1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ

Discussion in 'History aur Waqiat' started by IQBAL, Oct 14, 2013.

  1. IQBAL

    IQBAL Guru Member



    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ

    ایک مرتبہ شفیا اصبحی مدینہ آئے، دیکھا کہ ایک شخص کے گرد بھیڑ لگی ہوئی ہے،پوچھا کون ہیں، لوگوں نے کہا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، یہ سن کر شفیا اصبحی ان کے پاس جاکر بیٹھ گئے، اس وقت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ لوگوں سے حدیث بیان کررہے تھے،جب حدیث سنا چکے اور مجمع چھٹ گیا تو شفیا نے ان سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیے جس کو آپ نے ان سے سنا ہو سمجھا ہو، جانا ہو،
    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ایسی ہی حدیث سناؤں گا،یہ کہا اور چیخ مار کر بے ہوش ہوگئے ،تھوڑی دیر کے بعد ہوش آیا تو کہا میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کروں گا جو آپ نے اس گھر میں بیان فرمائی تھی اوراس وقت میرے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی تیسرا شخص نہ تھا اتنا کہہ کر زور سے چلائے اورپھر بیہوش ہوگئے، افاقہ ہوا تو منہ پر ہاتھ پھیر کر کہا،میں تم سے ایسی حدیث بیان کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گھر میں بیان فرمائی تھی اور وہاں میرے اورآپ کے سوا کوئی شخص نہ تھا یہ کہا اور پھر چیخ مار کر غش کھا کر منہ کے بل گرپڑے،
    شفیا اصبحی نے تھام لیا اور دیر تک سنبھالے رہے، ہوش آیا تو کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ قیامت کے دن جب خدا بند ہ کے فیصلہ کے لئے اترے گا تو سب سے پہلے تین آدمی طلب کئے جائیں گے عالم قرآن ،راہ خدا میں شہید ہونے والا اور دولتمند ، پھر خدا عالم سے پوچھے گا کیا میں نے تجھ کو قرآن کی تعلیم نہیں دی،
    وہ کہے گا ہاں، خدا فرمائے گا تو نے اس پر عمل کیا ؟
    وہ کہے گا میں رات دن اُ س کی تلاوت کرتا تھا ،
    خدا فرمائے گا تو جھوٹا ہے تو اس لئے تلاوت کرتا تھا کہ لوگ تجھ کو قاری کا خطاب دیں؛چنانچہ خطاب دیاگیا،
    پھردولت مند سےپوچھے گا ،کیا میں نے تجھ کو صاحب مقدرت کرکے لوگوں کی احتیاج سے بے نیاز نہیں کردیا! وہ کہے گا ہاں خدایا،فرمائے گا تونے کیا کیا،
    وہ کہے گا میں صلہ رحمی کرتا تھا،صدقہ دیتا تھا، خدافرمائے گا تو جھوٹ بولتا ہے ؛بلکہ اس سے تیرا مقصد یہ تھا کہ تو فیاض اورسخی کہلائے اورکہلایا ،
    پھر وہ جسے راہ خدا میں جان دینے کا دعویٰ تھا پیش ہوگا ،اس سے سوال ہوگا تو کیوں مار ڈالا گیا،وہ کہے گا تونے اپنی راہ میں جہاد کرنے کا حکم دیا تھا میں تیری راہ میں لڑ ااور مارا گیا، خدا فرمائے گا تو جھوٹ کہتا ہے تو چاہتا تھا کہ دنیا میں جری اوربہادر کہلائے تویہ کہا جاچکا ،یہ حدیث بیان کرکے رسول اللہ نے میرے زانو پر ہاتھ مار کر فرمایا، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پہلے ان ہی تینوں سے جہنم کی آگ بھڑ کائی جائے گی، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنی تو کہا جب ان لوگوں کے ساتھ ایسا کیا گیا تو اور لوگوں کا کیا حال ہوگا، یہ کہہ کر ایسا زار وقطار روئے کہ معلوم ہوتا تھا کر مرجائیں گے جب ذراسنبھلے تو منہ پر ہاتھ پھیرکر فرمایا خدا اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہےکہ۔
    مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ ، أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
    (ھود:۱۵)
    جو شخص دنیا اوراس کے سازوسامان کو چاہتا ہے ہم اس کے اعمال کا بدلہ دنیا میں ہی دیدیتے ہیں اوراس میں اس کا کچھ نقصان نہیں ہوتا؛ لیکن آخرت میں ان کا حصہ آگ کے سوا کچھ نہیں رہ جاتا اورانہوں نے جو کچھ کیا تھا وہ برباد ہوجاتا ہے اورجو کام کئے تھے وہ بے کار جاتےہیں۔
    سیرت صحابہ رضی اللہ عنہ
    صحیح اسلامی واقعات

     
  2. Jazak Allah Khair
    .............................
     
  3. Walikum As Salam
    Jazak ALLAH Khair Bhut Pyari Sharing Hai Bro
     
  4. ~Asad~

    ~Asad~ Moderator

    عمدہ شرنگ شکریہ
     

Share This Page