلانے والے کہ مذہب امام بلکہ مذہب جملہ ائمہ حنفیہ کو پس پشت ڈالتے تصحیحات جماہیر ائمہ ترجیح وفتوی کو پیٹھ دیتے اور ایک روایت نادرہ مرجوعہ عنہا غیر صحیح کی بنا پر ان جہال کوردہ میں جمعہ قائم کرنے کا فتوی دیتے ہیں یہ ضرور مخالفتِ مذہب کے مرتکب او ران جہلا ءکے گناہ کے ذمہ دار ہیںنسأل اﷲ العفووالعافیۃ( ہم اﷲ تعالٰی سے عفو وعافیت کا سوال کرتے ہیں ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
     
    IQBAL HASSAN likes this.
  6. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management

    [​IMG]
    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●
    ماشا اللہ ۔۔۔۔
    ۔بہت اچھی تحریر ہے اللہ آپ کو خوش ر کھئے
    آمین ثمہ امین۔۔۔
    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●

    [​IMG]
     
    PakArt likes this.
  7. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    Passund kurney ka shukriya Iqbak bhie
     

Share This Page