1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

ذبح کرنے کا بیان

Discussion in 'Eid-ul-Azha & Hajj' started by IQBAL HASSAN, May 16, 2017.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators

    ذبح کرنے کا بیان
    ذبح کی تعریف
    ذبح کے لغوی معنی: شق کے ہیں یعنی پھاڑنا۔ حوالہ
    وَأَصْلُ الذَّبْحِ الشَّقُّ(المصباح المنير: ۲۹۲/۳)

    ذبح کی اصطلاحی معنی:جانور كے چار يا تين رگوں (حلقوم،مری،ودجان،) كا كاٹناہے۔حوالہ
    عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ : الذَّكَاةُ فِى الْحَلْقِ وَاللَّبَّةِ(السنن الكبري للبيهقي باب الذَّكَاةِ فِى الْمَقْدُورِ عَلَيْهِ مَا بَيْنَ اللَّبَّةِ وَالْحَلْقِ ۱۹۵۹۶) ثُمَّ الْأَوْدَاجُ أَرْبَعَةٌ : الْحُلْقُومُ ، وَالْمَرِيءُ ، وَالْعِرْقَانِ اللَّذَانِ بَيْنَهُمَا الْحُلْقُومُ وَالْمَرِيءُ ، فَإِذَا فَرَى ذَلِكَ كُلَّهُ فَقَدْ أَتَى بِالذَّكَاةِ بِكَمَالِهَا وَسُنَنِهَا وَإِنْ فَرَى الْبَعْضَ دُونَ الْبَعْضِ فَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إذَا قَطَعَ أَكْثَرَ الْأَوْدَاجِ وَهُوَ ثَلَاثَةٌ مِنْهَا أَيُّ ثَلَاثَةٍ كَانَتْ وَتَرَكَ وَاحِدًا يَحِلُّ(بدائع الصنائع فصل في بَيَان شَرْطِ حِلِّ الْأَكْلِ فِي الْحَيَوَانِ الْمَأْكُولِ ۱۴۸/۱۰)

    انسان کے لیے جو چیزیں مفید ہوتی ہیں اللہ تعالی نے اسی کو جائز وحلال قرار دیا ہے اور جو چیزیں فطرت سلیمہ کے ناموافق یا صحت انسانی کے لیے نقصان دہ ہوں ان کو ناجائز وحرام قرار دیا ہے اورجو چیزیں حلال وجائز قرار دی گئی ہیں اس کے استعمال کے جائز طریقے بھی بتلائے گئے چونکہ جانور کے اندر موجود ‘بہنے والا خون’ (دم سائل) انسان کے لیے نقصان دہ ہے اس سے جانور کو پاک وصاف بنانے کا جو طریقہ ہے اسے ذبح کہا جاتا ہے اگر بغیر ذبح کے وہ جانور استعمال کیا گیا تو بہنے والا خون اس کے گوشت وغیرہ میں سرایت کرجاتا ہے جس کی وجہ سے پاک چیز بھی ناپاک ہوجاتی ہے۔ حوالہ
    يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ(المائدة: ۳) وَلَا يَطِيبُ إلَّا بِخُرُوجِ الدَّمِ الْمَسْفُوحِ وَذَلِكَ بِالذَّبْحِ وَالنَّحْرِ وَلِهَذَا حُرِّمَتْ الْمَيْتَةُ ؛ لِأَنَّ الْمُحَرَّمَ وَهُوَ الدَّمُ الْمَسْفُوحُ فِيهَا قَائِمٌ وَلِذَا لَا يَطِيبُ مَعَ قِيَامِهِ(بدائع الصنائع فصل في بَيَان شَرْطِ حِلِّ الْأَكْلِ فِي الْحَيَوَانِ الْمَأْكُولِ ۱۴۵/۱۰)

    ذبح کی قسمیں
    ذبح کی دو قسمیں ہیں: (۱)ذبح اختیاری، (۲)ذبح اضطراری۔
    جو جانور قابو میں نہ آتا ہو،ایسے جانور کو ذبح کرنے کے لیے کسی خاص قسم کی رگ وغیرہ کا کاٹنا ضروری نہیں ہوتا، کسی بھی جگہ زخم لگادینا کافی ہوتا ہے،اگر زخم لگانے کے بعد جانور قابو میں آجائے تو اسے صحیح طریقہ کے مطابق ذبح کیا جائے گا اوراگر مرنے کے بعد ہی قابو میں آئے تو حلال ہوجائے گا اوراس طرح کرنے کو ذبح اضطراری کہتے ہیں۔
    حوالہ
    عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى فَقَالَ اعْجَلْ أَوْ أَرِنْ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَأُحَدِّثُكَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ وَأَصَبْنَا نَهْبَ إِبِلٍ وَغَنَمٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا شَيْءٌ فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا(بخاري بَاب مَا نَدَّ مِنْ الْبَهَائِمِ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْوَحْشِ ۵۰۸۵) ( وَأَمَّا ) الِاضْطِرَارِيَّةُ فَرُكْنُهَا الْعَقْرُ وَهُوَ الْجَرْحُ فِي أَيِّ مَوْضِعٍ كَانَ وَذَلِكَ فِي الصَّيْدِ(بدائع الصنائع فصل في بَيَان شَرْطِ حِلِّ الْأَكْلِ فِي الْحَيَوَانِ الْمَأْكُولِ ۱۵۷/۱۰)

    جو جانور قابو میں آجاتا ہے اسے ذبح کرنا ذبح اختیاری کہلاتا ہے،ذبح اختیاری کے لیے ضروری ہے کہ غذا،سانس اورخون کی دونالیوں میں سے کم از کم تین رگیں کٹ جائیں۔ حوالہ
    عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ : الذَّكَاةُ فِى الْحَلْقِ وَاللَّبَّةِ(السنن الكبري للبيهقي باب الذَّكَاةِ فِى الْمَقْدُورِ عَلَيْهِ مَا بَيْنَ اللَّبَّةِ وَالْحَلْقِ ۱۹۵۹۶) ثُمَّ الْأَوْدَاجُ أَرْبَعَةٌ : الْحُلْقُومُ ، وَالْمَرِيءُ ، وَالْعِرْقَانِ اللَّذَانِ بَيْنَهُمَا الْحُلْقُومُ وَالْمَرِيءُ ، فَإِذَا فَرَى ذَلِكَ كُلَّهُ فَقَدْ أَتَى بِالذَّكَاةِ بِكَمَالِهَا وَسُنَنِهَا وَإِنْ فَرَى الْبَعْضَ دُونَ الْبَعْضِ فَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إذَا قَطَعَ أَكْثَرَ الْأَوْدَاجِ وَهُوَ ثَلَاثَةٌ مِنْهَا أَيُّ ثَلَاثَةٍ كَانَتْ وَتَرَكَ وَاحِدًا يَحِلُّ(بدائع الصنائع فصل في بَيَان شَرْطِ حِلِّ الْأَكْلِ فِي الْحَيَوَانِ الْمَأْكُولِ ۱۴۸/۱۰)

    ذبح کا ایک طریقہ ‘نحر’ بھی ہے جو اونٹ کو ذبح کے لیے استعمال ہوتا ہے،وہ یہ ہے کہ گردن اور سینےکے درمیان اونٹ کی شہ رگ پر نیزہ مارا جائے۔ حوالہ
    فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (الكوثر:۲) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ… وَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ سَبْعَ بُدْنٍ قِيَامًا(بخاري بَاب نَحْرِ الْبُدْنِ قَائِمَةً ۱۵۹۹)
     

Share This Page