1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

جہاد کی مختلف اقسام پر ایک جامع مضمون


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, May 26, 2017.

General Topics Of Islam"/>May 26, 2017"/>

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65

    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●

    جہاد کی مختلف اقسام پر ایک جامع مضمون

    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●



    الحمد للہ آپ کا مجلہ‘‘ الحدیث’’ تحقیق و تنقید کے حوالے سے بہترین جا رہاہے اللہ تعالیٰ آپ کو مزید توفیق عطا فرمائے۔ آمین خط لکھنے کی غرض و غایت اس مشہور حدیث نبوی کی تخریج دریافت کرنا ہے جو اکثر جہادی تنظیموں کے ذمہ داران سے سننے میں آتی ہے‘‘الجھاد ماضٍ إلیٰ یوم القِیامۃ’’ اس کے بارے میں برائے مہربانی‘‘الحدیث’’ میں ہی جواب عطا فرما کر ممنو ن فرمائیں۔ والسلام
    عکاشہ خان کشمیری بازار، راوالپنڈی۔پاکستان(۱۴۲۶ھ؍۰۳؍۲۳بمطابق ۰۵؍۰۴؍۳۰)

    الجواب:

    یزیدبن ابی نُشبہ عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی سند سے ایک روایت مروی ہے۔ اس روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘والجھاد ماضٍ منذ بعثني اللہ إلی ان یقاتل آخر امتی الدجال، لا یبطلہ جو رجا ئر ولا عدل عادل’’ جب سے اللہ نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے، جہاد جاری رہے گا یہاں تک کہ میرا آخری امتی دجال سے جنگ کرے گا ، اسے کسی ظالم (حکمران) کا ظلم اور عادل کا عدل باطل نہیں کرے گا۔ (سنن ابی داؤد: ۲۵۳۲، سنن سعید بن منصور: ۲۳۶۷)

    یہ روایت بلحاظ سند ضعیف ہے۔ اس کا راوی یزید بن ابی نشبہ: مجہول ہے۔
    (تقریب التہذیب: ۷۷۸۵، الکاشف للذہبی:۶۴۷۵)
    یاد رہے کہ دوسرے دلائل سے ثابت ہے کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔

    ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَھُوَ کُرْہ‘’ لَّکُمْ
    تمہارے اوپر قتال فرض کیا گیا ہے اور یہ تمہیں ناپسند تھا۔(سورۃ البقرہ: ۲۱۶)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:‘‘ الخیل معقود فی نواصیھا الخیر إلی یوم القیامۃ، الأجر و المغنم’’گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک خیر رکھی گئی ہے، اجر بھی ہے اور مالِ غنیمت بھی۔ (صحیح البخاری: کتاب الجہاد و السیر باب الجھاد ماض مع البرو الفاجرح ۲۸۵۲و صحیح مسلم : ۹۹؍۷۳ادارالسلام:۴۸۴۹)

    سَلَمہ بن نُفیل الکِندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘ ولا یزال من امتی امۃ یقاتلون علی الحق۔۔۔حتی تقوم الساعۃ’’ اور میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پرقتال کرتا رہے گا۔۔۔ حتی کہ قیامت برپا ہو جائے گی۔ (سنن النسائی ۶؍۲۱۴، ۲۱۵ح۳۵۹۱، وإسنادہ صحیح ؍عمدۃ المساعی فی تحقیق سنن النسائی ج ۲ص ۳۵۹ قلمی لراقم الحروف)

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:‘‘لن یبرح ھذا الدین قائماً، یقاتل علیہ عصابۃ من المسلمین حتی تقوم الساعۃ’ یہ دین (اسلام) ہمیشہ قائم رہے گا، مسلمانوں کی ایک جامعت دین کے لئے قیامت تک قتال کرتی رہے گی۔ (صحیح مسلم:۱۹۲۲دارالسلام:۴۹۵۳عن جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ)

    ان احادیث صحیحہ سے ثابت ہوا کہ جہاد قیامت تک جاری رہےگا۔
    ابن ہمام(حنفی متوفی ۷۶۱ھ)لکھتے ہیں کہ:‘‘ ولا شک أن اجماع الامۃ أن الجھاد ماض إلی یوم القیامۃ لم ینسخ، فلا یتصور نسخہ بعد النبی صلی اللہ علیہ وسلم’’ اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امت کا اس پر اجماع ہے کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا، یہ منسوخ نہیں ہوا، پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کی وفات) کے بعد اس کی منسوخیت کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ (فتح القدیر ج ۵ص۱۹۰ کتاب السیر)

    مشہور جلیل القدر تابعی امام مکحول الشامی رحمہ اللہ (متوفی ۱۱۳ھ)فرماتے ہیں کہ : ‘‘ إن فی الجنۃ لمائۃ درجۃ، مابین الدرجۃ إلی الدرجۃ کما بین السماء و الارض، أعدھا اللہ للمجاھدین فی سبیل اللہ’’بے شک جنت میں سو درجے ہیں، ایک درجے سے دوسرے درجے کے درمیان زمین و آسمان جتنا فاصلہ ہے، انہیں اللہ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں (مجاہدین) کے لئے تیار کر رکھا ہے۔(مصنف ابن ابی شیبہ ۵؍۳۰۴ح۱۹۳۵۳او سندہ صحیح)

    اس بہترین قول کی تائید صحیح بخاری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں موجود ہے۔(البخاری:۲۷۹۰)
    خلاصہ التحقیق: جہاد قیامت تک، کافروں اور مبتدعین کے خلاف جاری رہے گا۔
    جہاد کی بہت سی قسمیں ہیں۔

    ۱: زبان کے ساتھ جہاد کرنا
    ۲: قلم کے ساتھ جہاد کرنا

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ‘‘جاھدو المشرکین بأیدیکم وألسنتکم’’ اپنے ہاتھوں اور زبانوں کے ساتھ مشرکوں سے جہاد کرو۔(المختارۃ للضیاء المقدسی ج۵ص۳۶ح۶۴۲اواللفظ لہ، سنن ابی داؤد:۲۵۰۴)

    ۳: مال کےساتھ جہاد کرنا
    ارشاد باری تعالیٰ ہے:‘‘اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَآ اَنْفَقُوْا مَنّاً وَلَآ اَذیً لَّھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ’’ جو لوگ اللہ کے راستے میں میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں پھر اس خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتلاتے ہیں اور نہ تکلیف پہنچاتے ہیں تو ان کے لئے اُن کے رب کے پاس اجر ہے (سورۃ البقرہ:۲۶۲)

    ۴: اپنی جان کے ساتھ جہاد کرنا(جہاد بالنفس)
    اس کی دو قسمیں ہیں:
    اول: اپنے نفس کی اصلاح کر کے اُسے کتاب و سنت کا مُطیع و تابع کر دینا۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: ‘‘المجاھد من جاھد نفسہ’’ مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے۔(الترمذی:۱۶۲۱وقال: ‘‘حدیث حسن صحیح’’ وسندہ حسن و صححہ ابن حبان /موارد: ۱۶۲۴او الحاکم علی شرط مسلم۲/۷۹ و وافقہ الذھبی)

    دوم: اللہ کے راستے میں قتال کرنا
    اس کے بے شمار دلائل ہیں جن میں سے بعض حوالے شروع میں گزر چکے ہیں۔ اگر شرائط اسلامیہ کے مطابق ہو تو سب سے افضل جہاد یہی ہے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا جہاد افضل ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘ من جاھد المشرکین بمالہ و نفسہ’’ جو شخص مشرکوں سے اپنے مال اور اپنی جان (نفس) کے ساتھ جہادکرے۔ پوچھا گیا: کون سا مقتول سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘من أھریق دمہ و عقر جوادہ’’ جس کا خون (کافروں کے ہاتھوں) بہا دیا جائے اور اس کا گھوڑا کاٹ ( کر مار) دیا جائے۔ (سنن ابی داؤد:۱۴۴۹او سندہ حسن)

    یاد رہے کہ دہشتگردی اور بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے کا ، جہاد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ امام ابو حاتم الرازی اور امام ابو زرعہ الرازی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ:

    ‘‘ہر زمانے ( اور علاقے میں ہم مسلمان حکمران کےساتھ جہاد اور حج کی فرضیت پر عمل پیرا ہیں۔۔۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (نبی و رسول بنا کر ) مبعوث فرمایا ہے، مسلمان حکمرانوں کے ساتھ مل کر (کافروں کے خلاف) جہاد جاری رہے گا۔ اسے کوئی چیز باطل نہیں کرے گی۔ [یعنی جہاد ہمیشہ جاری رہے گا](أصل السنۃ و اعتقاد الدین: ۱۹ ، ۲۳ ، الحدیث حضرو:۲ ص ۴۳) نیز دیکھئے الحدیث : ۳ص۲۶

    دکتور عبداللہ بن احمد القادری نے ‘‘الجھاد فی سبیل اللہ، حقیقتہ و غایتہ’’ کے نام سے دو جلدوں میں ایک کتاب لکھی ہے، ساڑھے گیارہ سو سے زائد صفحات کی اس کتاب میں عبداللہ بن احمد صاحب جہاد کی قسمیں بیان کرتے ہیں:
    جہاد معنوی =جھاد النفس، (نفس سے جہاد)، جھاد الشیطان(شیطان سے جہاد)، جہاد الفرقۃ والتصدع(تفرق اور انتشار کے خلاف جہاد)، جھاد التقلید(تقلید کے خلاف جہاد)، جھاد الأسرۃ(خاندانی رسومات کے خلاف جہاد) جہاد الدعوۃجہاد مادی=اعداد المجاھدین (مجاہدین کی تیاری) ، الجھاد بلأ نفس و الأموال(نفس اور مال کےساتھ جہاد)،انشاء المصانع الجھادیۃ(جہادی قلعوں کی تیاری) (ج۱ص ۲۷۳)

    لوگوں کو کتاب و سنت کی دعوت دینا، تقلید اور بدعات کے خلاف پوری کوشش کرنا بھی بہت بڑا جہاد ہے۔
    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ‘‘ فالراد علی أھل البدع مجاھد’’ پس اہلِ بدعت پر رد کرنے والا مجاہد ہے۔(نقض المنطق ص ۱۲ و مجموع فتاوی ابن تیمیہ ۴/۱۳)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا جہاد سب سے افضل ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:‘‘ کلمۃ عدل عند إمام جائر’’ ظالم حکمران کے سامنے عدل (انصاف، حق ) والی بات کہنا۔(مسند احمد ۵؍۲۵۶ح۲۲۵۶۱و سندہ حسن لذاتہ، و ابن ماجہ: ۴۰۱۲)

    مدرسے و مساجد تعمیر کرنا، لوگوں کو قرآن و حدیث علی فہم السلف الصالح کی دعوت دینا، اس کے لئے تقریریں و مناظرے کرنا اور کتابیں لکھنا، یہ سب جہاد ہے۔

    آخر میں دو حدیثیں پڑھ لیں۔
    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مثل المجاھد فی سبیل اللہ، واللہ اعلم بمن یجاھد فی سبیلہ، کمثل الصائم القائم’’
    اللہ کے راستے میں مجاہد کی مثال، اور اللہ جانتا ہے کہ کون اس کے راستے میں جہاد کرتا ہے(مسلسل) روزہ دار اور (راتوں کو ) قیام کرنے والے کی طرح ہے۔ (صحیح بخاری: ۲۷۸۷)

    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:‘‘من خرج من الطاعۃ و فارق الجماعۃ ثم مات مات میتۃ جاھلیۃ، ومن قتل تحت رایۃ عمیۃ یغضب للعصبۃ و یقاتل للعصبۃ فلیس من أمتی’’
    جو شخص (خلیفہ کی) اطاعت سے نکل گیا اور (مسلمانوں کی) جماعت(یا اجماع) کی مخالفت کی تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے، اور جو شخص اندھے (جاہلیت کے ) جھنڈے کے نیچے مارا گیا، وہ خاندان کے لئے غصہ اور قتال کرتا تھا تو یہ شخص میری امت میں سے نہیں ہے۔۔۔إلخ(صحیح مسلم، کتاب الإمارۃ، باب و جوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین عند ظھور الفتن ۵۴؍۸۴۸ادارالسلام:۴۷۸۸) وما علینا إلا البلاغ (۵ ربیع الثانی ۱۴۲۶ھ)
     
    PakArt likes this.
  2. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

Share This Page