1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

Valentine Day Ka Pus Manzar (ویلنٹائن ڈے کا پس منظر)

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by Najam Mirani, Feb 13, 2017.

  1. Najam Mirani

    Najam Mirani Management

    :Aslam Alieykum2eng:
    ویلنٹائن ڈے کا پس منظر اور اس دن کو منانے کا انداز
    @@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@
    ویلنٹائن ڈے کا تاریخی پس منظر اور اس دن ہونے والی خرافات کو بیان کیا جاتا ہے تاکہ مسلمانوں پر واضح ہو کہ اس گناہوں سے بھر پور دن کی حقیقت کیا ہے چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ایک پادری جس کا نام ویلنٹائن تھا تیسری صدی عیسوی میں رومی بادشاہ کلاڈیس ثانی کے زیرِ حکومت رہتا تھا، کسی نافرمانی کی بناء پر بادشاہ نے پادری کو جیل میں ڈال دیا، پادری اور جیلر کی لڑکی کے مابین عشق ہوگیا حتّٰی کہ لڑکی نے اس عشق میں اپنا مذہب چھوڑ کر پادری کا مذہب نصرانیت قبول کرلیا، اب لڑکی روزانہ ایک سرخ گلاب لیکر پادری سے ملنے آتی تھی، بادشاہ کو جب ان باتوں کا علم ہوا تو اس نے پادری کو پھانسی دینے کا حکم صادر کر دیا، جب پادری کو اس بات کا علم ہوا کہ بادشاہ نے اس کی پھانسی کا حکم دیدیا ہے تو اس نے اپنے آخری لمحات اپنی معشوقہ کے ساتھ گزرنے کا ارادہ کیا اور اس کے لئے ایک کارڈ اس نے اپنی معشوقہ کے نام بھیجا جس پر یہ تحریر تھا ’’مخلص ویلنٹائن کی طرف سے‘‘ بالآخر 14 فروری کو اس پادری کو پھانسی دیدی گئی ا س کے بعد سے ہر 14 فروری کو یہ محبت کا دن اس پادری کے نام ویلنٹائن ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔
    جبکہ اس تہوار کو منانے کا انداز یہ ہوتا ہے کہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے بے پردگی و بے حیائی کیساتھ میل ملاپ، تحفے تحائف کے لین دین سے لیکر فحاشی و عریانی کی ہر قسم کا مظاہرہ کھلے عام یا چوری چھپے جسکا جتنا بس چلتا ہے عام دیکھا سنا جاتا ہے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فیملی پلاننگ کی ادویات عام دنوں کے مقابلے ویلنٹائن ڈے میں کئی گنا زیادہ بکتی ہیں اور خریدنے والوں میں اکثریت نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی ہوتی ہے، گفٹ شاپس اور پھولوں کی دکان پر رش میں اضافہ ہوجاتا ہے اوران اشیاء کو خریدنے والے بھی نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوتی ہیں ۔
    مشرقی اقدار کے حامل ممالک میں کھلی چھوٹ نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان جوڑوں کو محفوظ مقام کی تلاش ہوتی ہے۔ اسی مقصد کے لیے اس دن ہوٹلز کی بکنگ عام دنوں کے مقابلے میں بڑھ جاتی ہے اور بکنگ کرانے والے رنگ رلیاں منانے والے نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوتی ہیں ۔
    شراب کا بے تحاشہ کاروبار ہوتا ہے ساحلِ سمندر پر بے پردگی اور بے حیائی کا ایک نیا سمندر دکھائی دیتا ہے۔
    مغربی ممالک میں جہاں غیر مسلم مادر پدر آزادی کے ساتھ رہتے ہیں اور فحاشی و عریانی اور جنسی بے راہ روی کو وہاں ہر طرح کی قانونی چھوٹ حاصل ہے اس دن کی دَھماچوکڑی سے بعض اوقات وہ بھی پریشان ہوجاتے ہیں اور اس کے خلاف بعض اوقات کہیں کہیں سے دبی دبی صدائے احتجاج بلند ہوتی رہتی ہے جیسا کہ انگلینڈ میں اس کی مخالفت میں احتجاج کیا گیا اور احتجاج کی بنیا دی وجہ یہ بتائی گئی کہ اس دن کی بدولت انگلینڈ کے ایک پرائمری اسکول میں 10 سال کی 39 بچیاں حاملہ ہوئیں ۔ غور کیجئے یہ تو پرائمری اسکول کی دس سالہ بچیوں کے ساتھ سفاکیت کی خبر ہے وہاں کے نوجوانوں لڑکے لڑکیوں کے ناجائز تعلقات اور اس کے نتیجے میں حمل ٹھہرنے اور اسقاطِ حمل کے واقعات کی تعداد پھر کتنی ہوگی اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
    انتہائی دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس دن کو کافروں کی طرح بے حیائی کے ساتھ منانے والے بہت سے مسلمان بھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے عطا کئے ہوئے پاکیزہ احکامات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے کھلم کھلا گناہوں کا ارتکاب کرکے نہ صرف یہ کہ اپنے نامۂ اعمال کی سیاہی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ مسلم معاشرے کی پاکیزگی کو بھی ان بے ہودگیوں سے ناپاک
    وآلودہ کرتے ہیں ۔
    بد نگاہی، بے پردگی، فحاشی عریانی، اجنبی لڑکے لڑکیوں کا میل ملاپ، ہنسی مذاق، اس ناجائز تعلق کو مضبوط رکھنے کے لئے تحائف کا تبادلہ اور آگے زنا اور دواعی ٔزنا تک کی نوبتیں یہ سب وہ باتیں ہیں جو اس روز ِعصیاں زور و شور سے جاری رہتی ہیں اور ان سب شیطانی کاموں کے ناجائز و حرام ہونے میں کسی مسلمان کو ذرہ بھر بھی شبہ نہیں ہوسکتا قرآن کریم کی آیاتِ بَیِّنات اور نبی ِکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے واضح ارشادات سے ان اُمور کی حرمت و مذمت ثابت ہے۔
    مگر چونکہ اس قسم کے سوال سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو دینی نقطۂ نظر سے سمجھایا جائے اور اس دن کی خرافات کے ساتھ اس کومنانے کی شَناعَت و برائی سے انہیں آگاہ کرکے ان کے دلوں میں خوفِ خدا اور شرمِ مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پیدا کی جائے تاکہ وہ ان ناپاکیوں سے تائب ہو کر اپنے افکار و کردار کی اصلاح میں مشغول ہو کر بروزِ قیامت سرخرو ہوں، لہٰذا ترغیب و ترہیب کے لئے چند باتیں دین سے محبت کرنے والے اپنے اسلامی بھائیوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں، خود بھی پڑھیں اور اس اہم فتوے کو جو مضمون کی شکل میں ہے عام کریں تاکہ عَامَّۃُ الْمُسلِمِین کے دین و دنیا کا بھلا ہو۔
    اب ذرا اپنی پاکیزہ شریعت کے احکامات ملاحظہ کیجئے کس طرح بد نگاہی بے حیائی، بے پردگی، اور ہر قسم کی فحاشی وعریانی کی مذمت قرآنِ کریم کی آیات میں بیان ہوئی ہے توجہ کے ساتھ
    پڑھنا سننا اور سمجھنا چونکہ مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے اس لئے اتنی ہمت ضرور کیجئے اور آیات کو اپنے دل میں داخل ہونے کا موقع دیجئے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے چاہا تو توبہ کی توفیق کے ساتھ ساتھ پرہیز گاری کی دولت اور اتباعِ سنت کی توفیق بھی مل جائے گی۔
    شرم و حیاکا درس اور بے حیائی کی مذمت آیاتِ قرآنیہ سے
    (۱)…اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:

    قُلۡ لِّلْمُؤْمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنْ اَبْصَارِہِمْ وَ یَحْفَظُوۡا فُرُوۡجَہُمْ ؕ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَہُمْ ؕ اِنَّ اللہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوۡنَ ﴿۳۰﴾وَ قُلۡ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوۡجَہُنَّ۔۔۔الایۃ
    (پ۱۸،النور:۳۰،۳۱۔)

    ترجمۂکنزالایمان: مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے بے شک اللّٰہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچیرکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں ۔
    سورۂ نور کی اسی اکتیسویں آیت میں یہ بھی ارشاد ہواکہ
    وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیۡنَ مِنۡ زِیۡنَتِہِنَّ
    (پ۱۸،النور:۳۱۔)

    ترجمۂکنزالایمان:اورزمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار۔
    (۲)… سورۃ الاحزاب میں ارشاد ہوا:
    یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیۡتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیۡ فِیۡ قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوۡفًا ﴿ۚ۳۲﴾وَقَرْنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْاُوۡلٰی وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتِیۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ اَطِعْنَ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ
    (پ۲۲،الاحزاب:۳۲،۳۳۔)

    ترجمۂکنزالایمان: اے نبی کی بیبیو تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر اللّٰہ سے ڈرو تو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے۔ ہاں اچھی بات کہو اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔ اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اللّٰہ اور اس کے رسول کا حکم مانو۔
    (۳)…اللّٰہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ملاحظہ کیجئے:
    یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزْوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیۡنَ یُدْنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدْنٓیٰ اَنۡ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیۡنَ ؕ وَکَانَ اللہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵۹﴾
    (پ۲۲،الاحزاب:۵۹۔)

    ترجمۂکنزالایمان:اے نبی اپنی بیبیوں اور صاحبزادیو ں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہےکہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں ۔ اور اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے۔
    (۴)… اس فرمان کو بھی توجہ سے پڑھ لیجئے: وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا
    قَضَی اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اَمْرًا اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ ؕ وَمَنۡ یَّعْصِ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیۡنًا ﴿۳۶﴾ؕ
    (پ۲۲،الاحزاب:۳۶۔)

    ترجمۂکنزالایمان: اور کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اللّٰہ ورسول کچھ حکم فرمادیں تو انھیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار رہے اور جو حکم نہ مانے اللّٰہ اور اسکے رسول کا وہ بے شک صریح گمراہی بہکا۔
    مذکورہ آیاتِ قرآنیہ میں اللّٰہ رَبُّ الْعِزَّت نے مؤمنین مردوں اور عورتوں کو نگاہیں نیچی رکھنے، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا اور پردہ کی اہمیت کس قدر ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ عورتوں کو جاہلیتِ اُولیٰ کی بے پردگی سے منع کیا گیا یہاں تک کہ زیور کی آواز بھی غیر مرد نہ سنے، اس کا لحاظ رکھنے کا فرمایا گیا اور آخری آیت جو ذکر کی گئی اس میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے فیصلہ کے بعد کسی مسلمان مرد و عورت کے لئے اختیار باقی نہیں رہ جاتا اس کا واضح اعلان فرما دیا گیا تو کیا مسلمانوں کو ان احکامات کے آگے سرِ تسلیم خم نہیں کرنا چاہئے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے مسلمان مرد و عورتیں ویلنٹائن ڈے میں ان احکامات کی اعلانیہ کھلم کھلا کافروں کی تقلید میں خلاف ورزیاں کرتے ہیں اللّٰہ تعالیٰ عقل دے، سمجھ دے، احکامِ شریعت کی اتباع میں زندگی بسر کرنے کی توفیق دے ۔
    تم یہ دیکھ کر دھوکا نہ کھاؤ کہ کوئی شخص نافرمانی کا مرتکب ہونے کے باوجود ابھی تک صحیح وسالم ہے اور اسے جلدی سزا نہیں ملتی عقل مند کیلئے مناسب نہیں کہ وہ اپنے نفس پر غرور کرے، اپنے نفس پر غرور کرنے والا اچھا نہیں اگرچہ وہ سلامت رہے کیونکہ عین ممکن ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہارے لئے سزا کو جلدی مقرر کردے جبکہ دوسروں کیلئے نہ کرے، کیونکہ اسے اس سے روکنے والا کوئی نہیں کہ کبھی بہت شنیع وقبیح چیز کے ساتھ جلدی سزا ہوجاتی ہے جیسے دل کا مَسخ ہونا، بارگاہِ حق میں حاضری سے دوری، ہدایت کے بعد گمراہی اور بارگاہِ خداوندی کی طرف متوجہ ہونے کے بعد اعراض کرنا۔

    (…الزواجر عن اقتراف الکبائر ، الباب الثانی فی الکبائر الظاہرۃ ، الکبیرۃ الثالثۃ و الخمسون بعد المائۃ، ۱/۴۴۵)
     
    PakArt likes this.
  2. Akram Naaz

    Akram Naaz BuL..BuL Staff Member

    وعلیکم السلام
    جزاک اللہ
    بہت پیاری معلومات شیئر کی ھے
    آپکا بہت شکریہ..
     
  3. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    :Aslam Alieykum2eng:
    ویلنٹائن ڈے کا پس منظر اور اس دن کو منانے کا انداز
    @@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@
    ویلنٹائن ڈے کا تاریخی پس منظر اور اس دن ہونے والی خرافات کو بیان کیا جاتا ہے تاکہ مسلمانوں پر واضح ہو کہ اس گناہوں سے بھر پور دن کی حقیقت کیا ہے چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ایک پادری جس کا نام ویلنٹائن تھا تیسری صدی عیسوی میں رومی بادشاہ کلاڈیس ثانی کے زیرِ حکومت رہتا تھا، کسی نافرمانی کی بناء پر بادشاہ نے پادری کو جیل میں ڈال دیا، پادری اور جیلر کی لڑکی کے مابین عشق ہوگیا حتّٰی کہ لڑکی نے اس عشق میں اپنا مذہب چھوڑ کر پادری کا مذہب نصرانیت قبول کرلیا، اب لڑکی روزانہ ایک سرخ گلاب لیکر پادری سے ملنے آتی تھی، بادشاہ کو جب ان باتوں کا علم ہوا تو اس نے پادری کو پھانسی دینے کا حکم صادر کر دیا، جب پادری کو اس بات کا علم ہوا کہ بادشاہ نے اس کی پھانسی کا حکم دیدیا ہے تو اس نے اپنے آخری لمحات اپنی معشوقہ کے ساتھ گزرنے کا ارادہ کیا اور اس کے لئے ایک کارڈ اس نے اپنی معشوقہ کے نام بھیجا جس پر یہ تحریر تھا ’’مخلص ویلنٹائن کی طرف سے‘‘ بالآخر 14 فروری کو اس پادری کو پھانسی دیدی گئی ا س کے بعد سے ہر 14 فروری کو یہ محبت کا دن اس پادری کے نام ویلنٹائن ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔
    جبکہ اس تہوار کو منانے کا انداز یہ ہوتا ہے کہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے بے پردگی و بے حیائی کیساتھ میل ملاپ، تحفے تحائف کے لین دین سے لیکر فحاشی و عریانی کی ہر قسم کا مظاہرہ کھلے عام یا چوری چھپے جسکا جتنا بس چلتا ہے عام دیکھا سنا جاتا ہے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فیملی پلاننگ کی ادویات عام دنوں کے مقابلے ویلنٹائن ڈے میں کئی گنا زیادہ بکتی ہیں اور خریدنے والوں میں اکثریت نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی ہوتی ہے، گفٹ شاپس اور پھولوں کی دکان پر رش میں اضافہ ہوجاتا ہے اوران اشیاء کو خریدنے والے بھی نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوتی ہیں ۔
    مشرقی اقدار کے حامل ممالک میں کھلی چھوٹ نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان جوڑوں کو محفوظ مقام کی تلاش ہوتی ہے۔ اسی مقصد کے لیے اس دن ہوٹلز کی بکنگ عام دنوں کے مقابلے میں بڑھ جاتی ہے اور بکنگ کرانے والے رنگ رلیاں منانے والے نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوتی ہیں ۔
    شراب کا بے تحاشہ کاروبار ہوتا ہے ساحلِ سمندر پر بے پردگی اور بے حیائی کا ایک نیا سمندر دکھائی دیتا ہے۔
    مغربی ممالک میں جہاں غیر مسلم مادر پدر آزادی کے ساتھ رہتے ہیں اور فحاشی و عریانی اور جنسی بے راہ روی کو وہاں ہر طرح کی قانونی چھوٹ حاصل ہے اس دن کی دَھماچوکڑی سے بعض اوقات وہ بھی پریشان ہوجاتے ہیں اور اس کے خلاف بعض اوقات کہیں کہیں سے دبی دبی صدائے احتجاج بلند ہوتی رہتی ہے جیسا کہ انگلینڈ میں اس کی مخالفت میں احتجاج کیا گیا اور احتجاج کی بنیا دی وجہ یہ بتائی گئی کہ اس دن کی بدولت انگلینڈ کے ایک پرائمری اسکول میں 10 سال کی 39 بچیاں حاملہ ہوئیں ۔ غور کیجئے یہ تو پرائمری اسکول کی دس سالہ بچیوں کے ساتھ سفاکیت کی خبر ہے وہاں کے نوجوانوں لڑکے لڑکیوں کے ناجائز تعلقات اور اس کے نتیجے میں حمل ٹھہرنے اور اسقاطِ حمل کے واقعات کی تعداد پھر کتنی ہوگی اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
    انتہائی دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس دن کو کافروں کی طرح بے حیائی کے ساتھ منانے والے بہت سے مسلمان بھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے عطا کئے ہوئے پاکیزہ احکامات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے کھلم کھلا گناہوں کا ارتکاب کرکے نہ صرف یہ کہ اپنے نامۂ اعمال کی سیاہی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ مسلم معاشرے کی پاکیزگی کو بھی ان بے ہودگیوں سے ناپاک
    وآلودہ کرتے ہیں ۔
    بد نگاہی، بے پردگی، فحاشی عریانی، اجنبی لڑکے لڑکیوں کا میل ملاپ، ہنسی مذاق، اس ناجائز تعلق کو مضبوط رکھنے کے لئے تحائف کا تبادلہ اور آگے زنا اور دواعی ٔزنا تک کی نوبتیں یہ سب وہ باتیں ہیں جو اس روز ِعصیاں زور و شور سے جاری رہتی ہیں اور ان سب شیطانی کاموں کے ناجائز و حرام ہونے میں کسی مسلمان کو ذرہ بھر بھی شبہ نہیں ہوسکتا قرآن کریم کی آیاتِ بَیِّنات اور نبی ِکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے واضح ارشادات سے ان اُمور کی حرمت و مذمت ثابت ہے۔
    مگر چونکہ اس قسم کے سوال سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو دینی نقطۂ نظر سے سمجھایا جائے اور اس دن کی خرافات کے ساتھ اس کومنانے کی شَناعَت و برائی سے انہیں آگاہ کرکے ان کے دلوں میں خوفِ خدا اور شرمِ مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پیدا کی جائے تاکہ وہ ان ناپاکیوں سے تائب ہو کر اپنے افکار و کردار کی اصلاح میں مشغول ہو کر بروزِ قیامت سرخرو ہوں، لہٰذا ترغیب و ترہیب کے لئے چند باتیں دین سے محبت کرنے والے اپنے اسلامی بھائیوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں، خود بھی پڑھیں اور اس اہم فتوے کو جو مضمون کی شکل میں ہے عام کریں تاکہ عَامَّۃُ الْمُسلِمِین کے دین و دنیا کا بھلا ہو۔
    اب ذرا اپنی پاکیزہ شریعت کے احکامات ملاحظہ کیجئے کس طرح بد نگاہی بے حیائی، بے پردگی، اور ہر قسم کی فحاشی وعریانی کی مذمت قرآنِ کریم کی آیات میں بیان ہوئی ہے توجہ کے ساتھ
    پڑھنا سننا اور سمجھنا چونکہ مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے اس لئے اتنی ہمت ضرور کیجئے اور آیات کو اپنے دل میں داخل ہونے کا موقع دیجئے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے چاہا تو توبہ کی توفیق کے ساتھ ساتھ پرہیز گاری کی دولت اور اتباعِ سنت کی توفیق بھی مل جائے گی۔
    شرم و حیاکا درس اور بے حیائی کی مذمت آیاتِ قرآنیہ سے
    (۱)…اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:

    قُلۡ لِّلْمُؤْمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنْ اَبْصَارِہِمْ وَ یَحْفَظُوۡا فُرُوۡجَہُمْ ؕ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَہُمْ ؕ اِنَّ اللہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوۡنَ ﴿۳۰﴾وَ قُلۡ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوۡجَہُنَّ۔۔۔الایۃ
    (پ۱۸،النور:۳۰،۳۱۔)

    ترجمۂکنزالایمان: مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے بے شک اللّٰہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچیرکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں ۔
    سورۂ نور کی اسی اکتیسویں آیت میں یہ بھی ارشاد ہواکہ
    وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیۡنَ مِنۡ زِیۡنَتِہِنَّ
    (پ۱۸،النور:۳۱۔)

    ترجمۂکنزالایمان:اورزمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار۔
    (۲)… سورۃ الاحزاب میں ارشاد ہوا:
    یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیۡتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیۡ فِیۡ قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوۡفًا ﴿ۚ۳۲﴾وَقَرْنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْاُوۡلٰی وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتِیۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ اَطِعْنَ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ
    (پ۲۲،الاحزاب:۳۲،۳۳۔)

    ترجمۂکنزالایمان: اے نبی کی بیبیو تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر اللّٰہ سے ڈرو تو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے۔ ہاں اچھی بات کہو اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔ اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اللّٰہ اور اس کے رسول کا حکم مانو۔
    (۳)…اللّٰہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ملاحظہ کیجئے:
    یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزْوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیۡنَ یُدْنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدْنٓیٰ اَنۡ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیۡنَ ؕ وَکَانَ اللہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵۹﴾
    (پ۲۲،الاحزاب:۵۹۔)

    ترجمۂکنزالایمان:اے نبی اپنی بیبیوں اور صاحبزادیو ں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہےکہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں ۔ اور اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے۔
    (۴)… اس فرمان کو بھی توجہ سے پڑھ لیجئے: وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا
    قَضَی اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اَمْرًا اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ ؕ وَمَنۡ یَّعْصِ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیۡنًا ﴿۳۶﴾ؕ
    (پ۲۲،الاحزاب:۳۶۔)

    ترجمۂکنزالایمان: اور کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اللّٰہ ورسول کچھ حکم فرمادیں تو انھیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار رہے اور جو حکم نہ مانے اللّٰہ اور اسکے رسول کا وہ بے شک صریح گمراہی بہکا۔
    مذکورہ آیاتِ قرآنیہ میں اللّٰہ رَبُّ الْعِزَّت نے مؤمنین مردوں اور عورتوں کو نگاہیں نیچی رکھنے، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا اور پردہ کی اہمیت کس قدر ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ عورتوں کو جاہلیتِ اُولیٰ کی بے پردگی سے منع کیا گیا یہاں تک کہ زیور کی آواز بھی غیر مرد نہ سنے، اس کا لحاظ رکھنے کا فرمایا گیا اور آخری آیت جو ذکر کی گئی اس میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے فیصلہ کے بعد کسی مسلمان مرد و عورت کے لئے اختیار باقی نہیں رہ جاتا اس کا واضح اعلان فرما دیا گیا تو کیا مسلمانوں کو ان احکامات کے آگے سرِ تسلیم خم نہیں کرنا چاہئے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے مسلمان مرد و عورتیں ویلنٹائن ڈے میں ان احکامات کی اعلانیہ کھلم کھلا کافروں کی تقلید میں خلاف ورزیاں کرتے ہیں اللّٰہ تعالیٰ عقل دے، سمجھ دے، احکامِ شریعت کی اتباع میں زندگی بسر کرنے کی توفیق دے ۔
    تم یہ دیکھ کر دھوکا نہ کھاؤ کہ کوئی شخص نافرمانی کا مرتکب ہونے کے باوجود ابھی تک صحیح وسالم ہے اور اسے جلدی سزا نہیں ملتی عقل مند کیلئے مناسب نہیں کہ وہ اپنے نفس پر غرور کرے، اپنے نفس پر غرور کرنے والا اچھا نہیں اگرچہ وہ سلامت رہے کیونکہ عین ممکن ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہارے لئے سزا کو جلدی مقرر کردے جبکہ دوسروں کیلئے نہ کرے، کیونکہ اسے اس سے روکنے والا کوئی نہیں کہ کبھی بہت شنیع وقبیح چیز کے ساتھ جلدی سزا ہوجاتی ہے جیسے دل کا مَسخ ہونا، بارگاہِ حق میں حاضری سے دوری، ہدایت کے بعد گمراہی اور بارگاہِ خداوندی کی طرف متوجہ ہونے کے بعد اعراض کرنا۔

    (…الزواجر عن اقتراف الکبائر ، الباب الثانی فی الکبائر الظاہرۃ ، الکبیرۃ الثالثۃ و الخمسون بعد المائۃ، ۱/۴۴۵)
    Click to expand...
    :Aslam Alieykum2:
    :BK:
    :BS:
     

Share This Page