1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

**مرزا ادیب کی کتاب مٹی کا دیا سے اقتباس**

Discussion in 'Urdu Iqtebaas' started by UmerAmer, Nov 9, 2013.

  1. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member



    ماں

    ابّا جی مجھے مارتے تھے تو امّی مجھے بچا لیتی تھیں۔
    ایک دن میں نے سوچا کہ اگر امی پٹائی کریں
    تو اباجی کیا کریں گے یہ دیکھنے کے لئے کہ
    کیا ھوتا ہے میں نے امی کا کہا نہ مانا۔ اُنہوں نے
    کہا کہ بازار سے دہی لا دو، میں نہ لایا۔ اُنہوں نے
    سالن کم دیا، میں نے زیادہ پر اصرار کیا۔ اُنہوں نے
    کہا کہ پیڑی کے اُوپر بیٹھھ کر روٹی کھاؤ۔ میں نے
    زمین پر دری بچھائی اور اس پر بیٹھھ گیا۔ کپڑے میلے
    کر لئے۔ میرا لہجہ بھی گستاخانہ تھا۔ مجھے
    پوری توقعہ تھی کہ امی ضرور ماریں گی،
    مگر اُنہوں نے یہ کیا کہ مجھے سینے سے
    لگا کر کہا " کیوں دلور ’یعنی کہ دلاور‘ پُتر!
    میں صدقے، بیمار تو نہیں ہے تو؟"
    اُس وقت میرے آنسو تھے کہ رکتے ہئ نہیں تھے

    مرزا ادیب کی کتاب مٹی کا دیا سے اقتباس​
     
  2. Net KiNG

    Net KiNG VIP Member

    Nice Sharing
     
  3. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    Nice Sharing
    Click to expand...
    pasand karne ke liye sukriya bahi
     
  • Ali

    Ali ITU Lover

    hmmmmmm
    bilkul janab...
    buat buat sukriaaa ​
     
  • Share This Page