1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حجِّ تمتّع

Discussion in 'Eid-ul-Azha & Hajj' started by IQBAL HASSAN, May 12, 2017.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management

    حجِّ تمتّع


    حج تمتع کا طریقہ
    حج تمتع کا طریقہ یہ ہے کہ میقات سے صرف عمرہ کا احرام باندھے ، احرام کی دو رکعت نماز کے بعد یوں کہے:
    اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ أُرِیْدُ الْعُمْرَۃَ فَیَسِّرْھالِیْ وَتَقَبَّلْھَامِنِّیْ
    ترجمہ: اے اللہ میں عمرہ کرنا چاہتا ہوں اس کو میرے لئے آسان فرما اور اس کو میری جانب سے قبول فرما، پھر تلبیہ کہے ، پھر جب مکہ آئے تو عمرہ کا طواف کرے؛ اور اپنے پہلے طواف سے ہی تلبیہ کو ختم کردے؛ پہلے تین چکروں میں رمل کرے پھر طواف کی دورکعت نماز پڑھے ، پھر صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر سعی کرے اور سر کے بال مونڈھوائے یا بالوں کو چھوٹا کرے اور احرام سے حلال ہو جائے ، یہ اس وقت ہے جب کہ ہدی نہ لے گیا ہو، ہاں اگر ہدی لے گیا ہو تو وہ اپنے عمرہ سے حلال نہ ہوگا؛ پھر جب ذوالحجہ کا آٹھواں دن آجائے تو حرم سے حج کا احرام باندھے اور افعال حج کو بجالائے۔حوالہ
    عن جَابِر بْن عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ حَجَّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ سَاقَ الْبُدْنَ مَعَهُ وَقَدْ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ مُفْرَدًا فَقَالَ لَهُمْ أَحِلُّوا مِنْ إِحْرَامِكُمْ بِطَوَافِ الْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَصِّرُوا ثُمَّ أَقِيمُوا حَلَالًا حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَأَهِلُّوا بِالْحَجِّ وَاجْعَلُوا الَّتِي قَدِمْتُمْ بِهَا مُتْعَةً فَقَالُوا كَيْفَ نَجْعَلُهَا مُتْعَةً وَقَدْ سَمَّيْنَا الْحَجَّ فَقَالَ افْعَلُوا مَا أَمَرْتُكُمْ فَلَوْلَا أَنِّي سُقْتُ الْهَدْيَ لَفَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي أَمَرْتُكُمْ وَلَكِنْ لَا يَحِلُّ مِنِّي حَرَامٌ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَفَعَلُوا (بخاري بَاب التَّمَتُّعِ وَالْإِقْرَانِ وَالْإِفْرَادِ بِالْحَجِّ وَفَسْخِ الْحَجِّ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ ۱۴۶۶)
    مسئلہ: جب قربانی کے دن جمرۂ عقبہ کی رمی کرچکے تو اس کو ایک بکری کا ذبح کرنا یا اونٹ کا ساتواں حصہ دینا لازم ہوگا، لہذااگر وہ شخص بکری ذبح نہ کرسکتا ہو تو قربانی سے پہلے تین دن روزہ رکھے اور افعال حج سے فراغت کے بعد سات دن ، اور اگر وہ تین دن روزہ نہ رکھے ، یہاں تک کہ قربانی کا دن آجائے تو اس پر بکری یا اونٹ کا ساتواں حصہ ذبح کرنا ضروری ہوگا، اس کا روزہ رکھنا اور صدقہ کرنا صحیح نہ ہوگا۔حوالہ
    فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ (البقرة:۱۹۶) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ :إذَا لَمْ يَصُمَ الْمُتَمَتِّعُ فَعَلَيْهِ الْهَدْيُ. … عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ :لاَ بُدَّ مِنْ دَمٍ ، وَلَوْ يَبِيعُ ثَوْبَهُ. (مصنف ابن ابي شيبة فِي الْمُتَمَتِّعِ إذَا فَاتَهُ الصَّوْمُ ۵۲۲،۵۲۳/۳)
     

Share This Page