1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

Raastay Ki Bajri

Discussion in 'Baat Cheet' started by Najam Mirani, Sep 19, 2017.

  1. Najam Mirani

    Najam Mirani Management

    :Bismilah2:

    راستے کی بجری
    #######################

    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ نے ایک شاہراہ بنوائی اور اِس کے افتتاح کے لئے ایک ریس کا اعلان کیا اور کہا کہ" اس ریس میں تمام شہری حصہ لیں اور اِس کے اختتام پر شاہراہ کے متعلق اپنے تاثرات کا اظہار بھی کریں اور جس کا نقطۂ نظر بادشاہ کو پسند آئے گا اُسے انعام سے نوازا جائے گا۔
    سب نے بڑے جوش و خروش سے ریس میں حصہ لیا۔
    شاہراہ کے دوسرے سِرے پر بادشاہ ریس کے شرکاء کے تاثرات پُوچھتا رہا۔
    کسی نے شاہراہ کی تھوڑی، کسی نے زیادہ تعریف کی، مگر سب نے بتایا کہ " شاہراہ پر ایک جگہ بجری پڑی ہے اگر اُسے اُٹھوا دیا جائے تو راہ چلنے اور دوڑنے والوں کے لیے بہت اچھا ہوگا۔
    شام تک سب لوگ چلے گئے تو بادشاہ اُٹھ کر جانے لگا۔
    ایک سپاہی نے خبر دی کہ " ریس میں حصہ لینے والوں میں سے ایک آدمی جو شاہراہ میں صبح سویرے داخل ہوا تھا ابھی آنا باقی ہے۔
    کچھ دیر بعد ایک درمیانی عمر کا شخص دھُول میں لت پت تھکا ہارا ہاتھ میں ایک تھیلی پکڑے پہنچا اور ہانپتے ہوئے بادشاہ سے مخاطب ہوا: جناب عالی ! میں معافی چاہتا ہوں کہ آپ کو انتظار کرنا پڑا۔
    دراصل راستے میں کچھ بجری پڑی تھی، میں نے سوچا اِس کی وجہ سے گزرنے والے لوگوں کو تکلیف ہوگی، لہٰذا اُسے ہٹانے میں کافی وقت لگ گیا۔لیکن حضور ! بجری کے نیچے سے یہ تھیلی ملی ہے، اس میں شاید کچھ سکے ہیں ہو سکتا ہے سڑک بنانے والے مزدوروں میں سے کسی کے ہوں گے، اُسے دے دیجئے گا۔
    وہ شخص اپنی بات ختم کر کے چلنے لگا تو بادشاہ نے کہا " بوڑھے میاں ! یہ تھیلی اب آپ کی ہے کیونکہ یہ میں نے ہی وہاں رکھوائی تھی اور یہ تمہارا انعام ہے۔
    پھر بادشاہ دوسرے حاضرین کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے بولا : بہترین شخص وہ ہوتا ہے، جو گلے شکوئے کرنے کی بجائے اپنے عمل سے کچھ کر کے دکھائے۔
    اگر دیکھا جائے تو ہم سب بھی مجموعی طور پر راستے کی اِس "بجری" پر تو نالاں رہتے ہیں جو ہمارے راستے میں حائل ہے مگر اس کو ہٹانے کی کوشش نہیں کرتے، ہم میں سے ہر کوئی گفتار کا غازی تو بن جاتا ہے مگر کوئی بھی کردار کا غازی بننے کو تیار نہیں ہے۔
    الله کرے اب ہم لوگ بھی صرف باتیں بنانے کے بجائے اردگرد موجودچھوٹی موٹی "بجریاں" بھی ہٹانا شروع کر دیں۔
    ایساکرنےپر مجھےیقین ہے کہ ایک دِن ہم اُس حقیقی بادشاہ کی بارگاہ سے دنیا و آخرت میں انعام ضرور پائیں گے۔
    * ان شاء اللہ عزوجل*
     
    PakArt likes this.
  2. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

  3. Shahzaib Gohar

    Shahzaib Gohar Management

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    :Bismilah2:

    راستے کی بجری
    #######################

    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ نے ایک شاہراہ بنوائی اور اِس کے افتتاح کے لئے ایک ریس کا اعلان کیا اور کہا کہ" اس ریس میں تمام شہری حصہ لیں اور اِس کے اختتام پر شاہراہ کے متعلق اپنے تاثرات کا اظہار بھی کریں اور جس کا نقطۂ نظر بادشاہ کو پسند آئے گا اُسے انعام سے نوازا جائے گا۔
    سب نے بڑے جوش و خروش سے ریس میں حصہ لیا۔
    شاہراہ کے دوسرے سِرے پر بادشاہ ریس کے شرکاء کے تاثرات پُوچھتا رہا۔
    کسی نے شاہراہ کی تھوڑی، کسی نے زیادہ تعریف کی، مگر سب نے بتایا کہ " شاہراہ پر ایک جگہ بجری پڑی ہے اگر اُسے اُٹھوا دیا جائے تو راہ چلنے اور دوڑنے والوں کے لیے بہت اچھا ہوگا۔
    شام تک سب لوگ چلے گئے تو بادشاہ اُٹھ کر جانے لگا۔
    ایک سپاہی نے خبر دی کہ " ریس میں حصہ لینے والوں میں سے ایک آدمی جو شاہراہ میں صبح سویرے داخل ہوا تھا ابھی آنا باقی ہے۔
    کچھ دیر بعد ایک درمیانی عمر کا شخص دھُول میں لت پت تھکا ہارا ہاتھ میں ایک تھیلی پکڑے پہنچا اور ہانپتے ہوئے بادشاہ سے مخاطب ہوا: جناب عالی ! میں معافی چاہتا ہوں کہ آپ کو انتظار کرنا پڑا۔
    دراصل راستے میں کچھ بجری پڑی تھی، میں نے سوچا اِس کی وجہ سے گزرنے والے لوگوں کو تکلیف ہوگی، لہٰذا اُسے ہٹانے میں کافی وقت لگ گیا۔لیکن حضور ! بجری کے نیچے سے یہ تھیلی ملی ہے، اس میں شاید کچھ سکے ہیں ہو سکتا ہے سڑک بنانے والے مزدوروں میں سے کسی کے ہوں گے، اُسے دے دیجئے گا۔
    وہ شخص اپنی بات ختم کر کے چلنے لگا تو بادشاہ نے کہا " بوڑھے میاں ! یہ تھیلی اب آپ کی ہے کیونکہ یہ میں نے ہی وہاں رکھوائی تھی اور یہ تمہارا انعام ہے۔
    پھر بادشاہ دوسرے حاضرین کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے بولا : بہترین شخص وہ ہوتا ہے، جو گلے شکوئے کرنے کی بجائے اپنے عمل سے کچھ کر کے دکھائے۔
    اگر دیکھا جائے تو ہم سب بھی مجموعی طور پر راستے کی اِس "بجری" پر تو نالاں رہتے ہیں جو ہمارے راستے میں حائل ہے مگر اس کو ہٹانے کی کوشش نہیں کرتے، ہم میں سے ہر کوئی گفتار کا غازی تو بن جاتا ہے مگر کوئی بھی کردار کا غازی بننے کو تیار نہیں ہے۔
    الله کرے اب ہم لوگ بھی صرف باتیں بنانے کے بجائے اردگرد موجودچھوٹی موٹی "بجریاں" بھی ہٹانا شروع کر دیں۔
    ایساکرنےپر مجھےیقین ہے کہ ایک دِن ہم اُس حقیقی بادشاہ کی بارگاہ سے دنیا و آخرت میں انعام ضرور پائیں گے۔
    * ان شاء اللہ عزوجل*
    Click to expand...
    جزاک اللّه خیر

    Sent from my QMobile X2i using Tapatalk
     
    Najam Mirani likes this.
  • UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

  • Share This Page