1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں!

Discussion in 'Ramadan Sharif' started by IQBAL HASSAN, May 22, 2017.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators

    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●
    خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں!

    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●



    معاشرے کے اندر پھیلتے ہوئے ‘‘روشن خیالی و اعتدال پسندی’’ کے جرثومے اس قدر تیزی سے بھولے بھالے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں کہ میرا قلم ان کے تعاقب سے قاصر ہے۔ تمام شعبہ ہائے زندگی کو اپنی سوچ، فکراور نظریے کے مطابق بنانا ان کا مقصد عظیم ہے۔ حتی کہ شریعت اسلامیہ بھی ان نظریاتی کاوشوں سے محفوظ نہیں رہی۔
    روشن خیالی کا راگ الاپنے والے دین محمدی(صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بھی اپنے خود ساختہ نظریے کے قالب ہیں ڈھالنا اپنی تگ و دو کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہیں بہت سے سکالر اور دانش ور مستعار مل جاتے ہیں ۔ کیونکہ ایسے مفکرین کا مطمح نظر شہیدوں میں نام لکھانا ہوتا ہے۔ یہ حضرات شہرت کے بھوکے اور مال و متاع کے حریص ہوتے ہیں ۔
    ‘‘چلو ادھر کو ہوا ہو جدھر کی’’ کے مصداق یہ لوگ زمانے کی زبان بولتے ہیں اور اپنے اکابرین کے کرتوتوں کو ‘‘الدین یسر’’ کے تحت ‘‘اعمال صالحہ’’ بنا کر پیش کرنے کی سعی نامراد کرتے ہیں۔ موسیقی، آلات طرب ، اختلاط مردوزن اور مصوری جیسے غیر شرعی امور کی حلت پر فتوے ان کی تحریر و تقریر کا خاصہ ہیں۔

    قارئین کرام! دین اسلام کو اس طرح سمجھنا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا ارو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سمجھا بہت ضروری ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

    ‘‘فَاِنْ اٰمَنُوْ ا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِاھْتَدَوْاج ’’‘‘پھر اگر وہ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم (صحابہ) ایمان لائے ہو تو انہوں نے ہدایت پالی۔ (البقرہ: ۱۳۷)
    اپنی عقل، فہم اور لغات کا سہارا لے کر دین کو اپنی مرضی سے سمجھنا گمراہی ہے۔ بعض من چلے تھری پیس میں ملبوس، کلین شیو(Clean Shave)مخلوط مجالس و محافل (Functions)میں بے حیائی و فحاشی کی عکاسی کرتے ہوئے ایسے بھی نظر آتے ہیں جو اپنی اس چوری پر سینہ زوری سے کام لیتے ہوئے ‘‘لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ ج’’ دین میں کوئی تنگی نہیں ہے(البقرہ:۲۵۶) یا پھر‘‘الدین یسر’’ دین آسان ہے (بخاری : ۳۹) سے باطل استدلال کرتے ہیں حالانکہ قرآن و حدیث متقاضی ہے کہ اس پر عمل پیرا ہو کر دنیا و آخرت کو بہتر بنایا جائے نہ کہ ان میں تحریفات اور غلط تاویلات کر کے اپنے غیر شرعی امور کو سنوارا جائے۔




     

Share This Page