1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

جانوروں كےاحكام

Discussion in 'Eid-ul-Azha & Hajj' started by IQBAL HASSAN, May 17, 2017.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators

    جانوروں كےاحكام

    (۱)جن جانوروں کا کھانا حلال ہے وہ طبعی موت مرجائیں یا ان کا گلا گھونٹ دیا گیا ہو یا چوٹ لگنے کی وجہ سے مرگیا ہو، یا کسی درندے کے حملہ کی وجہ سے مرگیا ہو الغرض وہ تمام جانور جن کی موت شرعی ذبح کے بغیر ہوئی ہو ان کا کھانا ناجائز وحرام ہے۔حوالہ
    حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ(المائدة: ۳)
    بند
    (۲)جانوروں کا بیچنا اس وقت درست ہے جبکہ وہ اس کی ملکیت میں ہو اور اپنے قابو میں کرلیا ہو نيز وہ حلال ہوں یا اس سے کسی بھی قسم کا نفع اٹھایا جاسکتا ہو۔حوالہ
    عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَأْتِينِي الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي مِنْ الْبَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدِي أَبْتَاعُ لَهُ مِنْ السُّوقِ ثُمَّ أَبِيعُهُ قَالَ لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ(ترمذي بَاب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ ۱۱۵۳)عن ابْن عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ بَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنَّ فُلَانًا بَاعَ خَمْرًا فَقَالَ قَاتَلَ اللَّهُ فُلَانًا أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا(بخاري بَاب لَا يُذَابُ شَحْمُ الْمَيْتَةِ وَلَا يُبَاعُ وَدَكُهُ ۲۰۷۱) أجمع العلماء على تحريم بيع الميتة ، لتحريم الله تعالى لها بقوله : ( حرمت عليكم الميتة والدم… فالواجب أن يكون كل ما كان نجساُ حرام بيعه وشراؤه ، وأكل ثمنه ، وكل ما حرم أكله وهو طاهر ، فحلال بيعه وشراؤه ، والانتفاع به فيما لم يحظر الله تعالى الانتفاع به ، فبان الفرق بينهما(شرح صحيح البخاري لابن بطال كِتَاب الْبُيُوعِ۳۴۶/۶) فكل ما لا ينتفع به بيقين فأكل المال عليه باطل(التمهيد لما في الموطا من المعاني والاسانيدالقرطبي (المتوفى : 463هـ)المحقق : مصطفى بن أحمد العلوى و محمد عبد الكبير البكرى،الحديث العاشر ۲۴۱/۶)

     

Share This Page