1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

مجھے اللہ سے شرم آرہی ہے

Discussion in 'History aur Waqiat' started by PRINCE SHAAN, Jun 26, 2013.


  1. [​IMG]

    مجھے اللہ سے شرم آرہی ہے

    خلیفہ سلیمان بن عبد الملک کا بھائی خلیفہ ہشام بن عبد الملک بن مروان بیت اللہ شریف کے حج کو آیا- طواف کے دوراں میں اس کی نگاہ زاہد و متقی اور عالم ربانی سالم بن عبداللہ بن عمر رض پر پڑی جو اپنا جوتا ہاتھ میں اٹھائے ہوئے خانہ کعبہ کا طواف کررہے تھے- ان کے اوپر ایک کپڑا اور ایک عمامہ تھا جس کی قیمت 13 درھم سے زیادہ نہیں تھی-
    خلیفہ ہشام نے کہا:

    "کوئی حاجت ہو تو فرمائے"-

    سالم بن عبداللہ رض نے کہا:

    " مجھے اللہ سے شرم آرہی ہےکہ میں اس کے گھر میں ہوتے ہوئے کسی اور کے سامنے دست سوال دراز کروں"-

    یہ سننا تھا کہ خلیفہ کے چہرے کا رنگ سرخ ہونے لگا- اس نے سالم بن عبداللہ رض کے جواب میں اپنی سبکی محسوس کی- جب سالم بن عبداللہ حرم شریف سے باہر نکلے تو وہ بھی ان کے پیچھے ہی حرم سے نکل پڑا اور راستہ میں ان کے سامنے آکر کہنے لگا:

    " اب تو آپ بیت اللہ سے باہر نکل چکے ہیں ، کوئی حاجت ہو تو فرمائيں (بندہ حاضر ہے)"-

    سالم بن عبداللہ گویا ہوئے:

    " آپ کی مراد دنیاوی حاجت سے ہے یا اخروی حاجت سے؟!"-

    خلیفہ ہشام نے جواب دیا:

    "اخروی حاجت کو پورا کرنا تو میرے بس میں نہیں؛ البتہ دنیاوی ضرورت پوری کرسکتا ہوں؛ فرمائيں-

    سالم بن عبداللہ کہنے لگے:

    " میں نے دنیا تو اس سے بھی نہیں مانگی ہے جس کی یہ ملکیت ہے- پھر بھلا میں اس شخص سے دنیا کیوں طلب کرسکتا ہوں جس کا وہ خود مالک نہیں؟!"-

    ایہ کہ کر اپنے گھر کی طرف چل دیے اور ہشام بن عبدالملک اپنا سا منہ لے کر رہ گ
    ئے
     
  2. IQBAL

    IQBAL Guru Member

  3. Net KiNG

    Net KiNG VIP Member

    Bohat Umda

    Jazak Allah
     

Share This Page