1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حج کی ادائیگی کے واجب ہونے کی شرطیں

Discussion in 'Eid-ul-Azha & Hajj' started by IQBAL HASSAN, May 6, 2017.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management

    حج کی ادائیگی کے واجب ہونے کی شرطیں


    جب تک مندرجہ ذیل شرائط نہ پائے جائیں ، حج کی ادئیگی واجب نہیں ہوتی۔
    (۱) بدن کا صحیح وسالم ہونا، لہذا اپاہج، فالج شدہ اور ایسے بوڑھے پر جو سفر کی قدرت نہ رکھتا ہو حج واجب نہیں ہے۔ حوالہ
    وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ (ال عمران:۹۷)، عَنْ أَبِى أُمَامَةَ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ :« مَنْ لَمْ يَحْبِسْهُ مَرَضٌ أَوْ حَاجَةٌ ظَاهِرَةٌ أَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ وَلَمْ يَحُجَّ فَلْيَمُتْ إِنْ شَاءَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا )السنن الكبري للبيهقي باب إِمْكَانِ الْحَجِّ ۸۹۲۲)۔
    (۲) جانے کی رکاوٹوں کا ختم ہونا، لہذا قیدی اور ایسے بادشاہ سے ڈرنے والے پر جو حج سے روکتا ہو، حج کی ادائیگی ضروری نہیں ہے۔ حوالہ
    عَنْ أَبِى أُمَامَةَ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ :« مَنْ لَمْ يَحْبِسْهُ مَرَضٌ أَوْ حَاجَةٌ ظَاهِرَةٌ أَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ وَلَمْ يَحُجَّ فَلْيَمُتْ إِنْ شَاءَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا )السنن الكبري للبيهقي باب إِمْكَانِ الْحَجِّ ۸۹۲۲(

    (۳) راستہ مامون ہو، لہذا اگر راستہ مامون نہ ہو تو حج کی ادائیگی ضروری نہیں ہے۔حوالہ
    عَنْ أَبِى أُمَامَةَ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ :« مَنْ لَمْ يَحْبِسْهُ مَرَضٌ أَوْ حَاجَةٌ ظَاهِرَةٌ أَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ وَلَمْ يَحُجَّ فَلْيَمُتْ إِنْ شَاءَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا )السنن الكبري للبيهقي باب إِمْكَانِ الْحَجِّ ۸۹۲۲(
    بند
    (۴) عورت کے ساتھ شوہر یا اور کوئی محرم ہو، خواہ عورت نوجوان ہو یا بوڑھی ہو، لہذا اگر عورت کے ساتھ شوہر یا کوئی محرم نہ ہو تو حج کرنا واجب نہیں ہے۔حوالہ
    عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُسَافِرْ الْمَرْأَةُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ
    (بخاري بَاب فِي كَمْ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ الخ ۱۰۲۴) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ النَّبِىُّ صلى الله عليه وسلم « أَيْنَ نَزَلْتَ ». قَالَ عَلَى فُلاَنَةٍ . قَالَ « أَغْلَقَتْ عَلَيْكَ بَابَهَا لاَ تَحُجَّنَّ امْرَأَةٌ إِلاَّ وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ » (دار قطني الحج ۲۴۶۷)
    (۵) عورت عدت گزارنے کی حالت میں نہ ہو، لہذا اگر عورت معتدۂ طلاق یا معتدہ موت ہو تو اس پر حج کی ادائیگی ضروری نہیں ہے ۔ حوالہ
    لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ (الطلاق:۱)
     

Share This Page