1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

تقویٰ کیا ہے؟


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'Ramadan Sharif' started by IQBAL HASSAN, May 20, 2017.

Ramadan Sharif"/>May 20, 2017"/>

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65

    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●
    تقویٰ کیا ہے؟
    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●

    زندگی کا یہ راستہ جس پر انسان سفر کر رہا ہے، دونوں طرف افراط و تفریط، خواہشات اور میلاناتِ نفس، وساوس اور ترغیبات، گمراہیوں اور نافرمانیوں کی خار دار جھاڑیوں سے گھرا ہوا ہے۔ اس راستے پر کانٹوں سے اپنا دامن بچاتے ہوئے چلنا اور اطاعتِ حق کی راہ سے ہٹ کر بد اندیشی و بد کرداری کی جھاڑیوں میں نہ الجھنا، یہی تقویٰ ہے ۔اور یہی وہ عظیم مقصد ہے جس کے حصول کے لیے اور اس پر آئندہ کار بند رہنے کی تیاری کے لیے اﷲ تعالیٰ نے روزے فرض کیے ہیں۔ یہ وہ مقوی دوا ہے جس کے اندر خدا ترسی و راست روی کی قوت بخشنے کی خاصیت ہے۔ مگر فی الواقع اس سے یہ قوت حاصل کرنا انسان کی اپنی استعداد پر موقوف ہے۔ اگر آدمی روزے کے مقصد کو سمجھے اور جو قوت روزہ دیتا ہے اس کو لینے کے لیے تیار ہو اور روزے کی مدد سے اپنے اندر خوف خدا اور اطاعتِ امر کی صفت کو نشو و نما دینے کی کوشش کرے تو یہ چیز اس میں اتنا تقویٰ پیدا کر سکتی ہے کہ صرف رمضان ہی میں نہیں بلکہ اس کے بعد بھی سال کے باقی گیارہ مہینوں میں وہ زندگی کی سیدھی شاہراہ پر دونوں طرف کی خار دار جھاڑیوں سے اپنے دامن کو بچائے ہوئے چل سکے۔ اس صورت میں اس کے لیے روزے کے نتائج(ثواب) اور منافع(اجر) کی کوئی حد نہیں۔لیکن اگر وہ اصل مقصد سے غافل ہو کر محض بھوک پیاس ہی کوروزہ سمجھے اور تقویٰ کی صفت حاصل کرنے کی سعی و جہد نہ کرے تو ظاہر ہے کہ وہ اپنے نامۂ اعمال میں بھوک پیاس اور رات جگے کے سوا اور کچھ نہیں پا سکتا۔ اسی لیے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: "آدمی کا ہر عمل خدا کے ہاں کچھ نہ کچھ بڑھتا ہے، ایک نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک پھلتی پھولتی ہے۔ مگر اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ مستثنٰی ہے، وہ میری مرضی پر موقوف ہے، جتنا چاہوں اس کا بدلہ دوں"(متفق علیہ)۔یعنی بحالت روزہ جس شعور اور مشقت سے وہ نبرد آزما ہو گا اسی قدر اس کا اجر اس کو حاصل ہو گا۔
    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●
     
  2. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

Share This Page