1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حضرت عمرفاروق کاعدل ؓ

Discussion in 'Urdu Iqtebaas' started by PRINCE SHAAN, Dec 21, 2013.


  1. حضرت عمرفاروق کاعدل ؓ

    حضرت عمر فاروق ؓ بلاشبہ دنیا کی تاریخ کے ایک ایسے حکمران تھے جنہوں نے خلیفہ کی حیثیت سے کوئی امیونٹی‘ کوئی استثنیٰ حاصل نہیں کیا‘ یہ دوسری چادر کا حساب بھی دیتے تھے اور اپنے صاحبزادے کو مصر میں شراب پینے کے جرم میں مدینہ میں طلب کر کے خود اپنے ہاتھ سے کوڑے بھی مارتے تھے اور یہ سزا اس کے باوجود جاری رہتی تھی کہ مصر کے گورنر عمروبن العاصؓ خلیفہ سے بار بار عرض کرتے تھے ‘ میں نے ملزم کو مصر میں سزا دے دی تھی مگر حضرت عمرؓ کا فرمانا تھا‘ تم نے اسے تنہائی میں سزا دی‘ یہ خلیفہ کا بیٹا ہے‘ یہ جب تک عوام کے سامنے سزا نہیں پائے گا‘ انصاف کا عمل مکمل نہیں ہوگا‘ حضرت عمرؓ کے احکامات بہت دلچسپ ہوتے تھے‘ یہ جب بھی کسی گورنر یا کسی منتظم کی تنزلی‘ معزولی یا گرفتاری کا حکم جاری کرتے تھے‘ یہ فیصلے پر عملدرآمد کے لیے کسی سیاہ فام غلام کو بھجواتے تھے‘ زیادہ تر کیسز میں یہ ذمے داری حضرت بلال حبشیؓ کو سونپی جاتی تھی‘ خلیفہ کا یہ خصوصی ایلچی جمعہ کے دن وہاں پہنچتا تھا‘ سیدھا جامع مسجد جاتا تھا‘ جمعہ کی نماز ختم ہونے کا انتظار کرتا تھا اور جوں ہی نماز ختم ہوتی تھی‘ یہ کھڑا ہو کر عوام کو خلیفہ کا حکم سناتا تھا‘ لوگوں کے سامنے گورنر‘ سپہ سالار یا منتظم کی پگڑی کھولتا تھا‘ اس کی مشکیں کستا تھا اور اسے گھوڑے پر بٹھا کر مدینہ روانہ ہو جاتا تھا۔

    حضرت بلالؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ تک کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا‘ حضرت عمرؓ کے دور میں جب بھی لوگوں کو جمعہ کی نماز میں حضرت بلال حبشیؓ دکھائی دیتے تھے‘ گورنر اور سپہ سالار کی ٹانگیں کانپنے لگتی تھیں اور وہ خود ہی اپنی پگڑی ڈھیلی کر لیتا تھا‘ ہم اگر حضرت عمرؓ کی پوری شخصیت کو ایک لفظ میں واضح کرنا چاہئیں تو وہ لفظ ہو گا ’’عدل‘‘۔ حضرت عمرؓ کی پوری زندگی عدل اور انصاف کے گرد گھومتی ہے‘ آپؓ سے قبل عدل محض عدل تھا لیکن آپؓ نے اسے عدل فاروقی بنا دیا اور دنیا میں آج بھی جہاں پورا انصاف ہوتا ہے لوگ اس انصاف کو ’’عدل فاروقی‘‘ کہتے ہیں‘ آپؓ عدل کے معاملے میں بہت سخت تھے‘ آپؓ نے پوری زندگی اپنے لیے پکا گھر نہیں بنوایا‘ خزانے سے صرف اتنا وظیفہ لیا جس سے ’’شاہی خاندان‘‘ روح اور جسم کا رشتہ برقرار رکھ سکتا تھا‘ آپؓ فاقہ کشی‘ روزوں اور کم خوراکی کی وجہ سے اس قدر کمزور پڑ گئے کہ آپؓ کی پسلیاں تک گنی جا سکتی تھیں‘ غیر ملکی مہمان مسلمانوں کے بادشاہ سے ملاقات کے لیے آتے تھے تو وہ آپؓ کو صحرا کی گرم ریت پر سر کے نیچے اینٹ رکھ کر سوتا ہوا دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے ‘یہ لوگ آپؓ کو مدینہ منورہ میں گارڈز یا محافظ کے بغیر پھرتا دیکھتے تھے تو بھی یہ اپنی انگلیاں دانتوں میں داب لیتے تھے‘ آپؓ ایک دن شہر میں اسی طرح محافظوں کے بغیر گشت کر رہے تھے‘ یہ منظر ایک مہمان نے دیکھا تو وہ ڈرتا ڈرتا آپؓ کے پاس آیا اور عرض کیا ’’ آپ محافظوں کے بغیر پھرتے ہیں‘ کیا آپ کو ڈر نہیں لگتا‘‘ حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا‘ مجھے لوگوں نے اپنی حفاظت کے لیے منتخب کیا ہے‘ میں جب اپنے لیے محافظ رکھوں گا تو پھر میں لوگوں کا محافظ نہیں رہوں گا‘ محافظ کو محافظ زیب نہیں دیتے‘ وہ شخص خاموش ہو گیا۔

    جاوید چوہدری کے کالم سے اقتباس
     
  2. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    Jazak Allah
     

Share This Page