1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

"اپنی اپنی آگ"

Discussion in 'Urdu Iqtebaas' started by PRINCE SHAAN, Oct 12, 2013.

  1. "اپنی اپنی آگ"

    دوزخ کے متعلق تذکرہ غوثیہ کی ایک کہانی مجھے اپیل کرتی ہے. پہاڑ کی کھوہ میں ایک فقیر رہتا تھا جو دن رات عبادت میں مصروف رہتا تھا. اس کے ساتھ ایک بالکا بھی تھا. فقیر حقہ پینے کا شوقین تھا، اس لیے اس نے اپنے بالکے کو حکم دے رکھا تھا کہ ہر وقت آگ کا انتظام رکھے.

    ایک روز آدھی رات کے وقت فقیر نے بالکے کو حکم دیا کہ چلم بھر دے. بالکے نے دیکھا کہ بارش کی وجہ سے آگ بجھ چکی تھی. اتفاق سے ماچس بھی ختم ہو چکی تھی. بالکا گھبرا گیا کہ اب کیا کرے.

    اس نے فقیر سے کہا: عالی جاہ! آگ تو بجھ چکی ہے، ماچس ہے نہیں کہ سلگا لوں. فرمائیے اب کیا کروں؟
    فقیر جلال میں بولا: ہم تو چلم پئیں گے، چاہے آگ جہنم سے لاؤ.

    بالکا چل پڑا. چلتے چلتے جہنم جا پہنچا. دیکھا کہ جہنم کے صدر دروازے پر ایک چوکیدار بیٹھا اونگھ رہا ہے.
    بالکے نے اسے جھنجھوڑا اور پوچھا: کیا یہ جہنم کا دروازہ ہے؟
    چوکیدار بولا: ہاں ، یہ جہنم کا دروازہ ہے.
    بالکے نے کہا: لیکن یہاں آگ تو دکھائی نہیں دیتی؟
    چوکیدار نے کہا : ہر جہنمی اپنی آگ اپنے ساتھ لاتا ہے.

    ممتاز مفتی کی تصنیف تلاش سے

     
  2. IQBAL

    IQBAL Cruise Member

    VERY NICE SHARING
    [​IMG]
     
  3. Net KiNG

    Net KiNG VIP Member


    السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ

    آپ نے بہت اچھی شئیرنگ کی ہے .

    کیپ اٹ اپ جزاک اللہ

    مزید شئیرنگ کا انتظار رہے گا

    اچھی اور عمدہ شیئرنگ کا شکریہ
    [​IMG]
    [​IMG]

     

Share This Page