1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ

Discussion in 'History aur Waqiat' started by PRINCE SHAAN, Nov 29, 2013.


  1. [​IMG]


    حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ فقرائے مسلمین میں سے ایک تهے. آپ کے پاس صرف ایک ہی کپڑا تها، جسے زیب تن کرتے تهے. وہ بهی بے حد بوسیدہ ہو چکا تها.
    ایک روز نماز سے فراغت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے حالات کی آگاہی چاہی تو باوجود تنگدستی کے آپ نے عرض کیا " اللہ کا شکر ہے یا رسول اللہ! "
    پهر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے گهر بهیجا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص لا کر طلحہ رضی اللہ عنہ کو پہنا دے. چنانچہ اس نے رسول اللہ کی قمیض لا کر حضرت طلحہ کو پہنا دی. جب حضرت طلحہ اپنے گهر واپس گئے تو ان کی بیوی کی نگاہ اس قمیص پر پڑی، بیوی نے پہچان لیا کہ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص ہے، تو اپنے شوہر سے یوں گویا ہوئیں:
    کیا آپ نے رسول اللہ کے دربار میں اللہ تعالی کا شکوہ کیا تها؟
    حضرت طلحہ نے کہا کہ اللہ کی قسم میں نے کوئی شکوہ نہیں کیا تها..
    بیوی کہنے لگی: پهر کونسی وجہ تهی کہ قمیص کو قبول کیا؟
    حضرت طلحہ نے بیوی کو بتایا کہ: اللہ کی قسم میں نے قمیص کو صرف اس لیے قبول کیا تها کہ یہ میرا کفن بنے، اور پهر جب قبر میں فرشتے مجه سے سوال کریں "وہ آدمی کون تها جو تم میں رسول بنا کر بهیجا گیا تها؟" تو میں انہیں یہ جواب دے سکوں کہ وہ یہی قمیص والے ہیں جس میں میں کفنایا گیا ہوں...

    (سنہرے واقعات، ص :289)



     
  2. IQBAL

    IQBAL Guru Member

    جزاک الله خیر
    بہت زبردست شیئرنگ ہے
     
  3. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    Jazak Allah
     

Share This Page