1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حجِّ قران

Discussion in 'Eid-ul-Azha & Hajj' started by IQBAL HASSAN, May 12, 2017.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators

    حجِّ قران

    قران کی لغوی و اصطلاحی تعریف
    قران کے لغوی معنی:دوچیزوں کو جمع کرنا،
    قران کے اصطلاحی معنی:ميقات سے حج اور عمرہ دونوں كا ايك ساتھ احرام باندھنا حوالہ
    (التعريفات:۵۵/۱)
    بند
    ہمارے یہاں قران تمتع سے افضل ہے ، اور تمتع افراد سے افضل ہے۔ حوالہ
    عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا (بخاري بَاب كَيْفَ تُهِلُّ الْحَائِضُ وَالنُّفَسَاءُ الخ ۱۴۵۴)عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ شَهِدْتُ عُثْمَانَ وَعَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَعُثْمَانُ يَنْهَى عَنْ الْمُتْعَةِ وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُمَا فَلَمَّا رَأَى عَلِيٌّ
    أَهَلَّ بِهِمَا لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ قَالَ مَا كُنْتُ لِأَدَعَ سُنَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ أَحَدٍ (بخاري بَاب التَّمَتُّعِ وَالْإِقْرَانِ وَالْإِفْرَادِ بِالْحَجِّ وَفَسْخِ الْحَجِّ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ ۱۴۶۱) فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ (البقرة:۱۹۶)عن جَابِر بْن عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ حَجَّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ سَاقَ الْبُدْنَ مَعَهُ وَقَدْ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ مُفْرَدًا فَقَالَ لَهُمْ أَحِلُّوا مِنْ إِحْرَامِكُمْ بِطَوَافِ الْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَصِّرُوا ثُمَّ أَقِيمُوا حَلَالًا حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَأَهِلُّوا بِالْحَجِّ وَاجْعَلُوا الَّتِي قَدِمْتُمْ بِهَا مُتْعَةً فَقَالُوا كَيْفَ نَجْعَلُهَا مُتْعَةً وَقَدْ سَمَّيْنَا الْحَجَّ فَقَالَ افْعَلُوا مَا أَمَرْتُكُمْ فَلَوْلَا أَنِّي سُقْتُ الْهَدْيَ لَفَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي أَمَرْتُكُمْ وَلَكِنْ لَا يَحِلُّ مِنِّي حَرَامٌ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَفَعَلُوا (بخاري بَاب التَّمَتُّعِ وَالْإِقْرَانِ وَالْإِفْرَادِ بِالْحَجِّ وَفَسْخِ الْحَجِّ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ ۱۴۶۶) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لَمْ يَحِلُّوا حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ (بخاري بَاب التَّمَتُّعِ وَالْإِقْرَانِ وَالْإِفْرَادِ بِالْحَجِّ وَفَسْخِ الْحَجِّ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ ۱۴۶۰)
    قارن کو اس طرح کے الفاظ کہنا مسنون ہے:اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ أُرِیْدُالْعُمْرَۃَوَالْحَجَّ فَیَسِّرْھُمَالِیْ وَتَقَبَّلْھمامِنِّیْ
    ترجمہ:اے اللہ میں حج اور عمرہ کا ارادہ کرتا ہوں اور دونوں کو میرے لئے آسان فرما۔اور ان دونوں کو مجھ سے قبول فرما۔ پھر تلبیہ کہے۔ حوالہ
    عن أَنَس يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا (مسلم، بَاب إِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَدْيِهِ ۲۱۹۵)
    حج قران کرنے کا طریقہ
    جب قارن مکہ آئے تو عمرہ کے طواف مع سات چکروں سے شروعات کرے صرف پہلے تین چکروں میں رمل کرے، پھر طواف کی دو ركعت نماز پڑھے ، پھر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرے اور میلین اخضرین کے درمیان تیزی سے چلے اور سات چکر پورے کرے ، یہ عمرہ کے افعال ہیں ، پھر اعمال حج کی شروعات کرے ، حج کے لئے طواف قدوم کرے، پھر حج کے اعمال پورے کرے جس طرح اس کی تفصیل گزرچکی ۔ حوالہ
    حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا ثُمَّ نَفَذَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَرَأَ { وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى } فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَكَانَ أَبِي يَقُولُ وَلَا أَعْلَمُهُ ذَكَرَهُ إِلَّا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الرُّكْنِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ الْبَابِ إِلَى الصَّفَا … حَتَّى إِذَا كَانَ آخِرُ طَوَافِهِ عَلَى الْمَرْوَةِ فَقَالَ لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ وَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً الخ (مسلم، بَاب حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۲۱۳۷)

    مسئلہ:جب قربانی کے دن جمرۂ عقبہ کی رمی کرے تو اس کے ذمہ ایک بکری کا یا اونٹ کا ساتواں حصہ ذبح کرنا ضروری ہے، اگر ذبح کے لئے ھدی میسر نہ ہو تو قربانی کے دن سے پہلے تین دن روزہ رکھے اور افعال حج سے فراغت کے بعد سات دن روزہ رکھے، اس کو اختیار ہے چاہے تو مکہ میں ایام تشریق کے بعد روزہ رکھے اور اگر چاہے تو اپنے گھر واپس آنے کے بعد رکھے۔حوالہ
    فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ (البقرة:۱۹۶)
     

Share This Page