1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حَرم کی جنایت

Discussion in 'Eid-ul-Azha & Hajj' started by IQBAL HASSAN, May 12, 2017.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators


    حَرم کی جنایت


    حرم کی جنایت یہ ہے کہ حرم کے کسی شکار کو قتل کردے، یا اس کی طرف اشارہ کرے، یا اس کی رہنمائی کرے، یا کوئی حرم کے درخت ، یا اس کی گھاس کو کاٹے یا اکھاڑے تو یہ حرم کی جنایت ہے خواہ اس کا مرتکب مُحْرِمْ ہو یا حلال ہو، ان دونوں میں سے ہر ایک پر جزاء ہے۔ حوالہ
    عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ(ترمذي بَاب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ ۷۷۵) عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللَّهُ لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا (بخاري بَاب فَضْلِ الْحَرَمِ الخ۱۴۸۴)۔
    مسئلہ: اگر کسی نے حرم کے وحشی جانور کا شکار کیا اور اس کو ذبح کیا تو اس کا کھانا جائز نہیں ، اس کو مردار شمار کیا جائے گاخواہ اس کو محرم نے شکار کیا ہو یا حلال نے کیا ہو۔ حوالہ
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ(المائدة: ۹۵)وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا (المائدة: ۹۶) عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللَّهُ لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا (بخاري بَاب فَضْلِ الْحَرَمِ الخ۱۴۸۴)مذکورہ نصوص کی وجہ سے حرم میں محرم وحلال کے شکار اور ذبیحہ کو فقہاء کرام نے مردار قرار دیا اور مردار کا کھانا جائز نہیں۔ وَهَذَا يَتَنَاوَلُ صَيْدَ الْإِحْرَامِ وَالْحَرَمِ جَمِيعًا ؛ لِأَنَّهُ يُقَالُ أَحْرَمَ إذَا دَخَلَ فِي الْإِحْرَامِ ، وَأَحْرَمَ إذَا دَخَلَ فِي الْحَرَمِ (بدائع الصنائع فصل مَحْظُورَاتُ الْحَرَمِ منها الحرم: ۲۰۹/۵)( قَوْلُهُ : وَلَوْ ذَبَحَ مُحْرِمٌ صَيْدًا حَرُمَ ) أَيْ فَهُوَ مَيْتَةٌ ؛ لِأَنَّ الذَّكَاةَ فِعْلٌ مَشْرُوعٌ ، وَهَذَا فِعْلٌ حَرَامٌ فَلَا يَكُونُ ذَكَاةً كَذَبِيحَةِ الْمَجُوسِيِّ فَأَفَادَ أَنَّهُ يَحْرُمُ عَلَى الْمُحْرِمِ وَالْحَلَالِ ، وَأَشَارَ إلَى أَنَّ الْحَلَالَ لَوْ ذَبَحَ صَيْدَ الْحَرَمِ فَإِنَّهُ يَكُونُ مَيْتَةً أَيْضًا كَمَا فِي غَايَةِ الْبَيَانِ (البحر الرائق فَصْلٌ إنْ قَتَلَ مُحْرِمٌ صَيْدًا أَوْ دَلَّ عَلَيْهِ مَنْ قَتَلَهُ: ۲۷۷/۷)وَفِي اللُّبَابِ : إذَا ذَبَحَ مُحْرِمٌ أَوْ حَلَالٌ فِي الْحَرَمِ صَيْدًا فَذَبِيحَتُهُ مَيْتَةٌ عِنْدَنَا لَا يَحِلُّ أَكْلُهَا لَهُ وَلَا لِغَيْرِهِ مِنْ مُحْرَمٍ أَوْ حَلَالٍ سَوَاءٌ اصْطَادَهُ هُوَ أَيْ ذَابِحُهُ أَوْ غَيْرُهُ مُحْرِمٌ أَوْ حَلَالٌ وَلَوْ فِي الْحِلِّ ، فَلَوْ أَكَلَ الْمُحْرِمُ الذَّابِحُ مِنْهُ شَيْئًا قَبْلَ أَدَاءِ الضَّمَانِ أَوْ بَعْدَهُ فَعَلَيْهِ قِيمَةُ مَا أَكَلَ ، وَلَوْ أَكَلَ مِنْهُ غَيْرُ الذَّابِحِ فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ ، وَلَوْ أَكَلَ الْحَلَالُ مِمَّا ذَبَحَهُ فِي الْحَرَمِ بَعْدَ الضَّمَانِ لَا شَيْءَ عَلَيْهِ لِلْأَكْلِ ، وَلَوْ اصْطَادَ حَلَالٌ فَذَبَحَ لَهُ مُحْرِمٌ أَوْ اصْطَادَ مُحْرِمٌ فَذَبَحَ لَهُ حَلَالٌ فَهُوَ مَيْتَةٌ .ا هـ .وَقَالَ شَارِحُهُ الْقَارِي : اعْلَمْ أَنَّهُ صَرَّحَ غَيْرُ وَاحِدٍ كَصَاحِبِ الْإِيضَاحِ وَالْبَحْرِ الزَّاخِرِ وَالْبَدَائِعِ وَغَيْرِهِمْ بِأَنَّ ذَبْحَ الْحَلَالِ صَيْدَ الْحَرَمِ يَجْعَلُهُ مَيْتَةً لَا يَحِلُّ أَكْلُهُ وَإِنْ أَدَّى جَزَاءَهُ مِنْ غَيْرِ تَعَرُّضٍ لِخِلَافٍ .وَذَكَرَ قَاضِي خَانْ أَنَّهُ يُكْرَهُ أَكْلُهُ تَنْزِيهًا .وَفِي اخْتِلَافِ الْمَسَائِلِ : اخْتَلَفُوا فِيمَا إذَا ذَبَحَ الْحَلَالُ صَيْدًا فِي الْحَرَمِ ؛ فَقَالَ مَالِكٌ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ : لَا يَحِلُّ أَكْلُهُ .وَاخْتَلَفَ أَصْحَابُ أَبِي حَنِيفَةَ ؛ فَقَالَ الْكَرْخِيُّ : هُوَ مَيْتَةٌ ، وَقَالَ غَيْرُهُ هُوَ مُبَاحٌ .(رد المحتار بَابُ الْجِنَايَاتِ: ۴۸۶/۸)۔
    مسئلہ:جب حلال شخص حرم کے جانور کا شکار کرے تو اس کے ذمہ اس کی قیمت لازم ہوگی جسے وہ فقراء پر صدقہ کردے گا ، روزہ قیمت کے قائم مقام نہیں ہوسکتا حوالہ۔
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي بَيْضِ النَّعَامِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ ثَمَنُهُ(ابن ماجه بَاب جَزَاءِ الصَّيْدِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ۳۰۷۷ (

    مسئلہ:اگر کوئی حرم کے درخت یا اس کے گھاس کو اکھاڑے تو اس کے ذمہ قیمت کی ادائیگی ضروری ہوگی ، خواہ وہ کاٹنے والا محرم ہو یا حلال ہو، ہاں ! اگرحرم کی گھاس خیمہ کھڑا کرنے یا چولہا کھودنے کے لئے کاٹے تو یہ جائز ہے ؛ اس لئے کہ اس سے بچنا ممکن نہیں ہے۔ حوالہ
    عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ يَوْمَ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ إِنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنْ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرًا (بخاري بَاب مَنْزِلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ ۳۹۵۷) عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَرَّمَ اللَّهُ مَكَّةَ فَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَا لِأَحَدٍ بَعْدِي أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُعَرِّفٍ فَقَالَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَّا الْإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنَا فَقَالَ إِلَّا الْإِذْخِرَ (بخاري بَاب الْإِذْخِرِ وَالْحَشِيشِ فِي الْقَبْرِ ۱۲۶۲) الضرورات تبيح المحضورات (القوائد والظوابط الفقهية المتضمنة ۵۰/۱) فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ (المائدة:۹۵)۔

     
  2. Akram Naaz

    Akram Naaz BuL..BuL Staff Member

    جزاک اللہ
    بہت پیاری معلومات شیئر کی ہے
    بہت شکریہ
     

Share This Page