1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

قربانی کا وقت

Discussion in 'Eid-ul-Azha & Hajj' started by IQBAL HASSAN, May 15, 2017.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators

    قربانی کا وقت


    مسئلہ:قربانی کاوقت دسویں ذوالحجہ کے دن طلوع فجر کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور بارھویں ذوالحجہ کے دن غروب سے پہلے پہلے تک باقی رہتا ہے ، لیکن شہر اور بڑے دیہات والوں کو عید کی نماز سے پہلے ذبح کرنا جائزنہیں ہے۔ حوالہ
    عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ مِنْ يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا (بخاري بَاب سُنَّةِ الْعِيدَيْنِ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ ۸۹۸) عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ الْأَضْحَى يَوْمَانِ بَعْدَ يَوْمِ الْأَضْحَى (موطا مالك بَاب الضَّحِيَّةِ عَمَّا فِي بَطْنِ الْمَرْأَةِ وَذِكْرِ أَيَّامِ الْأَضْحَى ۹۲۳) عن جُنْدَبَ بْن سُفْيَانَ الْبَجَلِيَّ قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا أُخْرَى وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ (بخاري بَاب مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ أَعَادَ ۵۱۳۶)عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ ضَحَّى خَالِي أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً مِنْ الْمَعْزِ فَقَالَ ضَحِّ بِهَا وَلَا تَصْلُحُ لِغَيْرِكَ ثُمَّ قَالَ مَنْ ضَحَّى قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ وَأَصَابَ سُنَّةَالمسلمین(مسلم، بَاب وَقْتِهَا ۳۶۲۴)
    مسئلہ:چھوٹے گاؤں والوں کے لئے جہاں عید کی نماز واجب نہیں ہوتی،طلوع فجر کے بعد قربانی کا ذبح کرنا جائز ہے۔ حوالہ
    عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ الْأَضْحَى يَوْمَانِ بَعْدَ يَوْمِ الْأَضْحَى(موطا مالك بَاب الضَّحِيَّةِ عَمَّا فِي بَطْنِ الْمَرْأَةِ وَذِكْرِ أَيَّامِ الْأَضْحَى ۹۲۳)
    مسئلہ:قربانی کے دنوں میں سے پہلے دن قربانی کا ذبح کرناافضل ہے، پھر دوسرے دن، پھر تیسرے دن۔ حوالہ
    عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمْ قَالُوا:أَيَّامُ النَّحْرِ ثَلَاثَةٌ، أَفْضَلُهَا أَوَّلُهَا (نصب الراية كِتَابُ الْأُضْحِيَّةِ ۲۱۳/۴)
    مسئلہ:قربانی کو بذات خود ذبح کرنا مستحب ہے جبکہ وہ اچھی طرح ذبح کرسکتا ہو، ہاں! اگر وہ اچھی طرح ذبح نہ کرسکتا ہوتو بہتر یہ ہے کہ کسی سے مدد لے اس کو چاہئے کہ ذبح کے وقت موجود رہے ۔ حوالہ
    عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ (بخاري بَاب فِي أُضْحِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ۵۱۲۸)ٌ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم :« يَا فَاطِمَةُ قَوْمِى فَاشْهَدِى أُضْحِيَتَكِ فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَكِ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا كُلُّ ذَنْبٍ عَمِلْتِيهِ وَقُولِى إِنَّ صَلاَتِى وَنُسُكِى وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِى لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ المسلمین». قِيلَ :يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لَكَ وَلأَهْلِ بَيْتِكَ خَاصَّةً فَأَهْلُ ذَلِكَ أَنْتُمْ أَمْ لِلْمسلمينَ عَامَّةً قَالَ :بَلْ لِلْمسلمينَ عَامَّةً (السنن الكبري للبيهقي باب مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ ذَبْحِ صَاحِبِ النَّسِيكَةِ نَسِيكَتَهُ بِيَدِهِ وَجَوَازُ الاِسْتِنَابَةِ فِيهِ الخ ۱۰۵۲۴)
    مسئلہ: قربانی کا دن میں ذبح کرنا مستحب ہے، لیکن اگر اسے رات میں ذبح کرے تو کراہت کے ساتھ جائز ہے۔ لیکن اس کراہت کی اصل وجہ یہ ہے کہ رات سکون اور راحت حاصل کرنے کا وقت ہے اور اس کی وجہ سے راحت میں خلل پڑھ سکتا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ رات کی تاریکی کی وجہ سے ذابح وغیرہ کے ہاتھ وغیرہ کٹنے کا خدشہ ہوتا ہے، تیسری اہم بات یہ ہے کہ ذبح میں جن رگوں کا کٹنا ضروری ہوتا ہے، رات کی تاریکی کی وجہ سے یہ ظاہر نہیں ہوپاتا کہ ذبح صحیح ہوا یانہیں؛ رگیں مکمل کٹی یانہیں؛ لہٰذا اگریہ وجوہات نہ پائی جائیں توپھرکراہت باقی نہ رہے گی۔ حوالہ
    عن ابن عباس :أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى أن يضحى ليلا (المعجم الكبير أحاديث عبد الله بن العباس بن عبد المطلب بن هاشم ۱۱۴۵۸) وَأَمَّا مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ الذَّكَاةِ وَمَا يُكْرَهُ مِنْهَا ( فَمِنْهَا ) أَنَّ الْمُسْتَحَبَّ أَنْ يَكُونَ الذَّبْحُ بِالنَّهَارِ وَيُكْرَهُ بِاللَّيْلِ وَالْأَصْلُ فِيهِ مَا رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ { أَنَّهُ نَهَى عَنْ الْأَضْحَى لَيْلًا وَعَنْ الْحَصَادِ لَيْلًا } وَهُوَ كَرَاهَةُ تَنْزِيهٍ وَمَعْنَى الْكَرَاهَةِ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ لِوُجُوهٍ : أَحَدُهَا أَنَّ اللَّيْلَ وَقْتُ أَمْنٍ وَسُكُونٍ وَرَاحَةٍ فَإِيصَالُ الْأَلَمِ فِي وَقْتِ الرَّاحَةِ يَكُونُ أَشَدَّ ، وَالثَّانِي أَنَّهُ لَا يَأْمَنُ مِنْ أَنْ يُخْطِئَ فَيَقْطَعُ يَدَهُ وَلِهَذَا كُرِهَ الْحَصَادُ بِاللَّيْلِ ، وَالثَّالِثُ أَنَّ الْعُرُوقَ الْمَشْرُوطَةَ فِي الذَّبْحِ لَا تَتَبَيَّنُ فِي اللَّيْلِ فَرُبَّمَا لَا يَسْتَوْفِي قَطْعَهَا (بدائع الصنائع فصل في بَيَان شَرْطِ حِلِّ الْأَكْلِ فِي الْحَيَوَانِ الْمَأْكُولِ: ۲۳۶/۱۰)۔
    مسئلہ:اگر کسی وجہ سے عید کی نماز چھوٹ جائے تو زوال کے بعد قربانی کے جانور کا ذبح کرنا جائز ہے۔ حوالہ
    عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ الْأَضْحَى يَوْمَانِ بَعْدَ يَوْمِ الْأَضْحَى(موطا مالك بَاب الضَّحِيَّةِ عَمَّا فِي بَطْنِ الْمَرْأَةِ وَذِكْرِ أَيَّامِ الْأَضْحَى ۹۲۳)
    مسئلہ:اگر شہر میں کئی جگہ عید کی نماز کی جماعتیں ہوتی ہو ں تو شہر میں پڑھی جانے والی پہلی نماز کے بعد ذبح کرنا جائز ہے۔ حوالہ
    عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ ضَحَّى خَالِي أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً مِنْ الْمَعْزِ فَقَالَ ضَحِّ بِهَا وَلَا تَصْلُحُ لِغَيْرِكَ ثُمَّ قَالَ مَنْ ضَحَّى قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ وَأَصَابَ سُنَّةَالمسلمین(مسلم، بَاب وَقْتِهَا ۳۶۲۴) ۔

     

Share This Page