1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

ذہنی کنکر

Discussion in 'Urdu library topic sahre by member's' started by deewan, Jul 22, 2017.

  1. deewan

    deewan Newbi

    کبھی تو آپ کو بھی یہ تجربہ ہوا ہو گا کہ جوتے میں ایک کنکر گھس گیا جو بعض اوقات چاول کے دانے سے بڑا نہیں ہوتا لیکن آپ کے لیے دو قدم چلنا دشوار کر دیتا ہے۔ آپ کی فوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ اس سے نجات حاصل کی جائے۔ آپ فورا رک جاتے ہیں۔ ماحول سے بے پرواہ جوتا پیر سے نکالتے ہیں اس کنکر کو جھاڑ دیتے ہیں۔ آپ نے غور کیا کہ جوتا اتارنا، کنکر جھاڑنا بلکہ بعض اوقات موزہ اتار کر اس کنکر سے جان چھڑانا یہ سب کچھ اس طور سے ہوتا کہ اس میں آپ کا اپنا اختیار کم و بیش غیرموجود ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اس معمولی کنکر نے آپ کو پریشان کرڈالا ہے اور آپ کے لیے چلنا پھرنا دشوار کردیا ہے۔

    یہ کنکر تو ہم نکال دیتے ہیں لیکن کئی کنکر ایسے ہیں جو ہماری زندگیوں میں گھسے ہوتے ہیں اور جس طرح جوتے میں گھسا ہوا کنکر ہمارے قدم روک لیتا ہے اسی طرح ہمارے اندر گھسے ہوئے کنکر بلکہ کنکروں کی وجہ سے ہمیں زندگی کے سفر میں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ہے لیکن شاید ہی کوئی شخص اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ وہ ان کنکروں سے جان چھڑائے اور اپنی زندگی کو پرسکون بنائے۔ عمر گزر جاتی ہے لیکن یہ ذہنی کنکر انسان اپنی جان کے ساتھ لگائے رہتا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سوں کو یہ معلوم ہی نہیں کہ ان کی زندگی کی تلخیاں، اس میں پڑی ہوئی الجھنیں جو ان کے لیے سوہان روح بنی ہوئی ہیں یہ اصل میں ان روحانی کنکروں کے لگائے ہوئے زخم ہیں۔

    یہ کنکر کیا ہیں؟ یہ روحانی امراض ہیں۔ جن کی جڑیں ہمارے نفس کے اندر ہیں۔ حسد کو لے لیجیے بلاوجہ کی چیز لیکن جس سے حسد وہ چاہے سامنے نہ ہو لیکن انسان کو بے چین کر رہا ہے ۔ وہی جوتے میں گھسے ہوئے کنکر کی طرح۔ کبر کو لیجیے کسی کے پاس اپنے سے بہتر چیز دیکھ لی تو ہو گئی پریشانی شروع۔ اپنی نظروں سے خود کو گرا ہوا محسوس کرنے لگتا ہے ایسا انسان۔ ذات کا یہ کنکر بے چین کیے دے رہتا ہے اس کو۔

    ان کنکروں کواپنی ذات سے نکالے بغیر ہماری زندگی ظاہر میں کتنی ہی خوشگوار ہوجائے لیکن وہ پرسکون نہیں ہوسکتی اسی طرح جس طرح مہنگے سے مہنگا خریدا ہوا جوتا اندر موجود کنکر کی وجہ سے ہم کو راحت پہنچانے کی بجائے اور بے چین کر ڈالتا ہے۔ اور چین اسی وقت ملتا ہے جب وہ کنکر نکال کر باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ اسی طرح اپنی ذات میں چھپے ہوئے کنکر جب تک چن چن کر نکال نہیں دیے جائیں گے سکون و عافیت ایک خواب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ بلکہ خواب تو بعض اوقات سچے ثابت ہوتے ہیں لیکن زندگی کو خوشگوار بنانے کا خواب کبھی سچا ثابت نہیں ہوسکتا جب تک اپنی ذات میں ڈوب کر اس میں پوشیدہ کنکر جھاڑ نہ دیے جائیں چاہے آپ دولت کے انبار جمع کرلیں۔ اتنے بڑے انبار کہ ان کی چوٹی آسمانوں کو چھو لے۔
    قد افلح من تزکی (الاعلی: 14)
    یقینا فلاح پاگیا جس نے تزکیہ کیا
    میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔​
     
    Admin likes this.
  2. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

  3. Admin

    Admin Cruise Member Staff Member

    Very nice 1 dam sachi bat hi
     
    PakArt likes this.
  4. Wajahat

    Wajahat VIP Member Staff Member

    بہت خوب
     
  5. Wajahat

    Wajahat VIP Member Staff Member

    بہت خوب
     

Share This Page