1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

قربانی کا بیان

Discussion in 'Eid-ul-Azha & Hajj' started by IQBAL HASSAN, May 15, 2017.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators

    قربانی کا بیان


    قربانی کا حکم قرآن و حدیث کی روشنی میں
    اللہ تعالی نے فرمایا: اپنے رب کیلئے نماز پڑھیئے اور قربانی دیجیے۔ حوالہ
    فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ(الکوثر:۲)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قربانی کے دن ابن آدم کے اعمال میں سے کوئی عمل اللہ کے یہاں قربانی کے خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے، قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں ، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا، بے شک خون اللہ کے یہاں زمین پر گرنے سے پہلے قبول ہوجاتا ہے لہذا خوش دلی کے ساتھ قربانی دو۔ حوالہ
    مَاعَمِلَ ابْنُ اٰدَمَ مَنْ عَمِلٍ یَوْمَ النَّحْرِأَحَبَّ اِلٰی اللہ مِنْ اهْرَاقِ الدَّمِ، اِنَّہا لَتَأتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِقُرُوْنِھَاوأَشْعَارِھَا، وَأَظْلاَفِھَا، وَاِنَّ الدَّمْ لَیَقَعُ بِمَکَان قَبْلَ أَنْ یَّقَعَ بِالْأَرْضِ، فَطِیْبُوْابِھَانَفْسًا (ترمذي بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْأُضْحِيَّةِ ۱۴۱۳)
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس وسعت ہو اور قربانی نہ دے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ ہو۔ حوالہ
    مَنْ کَانَ لَہٗ سَعَۃٌ وَلَمْ یُضَحِّ فَلاَ یَقْرُبَنَّ مُصَلاَّنَا (ابن ماجه بَاب الْأَضَاحِيِّ وَاجِبَةٌ هِيَ أَمْ لَا ۳۱۱۴)
    اضحیہ کی لغوی و شرعی تعریف
    اضحیہ اس جانور کو کہتے ہیں جسے عیدالاضحیٰ کے دن ذبح کیا جاتا ہے۔ حوالہ
    (المصباح المنير:۳۱۹/۵)
    اضحیہ کے شرعی معنی ہیں:مخصوص جانور کا مخصوص وقت میں عبادت کی نیت سے ذبح کرنا۔ حوالہ
    (التعريفات:۸/۱)
    امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک قربانی واجب ہے اور اسی پر فتوی ہے،اور صاحبين رحمہما اللہ کے نزدیک قربانی سنت مؤکدہ ہے حوالہ
    (بدائع الصنائع كتاب التضحية ۲۴۵/۱۰)
     

Share This Page