1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا

Discussion in 'Mohsin Naqvi' started by IQBAL HASSAN, May 10, 2017.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management

    ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا

    ********
    ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا
    وہ جدا ہوتے ہوئے کچھ پھول باسی دے گیا

    نوچ کر شاخوں کے تن سے خشک پتوں کا لباس
    زرد موسم بانجھ رت کو بے لباسی دے گیا

    صبح کے تارے مری پہلی دعا تیرے لیے
    تو دل بے صبر کو تسکیں ذرا سی دے گیا

    لوگ ملبوں میں دبے سائے بھی دفنانے لگے
    زلزلہ اہل زمیں کو بد حواسی دے گیا

    تند جھونکے کی رگوں میں گھول کر اپنا دھواں
    اک دیا اندھی ہوا کو خود شناسی دے گیا

    لے گیا محسنؔ وہ مجھ سے ابر بنتا آسماں
    اس کے بدلے میں زمیں صدیوں کی پیاسی دے گیا
     

Share This Page