1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

احرام کے میقات

Discussion in 'Eid-ul-Azha & Hajj' started by IQBAL HASSAN, May 7, 2017.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management

    احرام کے میقات


    میقات:یہ وہ جگہ ہے جہاں باہر سے حج کا ارادہ كركے آنے والوں کیلئے بلااحرام اس جگہ سے آگے بڑھنا جائزنہیں ہوتا۔ حوالہ
    وَالْمُرَاد بِالتَّوْقِيتِ هُنَا التَّحْدِيد وَيُحْتَمَل أَنْ يُرِيد بِهِ تَعْلِيق الْإِحْرَام بِوَقْتِ الْوُصُول إِلَى هَذِهِ الْأَمَاكِن بِالشَّرْطِ الْمُعْتَبَر (عون المعبود بَاب فِي الْمَوَاقِيتِ ۱۳۹/۴)
    احرام کی جگہیں جہت کے مختلف ہونے سے مختلف ہوتی ہیں:چنانچہ اہل یمن اور ہندوستان والوں کا میقات یَلَمْلَمْ ہے، اہل مصر، شام اور مغرب والوں کا میقات جُحْفَۃ ہے، اہل عراق اور پورے مشرق والوں کا میقات ذُوْالْحُلَیْفَۃ ہے، اہل نجد کا میقات قَرْن ہے ، لہذا جو شخص بھی ان مواقع سے حج کے ارادہ سے گذرے یا ان جگہوں کے بالمقابل ہو جائے ا س کیلئے احرام ضروری ہے ، بلااحرام اس کیلئے ان جگہوں سے آگے بڑھنا جائز نہیں ہے۔ اہل مکہ کا میقات خود مکہ ہے چاہے وہ وہاں کے رہنے والے ہوں یا وہ وہاں اقامت پذیر ہوں لہذا وہ حدودحرم سے پہلے پہلے اپنے گھر سے یا جس جگہ سے چاہے احرام باندھ سکتے ہیں۔ حوالہ
    عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ هُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ (بخاري بَاب مُهَلِّ أَهْلِ مَكَّةَ لِلْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ۱۴۲۷)
     

Share This Page