1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

پانی میں قیدی

Discussion in 'Urdu Iqtebaas' started by Wajahat, Jul 28, 2017.

Share This Page

  1. Wajahat
    Offline

    Wajahat VIP Member Staff Member
    • 28/33

    (پانی میں قیدی)
    *یہ اگست کی ایک حبس آلود رات تھی ۔بارہ بجنے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا ۔میں اپنے کمرے میں بیٹھی ایک دلچسپ ناول پڑھ رہی تھی ،جس کا عنوان تھا " پانی میں قیدی " ۔اس میں ایک شہزادی کا ذکر تھا . پندر ھویں صدی کا زمانہ تھا جب اس کو ایک دریا میں قید کیا گیا تھا ۔ اس کا جرم یہ تھا کہ وہ اپنے سوتیلے باپ یعنی بادشاہ راشد کی قاتل تھی ۔بات یہ تھی کہ شہزادی عشوہ صفدر کے والد بادشاہ صفدر ریاض کا انتقال ہوا تھا ،اس کی والدہ ملکہ ثوبیہ نے دوسری شادی کرلی ،اس وقت شہزادی کی عمر تیرہ سال تھی، بادشاہ راشد جو بادشاہت سے پہلے بظاھر مخلص نظر آتا تھا مگر بادشاہت ملتے ہی اس نے اپنی اصلیت دکھانی شروع کی ۔اس نے درپردہ سابق مرحوم بادشاہ کے وفاداروں کو قتل کر دیا ۔ملک کے اھم اراکین کی موت نے عوام میں دہشت پھیلا دی تھی ۔بادشاہ راشد نے ایسے بہت سے لوگوں کو اپنے راستے سے ہٹا دینے کا منصوبہ بنایا جو اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہو سکتے تھے ،پے در پے اموات نے عوام کے ساتھ ساتھ ملک کے اھم لوگوں میں بھی ہلچل مچادیا تھا ۔کئی سال تک وہ اپنی من مانی کرتا رہا اور عوام کا پیسہ اپنے خزانے میں جمع کرتا رہا ۔جب شہزادی بڑی ہوئ تو اس نے بادشاہ کو سمجھانے کی ھر ممکن کوشش کی مگر بادشاہ کے دل و دماغ میں ایک ہی بات تھی کہ وہ ملک میں ایسی حکومت کرے جس میں وہ اپنی من مانی کر سکے ۔بات اس انتہا کو پہنچ گئی کہ بادشاہ نے اس پر جانی حملہ کرایا ،مگر شہزادی عشوہ صفدر کو اس کی توقع پہلے سے تھی کیوںکہ وہ انیس سال کی تھی اور اگلے سال بیس کی ہونے والی تھی جس سے حکومت قانونی طور پر اس کی ہو جاتی اور وہ ملکہ ثوبیہ کی جگہ لے لیتی ،لالچی بادشاہ یہ ھرگز برداشت نہ کر سکتا کہ حکومت اس کے ہاتھوں سے چلی جاۓ ۔

    جب شہزادی کی بات کا اس پر کوئی اثر نہ ھوا تو اس نے ظالم کو راستے سے ہٹا دینے کا فیصلہ کیا ۔ایک اندھیری رات کو بادشاہ کا ناتا اس دنیا سے توڑ دیا مگر بدقسمتی سے ظالم بادشاہ راشد کے بیٹے شہزادہ سہیل راشد نے اس کو پکڑ لیا اور اسے دریا میں نیچے تہہ میں قید کر لیا ۔کوئی بھی شہزادے کے فیصلے کے خلاف کارروائی نہ کر سکا جہاں کہیں آواز اٹھائی گئی تھی اسے تلوار کے زور سے دبا دیا گیا ۔ اس سے آگے کہانی نامکمل تھی ،اس کا دوسرا حصہ ابھی شائع نہیں ہوا تھا ۔

    میں نے اک ٹھنڈی سانس بھری اور کتاب کو بند کر دیا ۔کمرے میں گرمی بڑھ رہی تھی ۔کتاب کو میز پر رکھ کر کھڑکھیاں کھول دی ،ٹھنڈی ہوا کے جھونکے میرے چہرے سے ٹکرانے لگے ،باہر ہوا تیزی سے چل رہی تھی ،درختوں کے سبز پتے جو رات کے اندھیرے کی وجہ سے دکھائ دے رہے تھے ہوا میں ناچ رہے تھے ۔میرا کمرہ گھر کے دوسرے چھت پر تھا جس کی کھڑ کھیاں گلی کی طرف کھلتی تھیں ۔ہمارے گھر کا پھاٹک میرے کمرے کی کھڑ کھی سے صاف دکھائ دیتا تھا جس کے آگے اک چھوٹا سا چمن تھا جس میں درختوں کے جھنڈ تھے ۔

    میں نے گھڑی کی طرف دیکھا ،پورے بارہ بج رہے تھے ۔میں نے کمرے کی بتی بجھائ ،کھڑکھیاں بند کرنے والی تھی ،کیوںکہ کہ میں سردی گرمی دونوں میں کھڑکھیاں بند رکھتی ہوں ، کہ ٹھٹھک گئی ۔ نیچے چمن میں درختوں کے جھنڈ میں کوئی چیز حرکت کررہی تھی ۔اس حبس آلود موسم میں بھی ایک سرد لہر میرے جسم میں گزری ۔مجھے عجیب سی بےچینی کا احساس ہونے لگ ،میں نے چاند کی دھندلی روشنی میں دوبارہ غور سے دیکھا تو کچھ نظر نہ آیا ۔اسے اپنا وہم سمجھتے ہوئے میں واپس کتاب پڑھنے آئ ،کتاب کو کھولاتو اس تصویر پہ نگاہ پڑی جس میں وہی دریا بنایا گیا تھا جس میں شہزادی کو قید کیا گیا تھا ،دریا کے نزدیک ایک درخت تھا اور وہ پائپ دریا کے درمیان واضح تھا جو باہر سے آکسیجن کیبن تک پہنچا تھا ۔

    اچانک میں حیرت سے اچھل پڑی ،وه کتابی تصویر اندر ہی اندر گڈ مگڈ ھونا شروع ہو گئی ،ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے تصویر کے اندر زلزلہ آگیا ھو ۔

    اچانک مجھے ایک دھکا لگا ،ایسا محسوس ہونے لگا تھا جیسے میرا جسم ہزار ٹکڑوں میں تقسیم ہو رہا ہو ۔مجھے ذرات سے دکھائ دینے لگے اور پھر وہ ذرات اس تصویر میں داخل ہونے لگے ،تبھی مجھے احساس ھوا کہ میرا جسم مادہ سے ذرات میں تبدیل ہو رھا تھا ۔آخری بار مجھے ایسا لگا جیسے میرے قدموں تلے زمین ہٹ گیا ھو ۔میرے آنکھوں کے سامنے تاریکی چھا گئی اور ایک زوردار دھکا لگا ۔

    اگر چہ مجھے کچھ نظر نہیں آرہا تھا مگر مجھے ایسا لگ رھا تھا جیسے میں سفر کر رہی ھوں ،تاریکی میں اندر ھی اندر کہیں جا رہی ہوں ،ظلمات کا سفر طے کر رھی ھوں ۔

    مجھے ایک بار پھر دھکا لگا،میں اختیار کراہی،میرا ایک درخت سے ٹکرایا تھا۔میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو اچھل پڑی ،میرے سامنے وھی منظر تھا ،جو کتاب میں بنایا گیا تھا۔وھی دریا،وھی درخت اور • • • اور وھی پائپ جس سے شہزادی کو آکسیجن فراھم کیا جاتا تھا ۔" کیا میں اس تصویر کے اندر آگئی ھوں؟کیا میں پندرھویں صدی کے زمانے میں یعنی ماضی میں پہنچ گئی ھوں ؟ کیا میں کتاب کی دنیا میں آگئی ھوں جو چند اب سے چند لمحوں پہلے میرے لیے محض ایک ناول تھا ؟" اس سے آگے میں کچھ نہ سوچ سکی کیوںکہ میرا ذھن تاریکی میں ڈوب گیا تھا ۔
     
    Akram Naaz and Admin like this.
  2. Admin
    Offline

    Admin Legend Staff Member
    • 63/65

  3. Akram Naaz
    Offline

    Akram Naaz BuL..BuL Staff Member
    • 63/65

    بہت پیاری شیئرنگ کی ہے
    شیئر کرنے کا شکریہ

    BaaL--Veer
     
  4. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

Share This Page