1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

گناہ کا شوق ہے مگر عذاب سے ڈر بھی لگتا ہے

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by Shahzaib Gohar, Oct 9, 2017.

  1. Shahzaib Gohar

    Shahzaib Gohar Management

    [​IMG]
    ایک شخص حضرت ابراہیم بن ادھمؒ کے پاس آیا، نوجوان تھا، کہتا ہے .

    حضرت! گناہ کا مرتکب ہوتا ہوں، چھوڑا بھی نہیں جاسکتا، ڈر بھی لگتا ہے کہ عذاب ہو گا تو کوئی طریقہ بتا دیں کہ میں عذاب سے بچ جاؤں اور گناہ بھی کرتا رہوں۔

    اللہ والے بڑے دانا بینا ہوتے ہیں، دھکے نہیں دیتے، وہ محبت و پیار سے بات سمجھاتے ہیں، دل میں اتارتے ہیں، حضرت نے فرمایا،

    ہاں، میں تجھے طریقہ بتاتا ہوں۔ وہ بڑا خوش ہو گیا۔ بات سننے کے موڈ میں آ گیا، کہنے لگا کہ حضرت! وہ کون سا طریقہ ہے کہ میں گناہ بھی کرتا رہوں اور عذاب و سزا سے بھی بچ جاؤں۔ آپ نے فرمایا کہ بھئی:

    ■پہلی تجویز: تو یہ ہے کہ اگر گناہ کرنا ہی ہے تو اللہ رب العزت کی نگاہوں سے اوجھل ہو کر کر لیا کرو۔

    اب وہ سوچتا رہ گیا۔ کہنے لگا، حضرت! یہ کیسے ممکن ہے کہ میں اللہ رب العزت کی نگاہوں سے اوجھل ہو کر گناہ کروں یہ تو ممکن ہی نہیں۔

    ■دوسری تجویز: حضرت نے فرمایا، پھر دوسری تجویز یہ ہے کہ تم رزق کھانا چھوڑ دو، اللہ سے کہہ دینا کہ نہ تمہارا کھانا کھاتا تھا اور نہ تمہاری بات مانتا تھا، اس نے کہا، حضرت! یہ کیسے ممکن ہے کہ میں کھانا چھوڑ دوں؟ میں پھر زندہ کیسے رہوں گا؟

    ■تیسری تجویز: حضرت نے فرمایا، پھر تیسری تجویز پیش کرتا ہوں اور وہ یہ کہ زمین و آسمان اللہ رب العزت ہی کا ملک ہے، اسی کی حکومت میں ہے اور بادشاہ کی نافرمانی اس کے ملک میں رہ کر کرنا یہ ٹھیک نہیں ہے۔

    لہٰذا اس سے باہر نکل کر نافرمانی کرنا، اللہ پاک بھی قرآن پاک میں عجیب انداز سے فرماتے ہیں۔

    ’’اگر تمہارے اندر استطاعت ہے کہ زمین و آسمان کے کروں سے باہر نکل سکتے ہوتو نکل کر دکھلاؤ، نکلو گے کس دلیل سےنکلو گے۔‘‘
    (سورہ رحمن:33)،

    جیسے گھڑے کی مچھلی کدھر جائے گی کہا کہ حضرت! یہ بھی نہیں ہو سکتا۔
    ■چوتھی تجویز:
    فرمانے لگے اچھا پھر ایک طریقہ اور بتاتا ہوں وہ یہ کہ جب ملک الموت آئیں روح قبض کرنے کے لیے تو انہیں کہہ دینا کہ تھوڑا انتظار کر لو تاکہ میں توبہ کر لوں، اس نے کہا:
    حضرت! وہاں تو انتظار کا تصور ہی نہیں۔ ’’جب موت آتی ہے تو نہ ایک لمحہ آگے ہوتی ہے اور نہ پیچھے۔‘‘
    ■پانچویں تجویز:
    فرمایا، ایک طریقہ اور بتاتا ہوں، وہ یہ کہ جب قبر میں تم کو دفن کر دیا جائے اور اس وقت منکر نکیر آئیں تم سے سوال پوچھنے کے لیے تم کہہ دینا (No Admission without permission) آج کل لوگ لکھ کر لگا دیتے ہیں، تو تم بھی کہہ دینا کہ بغیر اجازت کیوں آئے؟ اس نے کہا، حضرت! میں ان کو کیسے منع کر سکتا ہوں۔

    ■چھٹی تجویز:
    فرمانے لگے، اچھا بھئی! ایک اور طریقہ بتاتا ہوں وہ یہ کہ جب قیامت کے دن تمہارے برے عملوں کو کھولا جائے گا، اور پروردگار عالم فرشتوں کو حکم دیں گے کہ اس کو گھسیٹ کر تم جہنم میں ڈال دو تو اس وقت تم ضد کر کے کھڑے ہو جانا کہ میں تو نہیں جاتا۔

    اس نے کہا کہ حضرت! میری کیا حیثیت ہے کہ فرشتوں کے سامنے ضد کر کے کھڑا ہو جاؤں، میری تو کوئی حیثیت ہی نہیں۔ اب لوہا گرم تھا اور چوٹ لگانے کا وقت تھا۔ حضرت نے فرمایا کہ اے بھائی، جب تیری حیثیت ہی کوئی نہیں تو اتنے بڑے پروردگار کی نافرمانی کیوں کرتا ہے؟

    کہنے لگا، حضرت! آج سے میں گناہوں سے توبہ کرتا ہوں اور آج کے بعد وعدہ کرتا ہوں کہ اپنے اللہ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔

    اللہ تعالٰی مجھ گناہ گار سمیت ہم سب مسلمانان عالم کو حیا اور پاکدامنی کا خیال رکھنے اور بے پردگی سے بچنے کی سعادت نصیب فرماتے ہوئے عین صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں ...


     
    Last edited by a moderator: Oct 9, 2017
    IQBAL HASSAN and UrduLover like this.
  2. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    :AA3:
    :Mas Allah:
    بہت ہی بہترین دھاگہ استوار کیا ہے۔اس دھاگے سے کافی کچھ سیکھنے کو ملاہے۔
    :BS:
     
    Shahzaib Gohar likes this.
  3. Shahzaib Gohar

    Shahzaib Gohar Management

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    :AA3:
    :Mas Allah:
    بہت ہی بہترین دھاگہ استوار کیا ہے۔اس دھاگے سے کافی کچھ سیکھنے کو ملاہے۔
    :BS:
    Click to expand...
    شکریہ پیارے بھائی خوش رہیں
     
  • IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators




    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●
    ماشا اللہ ۔۔۔۔
    ۔بہت اچھی تحریر ہے اللہ آپ کو خوش ر کھئے
    آمین ثمہ امین۔۔۔
    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●







     
    Shahzaib Gohar likes this.
  • ibrahimgopang

    ibrahimgopang New Member

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    [​IMG]
    ایک شخص حضرت ابراہیم بن ادھمؒ کے پاس آیا، نوجوان تھا، کہتا ہے .

    حضرت! گناہ کا مرتکب ہوتا ہوں، چھوڑا بھی نہیں جاسکتا، ڈر بھی لگتا ہے کہ عذاب ہو گا تو کوئی طریقہ بتا دیں کہ میں عذاب سے بچ جاؤں اور گناہ بھی کرتا رہوں۔

    اللہ والے بڑے دانا بینا ہوتے ہیں، دھکے نہیں دیتے، وہ محبت و پیار سے بات سمجھاتے ہیں، دل میں اتارتے ہیں، حضرت نے فرمایا،

    ہاں، میں تجھے طریقہ بتاتا ہوں۔ وہ بڑا خوش ہو گیا۔ بات سننے کے موڈ میں آ گیا، کہنے لگا کہ حضرت! وہ کون سا طریقہ ہے کہ میں گناہ بھی کرتا رہوں اور عذاب و سزا سے بھی بچ جاؤں۔ آپ نے فرمایا کہ بھئی:

    ■پہلی تجویز: تو یہ ہے کہ اگر گناہ کرنا ہی ہے تو اللہ رب العزت کی نگاہوں سے اوجھل ہو کر کر لیا کرو۔

    اب وہ سوچتا رہ گیا۔ کہنے لگا، حضرت! یہ کیسے ممکن ہے کہ میں اللہ رب العزت کی نگاہوں سے اوجھل ہو کر گناہ کروں یہ تو ممکن ہی نہیں۔

    ■دوسری تجویز: حضرت نے فرمایا، پھر دوسری تجویز یہ ہے کہ تم رزق کھانا چھوڑ دو، اللہ سے کہہ دینا کہ نہ تمہارا کھانا کھاتا تھا اور نہ تمہاری بات مانتا تھا، اس نے کہا، حضرت! یہ کیسے ممکن ہے کہ میں کھانا چھوڑ دوں؟ میں پھر زندہ کیسے رہوں گا؟

    ■تیسری تجویز: حضرت نے فرمایا، پھر تیسری تجویز پیش کرتا ہوں اور وہ یہ کہ زمین و آسمان اللہ رب العزت ہی کا ملک ہے، اسی کی حکومت میں ہے اور بادشاہ کی نافرمانی اس کے ملک میں رہ کر کرنا یہ ٹھیک نہیں ہے۔

    لہٰذا اس سے باہر نکل کر نافرمانی کرنا، اللہ پاک بھی قرآن پاک میں عجیب انداز سے فرماتے ہیں۔

    ’’اگر تمہارے اندر استطاعت ہے کہ زمین و آسمان کے کروں سے باہر نکل سکتے ہوتو نکل کر دکھلاؤ، نکلو گے کس دلیل سےنکلو گے۔‘‘
    (سورہ رحمن:33)،

    جیسے گھڑے کی مچھلی کدھر جائے گی کہا کہ حضرت! یہ بھی نہیں ہو سکتا۔
    ■چوتھی تجویز:
    فرمانے لگے اچھا پھر ایک طریقہ اور بتاتا ہوں وہ یہ کہ جب ملک الموت آئیں روح قبض کرنے کے لیے تو انہیں کہہ دینا کہ تھوڑا انتظار کر لو تاکہ میں توبہ کر لوں، اس نے کہا:
    حضرت! وہاں تو انتظار کا تصور ہی نہیں۔ ’’جب موت آتی ہے تو نہ ایک لمحہ آگے ہوتی ہے اور نہ پیچھے۔‘‘
    ■پانچویں تجویز:
    فرمایا، ایک طریقہ اور بتاتا ہوں، وہ یہ کہ جب قبر میں تم کو دفن کر دیا جائے اور اس وقت منکر نکیر آئیں تم سے سوال پوچھنے کے لیے تم کہہ دینا (No Admission without permission) آج کل لوگ لکھ کر لگا دیتے ہیں، تو تم بھی کہہ دینا کہ بغیر اجازت کیوں آئے؟ اس نے کہا، حضرت! میں ان کو کیسے منع کر سکتا ہوں۔

    ■چھٹی تجویز:
    فرمانے لگے، اچھا بھئی! ایک اور طریقہ بتاتا ہوں وہ یہ کہ جب قیامت کے دن تمہارے برے عملوں کو کھولا جائے گا، اور پروردگار عالم فرشتوں کو حکم دیں گے کہ اس کو گھسیٹ کر تم جہنم میں ڈال دو تو اس وقت تم ضد کر کے کھڑے ہو جانا کہ میں تو نہیں جاتا۔

    اس نے کہا کہ حضرت! میری کیا حیثیت ہے کہ فرشتوں کے سامنے ضد کر کے کھڑا ہو جاؤں، میری تو کوئی حیثیت ہی نہیں۔ اب لوہا گرم تھا اور چوٹ لگانے کا وقت تھا۔ حضرت نے فرمایا کہ اے بھائی، جب تیری حیثیت ہی کوئی نہیں تو اتنے بڑے پروردگار کی نافرمانی کیوں کرتا ہے؟

    کہنے لگا، حضرت! آج سے میں گناہوں سے توبہ کرتا ہوں اور آج کے بعد وعدہ کرتا ہوں کہ اپنے اللہ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔

    اللہ تعالٰی مجھ گناہ گار سمیت ہم سب مسلمانان عالم کو حیا اور پاکدامنی کا خیال رکھنے اور بے پردگی سے بچنے کی سعادت نصیب فرماتے ہوئے عین صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں ...


    Click to expand...
     
    Shahzaib Gohar likes this.
  • Shahzaib Gohar

    Shahzaib Gohar Management

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!




    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●
    ماشا اللہ ۔۔۔۔
    ۔بہت اچھی تحریر ہے اللہ آپ کو خوش ر کھئے
    آمین ثمہ امین۔۔۔
    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●







    Click to expand...
    پسند کرنے کا شکریہ اقبال بھائی
     
  • Share This Page