1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

خواتین اسلام رمضان المبارک کیسے گزاریں؟

Discussion in 'Ramadan Sharif' started by IQBAL HASSAN, May 20, 2017.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators

    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●

    خواتین اسلام رمضان المبارک کیسے گزاریں؟
    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●


    عنقریب رمضان کا مبارک مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے، چاروں طرف مسلمانوں میں خوشی ہی خوشی ہے۔ اﷲ کے نیک بندوں کو اس مہینے کا شدت سے انتظار ہوتا ہے اور کیوں نہ ہو کہ یہ نیکی،برکت، بخشش،عنایت، توفیق،عبادت، زہد،تقوی، مروت، خاکساری، مساوات، صدقہ وخیرات،رضائے مولی،جنت کی بشارت،جہنم سے گلوخلاصی کا مہینہ ہے۔رب کریم سے دعا ہے کہ ہمیں اس ماہ مبارک میں ان ساری نعمتوں سے مالامال کردے۔
    رمضان المبارک کا روزہ، تراویح، صدقہ، دعا، ذکر، تلاوت ،مناجات، عمرہ اور دیگر اعمال صالحہ جہاں مردوں کے لئے ہیں وہیں عورتوں کے لئے بھی ہیں۔ ان اعمال کا اجر وثواب جس طرح مردوں کو نصیب کرتا ہے ویسے ہی اﷲ تعالی عورتوں کو بھی عنایت کرتا ہے۔ خواتین میں عام تصور یہ ہوتا ہے کہ رمضان تو صرف مردوں کا ہے، ہمارا کام صرف سحری پکانا اور افطار تیار کرنا ہے۔ عورتیں روزہ رکھتی ہیں مگر دیگر اعمال خیر میں پیچھے رہتی ہیں،اس کی بنیادی وجہ رمضان المبارک کے احکام ومسائل سے عدم واقفیت ہے۔ جس طرح مرد وں پر روزہ رکھنا فرض ہے ویسے عورتوں پر بھی فرض ہے اور جس طرح مردوں کو رمضان المبارک میں کثرت سے اعمال خیر انجام دینا چاہئے ویسے ہی عورتوں کو بھی انجام دینا چاہئے۔
    یہاں رمضان سے متعلق ان امور کا ذکر کیا جاتاہے جو مسلمان عورت کے لئے انجام دینا مستحب وپسندیدہ ہے ۔
    ٭ تمام قسم کی طاعت وبھلائی پر محنت کرنا: مثلا تلاوت قرآن کریم، اور اس میں تدبروتفکر،بکثرت صدقہ وخیرات،ذکرالہی اور فرائض وواجبات کے علاوہ نفلی عبادات پر محنت کرنا۔
    ٭ افطار میں جلدی کرنا: نبی ﷺ کا فرمان ہے: لایزال الناس بخیرماعجلوا الفطر(بخاری) اس وقت تک لوگ بھلائی کی راہ پر گامزن رہیں گے جب تک کہ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔
    اور اس سے یہودونصاری کی مخالفت مقصود ہے۔ ’’لان الیھود والنصاری یوخرون‘‘ کیونکہ یہودونصاری افطاری میں تاخیر کرتے ہیں۔
    ٭ تازہ کھجور سے افطار کرنا: عن انس کان النبی ﷺ یفطر علی رطبات قبل ان یصلی فان لم یکن فعلی تمرات فان لم تکن تمرات حسا حسوات من ماء (احمد وابوداؤد وحسنہ البانی)
    ترجمہ: حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نماز مغرب سے پہلے تازہ کھجوروں سے افطار کیا کرتے تھے،اگر تازہ کھجوریں نہ ملتیں تو خشک کھجوروں سے افطار کرلیا کرتے تھے، اگر خشک کھجوریں میں میسر نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹوں پر ہی روزہ افطار کرلیا کرتے تھے۔
    ٭ افطار کے وقت دعا کرنا: ویسے دعا ہروقت مشروع ہے اور دعا عبادت ہے مگر بعض اوقات دعا کے لئے بہت اہم ہیں، ان میں ایک افطار کا وقت بھی شمار کیاجاتاہے، اس کی متعدد دلیلیں ہیں ان میں سے ایک یہ ہے۔
    ثلاث لاترد دعوتھم ، الامام العادل والصائم حین یفطر ودعوۃ المظلوم صحیح الترمذی : ۲۵۲۶)
    ترجمہ: تین قسم کے لوگوں کی دعا رد نہیں کی جاتی ہے۔ ایک منصف امام کی،دوسرے روزہ دار کی جب وہ افطارکرے، تیسرے مظلوم کی۔
    ٭ سحری میں تاخیرکرنا: بغیر سحری کے بھی روزہ درست ہے مگر نبی ﷺ نے خود بھی سحری کھائی ہے اور دوسروں کو بھی سحری کی ترغیب دی ہے اور فرمایاہے سحری کھاؤ کیونکہ اس میں برکت ہے۔مسلم شریف کی روایت میں ہے۔
    فصل مابین صیامنا وصیام اھل الکتاب اکلۃ السحر(صحیح مسلم : ۱۰۹۶)
    ترجمہ: ہمارے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان سحری کا فرق ہے۔
    ٭ روزے کی حالت میں گندے اخلاق اور بری باتوں سے بچنا۔ اگر کوئی گالی دے تو کہہ دیں میں روزے سے ہوں۔
    اذا اصبح احدکم یوما صائما فلا یرفث ولا یجھل فان امرا شاتمہ او قاتلہ فلیقل :انی صائم ، انی صائم ( صحیح مسلم : ۱۱۵۱)
    ترجمہ: جب تم میں سے کوئی روزے کی حالت میں ہو تو گندی باتوں اور نادانیوں سے پرہیز کرے، اگر کوئی تماہرے ساتھ گالی گلوج اور قتال کرے تو کہہ دو میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں۔
    من لم یدع قو ل الزور والعمل بہ فلیس ﷲ حاجۃ فی ان یدع طعامہ وشرابہ (صحیح البخاری : ۱۹۰۳)
    ترجمہ: اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا (روزے رکھ کر بھی) نہ چھوڑے تو اﷲ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔
    عورتوں میں گالی گلوج اور لعن طعن بہت زیادہ ہے، روزے کی حالت میں اس کا خاص خیال رکھنا ہے کہ زبان سے کہیں گندی باتیں نہ نکلے۔ روزہ صرف بھوک وپیاس برداشت کرنے کا نام نہیں ہے، آداب صیام میں ہے کہ ہم ہاتھ، پیر، دل، دماغ اور زبان تمام اعضائے بدن کو منکرات سے دور رکھیں۔
    ٭لوگوں کو افطار کرانا: نبی پاک ﷺ نے فرمایا:
    من فطر صائما کان لہ مثل اجرہ غیر انہ لا ینقص من اجر الصائم شیئا(صحیح الترمذی : ۸۰۷)
    ترجمہ: جس شخص نے کسی روزہ دارکو افطارکروایاتواس شخص کوبھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا ثواب روزہ دار کے لئے ہوگا،اورروزہ دارکے اپنے ثواب میں سے کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی۔
    عورت چاہے تو اپنے ذاتی پیسے سے دیگر خواتین کو افطار کراسکتی ہیں،شوہر کی طرف سے افطار کی دعوت پر بیوی کو بھی اجر ملے گا اگر اس کے کاموں میں مدد کرتی ہے۔
    ٭ عمرہ کرنا:رمضان میں مرد کی طرح عورت بھی عمرہ کرسکتی ہے،اس ماہ مبارک میں عمرہ کا ثواب حج کے برابر ہے، ایک دوسری روایت میں نبی ﷺ کے ساتھ حج کرنے کے برابر کہا گیا ہے۔
    نبی ﷺ نے ایک انصاریہ عورت سے فرمایا تھا:
    فاذاجاء رمضان فاعتمری فان عمرۃ فیہ تعدل حجۃ ( صحیح مسلم (۱۲۵۶)
    ترجمہ: جب رمضان آئے تو تم عمرہ کرلینا کیونکہ اس (رمضان) میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔
    یہاں ایک بات یہ واضح رہے کہ عورت کے لئے عمرہ کے سفر میں محرم کا ہونا ضروری ہے، بغیر محرم سفر کرنے اور عمرہ کرنے سے گنہگار ہوگی۔ دوسری بات یہ ہے کہ عورت ہو یا مرد دوسرے ملک سے سفر کرکے سعودی عرب آنا اور عمرہ کرنا مشقت کا باعث ہے اور رمضان جیسے مبارک مہینے میں ایک اجر کے حصول کے لئے کئی اجر والے کام چھوٹنے کا امکان ہے، اس لئے جو سعودی عرب میں موجود ہیں ان کے لئے تو آسانی ہے باہری لوگوں کے لئے کلفت کے سبب اپنے اپنے ملکوں میں ہی رمضان گزارنا زیادہ بہتر ہے۔ ہاں سعودیہ میں پورا رمضان گزارنے کا ارادہ ہو تو اس کی بات الگ ہے۔
    ٭مسواک کرنا: آپ ﷺ کا دستور ہمیشہ مسواک کیا کرتے تھے اور رمضان شریف میں بکثرت کیا کرتے تھے۔ عمار بن ربیعہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:
    رایت النبی ﷺ یستاک وھو صائم مالااحص او اعد(رواہ البخاری معلقا)
    ترجمہ: میں نے نبی ﷺ کو روزے کی حالت میں شمار کرنیسے زیادہ مسواک کرتے دیکھا۔
    اسے امام بخاری نے تعلیقا روایت کیا ہے۔
    ٭ بچوں سے تربیت کے طور پر روزہ رکھوانا: اگر بچہ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتاہوتو اسے عادتا روزہ رکھوانا چاہئے۔ ربیع بنت معوذ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم اپنے بچوں سے روزہ رکھواتے تھے اور ان کے لئے کھلونے رکھتے، جب بچے کھانے کے لئے روتے تو ہم انہیں وہ کھلونے پیش کردیتے یہاں تک کہ افطار کا وقت ہوجاتا۔ (بخاری)
    مذکورہ حدیث میں ایک عورت کا بہترین کردار بیان کیا گیاہے کہ اسے اپنے بچوں سے بھی روزہ رکھوانا چاہئے۔
    ٭ اعتکاف: جس طرح مرد کے لئے اعتکاف مسنون ہے اسی طرح عورت کے لئے بھی اعتکاف مشروع ہے۔ اور یہ بھی واضح رہے کہ اعتکاف کی جگہ صرف مسجد ہے۔ جیساکہ اوپرقرآن کی آیت سے واضح ہے اور نبی ﷺ نے اس پہ عمل کرکے دکھایا ہے۔اگر عورت اعتکاف کرے تو اسے بھی مسجد میں ہی اعتکاف کرنا ہوگا خواہ جامع مسجد ہو یا غیر جامع۔ صرف جامع مسجد میں اعتکاف والی روایت (لااعتکاف الا فی مسجد جامع ) پر کلام ہے۔ اگر جامع مسجد میں اعتکاف کرے تو زیادہ بہترہے تاکہ نماز جمعہ کے لئے نکلنے کی ضرورت نہ پڑے۔
    اعتکاف رمضان میں کئے جانے والے ان اعمال میں سے ہے جس کی تاکید آئی ہے۔ اور یہ ان سنتوں میں سے سنت مؤکدہ ہے جس پہ نبی ﷺ نے ہمیشگی برتی ہے اور آخری عشرے میں اس کی تاکید کی ہے۔ اس کی دلیل حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ نبی ﷺ ہرسال رمضان میں دس دن کا اعتکاف کیا کرتے تھے، انتقال کے سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔(بخاری)
    ٭ نمازتراویح: سعودی عرب میں تو عورتیں مسجد میں آکر جماعت سے تراویح کی نماز ادا کرتی ہیں، تراویح جسے قیام اللیل اور تہجد بھی کہتے ہیں رمضان المبارک میں اس کا اجر بہت بڑھ جاتا ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:
    من قام رمضان ایمانا واحتسابا غفرلہ ما تقدم من ذنبہ (صحیح مسلم : ۷۵۹)
    ترجمہ: جس نے رمضان کی راتوں میں نماز تراویح پڑھی، ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ، اس کے اگلے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے۔
    لہذا عورتوں کو بھی تراویح کی نماز کا اہتما م کرنا چاہئے، اگر مسجد میں عورتوں کے لئے علاحدہ انتظام نہ ہو تو گھر پر ہی جماعت سے یا اکیلے تراویح کی آٹھ رکعات نماز پڑھیپھر تین رکعات وتر پڑھے ۔
    ٭ شب قدر میں اجتہاد: لیلۃ القدر کی اہمیت و فضیلت پہ ایک مکمل سورت نازل ہوئی ہے جس سے اس کی فضیلت کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔اس رات قیام کا اجر پچھلے سارے گناہوں کا کفارہ ہے۔
    من قام لیلۃ القدر ایمانا واحتسابا غفرلہ ما تقدم من ذنبہ (صحیح البخاری : ۱۹۰۱)
    ترجمہ: جو لیلۃ القدر میں ایمان و احتساب کے ساتھ قیام کرے اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
    جہاں تک اس رات کی تعیین کا مسئلہ ہے تو اس سلسلے میں علماء کے مختلف اقوال ملتے ہیں مگر راحج قول یہ ہے کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں (21،23،25،27،29) میں سے کوئی ایک ہے۔ اس کی دلیل نبی ﷺ کا فرمان ہے:
    تحروا لیلۃ القدر فی الوتر من العشر الاواخر من رمضان (صحیح البخاری : ۲۰۱۷)
    ترجمہ: لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔
    لہذا عورتوں کو بھی طاق راتوں میں شب بیداری کرنی اور خوب خوب طاعت وبھلائی کا کام کرنا چاہئے۔ جب جاگنا ہی مقصود نہیں بلکہ جاگ کر بھلائی کا کام کرنا مقصود ہے۔
    رمضان المبارک سے متعلق عورتوں کے مزید چند مسائل:
    (1) بیمار عورت کا حکم: بیمارعورت کی دوقسمیں ہیں ایک وہ بیمارعورت جو روزہ کی وجہ سے مشقت یا جسمانی ضررمحسوس کرے یا شدید بیماری کی وجہ سے دن میں دوا کھانے پہ مجبور ہو تو اپنا روزہ چھوڑسکتی ہے۔ ضرر و نقصان کی وجہ سے جتنا روزہ چھوڑے گی اتنے کا بعد میں قضا کرے گی۔اﷲ تعالی کا فرمان ہے:
    فمن کان منکم مریضا او علی سفر فعدۃ من ایام اخرَ(البقرۃ:184)
    ترجمہ: اورجوکوئی مریض ہو یا پھر مسافر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔
    دوسری وہ بیمار جن کی شفا یابی کی امید نہ ہو اور ایسے ہی بوڑے مردوعورت جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہو ان دونوں کے لئے روزہ چھوڑنا جائز ہے اور ہرروزے کے بدلے روزانہ ایک مسکین کو نصف صاع(تقریبا ڈیڑھ کلو) گیہوں، چاول یا کھائی جانے والی دوسری اشیاء دیدے۔ اﷲ تعالی کا فرمان ہے:
    وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین ٍ(البقرۃ:184)
    ترجمہ:اور اس کی طاقت رکھنے والیفدیہ میں ایک مسکین کو کھانادیں۔
    یہاں یہ دھیان رہے کہ معمولی پریشانی مثلا زکام، سردرد وغیرہ کی وجہ سے روزہ توڑنا جائز نہیں ہے۔
    (2) مسافر عورت کا حکم: رمضان میں مسافر کے لئے روزہ چھوڑنا جائز ہے جیساکہ اﷲ کا فرمان ہے:
    فمن کان منکم مریضا او علی سفر فعدۃ من ایام اخرَ(البقرۃ:184)
    ترجمہ: اورجوکوئی مریض ہو یا پھر مسافر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔
    اگر سفر میں روزہ رکھنے میں مشقت نہ ہو تو مسافر ہ حالت سفر میں بھی روزہ رکھ سکتی ہے۔ اس کے بہت سارے دلائل ہیں۔ مثلا۔
    ایک صحابی نبی ﷺ سے سفر میں روزہ کے بابت پوچھتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا:
    إن شئتَ صمتَ وإن شئتَ أفطرتَ(صحي ح النسائي:2293)
    ترجمہ: اگر تم چاہو تو روزہ اور اگر چاہو تو روزہ چھوڑ دو۔
    مسافرہ چھوڑے ہوئے روزے کی قضا بعد میں کرے گی ۔
    (3) حیضاء ونفساء کا حکم: حیض والی اور بچہ جنم دینے والی عورت کے لئے خون آنے تک روزہ چھوڑنے کا حکم ہے اور جیسے ہی خون بند ہوجائے روزہ رکھنا شروع کردے۔ کبھی کبھی نفساء چالیس دن سے پہلے ہی پاک ہوجاتی ہیں تو پاک ہونے پر روزہ ہے۔عورت کیلئے مانع خون دوا استعمال کرنے سے بہتر ہے طبعی حالت پہ رہے۔حیض اور نفاس کے علاوہ خون آئے تو اس سے روزہ نہیں توڑنا ہے بلکہ روزہ جاری رکھناہے۔
    (4) مرضعہ وحاملہ کا حکم: دودھ پلانے والی عورت اور حاملہ عورت کو جب اپنے لئے یا بچے کیلئے روزہ کے سبب خطرہ لاحق ہو تو روزہ چھوڑ سکتی ہے۔ بلاضرر روزہ چھوڑنا جائز نہیں ہے۔ نبی ﷺ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے۔
    ان اﷲ عزوجل وضع للمسافر الصوم وشطر الصلاۃ وعن الحبلی والمرضع (صحیح النسائی : ۲۳۱۴)
    ترجمہ: اﷲ تعالی نے مسافر کے لئے آدھی نماز معاف فرما دی اور مسافر اور حاملہ اور دودھ پلانے والی کو روزے معاف فرما دیئے۔
    جب عذر کی وجہ سے عورت روزہ چھوڑدے تو بعد میں اس کی قضا کرے۔حاملہ اور مرضعہ کے تعلق سے فدیہ کا ذکرملتا ہے جو کہ صحیح نہیں ہے۔
    (5) چھوٹی بچی کے روزہ کا حکم: اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ تربیت کے طور پر بچو ں سے روزہ رکھوانا چاہئے اگر طاقت رکھتے ہوں خواہ لڑکا ہو یا لڑکی لیکن جب بالغ ہوجائے تو پھر ا س پر روزہ فرض ہوجاتا ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:
    رفع القلم عن ثلاث : عن المجنون المغلوب علی عقلہ حتی یفیق وعن النائم حتی یستیقظ وعن الصبی حتی یحتلم (صحیح ابوداود: ۴۴۰۱)
    ترجمہ:میری امت میں سے تین قسم (کے لوگوں) سے قلم اٹھا لیا گیاہے، مجنون اور پاگل اور بے عقل سے جب تک وہ ہوش میں آجائے ، اور سوئے ہوئے سے جب تک وہ بیدار ہوجائے ، اور بچے سے جب تک وہ بالغ ہو جائے۔
    بعض علماء نیروزہ کے لئے بچوں کی مناسب عمردس سال بتلائی ہے کیونکہ حدیث میں دس سال پہ ترک نماز پر مارنے کا حکم ہے۔ بہر کیف دسواں سال ہو یا اس سے پہلے کا اگر بچے روزہ رکھ سکتے ہوں تو سرپرست کی ذمہ داری ہے کہ ان سے روزہ رکھوائیں۔
    (6) قصدا روزہ توڑنے والی عورت کا حکم: رمضان میں بغیر عذر کے قصدا روزہ چھوڑنے والی عورت گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے۔ اسے اولا اپنے گناہ سے سچی توبہ کرنی چاہئے اور جو روزہ چھوڑی ہے اس کی بعد میں قضا بھی کرے۔ اور اگر کوئی بحالت روزہ جماع کرلیتی ہے اسے قضا کے ساتھ کفارہ بھی ادا کرنا ہے۔کفارہ میں لونڈی آزاد کرنا یا مسلسل دو مہینے کا روزہ رکھنا یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔یاد رہے بلاعذر روزہ توڑنے کا بھیانک انجام ہے۔
    (7) بے نمازی عورت کے روزے کا حکم: جیسے روزہ ارکان اسلام میں ایک رکن ہے ویسے ہی نماز بھی ایک رکن ہے۔ نماز کے بغیر روزے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جو نماز کا منکر ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ نبی ﷺ فرمان ہے:
    العھد الذی بیننا وبینھم الصلاۃ فمن ترکھا فقد کفر(صحیح الترمذی : ۲۶۲۱)
    ترجمہ:ہمارے اور ان کے درمیان نماز کا عہد ہے،جس نے نماز کو چھوڑا پس اس نے کفر کیا۔
    اس وجہ سے تارک صلاۃ کا روزہ قبول نہیں ہوگا بلکہ نماز چھوڑنے کی وجہ سے اس کا کوئی بھی عمل قبول نہیں کیا جائے گاجب تک کہ وہ توبہ نہ کرلے۔
    اﷲ تعالی ہم رمضان کے برکات وحسنات سے ہم سب کا دامن بھر دے اور اس ماہ مبارک کو ہماری نجات کا ذریعہ بنادے۔آمین
    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●
     
  2. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

Share This Page