1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

یہ دنیا

Discussion in 'Urdu Iqtebaas' started by PRINCE SHAAN, Jan 8, 2014.

Share This Page

  1. PRINCE SHAAN
    Offline

    PRINCE SHAAN Guest


    یہ دنیا


    یہ دنیا دھوکے میں کیسے ڈالتی ہے عائشے؟"
    وہ اب بالکل بھی اسے نہیں دیکھ رہی تھی۔ وہ الاؤ کو دیکھ رہی تھی جس سے سرخ دانے اڑ اڑ کر فضا میں تحلیل ہو رہے تھے۔
    "جب یہ اپنی چمکنے والی چیزوں میں اتنا گم کر لیتی ہے کہ اللہ بھول جاتا ہے۔"
    "کیا مجھے بھی دنیا نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے؟"
    "پہلی دفعہ دھوکا انسان بھولپن میں کھاتا ہے مگر بار بار کھائے تو وہ اس کا گناہ بن جاتا ہے۔ اور اگر احساس ہونے کے بعد کھائے تو اسے ایک بری یاد سمجھ کو بھول جانا چاہیے اور زندگی نئے سرے سے شروع کرنا چاہیے۔"
    "نئے سرے سے؟ ایسے یوٹرن لینا آسان ہوتا ہے کیا؟ انسان کا دل چاہتا ہے کہ وہ خوب صورت لگے‘ خوب صورت لباس پہنے‘ کیا یہ بری بات ہے؟" اس کی آواز میں بے بسی در آئی تھی‘ جیسے وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ کیا غلط تھا کیا صحیح‘ سب گڈمڈ ہو رہا تھا۔
    "نہیں! اللہ خوب صورت ہو اور خوب صورتی کو پسند کرتا ہے۔ یہ چیزیں زندگی کا حصہ ہونی چاہئیں۔ مگر ان کو آپ کی پوری زندگی نہیں بننا چاہیے۔ انسان کو ان چیزوں سے اوپر ہونا چاہیے۔ کچھ لوگ میری طرح ہوتے ہیں جن کی زندگی لکڑی کے کھلونے بنانے‘ مچھلی پکڑنے اور سچے موتی چننے تک محدود ہوتی ہے اور کچھ لوگ بڑے مقاصد لے کر جیتے ہیں۔ پھر وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر پریشان نہیں ہوتے۔"
    حیا نے غیر ارادی طور پہ ایک نگاہ اپنے کندھے پہ ڈالی جہاں آسیتن کے نیچے Who لکھا تھا۔
    "اور جن کی زندگی میں بڑا مقصد نہ ہو‘ وہ کیا کریں؟
    "وہی جو میں کرتی ہوں۔ عبادت! ہم عبادت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں‘ سو ہمیں اپنے ہر کام کو عبادت بنا لینا چاہیے۔ عبادت صرف روزہ‘ نوافل اور تسبیح کا نام نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر انسان کا ٹیلنٹ بھی اس کی عبادت بن سکتا ہے میں بہارے کے لیے بھولوں کے ہار اور آنے کے لیے کھانا بناتی ہوں۔ میری یہ صلہ رحمی میری عبادت ہے۔ میں پزل باکسز اور موتیوں کے ہار بیچتی ہوں‘ میرا یہ رزق تلاشنا میری عبادت ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے کام کرتے کرتے انسان بڑے بڑے مقاصد پا لیتا ہے۔"

    نمرہ احمد کے ناول "جنّت کے پتے" سے اقتباس



     
  2. Net KiNG
    Offline

    Net KiNG VIP Member
    • 38/49

    Bohat Acha Iqtebas Hai
     

Share This Page