1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

قربانی کےجانور


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'Eid-ul-Azha & Hajj' started by IQBAL HASSAN, May 16, 2017.

Eid-ul-Azha & Hajj"/>May 16, 2017"/>

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65

    قربانی کےجانور


    قربانی میں کونسا جانور ذبح کرنا جائز ہے اور کونسا نہیں؟
    مسئلہ:جانوروں میں سے صرف اونٹ ، گائے، بھینس اور بکری کی قربانی صحیح ہے۔حوالہ
    عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنْ الضَّأْنِ(مسلم، بَاب سِنِّ الْأُضْحِيَّةِ ۳۶۳۱) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ (مسلم، بَاب الِاشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ وَإِجْزَاءِ الْبَقَرَةِ وَالْبَدَنَةِ كُلٍّ مِنْهُمَا عَنْ سَبْعَةٍ ۲۳۲۲)
    مسئلہ:قربانی میں وحشی جانور کا ذبح کرنا جائز نہیں ہے۔ حوالہ
    عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ (بخاري بَاب أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ ۵۱۰۴)
    مسئلہ: بکری ایک شخص کی طرف سے کافی ہوگی، اونٹ، گائے اور بھینس سات لوگوں کی طرف سے اس وقت کافی ہوں گے جبکہ ان میں سے ہر ایک کا ساتواں حصہ ہو اگر ان میں سے کسی کا حصہ ساتویں حصہ سے کم ہوگیا تو قربانی توصحیح ہوجائے گی اس لیےکہ قربانی سے اصل مقصود اراقہ ہے اور وہ حاصل ہوگیا، ليكن گوشت تول کربرابر تقسیم کرنا چاہیے؛ اگرگوشت بلاتولے تقسیم کیا جائے اور کمی بیشی ہوجائے توجوزیادتی دوسرے کے پاس جاوے گی وہ سود کے حکم میں ہوگی؛ البتہ اس خرابی کوختم کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ تقسیم میں کسی کی طرف سری پاے اور کھال بھی لگادی جائے مثلاً کچھ گوشت اور کچھ حصہ پائے کا ایک حصہ میں اور کچھ گوشت اور پائے یاسری یاکھال ایک کے حصے میں آگئی توچونکہ ہرایک کے حصہ میں جوچیز آئی ہے وہ غیرجنس کے مقابل قرار دی جاسکتی ہے، اس لیے اس صورت میں سود نہ ہوگا۔ حوالہ
    عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنْ الضَّأْنِ(مسلم، بَاب سِنِّ الْأُضْحِيَّةِ ۳۶۳۱) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ (مسلم، بَاب الِاشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ وَإِجْزَاءِ الْبَقَرَةِ وَالْبَدَنَةِ كُلٍّ مِنْهُمَا عَنْ سَبْعَةٍ ۲۳۲۲)قَالَ : وَسَأَلْت أَبَا يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ عَنْ الْبَقَرَةِ إذَا ذَبَحَهَا سَبْعَةٌ فِيالْأُضْحِيَّةَ أَيَقْتَسِمُونَ لَحْمَهَا جُزَافًا أَوْ وَزْنًا ؟ قَالَ : بَلْ وَزْنًا ، قَالَ : قُلْت فَإِنْ اقْتَسَمُوهَا مُجَازَفَةً وَحَلَّلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ؟ قَالَ : أَكْرَهُ ذَلِكَ ، قَالَ : قُلْت فَمَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ بَاعَ دِرْهَمًا بِدِرْهَمٍ فَرَجَحَ أَحَدُهُمَا فَحَلَّلَ صَاحِبُهُ الرُّجْحَانَ ؟ قَالَ : هَذَا جَائِزٌ ؛ لِأَنَّهُ لَا يُقْسَمُ مَعْنَاهُ أَنَّهُ هِبَةُ الْمُشَاعِ فِيمَا لَا يَحْتَمِلُ الْقِسْمَةَ وَهُوَ الدِّرْهَمُ الصَّحِيحُ ، أَمَّا عَدَمُ جَوَازِ الْقِسْمَةِ مُجَازَفَةً فَلِأَنَّ فِيهَا مَعْنَى التَّمْلِيكِ ، وَاللَّحْمُ مِنْ الْأَمْوَالِ الرِّبَوِيَّةِ فَلَا يَجُوزُ تَمْلِيكُهُ مُجَازَفَةً كَسَائِرِ الْأَمْوَالِ الرِّبَوِيَّة (بدائع الصنائع فَصْلٌ في أَنْوَاع كَيْفِيَّة الْوُجُوبِ: ۲۶۷/۱۰) ويقسم اللحم وزنا لا جزافا إلا إذا ضم معه من الاكارع أو الجلد) صرفا للجنس لخلاف جنسه. (الدر المختار كتاب الاضحية: ۶۳۰/۵)۔
    مسئلہ: گائے، اونٹ اوربھینس کی قربانی سات لوگوں کی طرف سے صحیح ہے جبکہ ان میں سےہر ایک قربانی کا ثواب چاہتا ہو، ہاں اگر ان میں کوئی صرف گوشت کا طالب ہو تو قربانی تمام لوگوں کی طرف سے صحیح نہ ہوگی۔ حوالہ
    لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ (الحج:۳۷) عن عُمَرَ بْن الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ (بخاري بَاب بَدْءُ الْوَحْيِ ۱) عن حسن قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :من ضحى طيبة بها نفسه محتسبا لأضحيته كانت له حجابا من النار (المعجم الكبير حسن بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه يكنى أبا محمد ۲۷۳۶،۸۴/۳)( وَهِيَ ) أَيْ الْأُضْحِيَّةُ ( شَاةٌ ) تَجُوزُ مِنْ فَرْدٍ فَقَطْ ( أَوْ بَدَنَةٌ ) تَجُوزُ مِنْ وَاحِدٍ أَيْضًا ( أَوْ سُبْعٌ ) بِضَمِّ السِّينِ بِمَعْنَى وَاحِدٍ مِنْ السَّبْعِ ( بَدَنَةٌ ) بَيَانٌ لِلْقَدْرِ الْوَاجِبِ وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا تَجُوزَ الْبَدَنَةُ إلَّا عَنْ وَاحِدٍ ؛ لِأَنَّ الْإِرَاقَةَ وَاحِدَةٌ وَهِيَ الْقُرْبَةُ وَالْقُرْبَةُ لَا تَتَجَزَّأُ إلَّا أَنَّا تَرَكْنَاهُ بِالْأَثَرِ وَهُوَ مَا رُوِيَ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ { نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ } … ( فَلَوْ أَرَادَ أَحَدُهُمْ بِنَصِيبِهِ اللَّحْمَ أَوْ كَانَ كَافِرًا أَوْ نَصِيبُهُ ) أَيْ نَصِيبُ أَحَدِهِمْ ( أَقَلُّ مِنْ سُبْعٍ لَا يَجُوزُ عَنْ وَاحِدٍ مِنْهُمْ ) لِمَا مَرَّ أَنَّ وَصْفَ الْقُرْبَةِ لَا يَتَجَزَّأُ (مجمع الانهر كِتَابُ الْأُضْحِيَّةِ: ۹۶/۸)۔
    مسئلہ:اس بکری کی قربانی جائز ہے جس کا ایک سال مکمل ہوچکا ہو اور دوسرے سال میں وہ داخل ہوگئی ہو، دنبہ میں سے ایک سال سے کم کے بچے کو اگر اس پر سال کا اکثر حصہ گزرچکا ہو، اور اس کا موٹاپا اتنا ہو کہ وہ ایک سال کا دکھائی دیتا ہو تو اس کی قربانی دینا جائز ہے۔ حوالہ
    عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ فَبَقِيَ عَتُودٌ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ضَحِّ بِهِ أَنْتَ (بخاري بَاب وَكَالَةُ الشَّرِيكِ الشَّرِيكَ فِي الْقِسْمَةِ وَغَيْرِهَا الخ ۲۱۳۶) عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنْ الضَّأْنِ(مسلم، بَاب سِنِّ الْأُضْحِيَّةِ ۳۶۳۱)
    مسئلہ:گائے اور بھینس میں سے اسی کی قربانی جائز ہے جس کے دوسال مکمل ہوچکے ہوں اور وہ تیسرے سال میں داخل ہوچکی ہو، اونٹ میں سے اسی کی قربانی جائز ہے جس کے پانچ سال مکمل ہوچکے ہوں اور چھٹے سال میں داخل ہوچکا ہو۔ حوالہ
    عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنْ الضَّأْنِ(مسلم، بَاب سِنِّ الْأُضْحِيَّةِ ۳۶۳۱) عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ فِي الضَّحَايَا وَالْبُدْنِ الثَّنِيُّ فَمَا فَوْقَهُ(موطا مالك بَاب الْعَمَلِ فِي الْهَدْيِ حِينَ يُسَاقُ ۷۵۴) عَنْ كُلَيْبٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ مُجَاشِعٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَعَزَّتْ الْغَنَمُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِنَّ الْجَذَعَ يُوَفِّي مِمَّا يُوَفِّي مِنْهُ الثَّنِيُّ (ابوداود بَاب مَا يَجُوزُ مِنْ السِّنِّ فِي الضَّحَايَا ۲۴۱۷)
    مسئلہ:قربانی میں ذبح کئے جانے والے جانور کا موٹااور تمام عیوب سے صحیح سالم ہونا افضل ہے، لیکن اگر ایسے جانور کی قربانی دی جائے جس کے پیدائشی طور پر سینگ نہ ہو تو قربانی جائز ہے، اسی طرح اگر ایسے جانور کو ذبح کرے جس کے سینگ کا کچھ حصہ ٹوٹ گیا ہوتو قربانی جائز ہے، ہاں اگر سینگ کی ٹوٹن کھوپڑی تک پہنچ جائے تو صحیح نہیں ہے۔ حوالہ
    عن أَبي الْأَشَدِّ السُّلَمِيّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كُنْتُ سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَمَرَنَا نَجْمَعُ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَّا دِرْهَمًا فَاشْتَرَيْنَا أُضْحِيَّةً بِسَبْعِ الدَّرَاهِمِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أَغْلَيْنَا بِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَفْضَلَ الضَّحَايَا أَغْلَاهَا وَأَسْمَنُهَا (مسند احمد حديث جد أبي الأشد السلمي رضي الله عنه ۱۵۵۳۳)عَنْ عَلِيٍّ قَالَ الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ قُلْتُ فَإِنْ وَلَدَتْ قَالَ اذْبَحْ وَلَدَهَا مَعَهَا قُلْتُ فَالْعَرْجَاءُ قَالَ إِذَا بَلَغَتْ الْمَنْسِكَ قُلْتُ فَمَكْسُورَةُ الْقَرْنِ قَالَ لَا بَأْسَ أُمِرْنَا أَوْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَيْنِ وَالْأُذُنَيْنِ (ترمذي بَاب فِي الضَّحِيَّةِ بِعَضْبَاءِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ ۱۴۲۳) عَنْ عَلِيٍّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ قَالَ قَتَادَةُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ الْعَضْبُ مَا بَلَغَ النِّصْفَ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ (ترمذي بَاب فِي الضَّحِيَّةِ بِعَضْبَاءِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ ۱۴۲۴)
    مسئلہ: اگر خصی کیا ہو جانور ذبح کیا تو جائز ہے ، بلکہ وہ زیادہ بہتر ہے، اس لئے کہ اس کا گوشت زیادہ اچھا اور لذیذ ہوتا ہے۔ حوالہ
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجُوءَيْنِ فَذَبَحَ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ لِمَنْ شَهِدَ لِلَّهِ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ وَذَبَحَ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَعَنْ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (ابن ماجه بَاب أَضَاحِيِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۳۱۱۳) وَرُوِّينَا فِى كِتَابِ الضَّحَايَا تَضْحِيَةَ النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم بِكَبْشَيْنِ مَوْجُوئَيْنِ وَذَلِكَ لِمَا فِيهِ مِنْ تَطْيِيبِ اللَّحْمِ (السنن الكبري للبيهقي باب كَرَاهِيَةِ خِصَاءِ الْبَهَائِمِ ۲۰۲۹۳)
    مسئلہ:اگر خارشی جانور ذبح کرے اگر وہ موٹا ہو تو جائز ہے۔ ہاں! اگر وہ خارشی جانور دبلا ہو تو پھر جائز نہیں۔ حوالہ
    عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَفَعَهُ قَالَ لَا يُضَحَّى بِالْعَرْجَاءِ بَيِّنٌ ظَلَعُهَا وَلَا بِالْعَوْرَاءِ بَيِّنٌ عَوَرُهَا وَلَا بِالْمَرِيضَةِ بَيِّنٌ مَرَضُهَا وَلَا بِالْعَجْفَاءِ الَّتِي لَا تُنْقِي (ترمذي بَاب مَا لَا يَجُوزُ مِنْ الْأَضَاحِيِّ ۱۴۱۷) وَأَمَّا الْجَرْبَاءُ إنْ كَانَتْ سَمِينَةً جَازَ لِأَنَّ الْجَرَبَ إنَّمَا هُوَ فِي الْجِلْدِ وَلَا نُقْصَانَ فِي اللَّحْمِ (الجوهرة النيرة كِتَابُ الْأُضْحِيَّةِ: ۲۹۶/۵)(وَ) تذبح (الجَرْبَاءُ) إن كانت سمينة ولم يتلَف جلدها، لأنه لا يُخِلّ بالمقصود (شرح الوقاية كتاب الأُضْحِيَةِ: ۲۴۱/۵)۔
    مسئلہ: کانے (یعنی جس کی ایک آنکھ خراب ہو)جانور کی قربانی بھی جائزنہیں ہے۔ حوالہ
    عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَفَعَهُ قَالَ لَا يُضَحَّى بِالْعَرْجَاءِ بَيِّنٌ ظَلَعُهَا وَلَا بِالْعَوْرَاءِ بَيِّنٌ عَوَرُهَا وَلَا بِالْمَرِيضَةِ بَيِّنٌ مَرَضُهَا وَلَا بِالْعَجْفَاءِ الَّتِي لَا تُنْقِي (ترمذي بَاب مَا لَا يَجُوزُ مِنْ الْأَضَاحِيِّ ۱۴۱۷)
    مسئلہ: ایسے لنگڑے جانورکی قربانی بھی جائز نہیں ہے جو مَذبَحْ (ذبح کی جانےوالی جگہ)تک نہ چل سکتا ہو، ہاں اگر لنگڑا اس قدر ہو کہ تین پیروں سے چلتا ہو اور چوتھے پیر کو چلنے کے لئے سہارے کے طور پر زمین پر رکھتا ہو تو جائز ہے۔ حوالہ
    عَنْ عَلِيٍّ قَالَ الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ قُلْتُ فَإِنْ وَلَدَتْ قَالَ اذْبَحْ وَلَدَهَا مَعَهَا قُلْتُ فَالْعَرْجَاءُ قَالَ إِذَا بَلَغَتْ الْمَنْسِكَ قُلْتُ فَمَكْسُورَةُ الْقَرْنِ قَالَ لَا بَأْسَ أُمِرْنَا أَوْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَيْنِ وَالْأُذُنَيْنِ (ترمذي بَاب فِي الضَّحِيَّةِ بِعَضْبَاءِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ ۱۴۲۳)
    مسئلہ: اتنے دبلے جانورکا ذبح کرنا جائز نہیں ہے جس کا دبلا پن اس قدر زیادہ ہو کہ اس کی ہڈی میں گودا باقی نہ رہ گیا ہو۔ حوالہ
    عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَفَعَهُ قَالَ لَا يُضَحَّى بِالْعَرْجَاءِ بَيِّنٌ ظَلَعُهَا وَلَا بِالْعَوْرَاءِ بَيِّنٌ عَوَرُهَا وَلَا بِالْمَرِيضَةِ بَيِّنٌ مَرَضُهَا وَلَا بِالْعَجْفَاءِ الَّتِي لَا تُنْقِي (ترمذي بَاب مَا لَا يَجُوزُ مِنْ الْأَضَاحِيِّ ۱۴۱۷)
    مسئلہ: ایسے جانور کا ذبح کرنا جس کا اکثر کان یا اکثر دم چلی گئی ہو جائز نہیں ہے، ہاں اگر اس کے کان کے دوتہائی باقی ہوں اور ایک تہائی چلا گیا ہو تو صحیح ہے۔ حوالہ
    عَنْ عَلِيٍّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ قَالَ قَتَادَةُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ الْعَضْبُ مَا بَلَغَ النِّصْفَ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ (ترمذي بَاب فِي الضَّحِيَّةِ بِعَضْبَاءِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ ۱۴۲۴) عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم :« لاَ بَأْسَ بِالأُضْحِيَّةِ الْمَقْطُوعَةِ الذَّنَبِ (السنن الكبري للبيهقي باب الرَّجُلِ يَشْتَرِى ضَحِيَّةً وَهِىَ تَامَّةٌ ثُمَّ عَرَضَ لَهَا نَقْصٌ وَبَلَغَتِ الْمَنْسَكَ ۱۹۶۶۷)
    مسئلہ: ایسے جانور کا ذبح کرنا جس کے دانت ٹوٹ گئے ہوں جائز نہیں ہے، ہاں اگر زیادہ دانت باقی ہوں تو صحیح ہے۔ حوالہ
    عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَفَعَهُ قَالَ لَا يُضَحَّى بِالْعَرْجَاءِ بَيِّنٌ ظَلَعُهَا وَلَا بِالْعَوْرَاءِ بَيِّنٌ عَوَرُهَا وَلَا بِالْمَرِيضَةِ بَيِّنٌ مَرَضُهَا وَلَا بِالْعَجْفَاءِ الَّتِي لَا تُنْقِي (ترمذي بَاب مَا لَا يَجُوزُ مِنْ الْأَضَاحِيِّ ۱۴۱۷)
    مسئلہ:ایسے جانور کا ذبح کرنا جس کے پیدائشی طورپر کان نہ ہو جائز نہیں۔ حوالہ
    عن يَزِيد ذي مِصْرَ قَالَ :أَتَيْتُ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِىَّ فَقُلْتُ يَا أَبَا الْوَلِيدِ إِنِّى خَرَجْتُ أَلْتَمِسُ الضَّحَايَا فَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا يُعْجِبُنِى غَيْرَ ثَرْمَاءَ فَكَرِهْتُهَا فَمَا تَقُولُ؟ قَالَ :أَفَلاَ جِئْتَنِى بِهَا. قُلْتُ :سُبْحَانَ اللَّهِ تَجُوزُ عَنْكَ وَلاَ تَجُوزُ عَنِّى. قَالَ :نَعَمْ إِنَّكَ تَشُكُّ وَلاَ أَشُكُّ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُصْفَرَةِ وَالْمُسْتَأْصَلَةِ وَالْبَخْقَاءِ وَالْمُشَيِّعَةِ وَالْكَسْرَاءِ فَالْمُصْفَرَةُ الَّتِى تُسْتَأْصَلُ أُذُنُهَا حَتَّى يَبْدُوَ سِمَاخُهَا(السنن الكبري للبيهقي باب مَا وَرَدَ النَّهْىُّ عَنِ التَّضْحِيَةِ بِهِ ۱۹۵۷۴)
    مسئلہ: ایسے جانور کی قربانی جس کے تھن کے سرے کٹے ہوئے ہوں صحیح نہیں ہے۔حوالہ
    عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَفَعَهُ قَالَ لَا يُضَحَّى بِالْعَرْجَاءِ بَيِّنٌ ظَلَعُهَا وَلَا بِالْعَوْرَاءِ بَيِّنٌ عَوَرُهَا وَلَا بِالْمَرِيضَةِ بَيِّنٌ مَرَضُهَا وَلَا بِالْعَجْفَاءِ الَّتِي لَا تُنْقِي (ترمذي بَاب مَا لَا يَجُوزُ مِنْ الْأَضَاحِيِّ ۱۴۱۷) عن ابن عباس قال :قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :« لا يجوز في البدن العوراء ، ولا العجفاء ، ولا الجرباء ، ولا المصطلمة أطباؤها (المعجم الاوسط للطبراني من اسمه دليل ۳۷۱۶)
     

Share This Page