1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

ﺻﻨﻢ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮﺟﯿﺴﮯ؟

Discussion in 'Urdu Iqtebaas' started by Wajahat, Jul 28, 2017.

Share This Page

  1. Wajahat
    Offline

    Wajahat VIP Member Staff Member
    • 28/33

    "کچھ تو بات ہے اس لڑکے میں!"عائزہ نے کلاس کی طرف جاتے ہوئے اپنی دوست سے کہا۔
    "کون؟وہ؟"اس کی دوست عائشہ نے دور گھاس پر اکیلے بیٹھے لڑکے کی طرف اشارہ کر کے پوچھا۔
    "کیوں؟ایسا کیا ہے اس لڑکے میں؟ہاں!ہینڈسم ہے" عائشہ نے شوق سے انداز میں بات جاری رکھی لیکن عائزہ عامر کی نظریں اسی لڑکے پر جمی ہوئی تھیں۔
    "عائشہ!کلاس کا وقت ہو گیا ہے۔یہ کلاس میں نہیں جائے گا؟"عائزہ ایک بار پھر عائشہ سے مخاطب ہوئی۔
    "یار عائزہ گولی مارو اسے۔وہ دیکھو اس کے پاس کون کھڑا ہے؟ارحم جہانگیر!!"عائشہ نے ہاتھوں کا پیالہ منہ کے قریب کر کے چینکھ ماری۔گزرتی ہوئی لڑکیوں نے ایک قہقہ لگایا۔عائزہ سر جھٹک کے آگے بڑھ گئی۔مڑ کر آخری نظر اس لڑکے پر ڈالی جو اب ارحم کے بلانے پر اس کے ساتھ کلاس کی ہی طرف آ رہا تھا۔
    •---------------------------------------------------•
    عائزہ عامر کی زندگی میں ہمیشہ اکیلا پن ہی رہا۔جس سے وہ ہمیشہ سے پیچھا چھرانا چاہتی تھی۔عامر پیرزادہ اسلام آباد کی ان ہستیوں میں شامل تھے جن کی شام ملک کے بڑے رئیسوں،سیاست دانوں اور معروف تاجر خاندانوں کے اہل و عیال میں گزرتی تھی۔ملک کے معروف تاجر خاندان کے سربراہ عامر پیرزادہ نے اپنی بیوی کی وفات کے بعد اپنی نسل آگے چلانے کا ارادہ بھی ترک کیا۔اپنی اکلوتی بیٹی عائزہ عامر پیرزادہ کو پیسے سے ہر خوشی تو خرید دی مگر کبھی اس کا اکیلا پن دور نہ کر سکے۔اپنے بزنس اور سیاسی اثرورسوخ کو برقرار رکھا۔
    عائزہ عامر نے اپنی ساری عمر بغیر کسی سہی غلط کی پہچان کے گزاری۔بے انتہا حسن اور بے شک بہت پر اعتماد ہونے کے باوجود عائزہ ہمیشہ سے کم گو رہیں۔برائے نام دوستوں میں کسی لڑکے کا نام و نشاں نہ تھا۔
    "Ayzah!There's a boy asking about you.He says he really like you"ایک لڑکی نے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے پوچھا۔
    عائزہ نے بھی منہ سے دھواں نکالا اور ایک سرد نظر اپنی دوست پر ڈالی۔
    "کیا یار ایسے مت دیکھو۔تم خوبصورت ہو۔امیر ہو۔لڑکے تو پوچھیں گے۔
    "You very well know Rida.I dont like this Crap"عائزہ نے آسمان پر دھواں اڑاتے ہوئے کہا
    "تم جانتی ہو عائزہ،ہم اگلے ماہ یونیورسٹی کے لیے اپلائی کر رہے ہیں"ردا نے بھی آسمان کی طرف دھواں اڑاتے ہوئے کہا۔
    "ہاں،اور میں تمھیں کحہ چکی ہوں کہ میں یہیں رہوں گی،مجھے نہیں جانا یار لنڈن۔تنگ مت کرو"عائزہ نے اس بار بھڑک کر کہا۔
    "یار تم یہاں اکیلی رہ جاؤ گی،ہمارے پورے گروپ میں صرف عائشہ یہاں رہے گی،اور تم جانتی ہو وہ کیسی ہے تمہارا جینا مشکل کر دے گی"ردا نے اس دفعہ زور دے کر بات کی۔
    "RIDA HAYAT AHMED!I AM NOT GOING ANYWHERE!!!HEY!YOU KNOW WHAT I AM GOING FROM HERE.THANKS FOR RUINING MY NIGHT.YOU REALLY SUCK.YOU*****"
    عائزہ ہر بار کی طرح نشے میں گالیاں نکالنے لگی۔اس نے اپنی بوتل زور دار جھٹکے سے سامنے دیوار پر دے ماری اور گالیاں دیتے ہوئے لڑکھڑاتے ہوئے اپنی گاڑی تک گئی۔پیچھے ردا بھی غصے میں اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چلی گئی۔
    عائزہ نشے میں گاڑی چلاتے ہوئے بار بار سگریٹ کے کش لے رہی تھی۔گاڑی تیز رفتار سڑک پر بھاگ رہی تھی۔شہر کے نہایت پوش علاقے کی طرف جاتی سڑک رات کے اس پہر خالی تھی۔اپنی تیز رفتار سے وہ چند منٹوں میں پیرزادہ ایسٹیٹ(Peerzada Estate)کے شاہانہ بیرونی گیٹ کے باہر پہنچی ہی تھی۔سیاحی میں سپاٹ لائٹس کی روشنی میں سنہرا گیٹ چمک رہا تھا۔
    عائزہ نے زور سے ہارن دینا شروع کیا۔چوکیدار نیند سے ہڑبڑاتا ہوا اٹھا۔برق رفتاری سے گاڑی اندر داخل ہوئی۔پورچ میں گاڑی کھڑی کرتے وہ باہر نکلی۔ایک ہاتھ میں سگرٹ پکڑے وہ لڑکھڑاتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔عامر پیرزادہ کا محل تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔اس نے تیزی سے لونگ روم عبور کیا۔سیڑھیوں کی طرف جاتے ہوئے اس کے قدم رک گئے۔
    "تم نے شراب پی ہے؟"ایک بھاری آواز نے سناٹے کو توڑا۔
    "ہاں!"عائزہ نے تمسخر سے جواب دیا
    لونگ روم کے ایک صوفے سے عامر پیرزادہ اٹھے اور آہستہ سے اپنی بیٹی کی طرف بڑھے جو پہلی سیڑھی پر بےزار سی کھڑی تھی۔
    "PAPA!PLEASE JUST DON'T........."لیکن عائزہ کی چینکھ کو عامر پیرزادہ کے ایک تھپڑ نے روک دیا ۔عائزہ کی آنکھیں آنسوؤں اور حیرت سے بھر گئیں۔عامر نے کبھی اس پر ہاتھ نہیں اٹھایا تھا۔اس نے صدمے سے اپنے باپ کو دیکھا جس کی آنکھیں سرخ اور ہاتھ اب کانپ رہا تھا۔
    "Papa,I..."لیکن عامر نے اسے نظر انداز کرتے ہوئے رخ پھیر لیا اور جب بولے تو آواز بھرائی ہوئی تھی۔
    "Just GO to your Room!!!"یہ کہتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں چلے گئے
    عائزہ وہیں سر جھکائے کھڑی رہی۔آنسو اس کی گال سے گرتے رہے۔چند لمحوں بعد وہ اپنے کمرے میں داخل ہوئی۔آنسوؤں سے تر چہرہ لیے اس نے وارڈ روب سے کپڑے نکالے اور شاور لینے کو بڑھی۔سارا نشہ تو اس ایک تھپڑ سے ہی نکل گیا تھا۔کپڑے اتار کر وہ شاور لینے لگی۔پانی اس کے جسم پے کم اور دل پر زیادہ اتر رہا تھا۔ناجانے وہ کتنی دیر ہچکیوں سے روتی رہی۔جب واپس آئی تو دور کہیں سے اذان کی آواز آ رہی تھی۔وہ بالکونی میں آ کر کھڑی ہو گئی اور ریلنگ پر کہنیاں جمائے کھڑی رہی۔اذان ابھی تک ہو رہی تھی۔فجر کا یہ سکوت دلوں کی گرھیں کھولنے کا ہوتا ہے۔رب کو اپنی یاری ثابت کرانے کا ہوتا ہے۔
    نماز نیند سے بہتر ہے
    نماز نیند سے بہتر ہے
    عائزہ جانتی تھی وہ اس وقت کس کا انتظار کر رہی ہے۔چند لمحوں بعد عامر پیرزادہ بیرونی گیٹ سے باہر آئے۔وضو کا پانی ان کی نصف گردن تک آتی گھنی سیاہ داڑھی میں سے گر رہا تھا جو لگ بھگ ایک مٹھی ہی تھی۔سر پر ٹوپی پہنے وہ سادہ سے سفید شلوار قمیز میں ملبوس تھے کان کی لو تک آتے سیاہ بالوں میں اپنی قدوقمت کے لحاظ سے اپنی عمر سے پانچ چھ سال چھوٹے ہی لگ رہے تھے۔ چست بدن اور چھ فٹ قد کے ساتھ پچاس کے نہیں لگ رہے تھے۔عائزہ نے ان پر ایک نظر ڈالتے ہوئے واپسی کا رخ کیا۔بیڈ پر لیٹتے ہوئے اس نے پھر اپنے باپ کے بارے میں سوچا۔یہ سچ تھا کہ عامر نے ہمیشہ اپنی بیٹی کو آزادی دی لیکن حلال حرام کا فرق رکھا۔عائزہ نے بے چینی سے کروٹ بدلی اور آنکھیں بند آیییں۔
    *
    ہجر کا انتظار
    *عائزہ کلاس روم سے باہر نکلی۔اسے لان عبور کر کے دوسری راہداری کے آخر میں موجود کلاس میں جانا تھا۔عائزہ ابھی اپنی دوست عائشہ کے ساتھ کلاس کی طرف جا رہی تھی جب اس نے دیکھا لان کے کنارے ایک بینچ پر وہ اکیلا بیٹھا کہنیاں گھٹنوں پر رکھے ہاتھوں کو باہم ملائے سامنے دور تک پھیلے سبزے کو دیکھ رہا تھا۔اس کی پیٹھ عائزہ کی اور تھی۔
    'کچھ عجیب کشش ہے اس لڑکے میں'عائزہ نے سوچا
    "کچھ تو بات ہے اس لڑکے میں"عائزہ کو اندازہ نہیں ہوا کہ وہ تھوڑا اونچا سوچ رہی تھی۔اس نے محض خود کلمی کی تھی۔
    "کون؟وہ؟"عائشہ نے اس کی طرف اشارہ کر کے پوچھا"کیوں ایسا کیا ہے اس لڑکے میں؟ہاں ہینڈسم ہے!"
    عائزہ کو بے چینی سی ہو رہی تھی۔اسے شایان سے جا کر بات کرنی چاہیے یا نہیں۔
    "عائشہ!کلاس کا وقت ہو گیا ہے۔یہ کلاس میں نہیں جائے گا"عائزہ نے شایان کے پاس جانے کا بہانا تجویز کیا۔
    "یار عائزہ گولی مارو اسے۔وہ دیکھو اس کے پاس کون کھڑا ہے؟ارحم جہانگیر!!"عائشہ نے حسب معمول ہاتھوں کا پیالا بنا کر منھ کے قریب کر کے چینکھ ماری۔پاس سے گزرتی ہوئی لڑکیاں ہنس پڑیں۔۔عائزہ نے اس کے پاس جانے کا ارادہ ترک کیا اور کلاس کی طرف بڑھ گئی۔راہداری میں جاتے ہوئے اس نے آخری نظر شایان پر ڈالی جو اب ارحم کے بلانے پر اٹھا تھا۔اور اپنا بستہ اٹھا رہا تھا۔اس کی پیٹھ اب بھی عائزہ کی جانب تھی۔عائزہ پھر اس کا چہرہ نہیں دیکھ پائی۔عائزہ کلاس میں جا بیٹھی۔
    کلاس آہستہ سے بھر رہی تھی۔آخر میں عائشہ اور ارحم باتیں کرتے ہوئے آ رہے تھے۔اور ان دونوں کے پیچھے وہ سر جھکائے جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے چلتا گیا۔اس کا چہرا نہیں دیکھا گیا مگر اس نے ایک سیاہ فریم اور سفید شیشوں والا چشمہ پہن رکھا تھا۔ اور لمبے سیاہ بال سامنے کو گرے تھے شاید سر جھکائے رکھنے کی وجہ سے۔عائشہ میرے ساتھ آ بیٹھی اور ارحم شایان کے ساتھ مسکراتا ہوا آخر میں جا بیٹھا۔
    "یار تم جلدی کیوں آ گئی؟پتا ہے ارحم نے مجھے خود بلایا اور بات کی۔اور اپنے اس نئے گم سم دوست کا تعرف بھی کروایا۔ہینڈسم ہے وہ بھی مگر ارحم کا تو جواب ہی نہیں۔ارحم نے تمھارا بھی پوچھا۔اور تمھیں پتا ہے وہ گم سم ایک بار نہیں بولا۔سلام بھی احسانوں سے کیا۔ہونہ اکڑو کہیں کا۔کیا نام بتایا تھا اس کا؟ہاں!شایان مرتضی۔۔۔۔"
    "مصطفی!!"عائزہ دانت پیستے ہوئے کہا۔اور عائشہ جو بولے جا رہی تھی ایک دم چپ ہوئی۔
    "ہاں وہی۔تم کیوں اتنا بھڑک رہی ہو؟"عائشہ نے شاکی نظروں سے اسے دیکھا۔عائزہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔وہ کیوں غصہ کر رہی تھی۔
    کلاس ختم کونے کے بعد عائزہ عائشہ کے ساتھ لان کی طرف گئی جو ابھی تک ارحم کا قصیدہ پڑھ رہی تھی۔راہداری عبور کرتے ہی عائزہ لان کی طرف بڑھ گئی۔
    "عائزہ!عائزہ!"کوئی اسے بلا رہا تھا۔عائزہ اور عائشہ دونوں نے مڑ کر دیکھا۔ادحم تیزی سے چلتا آرہا تھا۔
    "عائزہ!ہائے!کیسی ہو؟بہت دن ہو گئے تم سے ملے!انکل کیسے ہیں؟میں آج تمھارے گھر آؤں گا۔"
    "او ہو ارحم آرام سے میں ادھر ہی کھڑی ہوں۔بھاگی نہیں جا رہی۔ٹھیک ہوں میں۔پاپا بھی ٹھیک ہیں"عائزہ نے خوشگوار لہجے میں کہا۔رشتے کی بات ایک طرف۔ارحم عائزہ کا بچپن کا دوست تھا۔اس لیے عائزہ کو کبھی باقی لڑکوں کی طرح ارحم سے بات کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی تھی۔
    "آؤ عائزہ بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔بہت باتیں کرنی تمھارے ساتھ۔"ارحم نے بہت دوستانہ انداز میں کہا۔عائشہ عائزہ کو عجیب حسرت یا غصے سے دیکھ رہی تھی۔
    "ارے ہاں،میں تمھیں شایان سے تو ملوانا ہی بھول گیا"ارحم نے لان کی طرف جاتے ہوئے کہا اور پیچھے مڑ کر دیکھا۔عائزہ کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔وہ شایان مصطفی سے ملنے والی تھی۔اس کا انتظار ختم ہونے کو تھا۔اسے اپنی قسمت پر رشک آیا تھا اور شاید پہلی بار اس قسمت کو بنانے والے پر ٹوٹ کر پیار آیا۔
    ہم ہی ہیں جو اسے بھول جاتے ہیں۔وہ ہمیں نہیں بھولتا۔وہ ہماری چاہتوں کو جانتا ہے۔ان کا خیال کرتا ہے۔ہم اس کی چاہتوں کا خیال نہیں کرتے۔وہی تو ہمارا رب ہے جو ہمیں ان چھوٹے چھوٹے لمحوں میں اتنی بڑی خوشیاں دیتا ہے۔
    عائزہ نے مڑ کر دیکھا۔وہ راہداری سے چلتا ہوا آرہا تھا۔میرون شرٹ کے آستین کہنیوں تک موڑے شرٹ کو بلیو جینز کے اندر کر رکھا تھا۔سیاہ سنیکرز پہنے ہاتھ جینز کی جیبوں میں ڈالے نظریں جھکائے بہت باوقار طریقے سے چلتا آرہا تھا۔سر پر اب سیاہ رنگ کی کیپ پہنے آنکھوں سے چشمہ ہٹایا ہوا تھا۔سیاہ بال سامنے ماتھے پر گرے ہوئے تھے۔عائزہ مانو اس کی ہر ایک ادا کو حفظ کرنا چاہتی تھی۔
    "شایان!یہ ہیں عائزہ عامر!اس یونیورسٹی کے ٹرسٹی عامر پیرزادہ کی بیٹی۔"
    "اور عائزہ!یہ ہیں شایان مصطفی!اس یونیورسٹی کے اینٹری ٹیسٹ کے ٹاپر اور میرٹ سکالرشپس کے سپیشل ٹیسٹ کے بھی ٹاپر!"عائزہ شایان کو دیکھا جو اب مسلسل اپنے جوتے کو دیکھ رہا تھا اور اسے زمین پر رگڑ رہا تھا۔ہاتھ ویسے ہی جیبوں میں۔ارحم کی بات ختم ہوتے ہی شایان نے اپنا سر اٹھایا۔ایک جھٹکے سے اس نے اپنی سیاہ گہری آنکھیں عائزہ کی طرف کیں جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔شایان کے دیکھنے پر عائزہ نے نظریں جھکا لیں۔
    "اسلام علیکم!عائزہ کیسی ہیں آپ؟"شایان نے ایک ہلکی مگر بہت خوبصورت سی مسکان کے ساتھ بات کی۔عائزہ کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا۔جس کی ایک نظر کے لیے عائزہ عامر خاک ہونے کو تیار تھی۔وہ شخص اس کی حالت کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔
    "وعلیکم اسلام!میں ٹھیک ہوں۔"عائزہ کی آواز میں لرزشش تھی جیسے ابھی آنسو گر جائیں گے۔مگر اگلا لمحہ عائزہ کے لیے بہت غیر متوقع تھا۔عائزہ کے جواب دیتے ہی شایان کی مسکراہٹ غایب ہوئی۔شایان نے نظریں اٹھا کر عائزہ کو دیکھا اور اگلے لمحے گہری مسکراہٹ سے آسمان کو دیکھا اور ٹھنڈی آہ بھرتا وہاں سے نکل گیا۔
    "اس کو کیا ہوا؟"ارحم نے شایان کو جاتے دیکھ کر کہا۔
    "چھوڑو اپنے باڈی گارڈ کو۔کہاں سے اٹھا لائے ہو اسے؟"عائشہ نے طنزیہ انداز میں کہا۔
    "شایان کے بارے میں آئندہ ایسے بات مت کرنا۔"ارحم نے سرد محری سے کہا اور بیگ پہنے واپس مڑ گیا۔عائشہ کا منھ کھلا رہ گیا۔
    "کیوں کوئی اس اکڑو کے بارے میں مزاق بھی نہیں سنتا۔ایسا کیا ہے اس لڑکے میں؟"عائشہ نے غصے سے کہا۔اور عائزہ بھی سوچ رہی تھی ایسا کیا ہے اس لڑکے میں؟؟
    عائزہ باقی دن گم صم ہی رہی۔واپسی کا سفر بھی خاموشی سے گزرا۔گھر پہنچ کر عائزہ سیدھا کمرے میں گئی۔فریش ہو کر باہر آئی تو ملازمہ کھانے کا پوچھنے کھڑی تھی۔اسے واپس بھیج کر عائزہ بستر پر اوندھے منہ لیٹ گئی۔اس کے کانوں میں آذان کی آواز پڑ رہی تھی۔عجیب سے سکوت میں اس نے آنکھیں کھولیں۔شایان مصطفی کا چہرا اب بھی اس کی نظروں کے سامنے تھا۔عجیب سے عالم میں اس نے دوبارہ آنکھیں کھولیں اور تیزی سے اٹھ بیٹھی۔بیڈسائڈ ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھایا اور جلدی سے کچھ ڈھونڈنے لگی۔کانٹیکٹ لسٹ کے آغاز میں ہی اس کا نام روشن تھا۔
    "کہاں پر ہو؟اپارٹمینٹ؟اڈریس لکھواؤ؟میں آ رہی ہوں۔نہیں مجھے بس کچھ ضروری بات کرنی تھی تم سے"عائزہ نے موبائل بیڈ پر پھینکا۔چند لمحوں بعد وہ اپنے کمرے سے سیاہ ٹی شرٹ اور بلیو جینز کے ساتھ سیاہ چشمہ اور موبائل ایک ہاتھ میں پکڑے باہر کی طرف جا رہی تھی۔باہر نکلتے اس نے چشمہ پہنا اور گاڑی میں جا بیٹھی۔نیم گھنگریالے بال آدھے دائیں طرف سے سینے پر اور بائیں طرف سے کمر پر گرتے تھے۔گاڑی کو باہر نکال کر سڑک پر دوڑاتے ہوئے اس کے ذہن میں صرف ایک خیال تھا۔
    اسے شایان مصطفی سے بات کرنی تھی۔
    •۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔•
    پندرہ منٹ بعد وہ شہر کے وسطی حصے کے نہایت پوش علاقے میں آئی اور اب ایک بلڈنگ کی چوتھی منزل پر واقع ایک خوبصورت اپارٹمینٹ کے باہر کھڑی تھی۔بیل دے کر وہ موبائل کی سیاہ سکرین پر اپنا چہرا دیکھنے لگی۔چند لمحوں بعد دروازہ کھلا اور وہ سامنے کھڑا تھا۔سفید ٹی شرٹ اور گرے سپورٹس ٹراؤزر میں۔
    "اسلام علیکم!عائزہ،کیسی ہو؟"اس نے بہت خوشگوار انداز میں کہا۔
    "وعلیکم اسلام!ارحم٬میں ٹھیک ہوں"عائزہ نے جواب دیا۔ارحم دروازے سے ہٹ گیا۔عائزہ وہی چال چلتی سیدھی لونگ روم کے صوفے پر جا بیٹھی۔چشمہ اور موبائل سامنے میز پر رکھتے ہوئے اس نے ارحم کو دیکھا جو مسکراتے ہوئے اب کھانا بنا رہا تھا۔خوبصورت امریکی طرز کا کچن سفید ٹائلز میں بنا تھا۔بلکہ پورا گھر ہی سفیدے میں گھرا تھا۔
    "تم بہت بدل گئے ہو؟پچھلی بار ملی تھی تو اس وقت نوکروں کی فوج میں ہوتے تھے۔اور آج اپنا کھانا بھی خود بنا رہے ہو۔"عائزہ نے ارحم کو دیکھتے ہوئے کہا۔جو اب بھی مسکرا رہا تھا مگر عائزہ کو نہیں دیکھ رہا تھا۔
    "میں اپنا نہیں ہمارا کھانا بنا رہا ہوں اور تم بھی کھا کر جانا"اس نے کام کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا۔مگر عائزہ کو کچھ عجیب لگا۔
    "کوئی اور بھی رہتا تمھارے ساتھ؟"عائزہ نے اچانک پوچھا۔
    "ہاں۔شایان رہتا ہے میرے ساتھ۔"عائزہ کا دل مانو ہاتھ میں آگیا ہو۔
    "ابھی بس آتا ہو گا۔نماز پڑھنے گیا ہے"ارحم نے بات جاری رکھی۔"تمھیں کچھ بات کرنی تھی؟"ارحم نے پوچھا۔
    "ہاں،مجھے تمھارے دوست کے بارے میں بات کرنی ہے۔شایان کے بارے میں۔"عائزہ کی آواز میں لرزش تھی۔ارحم نے پہلی بار نظریں اٹھائیں۔عائزہ کو دیکھا جو اپنے پیروں کو دیکھ رہی تھی۔
    "کیا بات کرنی تمھیں اس کے بارے میں؟"ارحم نے عام سے انداز میں پوچھا۔
    "پتا نہیں ارحم۔مجھے بہت عجیب لگ رہا ہے۔تم مجھے بچپن سے جانتے ہو۔میں کبھی ایسی نہیں تھی۔میں نے جب سے اسے دیکھا ہے تب سے اپنا آپ بھولتا جا رہا ہے۔میں چاہتی ہوں وہ مجھے بہت چاہے سب سے بڑھ کر۔وہ تمھارا دوست ہے۔پلیز کچھ کرو!؟"عائزہ رونے لگی تھی۔دو آنسو اس کی گال سے گرے تھے۔کوئی بوجھ سا تھا جو اس کے دل پر سے ہٹا تھا۔
    "وہ ایسا ہی ہے عائزہ۔جہاں جاتا ہے دلوں کو فتح کر لیتا۔"ارحم نے ٹھہرے ہوئے لحجے میں کہا۔"میں پھر بھی یہی کہوں گا عائزہ!جتنی جلدی ہو سکے اسے بھول جاؤ۔شایان مصطفی سے تمھیں کبھی محبت نہیں ملے گی۔وہ ایک ڈوبی ہوئی کشتی کا مسافر ہے جو اس دنیا میں بس اپنا وقت پورا کر رہا ہے۔شایان مصطفی اپنی زندگی کا مقصد بھی کھو چکا ہے۔وہ کبھی تمھیں وہ مقام نہیں دے گا جو تم چاہتی ہو؟"ارحم نے بہت ٹھہرے ہوئے انداز میں کہا۔
    "کیا وہ کسی اور کو چاہتا ہے؟!"عائزہ کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا۔
    "چاہت!"ارحم نے سرد آہ بھری۔
    "عائزہ!شایان کا اس دنیا میں کوئی مقصد نہیں ہے۔وہ تو پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے اور بہت مشکل سے سنبھلا ہے۔اسے پلیز دوبارہ اسی جگہ پر مت لے کر جاؤ جہاں سے میں اسے لایا ہوں"ارحم کی آواز میں فکر تھی۔
    "وہ تو ایک ٹوٹے ہوئے کانچ کے جیسا ہو گیا ہے۔اس کی کرچیاں اب صرف اسے ہی نہیں جو بھی اس کے قریب ہو گا اسے تکلیف دیں گی" ارحم اب بھی کام کر رہا تھا۔عائزہ اس کے چند چھلکے ہوئے آنسو نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔اس کے دل میں عجیب وسوسے تھے۔دروازے کی بیل بجی تو ارحم جلدی سے دروازے کی طرف گیا۔چند لمحوں میں وہ ارحم کے ساتھ اندر آ رہا تھا۔سفید شلوار کمیز اور سیاہ سلیپرز میں بہت وقار اور ٹھہراؤ تھا اس میں۔سر جھکا اور لبوں پر مسکراہٹ۔وہ سیدھا عائزہ کے پیچھے سے ہوتا ہوا کمرے میں گیا۔عائزہ جانے کو اٹھی۔
    "جا رہی ہو؟"ارحم نے پوچھا۔
    "ہاں،ارحم۔جس مقصد کے لیے آئی تھی جب وہ ہی نہیں رہا تو.."عائزہ خاموش ہو گئی اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ روئے۔اس نے اپنا چشمہ اٹھایا اور باہر کی طرف جانے لگی۔
    "عائزہ!!" کوئی آواز تھی جس نے اسے بلایا تھا۔عائزہ کا سانس رک گیا تھا۔اس کے لیے ساری دنیا ہی ساکن ہو گئی تھی۔
    "میں آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں"شایان نے بہت شائستہ انداز میں کہا اور بالکونی کی طرف چلا گیا۔عائزہ بھی اس طرف گئی۔بالکونی میں ایک خوبصورت میز کے گرد آمنے سامنے وہ دونوں بیٹھے تھے۔
    •۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔•
    عائزہ شاور کے نیچے آنکھیں بند کیے کھڑی تھی۔پانی اس کے جسم پر بح رہا تھا۔اس نے آنکھیں کھولیں۔وہ سرخ تھیں۔وہ رو رہی تھی۔کچھ لمحے اس کی نظروں کے سامنے سے گزر رہے تھے۔
    "تم مجھ سے محبت کرتی ہو؟شرمانے کی بات نہیں۔نہ ڈرنے کی بات ہے کہ میں تمھارے احساس نہیں سمجھوں گا۔تم مجھے بتا سکتی ہو۔"عائزہ اب بھی اس کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
    "ہاں ، میں محبت کرتی ہوں تم سے!"کچھ جوش سے اس نے کہا تھا۔
    "عائزہ!میں تمھیں محبت کرنے سے نہیں روکتا۔کوئی بھی نہیں روک سکتا سوائے الللہ کے۔"اس نے تھرے ہوئے لحجے میں بات جاری رکھی۔"عائزہ!یہ جو محبت٬عشق٬جنون٬دیوانگی یہ جو احساسات ہوتے ہیں نا یہ قربانیاں مانگتے ہیں۔ہماری انا کی قربانی۔ہماری سب سے قیمتی چیز کی قربانی۔ہماری نفس کی قربانی۔تم دے سکتی ہو یہ قربانی؟؟"اس نے اپنی نظریں اٹھائیں شاید پہلی بار۔
    "ہاں میں قربانی دے سکتی ہوں۔"عائزہ نے کہا اس کی آواز لڑکھڑا رہی تھی۔
    "ٹھیک ہے۔تو پھر تمھاری محبت کا بھی امتحان ہو گا۔جیسے ہر کسی کا ہوتا ہے"اس نے آسمان کو دیکھا اور پھر کہنا شروع کیا۔"لیکن ایک بات کو یاد رکھنا عائزہ۔امتحان کے بعد آپ پاس ہوں گے یا فیل یہ آپ کو نہیں پتا۔کیوں کہ کبھی کبھی ہم اسے مانگتے ہیں جو ہمارا ہوتا ہی نہیں۔"شایان نے کہا۔
    "آپ مجھ سے شادی کر لیں شایان!!"عائزہ نے روتے ہوئے کہا۔کچھ آس سی تھی اس آواز میں۔
    "میری شادی ہو چکی ہے عائزہ!" شایان نے سر جھکائے کہا۔
    عائزہ نے آنکھیں کھولیں۔کپرے پہنے وہ باتھ روم سے باہر آئی۔چند لمحوں میں تیار ہو کر وہ اب بیڈ کے گرد بیٹھی ہوئی تھی۔وہ اٹھی اور ڈراؤر میں سے جاء نماز نکالی۔چہرے کے گرد سفید سکاف لپیٹے اس نے شاید اپنی زندگی کا پہلا سجدہ کیا۔عشاء کی نماز پڑھ کر اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔عائزہ عامر اپنی زندگی میں پہلی بار الللہ کے سامنے پھوٹ پھوٹ کر روئی۔اس نے اپنا چہرا ہاتھوں کے اندر چھپا لیا۔
    "شایان میں تمھاری کہانی سن سکتی ہوں؟"عائزہ کو پھر وہ وقت یاد آیا۔
    *
    حاصل ومحصول
    *"شایان وہاں کیا کر رہے ہو؟" کوئی نسوانی آواز شایان کے کانوں میں گونجی۔
    "کچھ نہیں مریم!"شایان نے مشروب کا گھونٹ لیتے ہوئے کہا۔
    قصر مصطفی آج بہت دن کی اداسی کے بعد پر رونق ہوا تھا۔اور کل یہ پھر خالی ہو جائے گا۔
    "چلو شایان۔ہم سب کو تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے!"مریم نے کہا"کیوں مسلسل ان درختوں کو دیکھ رہے ہو۔؟"مریم نے ایک دم بھڑک کر کہا کہ شایان کھڑکی کے پاس کھڑا قصر مصطفی کے پچھلے حصے میں موجود دو درختوں کو دیکھ رہا تھا۔
    "کچھ نہیں مریم۔بس کچھ یاد آگیا۔چلو چلیں" مریم کے مڑتے ہی شایان نے رخ موڑا اور ایک بار پھر درختوں کو دیکھتے ہوئے سرگوشی کی۔
    "بعد میں بات کرتا ہوں!" یہ کہتا ہوا شایان مڑ گیا۔
    •---------------------------------------------•
    تمھیں جب کبھی ملیں فرصتیں،
    میرے دل سے بوجھ اتار دو

    میں بہت دنوں سے اداس ہوں،
    مجھے کوئی شام ادھار دو

    کسی اور کو میرے حال سے،
    نہ غرض ہے نہ کوئی واسطہ

    میں بکھر گیا ہوں،سمیٹ لو؟!

    میں بگڑ گیا ہوں،سنوار دو؟!
    •۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔•
    شایان صبح اٹھتے ہی بہت جوش سے باتھ روم گیا۔چند منٹ بعد باہر آیا اور اپنا یونیفارم ڈھونڈنے لگا۔اس نے وارڈروب کھولا تو یونیفارم وہیں تھا۔اس نے یونیفارم نکالا اور باتھ روم میں گیا۔شایان تیار ہو کر پورے سات بجے ہی ناشتے کے لیے آ بیٹھا۔ملازمہ نے ادب سے اس سے پوچھ کر کھانا رکھا جو شایان نے کھا لیا۔شایان کا سکول آٹھ بجے لگنا تھا۔ساڑھے سات پر حارث تیار ہو کر سفید سرٹ اور سیاہ جینز میں ملبوس ٹیبل پر آبیٹھا۔بال معمول کے مطابق جیل سے پیچھے کو کیے ہوئے۔
    "

    اسلام علیکم ! واہ بھئی ۔۔ آج تو شایان بہت جلدی آ گئے ہیں۔" حارث نے کہا اور شایان نے مسکرا کر صرف سر جھٹکا۔
    "اچھا شایان اب رولز سن لو سکول کے۔۔ کسی صورت بھی کسی سے لڑنا نہیں۔وہ آپ کو سکول سے ناکل دیں گے۔کسی ٹیچر سے کسی قسم کی بدتمیزی نہیں کرنی۔سکول بہت زیادہ لیبرل ہے۔کلاسز اکٹھی ہوں گی۔آپ او-لیولز کریں گے یا میٹرک یہ بعد میں دیکھیں گے۔جو آپ کا دل کرے گا۔او کے؟" حارث نے انگلیوں کی پوروں پر اسے ایک ایک چیز گنوائی تھی۔شایان نے سنجیدگی سے اثبات میں سر ہلایا۔حارث نے خاموشی سے ناشتہ کیا۔اور پھر اٹھ بیٹھا۔
    "چلیں؟" حارث نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
    "مگر ماموں میری کتابیں اور بستہ ؟" شایان نے تیزی سے پوچھا۔
    "آپ کا بستہ گاڑی میں ہے۔میں رات کو کتابیں وغیرہ لے آیا تھا" حارث نے کہا اور باہر کی طرف چل دیا۔شایان بھی دھیما سا چھوٹے قدم چلتا آ پہنچا۔گاڑی میں بیٹھ کر وہ روانہ ہوگئے۔لگ بھگ پندرہ منٹ بعد وہ سکول کی بلڈنگ میں داخل ہوئے۔حارث نے بائیں ہاتھ سے شایان کا بستہ پکڑ رکھا تھا اور دائیں ہاتھ شایان کے ہاتھوں میں تھما رکھی تھی۔وہ پرنسپل کے آفس میں گئے۔
    "اسلام علیکم!احمد؟" حارث نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا۔
    "وعلیکم اسلام!" احمد نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔"ارے!کلاس کا وقت تو ہو چلا ہے۔"احمد نے بات جاری رکھی۔حارث نے کرسی پر بیٹھتے اپنی گھڑی دیکھی۔
    "سوری یار، صبح آنکھ دیر سے کھلی۔" حارث نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    "چلو کوئی بات نہیں" احمد نے کہا اور انٹرکام پر کسی کو بلایا۔ایک آدمی اندر داخل ہوا جو سفید شلوار قمیز میں تھا۔
    "اسلام علیکم! احمد صاحب" اس آدمی نے ادب سے سلام کیا
    "آئیے وقار ! یہ شایان صاحب کو کےجی1 میں چھوڑ آئیے گا۔" احمد نے کہا۔
    "جی صاحب۔چلیں شایان بابا !" اس آدمی وقار نے پہلا جملہ احمد سے کہا اور دوسرا شایان سے۔
    "ماموں آپ بھی چلیں نا" شایان نے کہا۔حارث نے مسکراتے ہوئے اس کا سر جھاڑا۔
    "ٹھیک ہے چلو۔احمد میں آتا ہو ابھی " حارث نے کہا اور اٹھ کھڑا ہوا۔احمد نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
    شایان وقار اور حارث کے ساتھ کلاس تک آیا جو پرنسپل آفس کی پچھلی راہداری کے آخر میں تھی۔کلاس کے باہر رک کر حارث شایان کے مقابل گھٹنوں کے بل زمین پر آ بیٹھا۔
    "آپ ڈریے گا نہیں۔ٹیچر انم بہت اچھی ہیں۔اور اگر کوئی بھی مسئلہ ہو تو آپ احمد یا وقار بھئیا کو بتا سکتے ہیں۔" حارث نے یہ کہتے ہوئے شایان کے شرٹ کی ٹائی ٹھیک کی۔وقار نے ادب سے اثبات میں سر ہلایا۔شایان خاموشی سے کلاس کے دروازے پر جا کھڑا ہوا۔ٹیچر بچوں کو انگلش ایلفابیٹس سمجھا رہیں تھیں۔شایان کے دروازے پر کھڑے ہوتے ہی ٹیچر نے دائیں جانب دیکھا جہاں دروازہ تھا۔
    "آئیے بیٹا۔نیو ایڈمیشن؟" ٹیچر نے سوالیہ نظروں سے انگلی کے اشارے سے پوچھا۔شایان نے اثبات میں سر ہلایا۔
    "ائیے بیٹا۔باقر ان کو جگہ دیں۔ہم ان کا تعرف لیں گے ابھی۔" ٹیچر نے کہا اور بورڈ پر لکھنے لگیں۔شایان چپ چاپ اس لڑکے کے ساتھ جا بیٹھا جو دائیں طرف کی لائین میں دوسرے نمبر پر اکیلا بیٹھا تھا۔
    "اسلام علیکم!میرا نام محمد بقر علی ہے۔"اس لڑکے نے بہت خوشی سے کہا۔
    "وعلیکم اسلام! میرا نام شایان مصطفی ہے۔" شایان نے بھی اس کی طرف ہاتھ بڑھایا اور پھر دونوں ٹیچر کی طرف متوجہ ہوئے۔تھوڑی دیر بعد ٹیچر مڑیں اور شایان کی طرف دیکھا۔
    "ادھر آؤ بیٹا۔اور اپنا تعرف کرواؤ" ٹیچر نے کہا۔شایان اٹھ کر ٹیچر کے پاس گیا اور مڑ کر کلاس کو دیکھا۔
    "میرا نام محمد شایان مصطفی ہے۔" اس نے ٹھہرے ہوئے لحجے میں کہا۔
    •۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔•
    شایان نے پانچویں میں اپنا معمول برقرار رکھا اور ٹاپ کر کے اگلی کلاس میں آ گیا۔وہ سکول کی جان تھا۔ہمیشہ سے ہر تقریری مقابلہ جیتتا آیا تھا۔کسی کھیل میں وہ پیچھے نہیں رہا تھا۔کرکٹ میں ہارے ہوئے میچ کو جیتنا اس کا شوق تھا۔شترنج شاید ہی اس سے بڑھیا کوئی کھیل سکتا ہو۔مگر ایک چیز جس کی نمائیش اس نے کبھی نہیں کی تھی وہ شاعری تھی۔شایان کو شاعری بہت پسند تھی۔سکول کا فیورٹ گھر میں بھی کم نہ تھا۔اقبال رضا کا ٹرافی روم شایان کے انعامات سے بھرا پڑا تھا۔شایان نے اگر اپنی شہرت کا کبھی استعمال کیا تھا تو وہ صرف لڑکیوں کے معاملے میں تھا۔شایان کو اگر لڑکیوں میں دلچسپی تھی تو لڑکیاں بھی اس کی اداؤں پر فدا تھی۔شایان کا قد اپنی عمر کے لحاظ سے اچھا تھا۔سمارٹ،ہینڈسم کانفیڈینٹ۔ وہ ہر طرح سے مکمل لگتا تھا مگر الللہ نے آج تک کسی کو مکمل بنایا ہی نہیں سوائے اپنے لاڈلے نبی کے۔اگر شایان کو اس کی دلی ہر مراد ملتی تھی تو اسے اپنے چاہنے والوں کو کھونا بھی پڑھتا تھا۔یکے بعد دیگر سالوں میں عاسیہ اور اقبال فوت ہو گئے تھے۔ان کے جانے کے بعد رضا ہاؤس ویران ہو گیا تھا۔حارث نے بزنس تو سنبھال رکھا تھا لیکن خود کو نہیں سنمبھال پاتا تھا۔وہ اب بہت کم بولتا تھا۔حمنہ بھی اب بوڑھی ہوتی جا رہی تھیں۔ان سب میں صرف شایان تھا جس نے اس حادثے کا سوگ نہیں کیا تھا۔چند دن کے آنسوؤں کے بعد وہ اپنے معمول پر آگیا تھا۔
    شایان اپنی چھٹی کلاس کے نئے سال میں داخل ہوا تھا۔حارث اسے صبح چھوڑ گیا تھا۔وہ انفارمیشن آفس تک جا رہا تھا جہاں سے اپنے سیکشن کا پوچھ سکے۔وہ ابھی گراؤنڈ کراس کر رہا تھا جب اسے پیچھے سے اپنا نام سنائی دیا۔
    "شایان،ارے رکے تو سحی!" شایان نے مڑ کر دیکھا خدیجہ اس کی طرف آ رہی تھی۔شایان کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلی۔خدیجہ سے وہ اپنے پانچویں کے آخر میں ملا تھا۔وہ اس کی کلاس کی تھی مگر سیکشن کوئی اور تھا۔شایان کو خدیجہ واقعے بہت پسند تھی کیونکہ وہ بھی بلا کی ذہین اور خوبصورت تھی۔
    "ہیلو؟!کدھر جا رہے ہو؟"خدیجہ نے کہا۔ اور اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
    "انفو آفس تک جا رہا ہوں۔سیکشن کا پوچھنا ہے!" شایان نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔خدیجہ مسکرائی اور بلش کیا۔شایان کو اب ان نظاروں کی عادت ہو گئی تھی۔
    "چلو،یہیں بیٹھتے ہیں۔باقی آ جائیں پھر چلیں گے" خدیجہ نے کہا۔شایان نے صرف ہلکا سا سر جھٹکا اور گراؤنڈ کے ایک طرف جا بیٹھا جو درختوں سے گھرا ہوا تھا۔شایان کو وہ جگہ بہت پسند تھی۔
    "شایان آج کوئی شعر تو سناؤ!" خدیجہ نے بچوں کی طرح فرمائش کی۔شایان کو بہت الجھن سی ہوتی تھی جب کوئی لڑکی اتنی خوبصورت بھی ہو اور ذہین بھی اور پھر لڑکوں کے سامنے اتنی بچکانہ رویہ رکھیں۔اسے سنجیدگی ہی پسند تھی۔شایان نے کچھ نہیں کہا۔بس چلتا رہا۔وہ دونوں اسی جگہ آ بیٹھے۔خدیجہ نے بیٹھتے ہی شایان کا ہاتھ تھام لیا اور اس کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
    "تم بہت اچھے لگتے ہو مجھے!" خدیجہ نے اس کے بازو پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔شایان یہ جملہ اسی جگہ پر بیٹھا نا جانے کتنی بار سن چکا تھا۔وہ ہلکا سا ہنس دیا۔
    "کیا ہوا؟" خدیجہ نے جلدی سے اسے دیکھا۔جو اب اپنا ہاتھ خدیجہ کےسر کے پیچھے رکھ چکا تھا۔
    "If thats true!Then,you wouldnt mind a kiss?Right?" شایان نے مسکراتے ہوئے اس کے چہرے کو قریب کیا تو خدیجہ اسے دھکا دے کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
    "کیا کر رہے ہو؟تمھیں شرم نہیں آتی!؟" خدیجہ نے غصے سے سرخ ہوتے ہوئے کہا۔
    "بالکل بھی نہیں۔تمھی نے کہا کہ میں تمھیں اچھا لگتا ہوں۔تم بھی اچھی لگتی ہو۔آؤ نا؟!" شایان نے باہیں پھیلاتے ہوئے کہا۔خدیجہ اس کو غصے میں کوستی ہوئی چلی گئی۔شایان ہنسنے لگا۔شایان نے سنا اس کے پیچھے بھی کوئی ہنس رہا تھا۔
    "کمینے!تو نہیں سدھرے گا؟!!!" کسی نے شایان سے کہا۔شایان مڑا اور مسکرا دیا۔کھڑے ہو کر گلے ملا اور پھر اس کے ساتھ وہیں بیٹھ گیا۔
    "ہاں باقر میری جان!تو جو سدھر گیا ہے۔اب ہمیں بھی نصیحتیں کر۔ویسے وہ تیری 'جویریا' کا کیا بنا؟" شایان نے ہنستے ہوئے کہا۔باقر کے چہرے سے مسکان غائیب ہوئی۔
    "تیری وجہ سے مجھے چھوڑ دیا اس نے۔غلطی سے اسے بتا دیا کہ تو میرا بیسٹ فرینڈ ہے۔پتا ہے اس نے کیا کہا کہتی تم اس لفنٹر کے دوست ہو۔میرے ساتھ زبردستی کر رہا تھا وہ۔مجھے ایک تھپڑ بھی لگا دیا۔" باقر نے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔شایان کا پیٹ ہنسنے سے درد کر رہا تھا۔"ہنس مت کمینے!میں محبت کرتا تھا اس سے" باقر نے بات جاری رکھی۔شایان ایک دم سیدھا ہو بیٹھا۔
    "چل بے٬محبت کرتا تھا٬ہم تینوں کمینوں کو محبت نہیں ہو سکتی!" شایان نے باقر کو ایک تھپڑ لگایا۔
    "ویسے وہ تیسرا کمینا کہاں ہے؟" شایان نے پوچھا۔باقر ہنسنے لگا۔باقر نے شایان کو اٹھایا اور اسے لے کر چپکے سے ساتھ والے درخت جے پاس لے گیا۔
    "اس درخت کے پیچھے دیکھ!" باقر نے ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
    شایان نے چھپ کر ان دو گھنے درختوں کے پیچھے دیکھا۔
    "خدیجہ!میری بات سنو۔میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔" کوئی لڑکا خدیجہ کا ہاتھ پکڑے رو رہا تھا۔
    "سچ میں؟" خدیجہ نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے سوالیہ نظروں سے پوچھا۔
    "تم نے شایان کے لیے میری محبت کو ٹھکرا دیا۔دیکھو اس نے تمھارے ساتھ کیا کیا۔" وہ لڑکا اب خدیجہ کو گلے لگائے ہوئے تھا۔
    "مجھے معاف کر دو،ارحم!میں نہیں جانتی تھی۔" خدیجہ بھی اسے گلے رہی تھی۔
    آہ!!!!!!!!!!!!!!!!؟؟؟
    باقر اور شایان نے زور دور چینکھ سے دونوں کو ہی ڈرا دیا۔ارحم نے غصے سے دونوں کو دیکھا جو اب ہنسے جا رہے تھے۔خدیجہ نے اپنا ہاتھ ارحم کے ہاتھ سے چھروایا۔اس سے پہلے کے ارحم کچھ کہتا اسے دئیں گال پر تماچہ پڑ چکا تھا۔وہ اب گال پر ہاتھ رکھے دونوں جے سامنے آیا۔خدیجہ روتے ہوئے بھاگی جا رہی تھی۔
    "کتوں!!!آج تم لوگوں کی جان لے لوں گا !" ارحم نے جوتا اٹھایا اور ان دونوں کے پیچھے ہو لیا وہ بھی آگے کو بھاگ پڑے۔اسی دوران بیل ہو گئی۔وہ ایک دم رکے۔
    "شٹ یار!دیر ہو گئی" تینوں نے ایک ساتھ کہا اور پھر ہنس دیے۔وہ اب باتیں اور خوش گپیاں کرتے کلاس کی طرف جا رہے تھے۔ارحم نے انھیں بتایا تھا کہ ان کی کلاس 6th A ہی ہے۔وہ تینوں کلاس روم کے آخری لونگ بینچ کے پیچھے بیٹھے جہاں تین کرسیاں اکٹھی تھیں۔ہمیشہ کی طرح شایان دائیں طرف باقر بائیں اور ارحم درمیان میں جس کی آج شامت آنی تھی۔درمیان والی جگہ کسی بدقسمت کو ہی ملتی تھی کیونکہ ارد گرد والے اس کا برا حال کر دیتے تھے۔شایان ابھی اپنی کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ سامنے سے طلبہ آ رہے تھے۔کچھ لڑکیاں ان تینوں کو دیکھ کر ہنس رہیں تھیں اور کچھ غصے سے لال ہو رہی تھیں لیکن تینوں کے لیے یہ نظارہ نیا نہیں تھا۔
    "ارحم،یار تمھارے بابا کس ٹرانسفر ہوا ہے ؟ ماموں بتا رہے تھے۔"
    "ہاں۔کراچی میں پیرزادہ کارگو کے ہیڈ بن گئے ہیں مگر میں نہیں گیا۔ان کو کہا ہے کہ میں ڈیگری پوری کر کے ہی آؤں گا۔" ارحم نے انگلش کی کتاب نکالتے ہوئے کہا۔
    "اوئے سنا ہے پیرزادہ صاحب کی ایک بیٹی بھی ہے!؟" باقر نے شوق انداز میں کہا
    "آہاں۔ہے تو۔پتا ہے مجھے وہ کتنی پسند ہے۔بہت خوبصورت ہے۔عائزہ عامر!" ارحم نے کہا اور کتاب کے پیچھے منہ چھپا لیا۔
    شایان اور باقر نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر ارحم پر ٹوٹ پڑے۔
    "چھوڑو یار ٹیچر آ رہی ہیں!!!!" ارحم نے بچنے کی کوشش کی۔ ٹیچر کلاس میں آ رہی تھیں۔
    "اسلام علیکم سٹوڈینٹز ! میرا نام حاجرا ہے۔آپ مجھے مس یا میم حاجرا کہ سکتے۔۔۔۔" مس حاجرا تعرف کروا رہیں تھیں۔
    "اووو! ہمیں پتا ہی نہیں تھا" باقر نے مزاق اڑایا۔وہ تینوں ہنس پڑے۔
    "آپ تینوں آخر میں ! زیادہ ہنسی آ رہی ہے" مس حاجرا نے غصے سے پوچھا۔
    "نہیں مس تھوڑی سی۔۔" باقر نے سر غوشی کی مگر آس پاس کے بچے ہنس پڑے۔
    "Out Of The Class!Now!All of You" مس حاجرا نے انگلی کے اشارے سے انھیں دروازے کا راستہ دکھایا۔وہ تینوں چپ چاپ چل پڑے۔
    "ShameLess!!" مس حاجرا نے پھر سے کہا۔
    "اوئے یہ کسی انگلش سیزن کا نام ہے؟! ہے نا؟" باقر نے جاتے جاتے کہا۔ساری کلاس ہنس پڑی۔باہر دروازے کے ساتھ وہ تینوں کھڑے ہو گئے۔اور اب درمیان میں باقر تھا۔
    "کمینے پہلے دن ہی باہر نکلوا دیا" شایان نے کہا۔
    "سوری یار پتا نہیں میری زبان نہیں رکتی"باقر نے چھت کو دیکھتے ہوئے کہا۔
    شایان نے بائیں طرف دیکھا جہاں باقر تھا۔مگر اس کی نظر سامنے جا رکی۔کوئی لڑکی کندھے پر سیاہ بیگ ڈالے اور سفید سکاف پہنے آ رہی تھی۔شایان کا منہ کھل گیا۔ارحم اور باقر اپنے سامنے بیٹھی کسی لڑکی کے بارے میں بات کر رہے تھے۔
    "تم لوگوں کا تو پتا نہیں،لگتا ہے مجھے محبت ہو گئی ہے۔"اور یہ کہتے ہی وہ آگے بڑھ گیا۔وہ لڑکی کلاس میں ہی جا رہی تھی جب شایان ایک دم اس کے سامنے آ رکا۔
    "ہیلو،مس؟کیا میں آپ کی کچھ مدد کر سکتا ہوں" شایان نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے پوچھا۔اس لڑکی نے اپنی سیاہ آنکھیں پہلے ہاتھ کی طرف جھکائیں پھر اٹھا کر شایان کو دیکھا۔
    "مجھے 6thA میں جانا ہے! کیا آپ بتا سکتی ہیں وہ کون سی کلاس ہے ؟" اس لڑکی نے کہا۔شایان اس کی آواز سن کر دنگ رہ گیا۔وہ بہت خوبصورت اور شائشسہ تھی۔
    "ضرور مگر کیا میں آپ کا نام جان سکتا ہوں؟" شایان نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا۔اس لڑکی نے مسکراتے ہوئے سر جھکایا اور شایان کو دیکھا۔
    "خدا حافظ!" اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور آگے بڑھ گئی۔شایان وہیں کھڑا رہا پھر تھوڑی دیر بعد واپس آ گیا۔باقر اور ارحم نے اس کو دیکھا۔
    "کیا نام ہے اس کا ؟" انھوں نے پوچھا۔
    "پتا نہیں۔" شایان نے کہا باقر اور ارحم نے اسے حیرانی سے دیکھا۔یہ پہلی بار تھا جب وہ خالی ہاتھ آیا تھا۔ لیکن شایان اس وقت یہ سوچ رہا تھا۔اس کے دماغ میں اب بھی وہ چہرا تھا۔شایان نے اپنے دماغ میں ہی اس بات کو مانا تھا کہ اس لڑکی سے زیادہ خوبصورت لڑکی اس نے نہیں دیکھی۔
    کچھ دیر بعد بیل ہو گئی۔پیریڈ ختم ہو گیا تھا۔وہ تینوں خاموشی سے دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑے تھے۔
    "جاؤ اندر !!" مس حاجرا نے کہا۔اور چلیں گئی۔وہ تینوں چپ چاپ کلاس میں چلے گئے۔اپنی جگہ پر جاتے ارحم اور باقر توادھر ادھر دیکھ رہے تھے لیکن شایان کی نظریں اپنے بینچ سے آگے والے بینچ پر اٹک گئیں۔وہ وہیں تھی۔سر جھکائے تیزی سے کچھ لکھ رہی تھی۔شایان اوپر کی طرف دوڑا اور اپنا بستہ اٹھا کر اس لڑکی کے ساتھ خالی کرسی پر آبیٹھا۔اس لڑکی نے نہیں دیکھا تھا مگر شایان اس کے ساتھ بیٹھا اب اسی کو دیکھ رہا تھا۔اس نے لکھتے ہوئے ایک دم نظر اٹھائی تو شایان اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
    "میرا نام شایان مصطفی ہے" اب کی بار شایان نے ہاتھ نہیں بڑھایا۔بس ٹھہرے ہوئے لحجے میں کہا۔
    "میں جانتی ہوں!" اس لڑکی نے اپنی سیاہ آنکھیں شایان کی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے کہا۔
    "آپ کون ہیں؟" شایان نے عجیب سے انداز میں پوچھا۔
    "کم اون یار!" اس لڑکی نے ایک دم شایان کے کندھے کو جھٹکتے ہوئے کہا۔
    "کوئی ڈھنگ کا سوال پوچھو۔میں نے تو شایان مصطفی کی پر اعتمادی کے نا جانے کتنے قصے سنے ہیں۔" اس نے مسکراتے ہوئے شایان سے کہا۔شایان کچھ سنبھلا،مسکرایا اور اس کی جانب دیکھا۔
    "پھر تو میرے چاہنے والوں نے یہ بھی بتایا ہو گا شایان مصطفی ہر کسی کے پیچھے نہیں پڑتا۔آپ تو خوش قسمت ہیں۔" شایان نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
    "وہ تو میں ہوں۔"اس لڑکی نے کہا اور لکھے گئی۔اچانک سے اس نے پین بند کیا اور شایان کی جانب مڑی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔شایان نے غور کیا کہ اس لڑکی کے گال سرخ ہوئے تھے۔
    "آپ بلش کرتے ہوئے بہت خوبصورت لگتی ہیں" شایان نے کہا تو اس لڑکی نے سر جھکایا پھر شایان کو دیکھ کر اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
    "My name's Maryam!Maryam Imran."شایان نے بہت نرمی سے اس
    کے دودھیا ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا۔وہ دونوں ایک دوسرے کو ہی دیکھتے رہے۔انھوں نے سارا دن اکٹھا ہی گزارا تھا۔شایان واپسی پر بھی اس سے مل کر ہی گیا تھا۔وہ آج کچھ ضرورت سے زیادہ ہی خوش تھا۔
    گھر میں حمنہ بھی اس کا یہ انداز دیکھ کر حیران ہو گئیں۔
    "کیا بات ہے شایان ؟ بہت خوش ہو آج تو ؟" حمنہ نے اسے اپنے پاس بٹھاتے ہوئے پوچھا۔
    "Mom!There's a new girl in my class..Im serious Mom she's too beautiful..I really like her alot" شایان نے ایک جھٹکے میں حمنہ کو پوری بات بتائی۔اس نے اپنے پورے دن کی کہانی حمنہ کو سنائی جنھوں نے بہت سنجیدگی سے سارا معاملہ سنا۔
    "بیٹا۔آپ کو وہ لڑکی پسند آئی۔مان لیتے ہیں ہالانکہ آپ کی عمر ابھی بہت تھوڑی ہے۔آپ کہ رہے ہیں آپ کو اس سے محبت ہو گئی ہے۔میں کہتی ہوں آپ محبت اور پسند کا فرق بھی نہیں کر سکتے۔" حمنہ بہت شائستہ انداز میں کہا۔
    "امی آپ نے بھی تو ابو سے محبت کی تھی۔کیسے ہوئی تھی آپ کو محبت؟" شایان نے پوچھا تو حمنہ بھی مسکرا دیں۔شاید کچھ یاد آگیا۔
    "بیٹا۔آپ کے ابو شہر کے امیر ترین خاندان کے اکلوتے تھے۔انھوں نے مجھے اسی سکول میں آٹھویں میں دیکھا تھا۔میں بہت گم سم تھی بیٹا۔لیکن آپ کے ابو کو جب میں نے دیکھا تو پہلی بار میں احساس ہوا تھا کہ ان کا میری زندگی میں کوئی دخل ہے۔جو قسمت میں ہوتا ہے نا اس کے ساتھ ایک عجیب سی کشش ہوتی ہے۔بیٹا آپ کے ابو نے بہت دکھ سہے تھے پھر جا کر انھیں اپنے گھر والوں سے اجازت ملی تھی۔کیونکہ ان کا خاندان قدرے مزہبی تھا اور ہمارا کافی لیبرل۔میں بھی ان سے محبت کرتی تھی اس لیے اپنے گھر والوں سے اھازت چاہی لیکن نہیں ملی۔آپ کے ابو نے مجھ سے ایک بار بھی بات نہیں کی کہ میں اجازت لوں گی تو ہی شادی ہو گی ورنہ نہیں۔میں نے بہت سمجھایا مما بابا کو لیکن وہ نہیں مانے۔پھر آپ کے ماموں نے مما بابا اور مصطفی سے بات کی۔مما بابا مانے تو سہی مگر ان کی شرط تھی کہ وہ شادی ہونے کہ بعد کبھی مجھ سے نہیں ملیں گے۔انھیں فکر تھی کہ مصطفی بھی باقیوں کے جیسا ہے۔محبت اتر جائے گی پھر مجھے چھوڑ دے گا۔اور ان کی بات آدھی ٹھیک تھی انھوں نے مجھے چھوڑ ہی دیا۔شادی کے بعد مصطفی مجھے یہاں لائے تھے۔مما بابا سے معافی مانگنے لیکن بابا نے مصطفی کو دھکے دے کر نکال دیا اور ہم واپس چلے گئے۔" حمنہ خاموش ہوئیں۔
    "مگر امی ابو تو امیر تھے۔تو وہ وہاں کیوں رہتے تھے" شایان نے پرانے گھر کا ذکر کیا۔
    "بیٹا آپ کے ابو کو گھر والوں سے اجازت ملی تھی اس شرط پر کہ وہ خود اپنی محنت سے کمائیں گے۔عالم کی وفات کے بعد بھی مصطفی نے سب کچھ خیرات کر دیا اپنے پاس نہیں رکھا۔وہ زیادہ نہیں پڑھے تھے اس لیے کہیں نوکری نہیں ملی۔لیکن عالم کی بیٹے کی شناخت پر سکول والوں نے کلرک بھرتی کیا تھا۔ان کے آخری الفاظ آج بھی یاد ہیں۔جب وہ مجھ سے لڑ کر گئے تھے کہ میں اپنے گھر کیوں نہیں جاتی ان کے لیے اپنے ماں باپ سے لڑ رہی ہوں۔وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ محبت ہوئی تھی نامحرم سے تو محرم ںمبنا لیا لیکن وہ جو گناہ ہوئے ان کی معافی کے لیے روز روتا ہوں رات کو" حمنہ کی آواز رندھ گئی تھی۔وہ اٹھ کر چلیں گئی۔شایان اس دن سے بہت خاموش ہو گیا۔وہ ایک دم سے کچھ سنجیدہ ہو گیا تھا۔اگلے دن سکول بھی وہ کچھ زیادہ نہیں بولا۔بریک میں وہ مریم سے ملا۔
    "مریم!مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے؟" شایان نے بنا ہچکچاہٹ کے اسی گراؤنڈ کے کونے میں اپنی مخصوص جگہ بیٹھے مریم سے کہا۔
    "ہاں کہو!" مریم نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔وہ آج سرخ سکاف میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔وہ دونوں ہی اپنی عمر سے کافی بڑے اور سمجھدار لگتے تھے۔
    "تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو!" شایان نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔مریم پھر سے بلش کر رہی تھی۔
    "تم کچھ نہیں کہو گی؟" شایان نے جواب چاہا۔
    "شایان تمھیں نہیں لگتا کہ ہم ان چیزوں کے لیے بہت چھوٹے ہیں۔" مریم نے ایک دم سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا۔
    "مجھے نہیں لگتا۔میں سب کچھ سمجھتا ہوں۔محسوس کرتا ہوں۔مجھے محسوس کرتا ہوں کہ مجھے تم سے محبت ہے" شایان نے کہا۔مریم نے اس کی جانب دیکھا۔
    "ایک منٹ۔کیا کہا محبت!!تم اس لفظ کے مفہوم سے واقف نہیں ہو شایان" مریم نے کہا اور کھڑی ہوگئی۔
    "کیوں؟تم مجھے پسند نہیں کرتی کیا؟" شیان نے اس کی کلائی پہڑ کر کہا۔وہ یک دم غصہ ہونے لگ گیا تھا۔
    "پسند اور محبت میں بہت فرق ہوتا ہے،شایان،میرا ہاتھ چھوڑو درد ہو رہی ہے" شایان نے اس کی کلائی بہت زور سے پکڑ رکھی تھی۔مریم روہانسی ہو گئی تھی۔شایان نے اسے ایک جھٹکے سے چھوڑا۔
    "کیا ہو گیا ہے تمھیں،شایان؟" مریم شایان کی طرف بڑھی تھی۔مگر وہ پیچھے ہٹ گیا۔
    "مجھے معاف کرنا۔" شایان نے جھکے سر سے کہا اور پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتا وہاں سے چلاگیا۔مریم اسے اپریل کی دھوپ میں جاتا دیکھتی رہی۔
    شایان نے وہ دن بھی اگلا دن بھی بہت اداس ہی گزارے تھے۔وہ بات بہت کم کرتا تھا۔وہ سوچتا رہتا کہ وہ کیوں محبت کو سمجھ نہیں پارہا ۔درحقیقت وہ اپنے آپ کو بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔وہ ایک دن مغرب کے وقت حمنہ کے کمرے میں بیٹھا سکول کا کام کر رہا تھا۔اور حمنہ نماز پڑھ رہیں تھیں۔شایان نے کاپی اور پین رکھا اور حمنہ کو نماز پڑھتے دیکھنے لگا۔حمنہ نے سلام پھیرا اور دعا مانگنے لگی۔پتا نہیں اتنے دنوں بعد شایان کو سکون محسوس ہوا تھا۔
    "امی،نماز سے سکون ملتا ہے ؟ شایان نے بہت سالوں بعد حمنہ سے کوئی بچوں کی طرح سوال پوچھا تھا۔
    "ہاں بیٹا۔الللہ کی ہر بات سچ ہے۔یہ بھی سچ ہے کہ الللہ کی یاد میں ہی سکون ملتا ہے" حمنہ نے جاءنماز کو انگلیوں سے کھرونچتے ہوئے کہا۔
    "امی۔مجھے کیسے پتا لگے گا کہ مجھے محبت ہو گئی ہے؟" شایان نے بےاختیار کہا۔حمنہ مسکرائیں۔
    "جب الللہ کے سامنے اکیلے میں آنسو بہتے ہیں تو سمجھ لینا بیٹا تمھیں محبت ہوئی ہے۔وہ محبت چاہے جس سے بھی ہو پاک ہو تو الللہ کے پاس ہی لائے گی۔" حمنہ اٹھ کر شایان کے پاس صوفے پر آبیٹھیں۔کوئی بوجھ سا تھا جو شایان کے کندھوں پر سے اترا تھا۔اسے واقعے سکون ملا تھا۔
    "امی،مجھے محبت کو کوئی قصہ تو سنائیں؟" حمنہ کھلے دل سے مسکرائیں تھیں۔ان کے گالوں میں گڑھے بھی پڑے تھے۔
    "بیٹا ہمارے نبی(صلی الللہ علیہ وسلم) سے بھری مجلس میں کسی نے پوچھا کہ آپ کو دنیا میں سب سے زیادہ کس انسان سے محبت ہے؟" حمنہ کی مسکراہٹ اور گہری ہوئی۔وہ بہت ٹھہرے ہوئے لحجے میں بول رہی تھیں۔"ہمارے نبی(صلی الللہ علیہ وسلم) نے پتا ہے کیا فرمایا؟!صرف ایک لفظ!" کوئی گرھیں تھیں جو کھل رہی تھیں شایان کے دل پر سے۔*
     
    Last edited: Jul 28, 2017
    Shakeel777 and Akram Naaz like this.
  2. Wajahat
    Offline

    Wajahat VIP Member Staff Member
    • 28/33

    سوری اس کہانی کا نام "بنت حوا "نہیں بلکہ "صنم محبت ہوجیسے؟ ہے۔"اگر ایڈمین بھائی اپ اسکو ایڈیٹ کرکے ٹیک کرسکتے تو مہربانی ہوگی۔میں نے کوشش کی لیکن ایڈیٹ نہیں ہورہاتھا۔واسلام
     
    PakArt and Akram Naaz like this.
  3. Akram Naaz
    Offline

    Akram Naaz BuL..BuL Staff Member
    • 63/65

    بہت پیاری شیئرنگ کی ہے۔۔
    ہمارے ساتھ شیئر کرنے کا بہت شکریہ

    Sent from my SM-G6000 using یہ لنک دیکھنے کے لیے آئی ٹی استاد پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اپنا اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں
     
  4. Akram Naaz
    Offline

    Akram Naaz BuL..BuL Staff Member
    • 63/65

    جی برادر ٹائٹل درست کر دیا گیا ہے شکریہ

    Sent from my SM-G6000 using یہ لنک دیکھنے کے لیے آئی ٹی استاد پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اپنا اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں
     
    PakArt likes this.
  5. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

Share This Page