1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

زیارتِ مدینہ منورہ

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, May 15, 2017.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators

    زیارتِ مدینہ منورہ


    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت


    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میری قبر کی زیارت کرے اس کے لئے میری شفاعت لازم ہوگی۔ حوالہ
    مَنْ زَارَ قَبْرِیْ وَجَبَتْ لَہٗ شَفَاعَتِیْ(دارقطني ، الحج ۲۷۲۷)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بیت اللہ کا حج کرے اور میری زیارت نہ کرے اس نے مجھ پر ظلم کیا حوالہ
    مَنْ حَجَّ الْبَیْتَ، وَلَمْ یَزُرْنِیْ قَدْ جَفَانِیْ (الجامع الكبير ، حرف الميم ۲۲۶۲۹/۱)
    مندوبات میں سب سے افضل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم كے قبر کی زیارت ہے لہذا جس كواللہ تعالی حج كی توفيق دے اس كو چاہئے كہ وہ حج سے فراغت کے بعد يا پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے مدینہ منورہ جائے۔ حوالہ
    فزيارة قبره صلّى الله عليه وسلم من أفضل القربات (الفقه الاسلامي وادلته زيارة المسجد النبوي وقبر النبي صلّى الله عليه وسلم ۶۸۹/۳)
    اور نبی کی زیارت کی نیت کرنے کے بعد بکثرت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجے۔ حوالہ
    ينبغي لمن قصد زيارة النبي صلى الله عليه وسلم أن يكثر من الصلاة عليه فإنه يسمعها أو تبلغ إليه وفضلها أشهر من أن نذكره (مراقي الفلاح فصل : في زيارة النبي صلى الله عليه وسلم على سبيل الاختصار تبعا لما قال في الاختيار: ۱۴۳/۲)عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا(مسلم، بَاب الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ التَّشَهُّدِ ۶۱۶) عن أَنَس بْن مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ وَحُطَّتْ عَنْهُ عَشْرُ خَطِيئَاتٍ وَرُفِعَتْ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ (نسائي بَاب الْفَضْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۱۲۸۰)۔
    حضور اکرم ﷺکی زیارت کا طریقہ
    جب مدینہ منورہ پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی تعظیم میں غسل کركے خوشبو لگائے اوربہترین کپڑے پہنے۔ حوالہ: عَنْ حَاطِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ زَارَنِى بَعْدَ مَوْتِى فَكَأَنَّمَا زَارَنِى فِى حَيَاتِى(دار قطني الحج: ۲۷۲۶) مذکورہ روایت سے معلوم ہوا کہ مدینہ منورہ جاکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنا گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ملاقات کرنا ہوا توحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کے لیے غسل کرکے صاف ستھرا ہوکر جانا چاہیے؛ اس کے علاوہ مدینہ منورہ کی بھی بہت ساری فضیلتیں ہیں اس کی تعظیم کے لیے بھی غسل کرلینا چاہیے؛ جیسا کہ علامہ وھبۃ الزحیلی نے لکھا ہے: ويندب الغسل أيضاً لدخول المدينة تعظيماً لحرمتها، وقدومه على حضرة النبي صلّى الله عليه وسلم . (الفقه الاسلامي وادلته الأغسال المسنونة: ۴۷۸/۱) ويغتسل قبل الدخول أو بعده قبل التوجه للزيارة إن أمكنه ويتطيب ويلبس أحسن ثيابه تعظيما للقدوم على النبي صلى الله عليه وسلم(مراقي الفلاح فصل : في زيارة النبي صلى الله عليه وسلم على سبيل الاختصار تبعا لما قال في الاختيار: ۱۴۳/۲) عن ثُمَامَة بْن عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَيْهِ فَنَاوَلَنِي طِيبًا قَالَ كَانَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ قَالَ وَزَعَمَ أَنَسٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ(بخاري بَاب مَا لَا يُرَدُّ مِنْ الْهَدِيَّةِ ۲۳۹۴)۔
    پہلے نہایت تواضع اور سکون وقار کے ساتھ مسجد نبوی میں داخل ہو اور دورکعت تحیۃ المسجد پڑھے پھر جو چاہے دعاکرے۔ حوالہ
    عَنْ أَبِي قَتَادَةَ السَّلَمِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَادَخَلَ أَحَدُكُمْ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ۔ (بخاری، بَاب إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ، حدیث نمبر:۴۲۵)۔

    پھر قبر شریف کے پاس جائے اور اس کے سامنے نہایت خشوع خضوع کے ساتھ ، حدود آداب کا لحاظ کرتے ہوئے کھڑا ہو، سلام کرے اور آپ پر درود بھیجے پھر ان لوگوں کا بھی سلام پہنچائے جنہوں نے اسے سلام پہنچانے کی تاکید کی ہے، پھر دوسری مرتبہ مسجد نبوی جائے اور جتنی چاہے نماز پڑھے، اپنے لئے اور اپنے والدین کے لئے اور مسلمانوں کیلئے اور جنہوں نے دعا کرنے کی تاکیدکی ہے ان کیلئے جتنی چاہے دعا کرے ، مدینہ منورہ میں ٹھہرنے کی مدت کو غنیمت سمجھے، شب بیداری کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا جب بھی موقع ہو،خوب کوشش کرے اورتسبیح تہلیل، استغفار اور توبہ کو بکثرت بجالائے۔حوالہ
    عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ إذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ، ثُمَّ أَتَى قَبْرَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ، فَقَالَ :السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ السَّلاَمُ عَلَيْك يَا أَبَتَاهُ ، ثُمَّ يكون وَجْهَهُ وَكَانَ إذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَتَى المسجد فَفَعَلَ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَنْزِلَهُ. (مصنف ابن ابي شيبة مَنْ كَانَ يَأْتِي قَبْرَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيُسَلِّمَ. ۳۴۱/۳) وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا (النساء:۶۴)۔
    صحابہ ، تابعین اور نیک لوگوں کی قبروں کی زیارت کیلئے بقیع جانا مستحب ہے۔ حوالہ
    عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ آتِي أَهْلَ الْبَقِيعِ فَيُحْشَرُونَ مَعِي ثُمَّ أَنْتَظِرُ أَهْلَ مَكَّةَ حَتَّى أُحْشَرَ بَيْنَ الْحَرَمَيْنِ (ترمذي بَاب فِي مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ۳۶۲۵)عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا كَانَ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقُولُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَأَتَاكُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ (مسلم، بَاب مَا يُقَالُ عِنْدَ دُخُولِ الْقُبُورِ وَالدُّعَاءِ لِأَهْلِهَا ۱۶۱۸) صحابہ اور تابعین وغیرہ کی محنتوں اور قربانیوں کی وجہ سے ہم تک دین پہنچا ہے اور ان حضرات کی بہت ساری روایات میں فضیلتیں بھی آئی ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیات میں بقیع جایا کرتے تھے، جیسا کہ مذکورہ روایات سے بھی معلوم ہوا؛ اس لیے فقہاءِ کرام نے اسے مستحب قرار دیا۔
    جب تک مدینہ منورہ میں رہے تمام کی تمام نمازیں مسجد نبوی میں پڑھے۔ حوالہ
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ (بخاري بَاب فَضْلِ الصَّلَاةِ فِي مَسْجِدِ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ۱۱۱۶)
    اور جب وطن واپسی کا ارادہ ہو تو مسجد نبوی کو الوداع کہتے وقت دورکعت نماز پڑھے، جو چاہے دعا کرے، روضۂ اطہر پر آکر درودسلام بھیجے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائیگی پر روتے ہوئے واپس آئے۔ حوالہ

    عن عبد الله بن دينار أن ابن عمر :كان إذا أراد سفرا أو قدم من سفر جاء قبر النبي صلى الله عليه و سلم فصلى عليه ودعا ثم انصرف قال محمد :هكذا ينبغي أن يفعله إذا قدم المدينة يأتي قبر النبي صلى الله عليه و سلم (موطا محمد باب قبر النبي صلى الله عليه و سلم وما يستحب من ذلك ۹۴۷)
    =========================================
     
    Rashidkareem and Admin like this.

Share This Page