1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. آئی ٹی استاد عید آفر
    Dismiss Notice

پرندوں كا حكم


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'Eid-ul-Azha & Hajj' started by IQBAL HASSAN, May 17, 2017.

Eid-ul-Azha & Hajj"/>May 17, 2017"/>

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65

    پرندوں كا حكم

    پرندوں میں بھی درندے حرام ہیں، یعنی جو پنجوں سے شکار کرنے والے اور دوسروں پر حملہ کرنے والے ہیں؛ اور کوئل بھی حرام ہے؛ اسی طرح نجاست خور کوّا بھی حرام ہے؛لیکن وہ کوّا جو دانے اور کھیتوں سے کھاتا ہے جائز ہے جسے زاغ کہتے ہیں اس کے علاوہ عام پرندے مرغی، بطخ، فاختہ، کبوتر،گورئیے،وغیرہ حلال ہیں۔حوالہ
    عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ(مسلم بَاب تَحْرِيمِ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ ۳۵۷۴)عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَاأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ مِنْ الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ يَقْتُلُهُنَّ فِي الْحَرَمِ الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ(بخاري بَاب مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنْ الدَّوَابِّ ۱۶۹۸)عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مَنْ يَأْكُلُ الْغُرَابَ وَقَدْ سَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسِقًا وَاللَّهِ مَا هُوَ مِنْ الطَّيِّبَاتِ(ابن ماجه بَاب الْغُرَابِ۳۲۳۹)شُعْبَةُ قَالَ : سَأَلْتُ الْحَكَمَ عَنْ أَكْلِ الْغِرْبَانِ فَقَالَ : أَمَّا هَذِهِ السُّودُّ الْكِبَارُ فَإِنِّى أَكْرَهُ أَكْلَهَا وَأَمَّا تِلْكَ الصِّغَارُ الَّتِى يُقَالُ لَهَا الزَّاغُ فَلاَ بَأْسَ بِأَكْلِهِ.
    (السنن الكبري للبيهقي باب مَا يَحْرُمُ مِنْ جِهَةِ مَا لاَ تَأْكُلُ ۱۹۸۵۴)
     

Share This Page