1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

ایک انتہائی مفت خور ،نکما اور کام چور آدمی

Discussion in 'Bchon Ki Dunyia' started by PAGAL DIL, Nov 9, 2017.

  1. PAGAL DIL

    PAGAL DIL ITU Friend

    [​IMG]
    ایک انتہائی مفت خور ،نکما اور کام چور آدمی

    کہتے ہیں کہ کسی گاں میں ایک انتہائی مفت خور ،نکما اور کام چور آدمی رہتا تھا۔اسے لوگوں سے ادھار رقم مانگنے کی عادت تھی اور اس نے لاکھوں روپے قرض اپنے سر چڑھا رکھا تھا۔ لیکن اس کا کمال فن یہ تھا کہ رقم کا تقاضا کرنے والوں کو اپنی چرب زبانی اور ہشیاری سے سبز باغ دکھا کر ان کا قرض واپس کرنے کی بجائے ان سے مزید رقم اینٹھ لیتا تھا۔ گاں کا

    ایک دوکاندار بھی اس آدمی کی باتوں میں آکر اسے ہزاروں روپے ادھار دے چکا تھا۔ اور اس کو دی گئی رقم کو اس نے ایک رجسٹر میں لکھ رکھا تھا۔ایک دن اس دوکاندار رقم کا حساب کیا تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ روپے اس آدمی کو ادھار اور سہانے خوابوں کی مد میں دے چکا تھا۔ اس نے کسی بچے کے ہاتھ اسے نکمے شخص کو پیغام بھجوایا کہ میاں ایک ہفتے کے اندر اندر ادھار لی گئی رقم واپس بھجوا ورنہ میں سخت راستہ اختیار کروں گا۔ لیکن بچے نے واپس آکربتایا کہ دروازے پر کوئی خاتون آئیں اور انھوں نے کہا کہ وہ گھر پر نہیں ہے اور جب میں نے انھیں آپکی رقم کا پیغام بھجوایا تو انھوںنے جواب دیا کہ ان کے لیے گئے کسی قرض کا اس کے گھر والوں سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ کوئی بھی شخص ہم سے پوچھ کر اسے ادھار نہیں دیتا۔ دوکاندار کو بے انتہا غصہ آیا۔اس نے اسی وقت دوکان بند کی اور ا س کے گھر کا رخ کیا۔ دروازہ کھٹکھانے پر اسے پھر یہی جواب ملا کہ وہ شخص گھر پر نہیں۔ دوکاندار اسی گلی کے نکڑ پر ناکہ لگا کر بیٹھ گیا کہ جیسے ہی وہ گھر آئے گا میں دروازے پر ہی اسے گھیر لوں گا۔ مغرب کی اذان ہورہی تھی کہ دوکاندار کیا دیکھتا ہے کہ وہ شخص باہرکہیں سے آنے کی بجائے اپنے گھر ہی سے نمودار ہوا اور بیڑی جلا کر پھونکنے لگا۔دوکاندار نے آ دیکھا اور نہ تا اور جا کر اسے اس کے گریبان سے پکڑ لیا اور گھسیٹ کر اس کے مکان کے عقبی حصے میں ایک ویران جگہ پر لے گیا۔اور اسے کہا۔”ایک طرف تو تیرے گھر والے کہتے ہیں کہ ان کا تیرے قرض سے کچھ لینا دینا نہیں ۔دوسرا وہ لوگوں سے یہ بھی جھوٹ بولتے ہیں کہ تو گھر پر نہیں ۔یہ سب کیا ماجرا ہے؟اور میرا تیرے گھر والوں سے کوئی سروکار نہیں۔

    میں اپنے ڈیڑھ لاکھ واپس لینے آیا ہوں جو تو نے پچھلے دو سالوں میں مجھ سے بٹورے ہیں”۔ اس شخص نے گھبراتے ہوئے ادھر ادھر دیکھا کہ کوئی محلے دار تو نہیں دیکھ رہااور پھر اپنا گریبان اس سے چھڑواتے ہوئے بولا۔”ابے تو کون کہہ دہا ہے کہ پیسے واپس نہیں دوں گا۔ دو سالوں میں میں نہ تو یہاں سے کہیں بھاگا جا رہا ہوں ۔ نہ ہی مر گیا ہوں۔ اللہ کا فضل ہے کہ جب تک تیری ایک ایک پائی نہیں چکاں گا ۔مروں گا نہیں۔”۔ اتنی دیر میں اسی نکمے شخص کا ایک اور محلے دار وہاں سے گزار اور اسے دیکھتے ہی وہاں آپہنچا اور کہنے لگا۔” طیفے (لطیف) کچھ خدا کا خوف کر یار۔ایک ہفتے سے تیرے گھر کے چکر لگا رہاہوں۔ کدھر غائب ہے ؟؟جب پوچھو گھر پر نہیں ہے۔مہربانی کر میری شادی آرہی ہے ۔کچھ رحم کر میرے حال پر اب تو۔۔۔۔۔”اس سے پہلے کہ وہ محلے دار اپنی بات مکمل کرتا۔ طیفے نے اس کی بات کاٹ کر کہا”بوٹے میری جان مجھے احساس ہے ۔تو پریشان نہ ہو۔ایک سال سے سمجھا رہا ہوں کہ اگلے ہفتے تیرے پیسے دے دوں گا اب کسی کے سامنے تو ذلیل نہ کر مجھے “۔ اس پر محلے دار نے اسے برا بھلا کہا اور دوبارہ خبردار کیا کہ اب کی بار اس کی رقم نہ آئی تو وہ پرچہ کروا دے گا۔ یہ کہہ کر وہ آدمی چلا گیا۔ دوکاندار نے ہنستے ہوئے کہاہش شاواش اے ! ادھر تو لائنیں لگی ہوئی ہیں۔خیر مجھے صرف میرے پیسوں کا بتا”۔ اس نے آدمی بیڑی سلگائی اور کش لگا کر فلسفیانہ انداز میں کہا”بات سن میری۔ میرا اگلا پروگرام تیرے پیسے ہی واپس کرنے کا ہے۔ لیکن سوچنا یہ ہے کہ اتنی رقم آئے گی کہاں سے ؟ آخر کوئی نہ کوئی راستہ تو ڈھونڈنا پڑے گا نا ں۔تو سمجھ رہا ہے نا ں میری بات؟”۔ دوکاندار نے طنزیہ انداز میں جواب دیا”طیفے ! اب میرے ساتھ کوئی اور رنگ بازی نہ کرنا۔ مجھے صاف صاف پیسوں کا بتا”۔ طیفے نے چٹکی مار کر بیڑی کی راکھ نیچے گرائی اور ایک اور گہرا کش لگاتے ہوئے کہا”او سن تو لے میری جان۔ رنگ بازی کیسی؟ پلان بڑا کمال کا ہے۔ اگر تو میری بات مانے تو تیری رقم بس چند گھٹنوں کی مار ہے۔ بس تو مجھے دس ہزار روپے اور دے دے۔ “۔ یہ سنتے ہی دوکاندار نے جواب دیا

    “بس ؟ آگیا نا اپنی اوقات پر؟؟بجائے واپس دینے کے اور مانگ لیے؟ مجھے پتہ تھا۔چل تو یہ بتا دے کہ میں تجھے دس ہزار دے بھی دوں تو تو ایسا کیا کرے گا کہ میری رقم واپس آ جائے گی”۔ طیفے نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے اسے قریب بلا یا اور سرگوشی کرتے ہوئے کہنے لگا”تو نے وہ کچی سڑک دیکھی ہے جو چودھری وارث علی کی کھیت سے گزر رہی ہے؟”۔ دوکاندار نے ہاں میں سر ہلایا”۔طیفے نے بات جاری رکھی”تجھے پھر یہ بھی پتہ ہوگا کہ دن میں وہاں سے ٹرک گزرتے ہیںجو کپاس کی روئی سے لوڈ ہوتے ہیں ؟”۔ دوکاندار نے پھر ہاں میں سر ہلاتے ہوئے کہا”ہاں ہاں پتہ ہے اب آگے بھی بول “۔ طیفے نے کہا”پلان یہ ہے میری جان کہ جو تو مجھے دس ہزار دے گا ناں۔ میں اس سے سڑک کنارے دو کیکر کے درخت لگاں گا بڑے کانٹوں والے۔ دوکاندار نے حیران ہو کر پوچھا”درخت لگائے گا؟؟؟اس سے کیا ہوگا؟”۔ طیفے نے کہا” درختوں کی ہی تو ساری گیم ہے۔جب وہاں سے روئی سے بھرے ہوئے ٹرک گزریں گے تو روزانہ روئی کیکر کے کانٹوں سے اڑجائے گی۔چلو زیادہ نہیں تو ہر پھیرے میں کلو دو کلو روئی تو اڑ ہی جائے گی۔ ہم وہ روئی چن لیا کریں گے ۔اسے بازار میں بیچ دیا کریں گے اور ایک دن تیرے ڈیڑھ لاکھ پورے۔بس اتنی سے بات ہے”۔ دوکاندار نے یہ بات سنی تو زور زور سے قہقہے مار کر ہنسنے لگااور لوٹ پوٹ ہونے لگا۔ طیفے نے اسے ہنستے ہوئے دیکھا تو کش لگاکر مونچھوں کو تا دیا اور کہا”اب تو تو نے ہنسنا ہی ہے۔ تیرے پیسے جو واپس آرہے ہیں………..۔ قارئین اس لیے کہا جاتا ہے کہ ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنا اچھی بات ہے۔ لیکن عادی ادھار مانگنے والوں کو ادھار دیتے وقت اس بات کی تسلی کر لیں کہ کہیں ان کا واپسی کا پلان بھی کہیں کوئی ایسا تو نہیں جیسا طیفے کا تھا۔
     
    Last edited: Nov 20, 2017
  2. Mindful

    Mindful Super Moderators

    KHoob.........................
     
  3. PAGAL DIL

    PAGAL DIL ITU Friend

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    KHoob.........................
    Click to expand...
    [​IMG]
     
    Mindful likes this.
  • Mindful

    Mindful Super Moderators

    Welcome.................
     
  • Share This Page