1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

پنجابی زبان کی تاریخ

Discussion in 'سانجا ویہڑا' started by UrduLover, Sep 27, 2017.

  1. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    پنجابی زبان کی تاریخ
    ****
    پنجابی ہندوستانی اور ایرانی زبان کا امتزاج ہے۔ اس کو ہندوستانی زبانوں میں کافی موثر حیثیت حاصل ہے۔ پنجابی قوم کئی مختلف نسلوں کے اختلاط سے معرض وجود آئی ہے جو کہ پنجابی علاقوں پر حملہ آور ہونے کے ساتھ مہاجرت کے ذریعہ آباد ہوتے رہے،جن کا زیادہ تر تعلق شمالی پہاڑی علاقوں اور ممالک سے تھا اور جن کی منتقلی کی وجوہ ان علاقوں میں روز گار کے کم مواقع، سخت موسمی حالت، زرعی اجناس کی کمی اور پنجاب کی سر سبز زمین، لہلہاتے کھیت ،پانی کی فراوانی اور دوسرے لوگوں کو اپنے علاقوں میں بسنے اور جذب کرنے کی مقامی آبادی کی صلاحیت تھی۔ انہوں نے کبھی حملہ آوروں کے خلاف مزاحمت نہیں کی تھی۔
    موجودہ تاریخی تناظر میں قیام پاکستان کے بعد بھی پنجابیوں کی جدوجہد کبھی حکمران طبقات کے خلاف نہیں رہی ہے۔ یہاں کی اشرافیہ، جاگیرداراور سرمایہ دار طبقات نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیا ہے۔ پنجابی زبان کے فروغ کے دعویٰ داروں نے علامتی طور پر احتجاج اور مطالبات کئے ہیں۔ اس حوالہ سے منعقدہ پنجابی عالمی کانفرنسیں محض میڈیا کی زینت بن سکی ہیں مگر عام پنجابی بولنے والوں میں کوئی تحریک پیدا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔اس طرح پنجابی زبان بالعموم پنجابیوں کی شناخت کا ذریعہ نہیں بن سکی ہے۔ پاکستان میں جاری پنجابی زبان کی ترویج کی تحریکوں کے اسلاف سیاسی، ذاتی یا ادبی حوالوں سے ہیں۔ ان کی عام آدمی کے مسائل کے حوالہ سے کوئی تعلق داری پیدا نہیں کی جاسکتی ہے۔
    کچھ گروہ اس کو ادبی اور لسانیت کے حوالہ سے فروغ دینا چاہتے ہیں، کچھ اس کو سیاسی قوت کے طور پر استعمال کرنے کے خواہشمند ہیں اور کچھ علاقائی زبان کے مختلف لہجوں کے حوالہ سے تقسیم کر تے ہیں جس میں پوٹھوہاری، وسطی پنجاب اور سرائیکی بیلٹ شامل ہیں۔ اس وقت پنجابی بولنے والوں کی تعداد پاکستانی پنجابی علاقوں میں آٹھ کروڑ ہے جو کہ پاکستان کی کل آبادی کا 55فیصد ہیں۔ 30ملین ہندوستان میں بستے ہیں جن کی زیادہ تعداد مشرقی پنجاب میں آباد ہے۔ اس کے علاوہ ہریانہ اور دہلی میں بھی کافی تعداد میں پنجابی بستے ہیں۔ یہ ہندوستان کی کل آبادی کے لگ بھگ 3فیصد ہیں۔ 10ملین کے قریب پنجابی جن میں زیادہ تعداد سکھوں کی ہے، ہندوستان سے باہر برطانیہ، شمالی امریکہ، مشرق بعید (ملائیشیا میں 2لاکھ سکھ آباد ہیں) اور مڈل ایسٹ وغیرہ شامل ہیں۔ ان پنجابیوں میں 54فیصد مسلمان، 29فیصد ہندو، 14فیصد سکھ اور 3فیصد عیسائی شامل ہیں مگر سیاسی اور معاشی قوت کے حوالہ سے صورتحال بالکل ڈرامائی ہے۔ پاکستان سیاسی، فوجی اور معاشی قوت کے حوالہ سے ایک پنجابی ریاست ہے جس کو پارلیمنٹ، فوج اور دیگر سول اداروں، تجارت اور صنعت میںبالادستی حاصل ہے ۔ پنجابی جاگیردار سیاست اور ریاست میں اہم کردار ادا کرتے ہیں مگر پنجابیت کے حوالہ سے ان کی سرگرمیاں بالکل متصادم ہیں اور یہ حکمران طبقہ کے زبان و اظہارکے غلام ہیں۔ ہندوستان میں بسنے والے پنجابی اس ملک کے زرخیز ترین زرعی خطے کے باسی ہیں جو کہ ہندوستان کی ایک ارب سے زیادہ آبادی کو غذائی اجناس اور غلہ فراہم کرتا ہے۔
    ہندوستانی فوج کے اعلیٰ افسران کی کافی زیادہ تعداد پنجابیوں پر مشتمل ہے۔جواہر لال نہرو کی والدہ کا تعلق لاہور سے تھا۔ پروفیسر عبدالسلام کا تعلق بھی بھارتی اور پاکستانی پنجاب سے ہے۔ اردو کے ممتاز شاعر فیض احمد فیض اور ساحرلدھیانوی کا تعلق بھی پنجاب سے ہے۔ اسی طرح جدید شاعری اور ادب کی ترویج کے حوالہ سے سب سے زیادہ کام پنجابی زبان میں ہورہا ہے۔
    دنیا میں 55کے قریب پنجابی چینل قائم ہیں۔ لاتعداد ایف ایم ریڈیو پنجابی زبان میں نشریات پیش کر رہے ہیں۔ گلیوں، بازاروں اور عام آدمی کی زبان پنجابی ہے۔ ان اعدادو شمار کی موجودگی میں پنجابی زبان کی تیزی سے پائمالی کے بارے میں کیسے سوچا جا سکتا ہے؟ پاکستان میں پنجابی زبان کے ٹی وی چینلز کو سب سے زیادہ پذیرائی حاصل ہے۔ سب سے زیادہ شاعرانہ کلام پنجابی زبان میں مقبول عام ہے مگر اتنے موثر اظہارفصاحت و بلاغت کے باوجود تاریخی طور پر پنجابی ریاستی زبان کا درجہ اختیار انہیں کرسکی ہے جس کی ذمہ داری پڑھے لکھے پنجابیوں اور بیورو کریسی پر ڈالی جا سکتی ہے جنہوں نے اپنے لسانی حقوق کی خاطر جدوجہد کے بجائے مہاجر بیوروکریسی کے آگے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجابی سرکاری کے بجائے ہمیشہ عام آدمی کی زبان رہی ہے۔ یہ ہمارے الیکٹرانک میڈیا کا کمال ہے کہ اس نے اب اس کو ہمارے بالائی حکمران طبقات کے خاندانوں کے کلچر میں داخل کر دیا ہے۔ کچھ ڈراموں میں اردو زبان میں پنجابی زبان کے امتزاج نے اس کو حکمران طبقات میں قبولیت کی سند بخشی ہے۔ ممتاز دانشور پروفیسر شریف کنجاہی صاحب نے کہا تھا ”استاد امام دین کی شاعری اور لہجہ ہماری مستقبل کی اردو اور پنجابی زبان سے ہم آہنگ ہوگا

    سولہویں اور انیسویں صدی کے دوران پنجابی زبان و ثقافت کا فروغ سکھ گوروں، مسلمان صوفی شعرائ، ہندو بھگتوں کے ذریعہ ہوا جنہوں نے تخت و تاج اور ریاست کاروں کی مخالفت کی اور مضبوط نظریاتی پنجابیت کا درس دیا۔ اس عمل میں بابا بلھے شاہ اور شاہ حسین نمایاں رہے ہیں۔ انہوں نے علامتی اظہار کے ذریعہ شاہی روایات اور اقتدار کے خلاف تحریروں میں عوامی جذبات کا اظہار کیا تھا۔ ہندوستان کے پنجابی حکمران رنجیت سنگھ نے پنجابی ریاست قائم کی (1799-1839ئ) مگر سرکاری زبان فارسی رکھی۔ 1849ءمیں پنجاب میں انگریزوں کے عمل دخل کے بعد انہوں نے دیگر برطانوی نو آبادیاتی علاقوں میں رائج اردو زبان کو پنجاب میں سرکاری زبان قرار دیا جس سے شہری علاقوں میںیہ تاثر ابھارا گیا کہ پنجابی زبان اردو اور ہندوستان سے بھی تعلق رکھتی ہے۔ یہ بات تقریباً درست تھی۔ پنجابی زبان کو کبھی ریاستی سرکاری زبان کا درجہ حاصل نہیں ہوا ہے۔ پنجابی زبان کی پہلی لغت انیسویں صدی کے وسط میں لدھیانہ کے عیسائی مشنریوں نے شائع کی۔ بیسویں صدی کے نصف تک پنجابی شناخت نسلی تضادات کی وجہ سے متاثر ہوئی۔


    پنجابی شاعری اور زبان کو زندہ رکھنے والوں میں میلوں ٹھیلوں، تھیٹرز کمپنیوں اور لوک فنکاروں کا خاص کردار ہے ۔ بہرصورت معروضی صورتحال میں گلوبلائزیشن کے نئے کلچر، زبان و کردار کے باوجود پنجابی زبان میں زندہ رہنے کی صلاحیت موجود ہے۔ خصوصاً وہ زبانیں جو کہ مقامی ثقافت اور کسی مذہب کے ساتھ جڑت رکھتی ہیں وہ ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ پاکستان میں پنجابی زبان کے ساتھ سوتیلا سلوک روا رکھنے کے باوجود یہ ابھی تک پنجاب میں اکثریتی آبادی کی زبان ہے۔ یہ واحد زبان ہے جس کو دوسری زبانیں بولنے والے آسانی سے سمجھ اور بول لیتے ہیں۔
    ملک میں موجودہ ترقی پسند جماعتوں نے ہمیشہ علاقائی زبانوں کی حمایت کی ہے۔ بدقسمتی سے پنجاب میں اس زبان کے مختلف لہجوں اور تلفظ کی وجہ سے کوئی پنجابی زبان کے فروغ کی اجتماعی تحریک جنم نہیںلے سکی ہے۔ سابقہ پنجاب حکومت میں چوہدری پرویز الہٰی نے بطور وزیراعلیٰ پنجابی کے فروغ کے لئے ادارے قائم کئے تھے اور اس ضمن میں کچھ تحقیق اور تخلیقی کام بھی شروع ہوا تھا۔ اب یہ موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پنجابی زبان کے فروغ کے لئے ادارے قائم کرے اور اس کو پرائمری کی سطح تک نصاب میںبھی پڑھایا جائے ۔
    پاکستان میں پنجابی زبان کے فروغ کے لئے ممتاز دانشور فخرزمان، پروفیسر خالد ہمایوں، شہباز ملک اور سید نجم الحسن کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ مذہبی تعصب کی عینک سے دیکھنے کے بجائے اس کو اپنی دھرتی کی مٹی کے نقطہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔پنجابی انسانوں کے ذہنوں اور دلوں میں رچ بس جانے والی زبان ہے اور اس میں زندہ رہنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
     
    Admin likes this.
  2. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    تحریر ذرائع
    وکیپیڈیا سے

    پنجابی (اردو پنجابی، گورمکھی ਪੰਜਾਬੀ) ایک ہند یورپی زبان ہے جو کہ باشندگان پنجاب میں مروج ہے۔ پنجابی بولنے والوں میں ہندومت، سکھ مت، اسلام، اور مسیحیت کے پیروکار شامل ہیں۔ اول الذکر مذہب کے علاوہ باقی تینوں مذاہب میں اس زبان کو خاص حیثیت حاصل رہی ہے۔ پاکستان اور ہندوستان میں کیے گیے مردم شماریوں کے مطابق دنیا میں پنجابی بولنے والوں کی تعدا 14-15کروڑ سے زائد ہے ۔ اس زبان کے بہت سے لہجے ہیں جن میں سے ماجھی لہجے کو ٹکسالی مانا جاتا ہے۔ یہ لہجہ پاکستان میں لاہور، شیخوپورہ، گوجرانوالہ کے اطراف میں جبکہ ہندوستان میں امرتسر اور گورداسپور کے اضلاع میں مستعمل ہے۔ایس.آئی.ایل نژادیہ کے 1999ء کی شماریات کے مطابق پنجابی اور ہندی دُنیا میں گیارویں سب سے زیادہ بولی جانی والی زبان ہے.

    پنجابی پاکستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔ یہ ملک کی 55فی صدی آبادی کی مادری زبان ہے، جبکہ 65 فیصد پاکستانی یہ زبان بولنا جانتے ہیں۔ پاکستان میں پنجابی بولنے والے لوگوں کی تعداد کم و پیش 10 کڑوڑ ہے۔ اس کے برعکس ہندوستان کی آبادی کا محض 3 فیصد ہی پنجابی جانتا ہے۔ تاہم پنجابی ہندوستان کی ریاست پنجاب کی سرکاری زبان ہے، جبکہ پاکستان میں پنجابی کو کسی قسم کی سرکاری پشت پناہی حاصل نہیں۔ مزید برآں پنجابی کو ہندوستانی ریاستوں ہریانہ اور دہلی میں دوئم زبان کی حیثیت حاصل ہے۔
    پنجابیامریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں اقلیتی زبان کے طور پر بولی جاتی ہے۔ پنجابی نے بھنگڑا اور موسیقی کی وساطت سے بھی کافی عالمی مقبولیت پائی ہے۔

    پنجابی زبان کا اختراع اپبھرمش پراکرت زبان سے ہوا ہے۔ اس زبان میں ادب کا آغاز بابا فریدالدین گنجشکر سے ہوتا ہے۔ بعد ازاں سکھ مت کے بانی بابا گورو نانک کا نام آتا ہے۔ سکھوں کے پانچویں گورو ارجن دیو نے گورو گرنتھ صاحب کی تالیف کی تھی۔ یہ کتاب گورمکھی رسم الخط میں لکھی گئی تھی اور اس میں پنجابی کہ علاوہ برج بھاشا اور کھڑی بولی کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔
    پندرھویں سے انیسویں صدیوں کے درمیان مسلمان صوفی بزرگوں نے پنجابی زبان میں بے مثال منظوم تحریریں رقم کیں۔ سب سے مقبول بزرگوں میں بابا بلہے شاہ شامل ہیں۔ ان کی شاعری کافیوں پر مشتمل ہے۔ قصہ خوانی بھی پنجابی ادب کی ایک مقبول صنف ہے۔ سب سے مشہور قصہ ہیر اور رانجھے کی محبت کا قصہ ہے جوکہ وارث شاہ کے قلم سے رقم ہو کر امر ہو چکا ہے۔ دیگر صوفی شعرا میں شاہ حسین، سلطان باہو، شاہ حسین اور خواجہ فرید شامل ہیں۔
    تقسیم ہند کا سب سے برا اثر پنجابی زبان پر پڑا۔ایک طرف ہندو پنجابی جوکہ صدیوں سے پنجابی بولتے آئے تھے اب ہندی کو اپنی مادری زبان کہلوانے لگے۔ پاکستان میں پنجابی کو کسی قسم کی سرکاری حعثیت نہ دی گئی، جبکہ ہندوستان میں پنجابی کو سرکاری حیثیت دینے کی راہ میں رکاوٹیں حایل کی گئیں۔ تاہم اب ریاست پنجاب میں پنجابی سرکاری اور دفتری زبان ہے۔
    پنجابی کے جدید ادباء میں موہن سنگھ، شو کمار بٹالوی، امرتا پریتم، سرجیت پاتر (ہندوستان سے)، منیر نیازی، انور مسعود، اور منو بھائی (پاکستان سے) شامل ہیں۔
    انکے علاوہ پنجابی کے مشہور شعرا جن کی شاعری آج بھی ہر جگہ بولی جاتی ہے.
    وارث شاہ
    ہاشم شاہ
    منیر نیازی
    امرتا پریتم
    انور مسعود
    میاں محمد بخش
    بابا بلھے شاہ
    بابا نجمی
     
  3. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    تحریر
    معاونت:ویکیپیڈیا
    ****
    میر علی شاعر
    پیدائش: 1877ء وفات: 1941ء پنجابی شاعر ۔ ضلع گورداسپور کے گاؤں بھرت کے رہنے والے تھے ۔ تعلیم ادھوری چھوڑ کر سیرو سیاحت کی غرض سے مکہ معظمہ، مدینہ اور اصفہان
    1 کلوبائٹ (135 الفاظ) - 15:54, 17 جولا‎ئی 2016
    • غلام رسول (پنجابی شاعر)
      مولوی غلام رسول قلعوی ساکن قلعہ میہان سنگھ پنجابی زبان کے معروف شاعر ،مصنف اور مشہور محدث تھے۔ مولوی غلام رسول 1228ھ/1813ء میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام
      4 کلوبائٹ (426 الفاظ) - 07:02, 8 فروری 2017
    • پنجابی زبان کے شعرا کی فہرست
      فرخ ہمایوں - بیسویں صدی پنجابی شاعری پنجابی شاعری کے نادر کلام کا مجموعہ/مصنفین شمالی امریکا پنجاب اکادمی (APNA) پنجابی شاعر و شاعری پنجاب پاکستان کے
      4 کلوبائٹ (354 الفاظ) - 02:40, 6 اگست 2017
    • پیلو (شاعر)
      پیلو پیدائش: 1563ءوفات: 1606ء پنجابی شاعر ۔ عہد اکبر اعظم میں تحصیل ترنتارن ضلع امرتسر (مشرقی پنجاب) کے ایک قصبہ ویرووال میں پیدا ہوا۔ جوانی ہی میں درویشی
      1 کلوبائٹ (90 الفاظ) - 04:45, 15 جنوری 2017
    • غلام رسول قلعوی
      رجوع مکرر غلام رسول (پنجابی شاعر)
      65 بائٹ (6 الفاظ) - 07:03, 8 فروری 2017
    • بلھے شاہ (زمرہ پنجابی صوفیا)
      بلھے شاہ ایک پنجابی صوفی شاعر تھے۔ بلھے شاہ کا اصل نام عبد اللہ شاہ ہے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ 1680ء میں مغلیہ سلطنت کے عروج میں اوچ گیلانیاں میں پیدا
      7 کلوبائٹ (562 الفاظ) - 22:12, 4 جون 2017
    • کلیات صالح محمد صفوری
      محمد صفوری' پنجابی صوفی شاعر صالح محمد صفوری کی شاعری کا مجموعہ ہے۔ صالح محمد صفوری جنوبی پنجاب کے ایک پنجابی صوفی شاعر تھے جنہوں نے پنجابی میں ایک شاعرانہ
      2 کلوبائٹ (89 الفاظ) - 08:40, 4 دسمبر 2015
    • دمودر (زمرہ پنجابی شخصیات)
      پنجابی شاعر۔ دمودر داس نام۔ دمودر تخلص ۔ مذہباً ہندو اور ذات کا اروڑ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لودھی خاندان کے زمانے میں پیدا ہوا اور اکبرکے دور میں مرا۔ پہلا
      754 بائٹ (78 الفاظ) - 15:10, 16 اکتوبر 2015
    • شاہ حسین (زمرہ پنجابی شخصیات)
      شاہ حسین المعروف مادھو لال حسین ایک صوفی اور پنجابی شاعر تھے جو فقیر لاہور سے معروف ہیں۔ شاہ حسین لاہوری 945ھ بمطابق 1539ءمیں ٹکسالی دروازے لاہور میں
      9 کلوبائٹ (855 الفاظ) - 18:06, 4 جون 2017
    • جوگی جہلمی
      جوگی جہلمی، اصل نام اللہ دتہ تھا ايک پنجابی شاعر تھے۔ آپ 1903ء میں کھڑی شریف، میرپور، کشمیر میں پیدا ہوئے۔ کم عمری میں آپ اپنے والدین کے ساتھ جہلم آگئے
      2 کلوبائٹ (81 الفاظ) - 03:44, 3 ستمبر 2017
    • قادر یار (زمرہ پنجابی شعراء)
      قادریار انیسویں صدی کے مشہور پنجابی شاعر ہیں۔ 1803ء قصبہ ماچھیکے ایمن آباد گوجرانوالہ پنجاب میں پیدا ہوئے۔ 1892ء پنڈ ماچھیکے ایمن آباد گوجرانوالہ پنجاب
      2 کلوبائٹ (72 الفاظ) - 02:35, 4 ستمبر 2017
    • شیخوپورہ
      سے 35 کلو میٹر کے فاصلے پر جانب مغرب واقع ہے۔ پنجابی زبان کا شیکسپیر کہلا ے جانے والے مشہور پنجابی شاعر وارث شاہ نے اپنی مشہور لوک داستان ہیر رانجھا شیخوپورہ
      2 کلوبائٹ (134 الفاظ) - 15:39, 10 جون 2016
    • جگتار (زمرہ پنجابی زبان کے مصنفین)
      ڈاکٹر جگتار ایک پنجابی شاعر تھے۔ رتاں رانگلیاں(1957) تلخیاں رنگینیاں(1960) ددھ پتھری (1961) ادھورا آدمی (1967) لہو دے نقش (1973) چھانگیا رخ (1976) شیشے
      2 کلوبائٹ (122 الفاظ) - 19:39, 21 اگست 2017
    • بابا نجمی (زمرہ پنجابی شعراء)
      بابا نجمی اک پنجابی شاعرہیں۔ ان کو "پنجابی کا انقلابی شاعر" بھی کہا جاتا ہے۔ کراچی میں رہائش پزیر ہیں۔ ان کی شاعری کا وصف انقلابی باتیں ہیں جو مجبور،
      3 کلوبائٹ (231 الفاظ) - 10:43, 6 اکتوبر 2016
    • بابو رجب علی (زمرہ پنجابی شعراء)
      بابو رجب علی خان بیسویں صدی کے مشہور پنجابی شاعر ہیں۔ ان کوکویشری(لوک داستان) کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ بابو رجب علی 10 اگست 1894ء ساہوکے ضلع فیروزپور
      2 کلوبائٹ (98 الفاظ) - 02:24, 4 ستمبر 2017
    • مہر ریاض سیال (زمرہ پنجابی شعراء)
      مہر محمد ریاض سیال جھنگ کے معروف جھنگوچی پنجابی شاعر ہیں۔ مہر ریاض 1945ء میں جھنگ کےعلاقے موضع بوڑانہ میں پیدا ہوئے۔ مہر ریاض سیال نے ابتدائی تعلیم
      2 کلوبائٹ (121 الفاظ) - 08:35, 4 ستمبر 2017
    • بابو فیروز دین شرف (زمرہ پنجابی شعراء)
      بابو فیروزدین شرف انیسویں صدی کے مشہور پنجابی شاعر ہیں۔ ان کی خوبصورت آواز کی وجہ سے بلبل پنجاب کہا جاتا ہے۔ بابو فیروزدین شرف 1898ء لاہور پنجاب میں
      2 کلوبائٹ (92 الفاظ) - 02:30, 4 ستمبر 2017
    • باقی صدیقی (زمرہ پنجابی شعراء)
      باقی صدیقی (1908ء تا 1972ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور پنجابی کے شاعر اور ادیب تھے۔ باقی صدیقی 20 دسمبر، 1908ء کو راولپنڈی کے نواحی گاؤں سہام
      3 کلوبائٹ (137 الفاظ) - 14:31, 12 جولا‎ئی 2016
    • محمد ایوب سنگیا
      محمد ایوب سنگیا جہلم کےایک صاحب کتاب مشہور پنجابی شاعر ہیں۔ محمد ایوب سنگیا ضلع جہلم کے نواحی گاؤں چک براہم میں پیدا ہوئے۔ محمد ایوب سنگیا کے سات مجموعہ
      2 کلوبائٹ (137 الفاظ) - 10:36, 4 ستمبر 2017
    • موہن سنگھ (زمرہ پنجابی شعراء)
      موہن سنگھ (20 ستمبر1905 - 3 مئی 1978) ایک پنجابی ترقی پسند اور رومانی شاعر تھے- جدید پنجابی شاعری کی ابتدا عمومًا ان کے کلام سے منسوب کی جاتی ہے- ساوے
      2 کلوبائٹ (38 الفاظ) - 13:45, 12 اگست 2017
     

Share This Page