1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

حج کی سنتیں


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'Eid-ul-Azha & Hajj' started by IQBAL HASSAN, May 10, 2017.

Eid-ul-Azha & Hajj"/>May 10, 2017"/>

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65

    حج کی سنتیں


    حج کی بہت سی سنتیں ہیں ، جن میں سے چند یہ ہیں:
    (۱)احرام کے وقت غسل یا وضو کرنا۔ حوالہ
    عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجَرَّدَ لِإِهْلَالِهِ وَاغْتَسَلَ (ترمذي بَاب مَا جَاءَ فِي الِاغْتِسَالِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ ۷۶۰)
    (۲) نئی تہہ بند یا چادر کا پہننا یا سفید اور دھلے ہوئے چادروں کا پہننا۔ حوالہ
    عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا نَادَى فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ مِنْ الثِّيَابِ فَقَالَ لَا يَلْبَسُ السَّرَاوِيلَ وَلَا الْقَمِيصَ وَلَا الْبُرْنُسَ وَلَا الْعِمَامَةَ وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ وَلَا وَرْسٌ وَلْيُحْرِمْ أَحَدُكُمْ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ وَنَعْلَيْنِ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنْ الْعَقِبَيْنِ (مسند احمد مسند عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله عنهما ۴۸۹۹) عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمْ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ (ترمذي بَاب مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ الْأَكْفَانِ ۹۱۵) عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي حَسَّانَ قَال سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ يُحِبُّ الطَّيِّبَ نَظِيفٌ يُحِبُّ النَّظَافَةَ كَرِيمٌ يُحِبُّ الْكَرَمَ جَوَادٌ يُحِبُّ الْجُودَ فَنَظِّفُوا أُرَاهُ قَالَ أَفْنِيَتَكُمْ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ (ترمذي بَاب مَا جَاءَ فِي النَّظَافَةِ ۲۷۲۳)
    (۳) احرام کی نیت کرنے کے بعد دورکعت نماز پڑھنا۔ حوالہ
    وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَعُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ النَّاقَةُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ (مسلم، بَاب التَّلْبِيَةِ وَصِفَتِهَا وَوَقْتِهَا ۲۰۳۱)
    بند
    (۴)کثرت سےتلبیہ کہنا۔ حوالہ
    عَنْ الْفَضْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى بَلَغَ الْجَمْرَةَ (مسلم، بَاب اسْتِحْبَابِ إِدَامَةِ الْحَاجِّ التَّلْبِيَةَ الخ ۲۲۴۶)
    (۵) اہل مکہ کے علاوہ دیگر لوگوں کا طواف قدوم کرنا۔ حوالہ
    عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَتَى الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ مَشَى عَلَى يَمِينِهِ فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا(مسلم، بَاب مَا جَاءَ أَنَّ عَرَفَةَ كُلَّهَا مَوْقِفٌ ۲۱۳۹)
    (۶) مکہ میں ٹہرنے کے زمانے میں بکثرت طواف کرنا۔ حوالہ
    عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ خَمْسِينَ مَرَّةً خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ (ترمذي بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الطَّوَافِ ۷۹۴)
    (۷) اضطباع کرنا:وہ یہ ہے کہ طواف شروع کرنے سے پہلے اپنی چادر کے ایک کنارے کو اپنی داہنی بغل کے نیچے کرلے اور دوسرے کنارے کوا پنے بائیں کاندھے پر ڈال لے۔ حوالہ
    عَنْ يَعْلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ مُضْطَبِعًا وَعَلَيْهِ بُرْدٌ (ترمذي بَاب مَا جَاءَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ مُضْطَبِعًا ۷۸۷) الِاضْطِبَاعُ أَنْ يَحْمِلَ وَسَطَ رِدَائِهِ تَحْتَ الْإِبْطِ الْأَيْمَنِ وَيُلْقِي طَرَفَيْهِ عَلَى كَتِفِهِ الْأَيْسَرِ مِنْ جِهَتَيْ صَدْرِهِ وَظَهْرِهِ (تحفة الاحوذي بَاب مَا جَاءَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ مُضْطَبِعًا ۴۰۳/۲)
    (۸) طواف میں رمل کرنا:رمل کی صورت یہ ہوتی ہے کہ پہلے تین چکروں میں قدموں کو قریب قریب رکھتے ہوئے اور دونوں کاندھوں کو ہلاتے ہوئے چلے۔ حوالہ
    عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَعَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ وَمَشَى أَرْبَعَةً فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ (بخاري بَاب الرَّمَلِ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ۱۵۰۱) الرمل هو أن يمشي في الطواف سريعاً ويهز في مشيته الكتفين، كالمبارز بين الصفين. (التعريفات:۳۶/۱)
    (۹) سعی کرنے میں جلدی کرنا:اس طرح کہ ساتوں چکروں میں سے ہر چکر میں میلین اخضرین کے درمیان تیزی سے چلے۔ حوالہ
    فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتَّى رَأَى الْبَيْتَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَوَحَّدَ اللَّهَ وَكَبَّرَهُ وَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِكَ قَالَ مِثْلَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ نَزَلَ إِلَى الْمَرْوَةِ حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي سَعَى حَتَّى إِذَا صَعِدَتَا مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَفَعَلَ عَلَى الْمَرْوَةِ كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا كَانَ آخِرُ طَوَافِهِ عَلَى الْمَرْوَةِ (مسلم، بَاب حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۲۱۳۷)
    (۱۰) طواف میں ہر چکر کے ختم پر حجر اسود کو چومنا اور اس کا بوسہ لینا۔ حوالہ
    عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَعُ أَنْ يَسْتَلِمَ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ وَالْحَجَرَ فِي كُلِّ طَوْفَةٍ (ابوداود بَاب اسْتِلَامِ الْأَرْكَانِ ۱۶۰۰) عَنْ أَسْلَمَ قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَقَالَ لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ مَا قَبَّلْتُكَ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ فَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ (بخاري بَاب تَقْبِيلِ الْحَجَرِ ۱۵۰۶،۱۵۰۷)
    (۱۱) قربانی کے دنوں میں منیٰ میں رات گزارنا۔ حوالہ
    عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ كُلُّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَالثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ وَيَرْمِي الثَّالِثَةَ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا (ابوداود بَاب فِي رَمْيِ الْجِمَارِ ۱۶۸۳)
    (۱۲) حج افراد کرنے والے کا ہدی دینا۔حوالہ
    ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ بِيَدِهِ ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ (مسلم، بَاب حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۲۱۳۷) ثم يذبح تطوعاً إن أحب لأنه مفرد، ثم يحلق أو يقصر بمقدار الأنملة،(الفقه الاسلامي وادلته كيفية الإفراد: ۵۸۵/۳)ويستحب لمن قصد مكة حاجاً أو معتمراً أن يهدي إليها من بهيمة الأنعام، وينحره ويفرقه، لما روي « أن رسول الله صلّى الله عليه وسلم أهدى مئة بدنة »(الفقه الاسلامي وادلته أنواع الهدي وصفته: ۶۵۳/۳)۔
     
    PakArt likes this.
  2. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

Share This Page