1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

زبان کی حفاظت کو معمولی نہ سمجھیں

Discussion in 'Ramadan Sharif' started by IQBAL HASSAN, May 22, 2017.

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 83/98


    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●

    اسلام و علیکم
    یہ لنک دیکھنے کے لیے آپ کی
    10
    پوسٹ ہونا ضروری ہیں آپ نے ابھی تک
    0
    پوسٹ کی ہیں


    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●



    اللہ تعالیٰ نے انسان کو جن بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ان میں سے زبان ایک بہت بڑی نعمت ہے، زبان قلوب و اذہان کی ترجمان ہے، اسکا صحیح استعمال ذریعہ حصول ثواب اور غلط استعمال وعید عذاب ہے، یہی وجہ ہے کہ احادیث نبویہ ﷺ میں“اصلاحِ زبان” کو ضروریقرار دیا گیا ہے۔

    مومن کی شان: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    “من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلیقل خیراً أولیصمت“ (صحیح بخاری: ۶۰۱۸، صحیح مسلم: ۴۷/۷۴)
    جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے(اسے چاہئے یا تو) وہ بھلائی کی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔ اہل ایمان کی گفتگو بہترین اورپر تاثیر ہوتی ہے اور وہ ہمیشہ فضولیات سے احتراز کرتے ہیں کیونکہ

    نبی ﷺ نے فرمایا:

    “من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ“ (مؤطا امام مالک: ۹۰۳/۲ ح ۷۳۷ اوسندہ حسن)

    فضول باتوں کو چھوڑ دینا ، آدمی کے اسلام کی اچھائی کی دلیل ہے ۔

    بہترین مسلمان: سیدنا ابو موسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! مسلمانوں میں سے کون افضلہے ؟آپﷺ نے فرمایا: “من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ“ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔ (بخاری : ح ۱۱، مسلم۴۲/۶۶)

    کہتے ہیں کہ زبان کا نشتر (لوہے کے) نیزے سے زیادہ گہرا زخم کرتا ہے لہذا بہترین مسلمان بننے کے لئے اپنی زبان پر کنٹرول اور دوسرےمسلمان کی عزت نفس کا خیال بہت ضروری ہے۔

    سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے ایک دن نبی کریم ﷺ سے(ان کی دوسری بیوی سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کیبابت) عرض کیا : آپ کے لئے صفیہ کا ایسا ایسا ہونا کافی ہے۔ بعض راویوں نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مراد یہ تھی کہ وہپستہ قد ہیں تو آپ ﷺ نے(سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے) فرمایا“لقد قلت کلمۃً لومج بھا البحر لمزجتہ“ تو نے ایسی بات کہی ہے کہ اگراسے سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے تو وہ اس کا ذائقہ بھی بدل ڈالے۔
    )سنن ابی داؤد: ۴۸۷۵(

    نبی کریم ﷺ نے فرمایا : “إن دماء کم وأموالکم و أعراضکم بینکم حرام۔۔۔۔ الخ“)بخاری: ۶۷(
    یعنی ایک مسلمان کے لئے دوسرے مسلمان کا خون، مال اور اس کی عزت آبرو قابل احترام ہیں۔

    جنت کی ضمانت : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : “من یضمن لي مابین لحییہ ومابین رجلیہ أضمن لہ الجنۃ“
    جو شخص مجھے اپنی زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کی ضمانت دے تو میں اس کے لئے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ )بخاری : ۶۴۷۴(
    جس طرح زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے کی بنا پر جنت کی بشارت دی گئی ہے ایسے ہی ان دونوں کی حفاظت کی کوتاہی کرنے والوںکے لئے تنبیہ بلیغ ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    “أتدرون ما أکثر ما یدخل الناس النار ؟ الأجوفان: الفم و الفرج“
    کیا تم جانتے ہو کہ لوگوں کو کثرت کے ساتھ کون سی چیز جہنم میں داخل کرے گی؟ وہ دو کھوکھلی چیزیں ، زبان اور شرمگاہ ہیں۔
    )سنن ترمذی: ۲۰۰۴، سنن ابن ماجہ: ۴۲۴۶واسنادہ صحیح(

    زبان کے خطرات: سیدنا سفیان بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلممجھے ایسی بات بتلایئے جس کو میں مضبوطی سے تھام لوں، آپﷺ نے فرمایا“قلم ابي اللہ ثم استقم“ تم کہو میرا رب اللہ ہے، پھر اس پر جمجاؤ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ خطرے والی چیز جس کا آپ کو مجھ سے اندیشہ ہو کیا ہے؟
    “فأخذ بلسان نفسہ ثم قال ھذا“ آپﷺ نے اپنی زبان پکڑی ، پھر فرمایا: یہ(زبان) ہے۔ (سنن ترمذی: ح۲۴۱۰واسنادہ صحیح(

    ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوچھنے پر نما ز، زکوۃ ، روزہ، حج بیت اللہ اور جہاد کےمتعلق بالتفصیل بیان فرمایا: آخر میں فرمایا: ألا أخبرک بملاک ذلک کلہ؟ کیا میں تجھے ایسی بات نہ بتلاؤں جس پر ان سب کا دار ومدار ہے؟میں نے کہا : بلی یا رسول اللہ، اے اللہ کے رسول کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور فرمایا :”کف علیک ھذا“ اس کو روک کےرکھ، میں عرض کیا، کیا ہم زبان کے ذریعے جو گفتگو کرتے ہیں اس پر بھی ہمار ی گرفت ہوگی؟ آپﷺ نے فرمایا تیری ماں تجھے گم پائےلوگوں کو جہنم میں اوندھے منہ گرانے والی زبان کی کاٹی ہوئی کھیتی (گفتگو) کے سوا اور کیا ہے!؟ (سنن ترمذی: ح ۲۶۱۶وسندہ حسن(

    معلوم ہوا کہ زبان کا غلط استعمال آدمی کے اعمال(نماز ، روزہ، زکوۃ، حج، جہاد) وغیرہ کو برباد کرسکتا ہے اور جنت کی بجائے جہنم کاایندھن بنا سکتا ہے۔ أعاذنا اللہ منھا

    پہلے تولو۔۔۔پھر بولو: ہمیشہ دوران گفتگو تدبر و تفکر کو ملحوظ رکھنا چاہئے کیونکہ زبان کی ذرا سی بے اعتدالی انسان کو دنیا و آخرت کےآلام و مصائب سےدو چار کر سکتی ہے ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ )سورۃ ق آیت 18(
    ترجمہ: انسان جو لفظ بھی بولتا ہے تو اس کے پاس ہی ایک نگران موجود ہوتا ہے۔

    یعنی انسان کی ہر بات ریکارڈ ہوتی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی ایک بات کرتاہے اس میں غور و فکر نہیں کرتا اور وہ اس بات کی وجہسے مشرق و مغرب کے درمیان مسافت سے بھی زیادہ جہنم کی طرف گر جاتا ہے ۔ (صحیح بخاری: ۶۴۷۷، صحیح مسلم:۲۹۸۸/۴۹(

    نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب انسان صبح کرتا ہے تو اس کے تمام اعضاء زبان کی منت سماجت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ:”اتق اللہفینا“ ہمارے بارے میں تجھے اللہ سے ڈرنا چاہئے۔ بلاشبہ ہمارا معاملہ تیرے ساتھ وابستہ ہے، اگر تو درست رہے گی تو ہم بھی درست رہیںگے اور اگر تجھ میں ٹیڑھا پن آگیا تو ہم بھی ٹیڑھے ہوجائیں گے۔
    )سنن ترمذی: ۲۴۰۷ وسندہ حسن(

    یعنی پہلے زبان درازی ، گالی گلوچ ہوتی ہے پھر لڑائی جھگڑا ہوتا ہے، تو مار جسم کو ہی برداشت کرنی پڑتی ہے اسی لئے جسم کے سارےاعضاء زبان کے سامنے منت سماجت کرتے ہیں، ہر دو احادیث سے زیادہ واضح ہوگیا ہے کہ زبان کا استعمال صحیح نہ کرنے کی وجہ سےدونوں جہانوں میں خسارے کا سامنا ہے۔

    خاموشی میں نجات : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:”من صمت فقد نجا“جو شخص خاموش رہا وہ نجات پاگیا(سنن ترمذی: ۲۵۰۱ وسندہ حسن مزید تحقیق کے لئے دیکھئے “أضواء المصابیح” للاستاذ حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ:رقم ۳۸۳۶)

    مزید ارشاد فرمایا: لا تکثروا الکلام بغیر ذکر اللہ فإن کثرۃ الکلام بغیر ذکر اللہ تعالی قسوۃ للقلب! وإن أبعد الناس من اللہ القلب القاسي“ (سننترمذی: ح۲۴۱۱ و سندہ حسن )
    اللہ کے ذکر کے علاوہ زیادہ باتیں نہ کیا کرو اس لئے کہ اللہ کے ذکر کے علاوہ زیادہ باتیں دل کی سختی ہے اور لوگوں میں اللہ سے سب سےزیادہ دور سخت دل (والا آدمی) ہے۔

    امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : جاننا چاہئے کہ ہر مکلّف انسان کے لئے مناسب ہے کہ وہ ہر قسم کی گفتگو سے اپنی زبان کی حفاظت کرے،صرف وہ گفتگو کرے جس میں مصلحت واضح ہو، اور جہاں مصلحت کے اعتبار سے بولنا اور خاموش رہنا برابر ہوں تو پھر خاموش رہناسنت ہے۔ اس لئے کہ بعض دفعہ جائز گفتگو بھی حرام یا مکروہ تک پہنچا دیتی ہے اور ایسا عام طور پر ہوتا ہے اور سلامتی کے برابر کوئیچیز نہیں (ریاض الصالحین: ۳۸۹/۲ طبع دار السلام)
     

Share This Page