1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

Tajdeed Emaan Ka Tareeqa Aur Kufriya Asha'ar ( تجدید ایمان کا طریقہ اور کفریہ اشعار)

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by Najam Mirani, Jan 29, 2017.

  1. Najam Mirani

    Najam Mirani Management

    :Aslam Alieykum2eng:
    گانوں کے کچھ کفریہ اشعار
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! یاد رکھئے !فِلمیں ڈِرامے دیکھنا اور گانے باجے سننا حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے ۔افسوس! اب تو فلمی گیت لکھنے اور گانے والے اتنے بے لگام ہو گئے ہیں کہ انہوں نے ربِّ کائنات، خالقِ ارض و سمٰوٰت عَزَّوَجَلَّ پر بھی اعتِراضات شُروع کر دیئے ہیں ۔ اپنی دکانوں اور ہوٹلوں میں گانے بجانے والوں،اپنی بسوں اورکاروں میں فلمی گیت چلانے والوں، شادیوں میں ریکارڈنگ کر کے بستروں پر سسکتے پڑوسی مریضوں اور نیک ہمسا یوں کی آہیں لینے والوں اور بے سوچے سمجھے گانے گُنگُنانے والوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ ذرا سوچئے تو سہی فلمی گانوں میں شیطٰن نے کیا کیا زہرگھول ڈالا ہے ! اور لوگوں کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جہنَّمی اور ناری بنانے کیلئے کس قَدَر عیّاری و مکاّری کے ساتھ سازو آواز کے جادو کا جال بچھا ڈالا ہے۔ میرا دل گھبراتا ہے ، َزبان حیا سے لڑکھڑا تی ہے مگر ہمّت کر کے اُمّتِ مسلمہ کی بہتری کیلئے گانوں میں بو لے جانے والے کچھ کُفریہ اَشعارنُمُونتًا پیش کرتا ہوں :۔
    (۱) سِیپ کا موتی ہے تُو یا آسماں کی دھول ہے
    تُو ہے قدرت کا کرِشمہ یا خُدا کی بھول ہے

    اس شِعر میں مَعاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ اللہ عَزَّوَجَلَّ کو بھولنے والا مانا گیا ہے جو کہ صریح کفر ہے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ بھولنے سے پاک ہے ۔ چُنانچِہ پارہ16 سورہئ طٰہٰ کی آیت نمبر52 میں ارشاد ہوتا ہے: لَایَضِلُّ رَبِّیۡ وَ لَایَنۡسَی ﴿۫۵۲﴾
    تَرْجَمَہ کَنْز ُالايمان:میرا رب (عَزَّوَجَلَّ )نہ بہکے نہ بُھولے ۔ (پ ۱۶ طٰہٰ ۵۲ )
    (2) دل میں ہو تم آنکھوں میں تم بولو تمہیں کیسے چاہوں؟
    پوجا کروں یا سجدہ کروں جیسے کہو ویسے چاہوں؟

    اس میں اپنے مجازی محبوب کی پُوجا کی اجازت مانگی گئی ہے جو کہ کُفْر ہے اور سجدہ کا بھی اِذن طلب کیا ہے، غیرِ خدا کو سجدہ تعظیمی حرام اور سجدہ عبادت کفر ہے۔
    (3) تمہارے سوا کچھ نہ چاہت کریں گے کہ جب تک جئیں گے مَحَبَّت کریں گے
    سزا رب جو دے گا وہ منظور ہو گی بس اب تو تمہاری عبادت کریں گے

    اِس شعر کے مِصرعِ ثانی میں دوصریح کفریات ہیں (۱) اللہُ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب کو ہلکا جانا گیا ہے(۲) غیرِ خدا کی عبادت کے عزم کا اِظہار ہے ۔
    (4) یا رب تُو نے یہ دل توڑا کس موسم میں؟

    اِس مِصرَع میں اللہ تعالیٰ پراعتِراض کا پہلو نُمایاں ہے اس لئے کفر ہے اگر اِعتِراض ہی مقصود تھا توقائل کافِرو مُرتد ہوگیا۔
    (5) کیسے کیسے کو دیا ہے ایسے ویسے کو دیا ہے
    اب تو چَھپَّڑ پھاڑ مولا اپنی جیبیں جھاڑ مولا

    مِصرَعِ ثانی میں'' چھپڑ پھاڑنا اور جیبیں جھاڑنا'' اگرچِہ مُحاوَرتاً بھی بولا جاتا ہے لیکن خدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کی مبارک شان میں سخت ممنوع ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کو اَجسام کی طرح جسم والا ماننا اور اسے جیب والا لباس پہننے والا اِعتِقاد کیا توصریح کفر ہے ۔ ربِّ کائنات عَزَّوَجَلَّ جسم و جسمانیات سے پاک ہے۔
    (6) دنیا بنانے والے کیا تیرے من میں سمائی؟
    تو نے کاہے کو دنیا بنائی؟

    اِس شعر میں اللہ عَزَّوَجَل پر اعتِراض کا پہلونُمایاں ہے اس لئے ِ کفر ہے۔
    (7)حسینوں کو آتے ہیں کیا کیا بہانے
    خدا بھی نہ جانے تو ہم کیسے جانے

    مَعاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ اس شعر کے دوسرے مصرع میں کہا گیا ہے:'' خدا عَزَّوَجَلَّ بھی نہ جانے ''یہ بات صریح کفر ہے۔
    (8) تجھ کو دی صورت پری سی دل نہیں تجھ کو دیا
    ملتا خدا تو پوچھتا یہ ظلم تو نے کیوں کیا؟

    اِس شِعر میں دو صریح کفریات ہیں:اللہ عَزَّوَجَلَّ کومَعاذَ ﷲعَزَّوَجَلَّ ظالم کہا گیا ہے (۲) اللہ عَزَّوَجَلَّ پر اعتِراض کیا گیا ہے۔
    (9) میں پیار کا پجاری مجھے پیار چاہئے
    رب جیسا ہی مجھے سُندَر یار چاہئے

    اس شعرمیں دو کفر یات ہيں (۱)غیرِ خدا کی پوجا یعنی عبادت کا اقرار ہے (۲)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرح کسی اور کا ہونا ممکن مانا گیا ہے۔ قراٰنِ مجید فرقانِ حمید پارہ 25سورہ شوریٰ،آیت نمبر 11میں اللہُ ربُّ العبادعَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے ۔
    لَیۡسَ کَمِثْلِہٖ شَیۡءٌ ۚ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ البَصِیۡرُ ﴿۱۱﴾
    ترجَمہ کنزا لایمان:اس جیسا کوئی نہیں اور وُہی سنتا دیکھتا ہے۔
    صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی بہارِ شریعت میں لکھتے ہیں : ''اللہ ایک ہے کوئی اس کا شریک نہیں نہ ذات میں نہ صِفات میں نہ افعال میں نہ احکام میں نہ اسمائ(یعنی ناموں) میں۔''
    (بہارِ شریعت حصہ اوّل ص۱۷ مکتبۃ المدینہ )

    ایمان برباد ہوگیا
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! یاد رکھئے ! قطعی کفر پر مبنی ایک بھی شعر جس نے دلچسپی کے ساتھ پڑھا ، سنا یا گایا وہ کفر میں جا پڑا اور اسلام سے خارج ہو کر کافرو مُرتد ہو گیا ، اس کے تمام نیک اعمال اَکارت ہو گئے یعنی پچھلی ساری نَمازیں ، روزے ، حج وغیرہ تمام نیکیاں ضائع ہو گئیں ۔ شادی شُد ہ تھا تو نکاح بھی ٹوٹ گیا اگر کسی کامُرید تھا تو بیعت (بَے ۔عَت)بھی ختم ہو گئی ۔ اس پر فرض ہے کہ اس شِعر میں جو کفر ہے اُس سے فوراً توبہ کر ے اور کلمہ پڑھ کر نئے سرے سے مسلمان ہو ۔ مُرید ہونا چاہے تو اب نئے سرے سے کسی بھی جامِعِ شرائط پیر کا مُرید ہو اگر سابِقہ بیوی کو رکھنا چاہے تودوبارہ نئے مہر کے ساتھ اُس سے نکاح کرے ۔
    جس کو یہ شک ہو کہ آیامیں نے اس طرح کا شعر دلچسپی کے ساتھ گایا ،سنایا پڑھا ہے یا نہیں مجھے تو بس یوں ہی فِلمی گانے سننے اور گنگنانے کی عادت ہے توایساشخص بھی اِحتیاطًا توبہ کر کے نئے سرے سے مسلمان ہو جائے ، نیز تجدیدِ بیعت اور تجدیدِ نکاح کر لے کہ اسی میں دونوں جہاں کی بھلائی ہے ۔

    تجدید ایمان کا طریقہ
    اب میں آپ کی خدمت میں نئے سرے سے ایمان لانے کا طریقہ عرض کرتا ہوں ، دیکھئے ! توبہ دل کی تصدیق کے ساتھ ہونی ضَروری ہے صِرف زَبانی توبہ کافی نہیں۔مَثَلاًکسی ایک نے کفر بک دیا اُس کودوسرے نے اس طرح توبہ کروادی کہ اُس کو معلوم تک نہیں ہوا کہ میں نے فُلاں کفر کیا ہے جس سے میں اب توبہ کر رہا ہوں ۔ اس طرح توبہ نہیں ہوسکتی۔ بَہَرحال جس کفر سے توبہ مقصودہے وہ اُسی وقت مقبول ہوگی جبکہ وہ اس کفر کو کفر تسلیم کرتا ہو، دل میں اُس کفر سے نفرت و بیزاری بھی ہو۔ جو کفر سرزد ہوا توبہ میں اُس کا تذکِرہ بھی ہو۔مَثَلًا گانے کے اِس کفریہ مصرعے '' خدا بھی نہ جانے تو ہم کیسے جانے '' سے توبہ کرنا چاہتاہے تو اس طرح کہے:یااللہ عَزَّوَجَلَّ میں نے یہ کفر بک دیا کہ '' خدا بھی نہ جانے'' ميں اس سے بیزار ہوں اوراس کفر سے توبہ کرتا ہوں ۔ لااِلٰہَ اِلَّا اللہُ محمّدٌ رّسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم ۔ اللہ(عَزَّوَجَلَّ ) کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں محمد صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم اللہ(عَزَّوَجَلَّ ) کے رسول ہیں ۔ اس طرح مخصوص کفر سے توبہ بھی ہو گئی اور تجدیدِ ایمان بھی ۔ اگرمَعَاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ کئی کُفرِیّات بکے ہوں اور یاد نہ ہو کہ کیا کیا بکا ہے تویوں کہے:'' یااللہ عَزَّوَجَلَّ! مجھ سے جو جو کُفرِیّات صادِر ہوئے ہیں میں ان سے توبہ کرتا ہوں۔ '' پھر کلمہ پڑھ لے۔( اگر کلمہ شریف کا ترجَمہ معلوم ہے تو زَبان سے ترجَمہ دُہرانے کی حاجت نہیں ) اگریہ معلوم ہی نہیں کہ کفر بکا بھی ہے یا نہیں تب بھی اگراحتیاطاً توبہ کرناچاہے تواسطرح کہے:''یااللہ عَزَّوَجَلَّ مجھ سے اگر کوئی کفرہوگیاہو تومیں اس سے توبہ کرتاہوں''یہ کہنے کے بعدکلمہ پڑھ لیجئے۔
    مَدَ نی مشورہ: روزانہ ہی سونے سے قبل احتیاطی توبہ وتجدیدایما ن کرلیناچاہیئے۔ یاد رکھئے! مَعاذَاللہ عَزَّوَجَل َّجس کا کفر پر خاتِمہ ہوا وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جہنَّم کی آگ میں جلتا اور عذاب پاتا رہے گا ۔

    تجدِید نِکاح کا طریقہ
    تَجدیدِ نِکاح کا معنیٰ ہے : '' نئے مَہر سے نیا نِکاح کرنا''۔ اِس کیلئے لوگوں کو اِکٹھّا کرنا ضَروری نہیں ۔نِکاح نام ہے اِیجاب و قَبول کا ۔ ہاں بوقتِ نِکا ح بطورِ گواہ کم ازکم دو مَرد مسلمان یا ایک مَرد مسلمان اور دو مسلمان عورَتوں کا حاضِرہونا لازِمی ہے ۔خُطبہ نِکاح شرط نہیں بلکہ مُسْتَحَب ہے ۔ خُطبہ یاد نہ ہوتو اَعُوْذُ بِاﷲ اور بِسمِ اﷲشریف کے بعد سورہ فاتِحہ بھی پڑھ سکتے ہیں ۔کم ازکم دس درہم یعنی دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی یا اُس کی رقم مہَر واجِب ہے ۔ مَثَلاً آپ نے پاکستانی 786 روپے اُدھار مہَر کی نیّت کر لی ہے (مگر یہ دیکھ لیجئے کہ مذکورہ چاندی کی قیمت پاکستانی 786 روپے سے زائد تو نہیں) تو ا ب مذکورہ گواہوں کی موجودَگی میں آپ ''اِیجاب'' کیجئے یعنی عورت سے کہیے :'' میں نے پاکستانی 786 روپے مہَر کے بدلے آپ سے نکاح کیا ۔'' عورَت کہے :'' میں نے قَبول کیا ۔'' نکاح ہو گیا ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عورت ہی خُطبہ یا سورہ فاتِحہ پڑھ کر''اِیجاب'' کرے اور مَرد کہے: ''میں نے قَبول کیا '' ، نِکاح ہو گیا ۔ بعدِ نکاح اگر عورت چاہے تو مَہرمُعاف بھی کر سکتی ہے ۔ مگر مَرد بِلاحاجتِ شرعی عورت سے مَہر مُعاف کرنے کا سُوال نہ کرے ۔
    (بحوالہ کتاب گانوں کے 35 کفریہ اشعار ، صفحہ 30-12)
     
    Admin likes this.
  2. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    :Aslam Alieykum2eng:
    نجم بھائی آئی ٹی استاد آج آپنے نے ایک بہت ہی توجہ طلب ڈاک کا اشتراک کیا ہے۔شکریہ
     
    Najam Mirani likes this.

Share This Page