1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

احرام کی جنایت

Discussion in 'Eid-ul-Azha & Hajj' started by IQBAL HASSAN, May 12, 2017.

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 83/98


    احرام کی جنایت



    احرام کی جنایت یہ ہے کہ محرم احرام کی حالت میں ممنوعات حج میں سے کسی ممنوع چیز کا ارتکاب کرے ، یاحج کے واجبات میں سے کسی واجب کو چھوڑدے۔
    احرام کی جنایت کی چھ قسمیں ہیں:
    (۱) وہ جنایت ہے جس کے ارتکاب کرنے سے حج فاسد ہوتا ہے
    اور دم دینے یا روزہ رکھنے یا صدقہ کرنے سے اس کی تلافی نہیں ہوسکتی ، وہ وقوف عرفہ سے پہلے جماع کرنا۔ لہذا جس شخص نے وقوف عرفہ سے پہلے جماع کیا اس کا حج فاسد ہوگیا، اس کے ذمہ بکری کا ذبح کرنا ہے اور اس پر آئندہ سال اس حج کی قضاء لازم ہے۔حوالہ
    عن يزيد بن نعيم أو زيد بن نعيم شك أبو توبة أن ، رجلا ، من جذام جامع امرأته وهما محرمان ، فسأل الرجل رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال :لهما :« اقضيا نسككما واهديا هديا (مراسيل ابي داود باب في الحج ۱۲۹)
    (۲) وہ جنایت جس کے ارتکاب کرنے سے بَدَنہ واجب ہوتا ہے اور وہ دو ہیں۔
    (الف) وقوف عرفہ کے بعد سر کے بال مونڈھوانے سے پہلے جماع کرنا۔ جس شخص نے وقوف عرفہ کے بعد سر کے بال مونڈھوانے سے پہلے جماع کیا اس پر ایک اونٹ یا ایک گائے کا ذبح کرنا واجب ہے۔حوالہ
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ وَقَعَ بِأَهْلِهِ وَهُوَ بِمِنًى قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْحَرَ بَدَنَةً (موطا مالك بَاب هَدْيِ مَنْ أَصَابَ أَهْلَهُ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ ۷۶۴) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِذَا جَامَعَ فَعَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بَدَنَةٌ (السنن الكبري للبيهقي باب مَا يُفْسِدُ الْحَجَّ: ۱۰۰۶۸)۔
    (ب) جنابت کی حالت میں طواف زیارت کرنا۔حوالہ
    عن عَائِشَةَ تَقُولُ خَرَجْنَا لَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي قَالَ مَا لَكِ أَنُفِسْتِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ (بخاري بَاب كَيْفَ كَانَ بَدْءُ الْحَيْضِ الخ ۲۸۵) ولكن إن طاف محدثا فعليه شاة وإن طاف جنبا فعليه بدنة (عمدة القري شرح صحيح البخاري ۳۲۵/۱۴)وَإِنْ كَانَ جُنُبًا فَعَلَيْهِ بَدَنَةٌ ؛ لِأَنَّ الْحَدَثَ يُوجِبُ نُقْصَانًا يَسِيرًا فَتَكْفِيهِ الشَّاةُ لِجَبْرِهِ كَمَا لَوْ تَرَكَ شَوْطًا فَأَمَّا الْجَنَابَةُ فَإِنَّهَا تُوجِبُ نُقْصَانًا مُتَفَاحِشًا ؛ لِأَنَّهَا أَكْبَرُ الْحَدَثَيْنِ فَيَجِبُ لَهَا أَعْظَمُ الْجَابِرَيْنِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ الْبَدَنَةُ : " تَجِبُ فِي الْحَجِّ فِي مَوْضِعَيْنِ أَحَدُهُمَا : إذَا طَافَ جُنُبًا ، وَالثَّانِي إذَا جَامَعَ بَعْدَ الْوُقُوفِ (بدائع الصنائع فَصْلٌ شَرْطُ وَوَاجِبَاتُ طواف الزيارة: ۳۸۶/۴)۔
    (۳) وہ جنایت جس کے ارتکاب کرنے سے دم واجب ہوتا ہے اور وہ چند چیزیں ہیں:
    (الف) جب جماع کے اسباب میں سے کسی سبب کا ارتکاب کرے، جیسے بوس و کنار کرنا اور شہوت سے چھولینا۔ حوالہ
    عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ :قبَّلْتُ امْرَأَتِي بَعْدَ مَا رَمَيْتُ الْجَمْرَةَ فَسَأَلْتُ عَطَاءً ؟ فَأَمَرَنِي أَنْ أَذْبَحَ شَاةً. (مصنف ابن ابي شيبة فِي الرَّجُلِ إذَا رَمَى الْجَمْرَةَ ، مَا يَحِلُّ عَلَيْه ۶۵۲/۳)
    (ب) جب مردايك دن بغیر کسی عذر کے سلا ہو اکپڑا پہنے، اور عورت جو چاہے پہن سکتی ہے لیکن وہ اپنے چہرے کو کسی ایسی چیز سے جو مسلسل چہرے کے ساتھ چپکارہے چھپا نہیں سکتی۔ حوالہ
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنْ الثِّيَابِ فِي الْإِحْرَامِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا الْبَرَانِسَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْ أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ وَلَا الْوَرْسُ وَلَا تَنْتَقِبْ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ (بخاري بَاب مَا يُنْهَى مِنْ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ وَالْمُحْرِمَةِ الخ ۱۷۰۷) وَبَيَانُ هَذِهِ الْجُمْلَةِ إذَا لَبِسَ الْمَخِيطَ : مِنْ قَمِيصٍ ، أَوْ جُبَّةٍ ، أَوْ سَرَاوِيلَ ، أَوْ عِمَامَةٍ ، أَوْ قَلَنْسُوَةٍ أَوْ خُفَّيْنِ ، أَوْ جَوْرَبَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ وَضَرُورَةٍ يَوْمًا كَامِلًا . فَعَلَيْهِ الدَّمُ لَا يَجُوزُ غَيْرُهُ ؛ لِأَنَّ لُبْسَ أَحَدِ هَذِهِ الْأَشْيَاءِ يَوْمًا كَامِلًا ارْتِفَاقٌ كَامِلٌ فَيُوجِبُ كَفَّارَةً كَامِلَةً وَهِيَ : الدَّمُ لَا يَجُوزُ غَيْرُهُ ؛ لِأَنَّهُ فَعَلَهُ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ (بدائع الصنائع فصل محظورات الاحرام: ۱۱۵/۵)۔
    (ج) جب اپنے سر یا اپنی داڑھی کے بال بغیر کسی عذر کے کٹوادے۔ حوالہ
    وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ (البقرة:۱۹۶) فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ (البقرة:۱۹۶)
    (د) جب محرم مکمل ایک دن اپنے چہرے کو ڈھکارہے۔ حوالہ
    عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا أَوْقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ وَلَا وَجْهَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا (مسلم، بَاب مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ ۲۰۹۵) وَبَيَانُ هَذِهِ الْجُمْلَةِ إذَا لَبِسَ الْمَخِيطَ : مِنْ قَمِيصٍ ، أَوْ جُبَّةٍ ، أَوْ سَرَاوِيلَ ، أَوْ عِمَامَةٍ ، أَوْ قَلَنْسُوَةٍ أَوْ خُفَّيْنِ ، أَوْ جَوْرَبَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ وَضَرُورَةٍ يَوْمًا كَامِلًا . فَعَلَيْهِ الدَّمُ لَا يَجُوزُ غَيْرُهُ ؛ لِأَنَّ لُبْسَ أَحَدِ هَذِهِ الْأَشْيَاءِ يَوْمًا كَامِلًا ارْتِفَاقٌ كَامِلٌ فَيُوجِبُ كَفَّارَةً كَامِلَةً وَهِيَ : الدَّمُ لَا يَجُوزُ غَيْرُهُ ؛ لِأَنَّهُ فَعَلَهُ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ … وَكَذَا لَوْ غَطَّى رُبْعَ رَأْسِهِ يَوْمًا فَصَاعِدًا فَعَلَيْهِ دَمٌ ، وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ الرُّبْعِ فَعَلَيْهِ صَدَقَةٌ (بدائع الصنائع ۱۱۶/۵)۔
    (ہ) جب محرم بغیر کسی عذر کے اپنی اعضاء میں سے کسی بڑے عضو کو کسی بھی قسم کی خوشبولگائے جیسے:ران، پنڈلی، ہاتھ ، چہرے اور سر، اسی طرح جب مکمل ایک دن خوشبودار کپڑے پہننے۔حوالہ
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنْ الثِّيَابِ فِي الْإِحْرَامِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا الْبَرَانِسَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْ أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ وَلَا الْوَرْسُ وَلَا تَنْتَقِبْ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ (بخاري بَاب مَا يُنْهَى مِنْ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ وَالْمُحْرِمَةِ الخ ۱۷۰۷) مذکورہ حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حالتِ احرام کی کچھ ممنوعہ چیزوں کوبتلایا جس میں زعفران اور الورس کے ذریعہ خوشبودار اشیاء کے استعمال سے بھی منع فرمایا، اس کے علاوہ اور بھی احادیث کے پیش نظر فقہاء کرام نے خوشبو یاخوشبو دار اشیاء کے استعمال کوحالتِ احرام میں ناجائز قرار دیا۔عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ رَجُلًا وَقَصَهُ بَعِيرُهُ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا(بخاري بَاب كَيْفَ يُكَفَّنُ الْمُحْرِمُ ۱۱۸۸) فَإِنْ طَيَّبَ عُضْوًا كَامِلًا :كَالرَّأْسِ ، وَالْفَخِذِ ، وَالسَّاقِ وَنَحْوِ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ دَمٌ ، وَإِنْ طَيَّبَ أَقَلَّ مِنْ عُضْوٍ فَعَلَيْهِ صَدَقَةٌ .(بدائع الصنائع فصل تطيب المحرم ۱۲۷/۵)۔

    (و) جب ایک ہاتھ یا پیر کے ناخن کاٹے۔حوالہ
    ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ (الحج:۲۹) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، قَالَ : التَّفَثُ : حَلْقُ الْعَانَةِ , وَنَتْف الإِبْطِ , وَالأَخْذُ مِنَ الشَّارِبِ , وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ(مصنف ابن ابي شيبة فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : {لِيَقْضُوا تَفَثَهُمْ}: ۸۴/۴) وَأَمَّا قَلْمُ الظُّفْرِ فَنَقُولُ : لَا يَجُوزُ لِلْمُحْرِمِ قَلْمُ أَظْفَارِهِ لِقَوْلِهِ تَعَالَى { ثُمَّ لِيَقْضُوا تَفَثَهُمْ } وَقَلْمُ الْأَظْفَارِ مِنْ قَضَاءِ التَّفَثِ ، رَتَّبَ اللَّهُ تَعَالَى قَضَاءَ التَّفَثِ عَلَى الذَّبْحِ ؛ لِأَنَّهُ ذَكَرَهُ بِكَلِمَةٍ مَوْضُوعَةٍ لِلتَّرْتِيبِ مَعَ التَّرَاخِي بِقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : { لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ ثُمَّ لِيَقْضُوا تَفَثَهُمْ } ، فَلَا يَجُوزُ الذَّبْحُ ؛ وَلِأَنَّهُ ارْتِفَاقٌ بِمَرَافِقِ الْمُقِيمِينَ ، وَالْمُحْرِمُ مَمْنُوعٌ عَنْ ذَلِكَ ؛ وَلِأَنَّهُ نَوْعُ نَبَاتٍ اسْتَفَادَ الْأَمْنَ بِسَبَبِ الْإِحْرَامِ فَيَحْرُمُ التَّعَرُّضُ لَهُ كَالنَّوْعِ الْآخَرِ ، وَهُوَ النَّبَاتُ الَّذِي اسْتَفَادَ الْأَمْنَ بِسَبَبِ الْحَرَمِ فَإِنْ قَلَمَ أَظَافِيرَ يَدٍ أَوْ رِجْلٍ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ وَضَرُورَةٍ فَعَلَيْهِ دَمٌ ؛ لِأَنَّهُ ارْتِفَاقٌ كَامِلٌ فَتَكَامَلَتْ الْجِنَايَةُ فَتَجِبُ كَفَّارَةٌ كَامِلَةٌ . (بدائع الصنائع ۱۵۹/۵)۔
    (ز)جب طواف صدر کو چھوڑدے۔ حوالہ
    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ « مَنْ نَسِىَ شَيْئًا مِنْ نُسُكِهِ أَوْ تَرَكَهُ فَلْيُهْرِقْ دَمًا » (دار قطني الحج ۲۵۶۵)

    (۴)وہ جنایت جس کے ارتکاب کرنے سے صدقہ واجب ہوتا ہے۔
    اس جنایت کے صدقہ کی مقدار گیہوں میں سے آدھا صاع یا اس کی قیمت ہے، وہ جنایتیں بھی اسی طرح چند چیزیں ہیں۔
    (الف) جب محرم سر کے چوتھائی سے کم یا داڑھی کے چوتھائی سے کم کا حلق کرے۔ حوالہ
    وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ (البقرة:۱۹۶) فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ (البقرة:۱۹۶) وَأَمَّا الْكَلَامُ بَيْنَ أَصْحَابِنَا فَمَبْنِيٌّ عَلَى أَنَّ حَلْقَ الْكَثِيرِ يُوجِبُ الدَّمَ ، وَالْقَلِيلِ يُوجِبُ الصَّدَقَةَ ، وَاخْتَلَفُوا فِي الْحَدِّ الْفَاصِلِ بَيْنَ الْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ ، فَجَعَلَ أَبُو حَنِيفَةَ مَا دُونَ الرُّبُعِ قَلِيلًا ، وَالرُّبُعَ وَمَا فَوْقَهُ كَثِيرًا (بدائع الصنائع ۱۵۱/۵)
    (ب)جب ایک ناخن یا دو ناخن کاٹے ، ہر ناخن کی طرف سے آدھا صاع۔حوالہ
    ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ (الحج:۲۹) وَإِنْ قَلَّمَ أَقَلَّ مِنْ يَدٍ أَوْ رِجْلٍ فَعَلَيْهِ صَدَقَةٌ لِكُلِّ ظُفْرٍ نِصْفُ صَاعٍ وَهَذَا قَوْلُ أَصْحَابِنَا الثَّلَاثَةِ … فَإِنْ قَلَمَ خَمْسَةَ أَظَافِيرَ مِنْ الْأَعْضَاءِ الْأَرْبَعَةِ مُتَفَرِّقَةَ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ فَعَلَيْهِ صَدَقَةٌ ، لِكُلِّ ظُفْرٍ نِصْفُ صَاعٍ (بدائع الصنائع ۱۵۹/۵)
    (ج)جب ایک عضو سے کم كو خوشبو لگائے۔ حوالہ
    عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ رَجُلًا وَقَصَهُ بَعِيرُهُ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا(بخاري بَاب كَيْفَ يُكَفَّنُ الْمُحْرِمُ ۱۱۸۸) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنْ الثِّيَابِ فِي الْإِحْرَامِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا الْبَرَانِسَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْ أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ وَلَا الْوَرْسُ وَلَا تَنْتَقِبْ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ (بخاري بَاب مَا يُنْهَى مِنْ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ وَالْمُحْرِمَةِ الخ ۱۷۰۷) فَإِنْ طَيَّبَ عُضْوًا كَامِلًا :كَالرَّأْسِ ، وَالْفَخِذِ ، وَالسَّاقِ وَنَحْوِ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ دَمٌ ، وَإِنْ طَيَّبَ أَقَلَّ مِنْ عُضْوٍ فَعَلَيْهِ صَدَقَةٌ .(بدائع الصنائع فصل تطيب المحرم ۱۲۷/۵ (

    (د) جب ایک دن سے کم سلا ہوا یا خوشبولگایا ہوا کپڑا پہنے۔ حوالہ
    عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ رَجُلًا وَقَصَهُ بَعِيرُهُ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا(بخاري بَاب كَيْفَ يُكَفَّنُ الْمُحْرِمُ ۱۱۸۸) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنْ الثِّيَابِ فِي الْإِحْرَامِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا الْبَرَانِسَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْ أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ وَلَا الْوَرْسُ وَلَا تَنْتَقِبْ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ (بخاري بَاب مَا يُنْهَى مِنْ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ وَالْمُحْرِمَةِ الخ ۱۷۰۷) فَإِنْ طَيَّبَ عُضْوًا كَامِلًا :كَالرَّأْسِ ، وَالْفَخِذِ ، وَالسَّاقِ وَنَحْوِ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ دَمٌ ، وَإِنْ طَيَّبَ أَقَلَّ مِنْ عُضْوٍ فَعَلَيْهِ صَدَقَةٌ .(بدائع الصنائع فصل تطيب المحرم ۱۲۷/۵ أَمَّا الْأَوَّلُ : فَالْمُحْرِمُ لَا يَلْبَسُ الْمَخِيطَ جُمْلَةً ، وَلَا قَمِيصًا وَلَا قُبَاءَ ، وَلَا جُبَّةً ، وَلَا سَرَاوِيلَ ، وَلَا عِمَامَةً ، وَلَا قَلَنْسُوَةً ، وَلَا يَلْبَسُ خُفَّيْنِ إلَّا أَنْ يَجِدَ نَعْلَيْنِ ، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَقْطَعُهُمَا أَسْفَلَ الْكَعْبَيْنِ فَيَلْبَسُهُمَا ، وَالْأَصْلُ فِيهِ مَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنْ الثِّيَابِ ؟ فَقَالَ : { لَا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ ، وَلَا الْعَمَائِمَ ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ ، وَلَا الْبَرَانِسَ ، وَلَا الْخِفَافَ إلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ النَّعْلَيْنِ ، فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ ، وَلَا يَلْبَسْ مِنْ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ ، وَلَا الْوَرْسُ ، وَلَا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَةُ ، وَلَا تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ … وَلِأَنَّ لُبْسَ الْمَخِيطِ مِنْ بَابِ الِارْتِفَاقِ بِمَرَافِقِ الْمُقِيمِينَ ، وَالتَّرَفُّهِ فِي اللُّبْسِ ، وَحَالُ الْمُحْرِمِ يُنَافِيهِ ، وَلِأَنَّ الْحَاجَّ فِي حَالِ إحْرَامِهِ يُرِيدُ أَنْ يَتَوَسَّلَ بِسُوءِ حَالِهِ إلَى مَوْلَاهُ يَسْتَعْطِفُ نَظَرَهُ وَمَرْحَمَتَهُ ، بِمَنْزِلَةِ الْعَبْدِ الْمَسْخُوطِ عَلَيْهِ فِي الشَّاهِدِ أَنَّهُ يَتَعَرَّضُ بِسُوءِ حَالِهِ لِعَطْفِ سَيِّدِهِ وَلِهَذَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : { الْمُحْرِمُ الْأَشْعَثُ الْأَغْبَرُ } وَإِنَّمَا يُمْنَعُ الْمُحْرِمُ مِنْ لُبْسِ الْمَخِيطِ إذَا لَبِسَهُ عَلَى الْوَجْهِ الْمُعْتَادِ . (بدائع الصنائع فصل محضورات الاحرام: ۱۰۰’۱۰۲/۵)۔

    (ہ)جب اپنے سر یا چہرے کو ایک دن سے کم ڈھانکے رکھے۔ حوالہ
    عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا أَوْقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ وَلَا وَجْهَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا (مسلم، بَاب مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ ۲۰۹۵) وَكَذَا لَوْ غَطَّى رُبْعَ رَأْسِهِ يَوْمًا فَصَاعِدًا فَعَلَيْهِ دَمٌ ، وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ الرُّبْعِ فَعَلَيْهِ صَدَقَةٌ (بدائع الصنائع ۱۱۶/۵)
    (و) جب حدث اصغر کی حالت میں طواف قدوم کرے، اسی طرح جب طواف صدر حدث اصغر کی حالت میں کرے۔حوالہ
    عن عَائِشَة رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْت (مسلم، بَاب مَا يَلْزَمُ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى مِنْ الْبَقَاءِ عَلَى الْإِحْرَامِ وَتَرْكِ التَّحَلُّلِ ۲۱۷۳( وَإِنْ كَانَ مُحْدِثًا فَفِيهِ رِوَايَتَانِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ : فِي رِوَايَةٍعَلَيْهِ صَدَقَةٌ ، وَهِيَ الرِّوَايَةُ الصَّحِيحَةُ ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ ؛ لِأَنَّ النَّقْصَ يَسِيرٌ فَصَارَ كَشَوْطٍ أَوْ شَوْطَيْنِ (بدائع الصنائع فَصْلٌ شَرَائِطُ جَوَازِ طواف الصدر: ۴۴۷/۴)۔
    (ز)جب تینوں جمرات کی رمی میں سے کسی رمی کو چھوڑدے۔حوالہ
    عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ كُلُّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَالثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ وَيَرْمِي الثَّالِثَةَ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا (ابوداود بَاب فِي رَمْيِ الْجِمَارِ ۱۶۸۳) أَمَّا لَوْ تَرَكَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَخَّرَهُ فَعَلَيْهِ لِكُلِّ حَصَاةٍ صَدَقَةٌ إلَّا أَنْ يَبْلُغَ دَمًا فَيُنْقِصَ مَا شَاءَ لُبَاب (رد المحتار بَابُ الْجِنَايَاتِ في الحج ۴۲۳/۸)
    (۵) وہ جنایت جس کے ارتکاب کرنے سے صدقہ واجب ہوتا ہے، لیکن اس کی مقدار آدھے صاع سے کم ہے۔
    اور وہ اس صور ت میں ہے جبکہ کسی جوں یا ٹڈی کو قتل کردے تو جو چاہے صدقہ کرے، اور جب دو چیونٹیوں یا دو ٹڈیوں کو قتل کرے تو ایک ہتھیلی غلہ صدقہ کرے، اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو آدھا صاع گیہوں صدقہ کرے۔حوالہ
    عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِى عَمَّارٍ أَخْبَرَهُ :أَنَّهُ أَقْبَلَ مَعَ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَكَعْبِ الأَحْبَارِ فِى أُنَاسٍ مُحْرِمِينَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ بِعُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ وَكَعْبٌ عَلَى نَارٍ يَصْطَلِى مَرَّت بِهِ رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَأَخَذَ جَرَادَتَيْنِ فَمَلَّهُمَا وَنَسِىَ إِحْرَامَهُ ثُمَّ ذَكَرَ إِحْرَامَهُ فَأَلْقَاهَا فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ دَخَلَ الْقَوْمُ عَلَى عُمَرَ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ وَدَخَلْتُ مَعَهُمْ فَقَصَّ كَعْبٌ قِصَّةَ الْجَرَادَتَيْنِ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ :وَمَنْ بِذَلِكَ لَعَلَّكَ يَا كَعْبُ قَالَ :نَعَمْ قَالَ :إِنَّ حِمْيَرَ تُحِبُّ الْجَرَادَ مَا جَعَلْتَ فِى نَفْسِكَ؟ قَالَ :دِرْهَمَيْنِ قَالَ بَخٍ دِرْهَمَانِ خَيْرٌ مِنْ مِائَةِ جَرَادَةٍ اجْعَلْ مَا جَعَلْتَ فِى نَفْسِكَ. (السنن الكبري للبيهقي باب مَا وَرَدَ فِى جَزَاءِ مَا دُونَ الْحَمَامِ ۱۰۳۰۶) عن الْقَاسِم يَعْنِى ابْن مُحَمَّدٍ يَقُولُ :كُنْت جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ جَرَادَةٍ قَتَلَهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :فِيهَا قَبْضَةٌ مِنْ طَعَامٍ وَلَتَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ وَلَكِنْ وَلَوْ (السنن الكبري للبيهقي باب مَا وَرَدَ فِى جَزَاءِ مَا دُونَ الْحَمَامِ ۱۰۳۰۷)
    (۶)وہ جنایت جس کے ارتکاب کرنے سے قیمت واجب ہوتی ہے وہ جنگل کے وحشی جانور کا قتل کرنا۔
    مسئلہ: جب مُحْرِمْ جنگل کے کسی وحشی جانور کا شکار کرے، یا اس کو ذبح کرے، یا اس کی طرف اشارہ کرے، یا شکاری کو شکار کی جگہ کی رہنمائی کرے تو اس پر قیمت لازم ہوگی ، چاہے شکار کیا ہوا جانور کھایا جاتا ہو یا نہ کھایا جاتا ہو۔ جس جگہ شکار کیا ہے اس کے قریبی جگہ میں دو عادل آدمی اس کی قیمت لگائیں گے۔حوالہ
    وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا (المائدة:۹۶) لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ (المائدة:۹۵) عن أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حَاجًّا… وَقَدْ كَانَ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ فَرَأَيْنَا حُمُرَ وَحْشٍ فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا فَنَزَلْنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهَا ثُمَّ قُلْنَا أَنَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا قَالَ أَمِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا قَالُوا لَا قَالَ فَكُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا (بخاري بَاب لَا يُشِيرُ الْمُحْرِمُ إِلَى الصَّيْدِ لِكَيْ يَصْطَادَهُ الْحَلَالُ ۱۶۹۵) فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ (المائدة:۹۵)
    مسئلہ: اگر شکار کی قیمت ہدی کی قیمت کو پہونچ جاتی ہے تو محرم کو اختیار ہے چاہے تو ہدی خریدے اور اس کو حرم میں ذبح کرے اور اگر چاہے تو غلہ خریدے اور اسے فقراء پر صدقہ کرے ، ہر فقیر کو ادھا صاع دے اور اگر چاہے تو ہر آدھے صاع کے بدلے میں روزہ رکھے اور اگر شکار کی قیمت ہدی کی قیمت کو نہ پہنچی ہو تو اس کو اختیار ہے چاہے تو غلہ خریدے اور اس کو صدقہ کرے، اور اگرچاہے تو ہر آدھے صاع کے بدلے مکمل دن روزہ رکھے۔
    مسئلہ: تکلیف دہ کیڑے مکوڑوں کے قتل کی وجہ سے مُحْرِم پر کوئی چیز لازم نہ ہوگی جیسے بھڑ، بچھو، مکھی، چیونٹی اور پتنگے اسی طرح سانپ، چوہے، کوّے اور کاٹنے والے کتے کے قتل کے وجہ سے مُحْرَمْ کے ذمہ کوئی چیز لازم نہ ہوگی۔حوالہ
    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فِى الْحَمَامَةِ شَاةٌ لاَ يُؤْكَلُ مِنْهَا يُتَصَدَّقُ بِهَا. وَعَنِ ابْنِ أَبِى لَيْلَى عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِى الْخُضْرِىِّ وَالدُّبْسِىِّ وَالْقُمْرِىِّ وَالْقَطَاةِ وَالْحَجَلِ شَاةٌ شَاةٌ. (السنن الكبري للبيهقي باب مَا جَاءَ فِى جَزَاءِ الْحَمَامِ وَمَا فِى مَعْنَاهُ. ۱۰۳۰۰)عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ رَجُلًا أَوْطَأَ بَعِيرَهُ أُدْحِيَّ نَعَامٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَكَسَرَ بَيْضَهَا فَانْطَلَقَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ عَلَيْكَ بِكُلِّ بَيْضَةٍ جَنِينُ نَاقَةٍ أَوْ ضِرَابُ نَاقَةٍ فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ عَلِيٌّ بِمَا سَمِعْتَ وَلَكِنْ هَلُمَّ إِلَى الرُّخْصَةِ عَلَيْكَ بِكُلِّ بَيْضَةٍ صَوْمٌ أَوْ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ (مسند احمد حديث رجال من الأنصار رضي الله عنهم ۲۰۶۰۱) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ مِنْ الدَّوَابِّ مَنْ قَتَلَهُنَّ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ الْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ (بخاري بَاب خَمْسٌ مِنْ الدَّوَابِّ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ ۳۰۶۸)عن الحسن في رجل أصاب صيدا فلم يجد جزاءه قال يقوم دراهم ثم تقوم الدراهم طعاما ثم يصوم لكل صاع يومين قال وقال عطاء لكل صاع أربعة أيام (مصنف عبد الرزاق باب بأي الكفارات شاء كفر ۳۹۶/۴)


     
    Akram Naaz likes this.
  2. Akram Naaz
    Offline

    Akram Naaz BuL..BuL Staff Member
    • 63/65

    جزاک اللہ
    بہت پیاری معلومات شیئر کی ہے
    بہت شکریہ
     

Share This Page